(جنرل (عام
شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملاکر چلنے آئی آٹھ ریاستوں سے خواتین
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے اظہار یکجہتی کے لئے آٹھ ریاستوں سے آنے والی خواتین نے کہا کہ ہم سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف آپ کی تحریک کی حمایت کرنے اور آپ کے ساتھ کاندھا سے کاندھا ملاکر چلنے آئی ہیں۔
ان آٹھ ریاستوں کی خواتین کے گروپ میں کرناٹک، کیرالہ، تلنگانہ، آندھرا پردیش، مہاراشٹر، تمل ناڈو، مدھیہ پردیش اور پڈوچیری کی خواتین شامل تھیں، نے کہاکہ شاہین باغ کی خاتون مظاہرین نے پورے ملک کی خواتین کو اپنے حق کے تئیں، اپنے ملک اور اپنے دستور کے تئیں جگادیا ہے، ان خواتین کو سلام کرنے آئی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم ان ریاستوں میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مسلسل مظاہرہ کررہی ہیں اور اس قانون کی واپسی تک ہمارا مظاہرہ جاری رہے گا۔
شاہین باغ آنے کے مقصد کے بارے میں پوچھے جانے ان خواتین نے یو این آئی کو بتایا کہ مظاہرہ تو ہم لوگ اپنے یہاں بھی کر رہی تھیں لیکن شاہین باغ ایک علامت بن چکا ہے اور ہم لوگ شاہین باغ خواتین سے اظہار یکجہتی اور ان کے ساتھ کاندھا سے کاندھا ملاکر چلنے آئی ہیں۔انہیں یہ بتانے آئی ہیں وہ لوگ خود اکیلا نہ سمجھیں پورے ملک کی خواتین ان کے ساتھ ہے اور ان کے کاز کی حمایت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس قانون سے صرف مسلمان متاثر نہیں ہوں گے بلکہ ہر کمزور طبقہ متاثر ہوگا۔ اسی لئے ہر طبقہ کو اس قانون کے خلاف میدان میں آنا چاہئے۔ اس کے کانگریس کی لیڈر راگنی نائک نے بھی خطاب کیا۔
شاہین باغ مظاہرہ شروع کرانے میں اہم رول ادا کرنے والی سماجی کارکن شیاہین کوثر نے یو این آئی کے ساتھ خاص بات میں کہا کہ ہم لوگوں کو یہاں مظاہرہ کرنے کا کوئی شوق نہیں تھا، ملک کے حالات، حکومت کے رویے، آئین کے خلاف سازش، دستور کی حفاظت نے ہمیں سڑکوں پر اترنے پر مجبور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مسلم خواتین بلاضرورت تو گھر سے بھی نہیں نکلتیں لیکن ملک کی خاطر، آئین کو بچانے کی خاطر اور فسطائی طاقتوں کے سماج کو باٹنے کی سازش کے خلاف سڑکوں پر ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم لوگ، تین طلاق، دفعہ 370کے خاتمے، بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا غیر منصفانہ فیصلہ کے خلاف مسلم خواتین سڑکوں پر نہیں اتریں،حالانکہ تین طلاق مسلم عورتوں کے گھربرباد کرنے کے جیسا قانون ہے، لیکن جب معاملہ ملک کاہے، ہندوستانی آئین کی حفاظت کا ہے، سماجی ہم آہنگی کا ہے تو مسلم خواتین سڑکوں پر اتری ہیں اور اپنے حق لیکر رہیں گی۔ انہوں نے موجودہ حکومت کی مطلق العنانیت پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ کوئی حکومت کبھی مستقل نہیں رہتی اور اگر یہ حکومت مستقبل رہنے کا خواب دیکھ رہی ہے تو سخت مغالطہ میں ہے۔ اس کو بھی جانا ہوگا، ہندوستانی عوام جاگ چکے ہیں۔
محترمہ شاہین کوثر نے شاہین باغ میں یوم جمہوریہ کی تقریب کی مناسبت سے کہا کہ یہاں کے لاکھوں لوگوں نے شریک ہوکر یہ پیغام دے دیا ہے کہ انہیں ہندوستانی جمہوریت، آئین اور یوم جمہوریہ میں کتنا اعتماد ہے۔ یہاں کے یوم جمہوریہ کی تقریب ایک یادگار تقریب کے طور پر تاریخ میں اپنا نام درج کرائیگی۔ انہوں نے کہاکہ شاہین باغ خاتون مظاہرین کو بدنام کرنے کے بجائے حکومت ہوش کے ناخن لے۔ انہوں نے کہا کہ شاہین باغ مظاہرہ کو سبوتاژ کرنے کے تعلق سے حکومت جو سوچھ رہی ہے شاہین باغ کی خواتین کبھی پورا نہیں ہونے دیں گی۔
انہوں نے مرکزی حکومت کی بے حسی کی طرف اشارہ کر تے ہوئے کہاکہ یہاں خواتین بھوک ہڑتال پر بیٹھی ہیں لیکن حکومت کا کوئی نمائندہ اس کی کھوج خبر لینے نہیں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی حادثہ پیش آجائے تو پھر کس کی ذمہ داری ہوگی۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کہیں مظاہرہ ہورہا ہو، یا بھوک ہڑتال پر بیٹھے ہوں اور حکومت اپنا نمائندہ نہ بھیجے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کے درمیان تال میل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ پہلے مودی امت شاہ ایک رائے قائم کرلیں، انہوں نے ملک کو مذاق کا موضوع بنادیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ جس طرح یوگی اترپردیش کو تباہ کر رہا ہے اسی طرح مودی ملک کو تباہ کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اگر اس وقت ثابت قدم ہوکر اس کا مقابلہ نہیں کیا تو پھر یہ موقع کبھی نہیں ملے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس بربریت کے بعد سے 15دسمبر سے احتجاج جاری ہے اور یہاں بھی 24 گھنٹے کا دھرنا جاری ہے۔ یہاں انقلابی چائے بھی ملتی ہے جو شام سے رات سے تین چار بجے بنتی رہتی ہے۔ چائے بنانے والوں نے کہاکہ یہ ہم لوگ ایک ٹیم بناکر کر رہے ہیں اور مظاہرین میں گرمی لانے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ دہلی میں درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں نظام الدین میں خواتین کامظاہرہ شامل ہوگیا ہے۔ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف جاری مظاہرہ کی تعداد میں ضافہ ہوتا جارہاہے اور اب یہ مظاہرہ دہلی کے بیشتر علاقوں میں پھیل چکا ہے اور یوپی کے سنبھل سے خواتین کے بڑے مظاہرے کی خبر آرہی ہے جہاں ہزاروں خواتین رات دن مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔ خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ خوریجی خواتین کا مظاہرہ ہر روز خاص ہورہا ہے اور اہم مقرر اور سماجی سروکار سے منسلک افراد یہاں تشریف لارہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ آج کے اہم مقررین میں جاوید ندیم صدر اقلیتی سیل،محترمہ ویدھی سنہا (سنگر)شاہد صدیقی ایڈووکیٹ حبا احمد جے این ایو نے خطاب کیا۔ محترمہ عشرت جہاں نے بتایا کہ ان مقررین نے سی اے اے، این آرسی اور این پی آر کے خلاف احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے ان کے نقصانات سے لوگوں کو آگاہ کیا۔دہلی میں اس وقت دہلی میں سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مالویہ نگر کے حوض رانی، مصطفی آباد، کردم پوری، شاشتری پارک، نور الہی،اوربیری والا باغ، نظام الدین جامع مسجدسمت ملک تقریباً سو سے زائد مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے باوجود خواتین نے گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کیا اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کرائی۔ پولیس نے یہاں کی لائٹ کاٹ دی تھی، کمبل اور کھانے کا سامان چھین کر لے گئے تھے لیکن پولیس کی ہٹلر شاہی رویہ بھی ان خواتین کا جوش و خروش کم نہ کرسکا اب یہ مظاہرہ اور بڑا ہوگیا ہے۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد کی خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا تھا جہاں آج بھی مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ ان مظاہرے کی اہم بات یہ ہے کہ اس کے پس پشت نہ کوئی پارٹی ہے اور نہ ہی کوئی بڑی تنظیم، جو کچھ بھی آتا ہے وہ رضاکارانہ طور پر آتا ہے۔خواتین کا یہ مظاہرہ اترپردیش کے کئی شہروں میں پھیل رہا ہے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے اور یہاں شدت سے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہارکی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں اور بہت سے ہندو نوجوان نہ صرف اس قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے جس میں اہم لوگ خطاب کرنے پہنچ رہے ہیں۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شاہی عیدگاہ قریش نگر،حضرت نظام الدین،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار‘۔سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،۔ارریہ سیمانچل بہار،۔بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،۔مغلا خار انصارنگر نوادہ بہار،۔مدھوبنی بہار،۔سیتامڑھی بہار،۔سیوان بہار،۔گوپالگنج بہار،۔کلکٹریٹ بتیا مغربی چمپارن بہار،۔ہردیا چوک دیوراج بہار،۔ نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر،۔ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر،۔ آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر،۔سرکس پارک کلکتہ،۔قاضی نذرل باغ مغربی بنگال،۔اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،35۔روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپور-یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،۔کوٹہ راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور،احمد آباد گجرات، منگلور کرناٹک، ہریانہ کے میوات اور یمنانگر اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔اجمیر میں بھی خواتین کا احتجاج شروع ہوچکا ہے کوٹہ میں احتجاج جاری ہے اور لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے گھر باہر بھی مظاہرہ ہورہا ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، لوہر دگا، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی عید الاضحی کے پیش نظر دیونار مذبح تیار, منڈی کا انعقاد 17 سے 30 مئی 2026 تک کیا جائے گا : اشونی جوشی

ممبئی دیونار مذبح میں عیدالاضحی کے پس منظر ضروری انتظامات کرنے کا دعوی بی ایم سی انتظامیہ نے کیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ عید الاضحی کے موقع پر دیونار سلاٹر ہاؤس میں مختلف سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس میں بنیادی طور پر سی سی ٹی وی کنٹرول، سیکورٹی گارڈز کی تقرری، پارکنگ لاٹ، کیفے ٹیریا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیکورٹی، صحت، کیڑے مار ادویات، شکایت کے ازالے کے کمرے وغیرہ کے بارے میں بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر (مسز) اشونی جوشی نے بتایا ہے کہ 17 سے 30 مئی 2026 تک دیونار آب گاہ میں بھینس اور بکرا منڈی کا انعقاد کیا جائے گا۔ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی ہدایات کے مطابق ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں دیونار مذبح خانے میں مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سال، عید کا تہوار 28 مئی 2026 کو منائے جانے کا امکان ہے۔ اس پس منظر میں، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ دیونار میں کی گئی تیاریوں کے سلسلے میں میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ایک جائزہ میٹنگ منعقد کی گئی۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹراشونی جوشی نے اس سلسلے میں بتایا کہ عید کے تہوار کے موقع پر میونسپل کارپوریشن کے مارکیٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے 28 سے 30 مئی 2026 تک میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں کل 109 مقامات پر قربانی کیلئے اجازت دی گئی ہے۔ اگر ذبیحہ ان مخصوص جگہوں پر یا دیگر مقامات پر کیا جانا ہے تو ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال مائی بی ایم سی موبائل ایپلیکیشن میں اجازت کے لیے درخواست دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو ایپ پر رجسٹر ہونا ہوگا۔ اس کے علاوہ، ویب سائٹ https://www.mcgm.gov.in پرقربانی کے لیے بھینسوں اور بکروں کے درآمدی لائسنس کے ساتھ ساتھ سلاٹ بکنگ کے لیے بھی آن لائن انتظامات کیے گئے ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ویڈ ایلوکیشن سسٹم ’پہلے آئیے پہلے پائیے‘ کے اصول پر کام کرے گا۔ تاہم، ذبیحہ کی پالیسی کے مطابق، صرف دیونار مذبح خانے میں ہی بھینسوں کی قربانی لازمی ہے۔
شہریوں کی شکایات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ۲۴ گھنٹے کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔ شہریوں کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے مخصوص ہیلپ لائن نمبر 9076000481، 9076000482، 9076000483، 9076000484 دستیاب کرائے جائیں گے۔
دیونار سلاٹر ہاؤس میں فراہم کردہ مختلف سہولیات
دیونار میں جانوروں کے لیے کل 1لاکھ 10 ہزار 106 مربع میٹر مستقل پناہ گاہ کا انتظام کیا جا رہا ہے، جو 32 ہزار 256 مربع میٹر اور عارضی 77 ہزار 850 مربع میٹر پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ بھینسوں کے قربانی کے لیے 10 ہزار مربع میٹر جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔روزانہ 1.3 ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) پانی کے علاوہ 1 ملین لیٹر پانی کی اضافی سہولت بھی ہو گی۔ شہریوں کے لیے 10 مقامات پر واٹرنگ شامیانے لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر تقریباً 150 پانی کے ٹینکوں کا انتظام کیا جائے گا۔صحت مراکز، شہریوں کے لیے 2 ایمبولینسیں، جانوروں کے لیے 2 پرائمری ویٹرنری ہیلتھ سنٹرز اور صحت کے معائنے کے لیے ویٹرنری کا تقرر کیا جائے گا۔عید الاضحی کے تہوار کے 15 دنوں کے دوران 215 صفائی ورکرز، 6 پک اپ وینز، 3 جے سی بیز، 3 ڈمپرز کے ساتھ مردہ جانوروں کو لے جانے کے لیے 2 خصوصی گاڑیوں کے ساتھ مردہ جانوروں کو لے جانے کے لیے 2 خصوصی گاڑیوں کا ہر روز تین شفٹوں میں انتظام کیا جا رہا ہے۔ دیونار سلاٹر ہاؤس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں۔ اس کے علاوہ، جانوروں کے ذبح کے تین دن کے دوران علاقے میں صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے 600 صفائی کارکن مقرر کیے جائیں گے۔جانوروں کے ذبیحہ کی مدت کے دوران شہریوں کی گاڑیوں کو دیونار سلاٹر ہاؤس کے علاقے میں گوشت لے جانے کی اجازت دینے کے لیے کوئی انٹری فیس نہیں لی جائے گی۔امن و امان کی خاطر، دیونار سلاٹر ہاؤس پر 21 پولیس چوکیوں، 2 آبزرویشن ٹاورز اور میونسپل کارپوریشن کے 200 سیکورٹی گارڈز کے ساتھ تقریباً 500 پولیس افسران/ملازمین تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 210 مستقل کیمرے بشمول 170 بلٹ کیمرے، 34 ڈوم کیمرے، 06 پی ٹی زیڈ کیمرے، اور ویڈیو وال والا سی سی ٹی وی سسٹم پورے علاقے میں نگرانی کے لیے کام کرے گا۔ عمارتوں کے اندر 80 عارضی کیمرے نصب کیے جائیں گے اور بیرونی علاقوں اور پارکنگ ایریاز میں 52 اضافی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔علاقے میں ہر داخلے اور خارجی راستے پر QR کوڈ پر مبنی معائنہ اور تصدیق کا نظام نصب کیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے جانوروں کے داخلے اور باہر نکلنے اور رجسٹریشن کا عمل زیادہ درست، تیز رفتار اور کنٹرول کے ساتھ انجام دیا جا سکتا ہے۔دیونار مذبح کی حفاظتی دیوار کے ساتھ 250 نشستوں والے عوامی بیت الخلاء کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقے میں 15 مستقل اور 100 موبائل بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے الگ باتھ روم کا انتظام کیا جا رہا ہے۔مانسون کے پیش نظر پانی کی نکاسی کے لیے واٹر پمپنگ سیٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے 2 فائر انجن سمیت دیگر انتظامات کیے گئے ہیں اتنا ہی نہیں عوام کےلیے کینٹن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
مبینہ بنگلہ دیشیوں کے نقلی و جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ کی جانچ شروع، کریٹ سومیا کے الزام کے بعد ممبئی پولیس حرکت میں

ممبئی : ممبئی میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی بنگلہ دیشیوں کے خلاف بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے مہم چلائی تھی, جس کے بعد اب ممبئی پولیس و کرائم برانچ بھی حرکت میں آگئی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے جعلی پیدائشی سرٹیفکیٹ کے معاملات میں کارروائی کیلئے ایس آئی ٹیم تشکیل کو منظوری دیدی ہے اور اس کا حکمنامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ کریٹ سومیا نے اس سے قبل اس معاملہ میں انکوائری کا مطالبہ کیا تھا۔ ممبئی پولیس کمشنر نے اب حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ممبئی کرائم برانچ کی ایس آئی ٹی کو یہ ذمہ داری دی ہے جو اس معاملات میں تفتیش کریگی۔ ممبئی شہر میں اب تک ایک ہزار سے زائد بنگلہ تارکین وطن کو جلا وطن ملک بدر بھی کیا جاچکا ہے, اس کے باوجود کریٹ سومیا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ شہر میں بنگلہ دیشیوں کی بڑی تعداد آباد ہے اور یہ ملک کی سالمیت کیلئے خطرہ ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مذہبی منافرت پھیلانا بھی شروع کر دیا تھا۔
ممبئی پولیس نے جعلی دستاویزات کی بنیاد پر پیدائشی سرٹیفکیٹ کی تفتیش اور شکایت سے متعلق تفتیش کیلئے کرائم برانچ ایس آئی ٹی تشکیل دی ہے۔ اس ایس آئی ٹی سے متعلق محکمہ جانی حکمنامہ جاری کرتے ہوئے ممبئی پولیس کمشنر نے یہ واضح کیا ہے کہ اس ٹیم کی سربراہی جوائنٹ پولیس کمشنر کرائم لکمی گوتم کریں گے, جبکہ ایڈیشنل کمشنر کرائم ممبئی، ایڈیشنل کمشنر اسپیشل برانچ، ڈی سی پی ڈٹیکشن کرائم اور اسسٹنٹ کمشنر کرائم اس ٹیم کا حصہ ہے۔ حکمنامہ میں بتایا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر پیدائشی سرٹیفکیٹ میں نقلی دستاویزات کی شکایت اور جعلی سرٹیفکیٹ کا معاملہ سامنے آنے کے بعد یہ ایس آئی ٹی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ اسپیشل انویسٹی گیشن ٹیم کا مقصد دستاویزات کی جانچ کے بعد ضروری کارروائی ہے۔ یہ حکمنامہ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے جاری کیا ہے۔
(جنرل (عام
ممبئی لوکل اپ ڈیٹ : کسارا اسٹیشن پر خصوصی ٹریفک اور پاور بلاک کی وجہ سے آج ٹرینیں متاثر ہوں گی-

ممبئی : سنٹرل ریلوے نے آج 7 مئی کو کسارا اسٹیشن پر خصوصی ٹریفک اور پاور بلاکس کا اعلان کیا ہے۔ ریلوے کے مطابق، 3.50 بجے سے شام 5.50 بجے تک پاور بلاک کیا جائے گا۔ ریلوے نے کہا کہ آسنگاؤں ریلوے اسٹیشن اور کسارا ریلوے اسٹیشن کے درمیان یوپی اور ڈاون دونوں لائنوں پر مضافاتی ٹرین خدمات بلاک کی مدت کے دوران معطل رہیں گی۔ اس کی وجہ سے کئی ٹرینوں کو اسانگاؤں اور کسارا میں شارٹ ٹرمیٹ کیا گیا ہے۔ ٹرین نمبر کسارا 19، جو دوپہر 1.10 بجے روانہ ہوگی، 3.22 بجے آسنگاؤں میں مختصر مدت کے لیے جائے گی۔ 23 سی ایس ایم ٹی سے دوپہر 2.46 بجے روانہ ہوگی اور 4.49 بجے آسنگاؤں میں مختصر طور پر ختم ہوگی۔
ٹرین نمبر کسارا 24، آسگانگاؤں (4.13 بجے) – سی ایس ایم ٹی (5.51 بجے)
ٹرین نمبر کسارا 26: آسگانگاؤں (4.54 بجے) – سی ایس ایم ٹی (6.34 بجے)
ٹرین نمبر کسارا 28: آسگانگاؤں (5.39 بجے) – سی ایس ایم ٹی (7.19 بجے)
سنٹرل ریلوے نے مسافروں کو یہ بھی مطلع کیا کہ وہ پاور بلاک سے پہلے کسارا کی طرف آخری ٹرین کا نوٹ لیں۔ ٹرین سی ایس ایم ٹی سے دوپہر 12.30 بجے روانہ ہوگی، جبکہ سی ایس ایم ٹی کی طرف آخری لوکل کسارا سے دوپہر 2.42 بجے روانہ ہوگی۔
بلاک کے بعد کسارا کی طرف پہلی لوکل سی ایس ایم ٹی سے شام 4.50 بجے روانہ ہوگی جبکہ سی ایس ایم ٹی کی طرف ٹرین کسارا سے شام 6.17 بجے روانہ ہوگی۔
اس سے پہلے دن میں، سنٹرل ریلوے نے 7 مئی کو صبح 2.55 بجے سے صبح 4:10 بجے تک امبرملی ریلوے اسٹیشن اور آٹگاؤں ریلوے اسٹیشن کے درمیان درمیانی خصوصی بلاک چلایا تھا۔
اس کی وجہ سے، کسارا-سی ایس ایم ٹی لوکل صبح 3:51 بجے کے بجائے 4:20 بجے تاخیر سے روانہ ہوئی۔ کئی میل اور ایکسپریس ٹرینوں کو بھی صبح کے اوقات میں رک جانے اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑا۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست9 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
