Connect with us
Wednesday,23-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی عید الاضحی کے پیش نظر دیونار مذبح تیار, منڈی کا انعقاد 17 سے 30 مئی 2026 تک کیا جائے گا : اشونی جوشی

Published

on

ممبئی : دیونار مذبح میں عیدالاضحی کے پس منظر ضروری انتظامات کرنے کا دعوی بی ایم سی انتظامیہ نے کیا ہے۔ میونسپل کارپوریشن انتظامیہ عید الاضحی کے موقع پر دیونار سلاٹر ہاؤس میں مختلف سہولیات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس میں بنیادی طور پر سی سی ٹی وی کنٹرول، سیکورٹی گارڈز کی تقرری، پارکنگ لاٹ، کیفے ٹیریا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیکورٹی، صحت، کیڑے مار ادویات، شکایت کے ازالے کے کمرے وغیرہ کے بارے میں بھی کارروائی کی جا رہی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر (مسز) اشونی جوشی نے بتایا ہے کہ 17 سے 30 مئی 2026 تک دیونار آب گاہ میں بھینس اور بکرا منڈی کا انعقاد کیا جائے گا۔ ممبئی میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے کی ہدایات کے مطابق ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) ڈاکٹر اشونی جوشی کی رہنمائی میں دیونار مذبح خانے میں مختلف سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اس سال، عید کا تہوار 28 مئی 2026 کو منائے جانے کا امکان ہے۔ اس پس منظر میں، حال ہی میں ممبئی میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں اور دیگر ایجنسیوں کے ذریعہ دیونار میں کی گئی تیاریوں کے سلسلے میں میونسپل کارپوریشن ہیڈکوارٹر میں ایک جائزہ میٹنگ منعقد کی گئی۔
ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے اس سلسلے میں بتایا کہ عید کے تہوار کے موقع پر میونسپل کارپوریشن کے مارکیٹ ڈپارٹمنٹ کے ذریعے 28 سے 30 مئی 2026 تک میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں کل 109 مقامات پر قربانی کیلئے اجازت دی گئی ہے۔ اگر ذبیحہ ان مخصوص جگہوں پر یا دیگر مقامات پر کیا جانا ہے, تو ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال مائی بی ایم سی موبائل ایپلیکیشن میں اجازت کے لیے درخواست دینے کی سہولت فراہم کی ہے۔ اس کے لیے شہریوں کو ایپ پر رجسٹر ہونا ہوگا۔ اس کے علاوہ، ویب سائٹ https://www.mcgm.gov.in پرقربانی کے لیے بھینسوں اور بکروں کے درآمدی لائسنس کے ساتھ ساتھ سلاٹ بکنگ کے لیے بھی آن لائن انتظامات کیے گئے ہیں۔ کمپیوٹرائزڈ ویڈ ایلوکیشن سسٹم ’پہلے آئیے پہلے پائیے‘ کے اصول پر کام کرے گا۔ تاہم، ذبیحہ کی پالیسی کے مطابق، صرف دیونار مذبح خانے میں ہی بھینسوں کی قربانی لازمی ہے۔
شہریوں کی شکایات اور ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ۲۴ گھنٹے کنٹرول روم قائم کیا جائے گا۔ شہریوں کو فوری مدد فراہم کرنے کے لیے مخصوص ہیلپ لائن نمبر 9076000481، 9076000482، 9076000483، 9076000484 دستیاب کرائے جائیں گے۔
دیونار سلاٹر ہاؤس میں فراہم کردہ مختلف سہولیات
دیونار میں جانوروں کے لیے کل 1 لاکھ 10 ہزار 106 مربع میٹر مستقل پناہ گاہ کا انتظام کیا جا رہا ہے، جو 32 ہزار 256 مربع میٹر اور عارضی 77 ہزار 850 مربع میٹر پر محیط ہے۔ اس کے علاوہ بھینسوں کے قربانی کے لیے 10 ہزار مربع میٹر جگہ فراہم کی جا رہی ہے۔روزانہ 1.3 ملین لیٹر (ایم ایل ڈی) پانی کے علاوہ 1 ملین لیٹر پانی کی اضافی سہولت بھی ہو گی۔ شہریوں کے لیے 10 مقامات پر واٹرنگ شامیانے لگائے جائیں گے۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات پر تقریباً 150 پانی کے ٹینکوں کا انتظام کیا جائے گا۔صحت مراکز، شہریوں کے لیے 2 ایمبولینسیں، جانوروں کے لیے 2 پرائمری ویٹرنری ہیلتھ سنٹرز اور صحت کے معائنے کے لیے ویٹرنری کا تقرر کیا جائے گا۔ عید الاضحی کے تہوار کے 15 دنوں کے دوران 215 صفائی ورکرز، 6 پک اپ وینز، 3 جے سی بیز، 3 ڈمپرز کے ساتھ مردہ جانوروں کو لے جانے کے لیے 2 خصوصی گاڑیوں کے ساتھ مردہ جانوروں کو لے جانے کے لیے 2 خصوصی گاڑیوں کا ہر روز تین شفٹوں میں انتظام کیا جا رہا ہے۔ دیونار سلاٹر ہاؤس اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں۔ اس کے علاوہ، جانوروں کے ذبح کے تین دن کے دوران علاقے میں صفائی کو برقرار رکھنے کے لیے 600 صفائی کارکن مقرر کیے جائیں گے۔ جانوروں کے ذبیحہ کی مدت کے دوران شہریوں کی گاڑیوں کو دیونار سلاٹر ہاؤس کے علاقے میں گوشت لے جانے کی اجازت دینے کے لیے کوئی انٹری فیس نہیں لی جائے گی۔ امن و امان کی خاطر، دیونار سلاٹر ہاؤس پر 21 پولیس چوکیوں، 2 آبزرویشن ٹاورز اور میونسپل کارپوریشن کے 200 سیکورٹی گارڈز کے ساتھ تقریباً 500 پولیس افسران/ملازمین تعینات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 210 مستقل کیمرے بشمول 170 بلٹ کیمرے، 34 ڈوم کیمرے، 06 پی ٹی زیڈ کیمرے، اور ویڈیو وال والا سی سی ٹی وی سسٹم پورے علاقے میں نگرانی کے لیے کام کرے گا۔ عمارتوں کے اندر 80 عارضی کیمرے نصب کیے جائیں گے اور بیرونی علاقوں اور پارکنگ ایریاز میں 52 اضافی کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ علاقے میں ہر داخلے اور خارجی راستے پر QR کوڈ پر مبنی معائنہ اور تصدیق کا نظام نصب کیا جائے گا۔ جس کی وجہ سے جانوروں کے داخلے اور باہر نکلنے اور رجسٹریشن کا عمل زیادہ درست، تیز رفتار اور کنٹرول کے ساتھ انجام دیا جا سکتا ہے۔ دیونار مذبح کی حفاظتی دیوار کے ساتھ 250 نشستوں والے عوامی بیت الخلاء کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقے میں 15 مستقل اور 100 موبائل بیت الخلاء فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کے لیے الگ باتھ روم کا انتظام کیا جا رہا ہے۔ مانسون کے پیش نظر پانی کی نکاسی کے لیے واٹر پمپنگ سیٹ فراہم کیے جا رہے ہیں۔
فائر ڈیپارٹمنٹ کے 2 فائر انجن سمیت دیگر انتظامات کیے گئے ہیں اتنا ہی نہیں عوام کے لیے کینٹن کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان