Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

ایس بی آئی نے 6128؍کروڑ کا الیکٹورل بانڈ فروخت کیا

Published

on

اے ڈی آر نے اسٹیٹ بینک آف انڈیا سے متعلق ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق ملک کے سب سے بڑے اس سرکاری بینک نے مارچ 2018 سے اس سال اکتوبر تک کل 12314 الیکٹورل بانڈ فروخت کیے ہیں۔ ان کی کل قیمت 6128 کروڑ روپے ہے۔ رپورٹ کے مطابق ان میں سے زیادہ تر بانڈ ممبئی میں فروخت کیے گئے ہیں جن کی قیمت 1880 کروڑ روپے ہیں۔ اس کے بعد کولکاتا (1440 کروڑ روپے)، دہلی (919 کروڑ روپے) اور حیدر آباد (838 کروڑ روپے) کا نمبر ہے۔اے ڈی آر ایک غیر جانبدار اور غیر سرکاری ادارہ ہے جو انتخاب اور سیاسی اصلاحات کے لیے کام کرتی ہے۔ غور طلب ہے کہ موجودہ حکومت نے گزشتہ سال یکم مارچ کو الیکٹورل بانڈ لانچ کیے تھے۔ سرکار نے ان بانڈس کو سیاسی پارٹیوں کو ملنے والے نقد چندہ کے متبادل کی شکل میں پیش کیا تھا۔ دلیل یہ دی گئی تھی کہ اس سے انتخابی فنڈنگ (سیاسی پارٹیوں کو ملنے والا چندہ) میں شفافیت آئے گی اور انتخابات میں کالے دھن کے استعمال کو روکا جا سکے گا۔ حکومت نے اس سال جنوری میں الیکٹورل بانڈ اسکیم کو اس سال جنوری میں نوٹیفائی کیا تھا۔اس منصوبہ کے تحت کوئی بھی ایک ہزار روپے سے لے کر ایک کروڑ روپے تک کے بانڈ خرید سکتا ہے۔ ان بانڈس کی فروخت ہر سہ ماہی میں دس دن کے لیے کی جاتی ہے، جب کہ لوک سبھا انتخابات کے لیے اسے ایک مہینے کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ان بانڈ کی فروخت پر حکومت اپنی طرف سے کوئی بھی مدت طے کر سکتی ہے۔ خریدنے کے بعد ان بانڈ کی مدت 15 دن کی ہوتی ہے۔لوک سبھا یا اسمبلی انتخابات میں کم از کم ایک فیصد ووٹ حاصل کرنے والی رجسٹرڈ سیاسی پارٹیوں کو ان بانڈ کے ذریعہ چندہ دیا جا سکتا ہے۔ ضابطوں کے مطابق ان بانڈ کو ہندوستان کا کوئی بھی شہری یا کوئی بھی رجسٹرڈ ادارہ جو ہندوستان میں موجود ہو، خرید سکتی ہے۔ ان بانڈ کو فروخت کرنے کا حق صرف اسٹیٹ بینک کے پاس ہے۔ اسٹیٹ بینک ہی ان بانڈ کو اپنی 29 رجسٹرڈ برانچ کے ذریعہ کیش کر سکتی ہے۔ ان میں سے کچھ برانچ دہلی، کولکاتا، ممبئی، گاندھی نگر، چنئی، چنڈی گڑھ، رانچی اور بنگلورو میں ہیں۔مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات سے پہلے حکومت نے اسٹیٹ بینک کو الیکٹورل بانڈ کی 12ویں قسط جاری کرنے کو رجسٹرڈ کیا تھا، تاکہ سیاسی پارٹیوں کو چندہ مل سکے۔ اس کے تحت بینک نے یکم سے 10 اکتوبر کے درمیان الیکٹورل بانڈ کی فروختگی کی تھی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان