Connect with us
Monday,21-September-2026

(جنرل (عام

کسم تیواری نے منجھے ہوئے نیوز اینکر سمیت اوستھی کے چھکے چھڑا دیئے ،ملک کا میڈیا عوامل گمراہ کر رہا ہے

Published

on

اس وقت پورے ملک کے مسلمان ایک عجیب دوراہے پر کھڑے ہیں، یکے بعد دیگرے حکومت مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کررہی ہیں اور مسلمانان ہند نہایت صبر و تحمل سے حکومت کا ہر وار برداشت کررہے ہیں، کانگریس این سی پی جیسی سیکولر کہلانے والی پارٹیوں کے ڈسے ہوئے مسلمانوں کو بی جے پی سالم نگل جانا چاہتی ہے سچ کہا جائے تو جتنی بھی سیاسی پارٹیاں ہیں سب نے مسلمانوں کا استحصال ہی کیا ہے، مسلمانوں کو ووٹ بینک کی طرح استعمال کیا ہے . پھر چاہے وہ کانگریس ہو راشٹریہ وادی ہو یا سماج وادی سب نے مسلمانوں کے مسائل پر صرف سیاسی روٹیاں ہی سینکی ہیں ، ان پارٹیوں اور ان کے لیڈران نے کبھی مسلمانوں کو متحد ہونے نہیں دیا، ہمیشہ ان کے درمیان آپسی نفرت ہی پیدا کی، یہی وجہ ہے کہ اب تک مسلمان اپنے قائد و سالار سے محروم رہیں، یہ پارٹیاں مسلمانوں سے ہمدردی کا جھوٹا ناٹک کرکے انہیں آپس میں الجھائے رکھتی ہیں ، تاکہ یہ کسی پرچم تلے یکجا نہ ہوسکیں ، جب کہ مسلمان اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج سے چودہ سو سال پہلے بھی مسلمان چاہے سفر پر جاتے یا جنگ پر اپنا امیر یا سالار مقرر کرتے تھے ، اب جب کہ مسلمانوں پر ہند کی سرزمین تنگ کر دی گئی ہے ایسے میں مسلمان بے یار و مددگار کچھ کانگریس کے پالے میں ہیں تو کچھ کو این سی پی نے ہتھیا لیا ہے اور کچھ سماج وادی میں پناہ ڈھونڈ رہے ہیں،( یہاں ہم ان نام نہاد مسلمانوں کا تذکرہ نہیں کریں گے جو فرقہ پرست شیوسینا اور بی جے پی کے ٹٹو ہیں ) یہ تینوں بظاہر سیکولر پارٹیاں ہیں، جنھوں نے کبھی مسلمانوں کا بھلا نہیں سوچا، ہمیشہ اقتدار کا لالچ دے کر ایک دوسرے کے خلاف الجھائے رکھا ، جس کی وجہ سے مسلمان ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہیں، جس کا پورا فائدہ بی جے پی نے اٹھایا ، آج بی جے پی اور اس کی ذیلی تنظیمیں مسلمانوں کو ملک بدر کرنا چاہتی ہے، ہجومی تشدد (مآب لنچنگ) میں مسلمانوں کا سیاسی قتل عام (Political Murder) کیا جارہا ہے ،یہ وہ تنظیمیں ہیں جو جانوروں پر تشدد کے خلاف احتجاج کرکے قانون ہاتھ میں لیتی ہیں ، جانوروں کی حفاظت کے لئے قانون ہیں مگر مسلمانوں کا خون پانی کی طرح سڑکوں پر بہہ رہا ہے، کیا اسی دن کے لئے ملک کو آزاد کرایا گیا تھا، بجرنگ دل ، وشوہندو پریشد اور آر ایس ایس جیسی فرقہ پرست پارٹیاں آج مسلمانوں کو غدار کہہ کر بھارت چھوڑنے کا کہہ رہی ہیں مگر نہ کانگریس کے منہ میں زبان ہے نہ راشٹروادی گونگی ہے بہری تو سماج وادی بھی نہیں ہے ، پھر کیا وجہ ہے کہ کچھ کہنے سے پہلے ان پارٹیوں کو لکنت طاری ہو جاتی ہے ، آج مآب لنچنگ کے بعد مسلمانوں کے سر پر سب سے بڑا خطرہ این آر سی کا ہے ، مسلمان باہر محفوظ نہ تھا، اب تو این آر سی کے نام پر اسے ملک بدر کرنے کی سازشیں رچی جارہی ہیں ، طلاق ثلاثہ بل منظور کرکے شریعتِ میں مداخلت کی کوشش کی گئی ، یوں تو لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر ہم حالیہ مسلمانوں کے سلگتے مسائل پر بات کریں گے ، اس وقت مآب لنچنگ کے وجہ سے ملک کا مسلمان گھر سے نکلتے ہوئے ڈر رہا ہے کہ پتہ نہیں کب ظالم جنونی ہجوم اسے ییٹ پیٹ کر قتل کردیں ، ان سب باتوں کو ہوا دے رہا ہے ملک کا الیکٹرانک میڈیا، میڈیا چاہے کوئی بھی ہو پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا ، اگر میڈیا ہی گمراہ کرنے لگے تو عوام کی حفاظت خطرے کی زد میں آجاتی ہے ، ابھی ہم اس کا خلاصہ کردیتے ہیں، کملیش تیواری مرڈر کیس میں اے بی نیوزنے حد کردی، اے بی کے نیوز اینکر سمیت اوستھی نے کملیش تیواری کی ماں کسم تیواری کا لائیو ٹیلی کاسٹ کیا، سمیت اوستھی نے کملیش تیواری مرڈر کیس کے تار بلاوجہ مسلمانوں سے جوڑنے اور اسے ہندو مسلمان کا رنگ دینے کی ناکام کوشش کی مگر اس بزرگ خاتون کسم تیواری نے اس منجھے ہوئے نیوز اینکر کی ساری اینکری نکال دی ، یوپی کی اس خاتون نے سمیت اوستھی کو جھاڑ دیا کہ ہندو اور مسلمان کا نام میں نے نہیں لیا بلکہ آپ نے لیا ہے، کسم تیواری کے جھاڑنے پر سمیت اوستھی نے یہاں تک کہہ دیا کہ لائیو ٹیلی کاسٹ چل رہا ہے، کسم تیواری باربار کملیش تیواری مرڈر کیس میں یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی ادیتہ ناتھ کا نام لے رہی تھی، اس کے باوجود اس مرڈر کیس کو مسلمانوں سے جوڑ کر ماحول خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے،آج مسلمانوں کو ملک بدر کرنے کے لئے تمام ہندو تنظیمیں ایک ہوگئی ہیں ، دبے دبے کانگریس راشٹروادی اور سماج وادی بھی اس کی ہمنوا ہے مگر مسلمانوں میں اتحاد کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں، آج ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اپنے اختلافات بھول کر بلاتفریق ایک پلیٹ فارم پر یکجا ہو جائے تو پھر یہ فرقہ پرست ان کی مآب لنچنگ بھول جائیں گے، لیکن آج مسلمان ہی مسلمان کا سب سے بڑا دشمن ہے، معاف کرنا مگر یہ اتنا ہی سچ ہے جتنا کہ سورج مشرق سے نکلتا ہے اور مغرب میں ڈوب جاتا ہے، اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد ابو عاصم اعظمی نے ایک انٹرویو دیا، جس میں اعظمی صاحب نے ایم آئی ایم پر تنقید کی، ان کا کہنا ہے کہ صرف مسلمانوں کو نہیں ہندوؤں کو بھی ساتھ لے کر چلیں اور اتحاد المسلمین کی وجہ سے سے یہ صرف مسلمانوں کی پارٹی کہلاتی ہے، موصوف جب سماج وادی سے منسلک ہوئے تھے تب مسلمانوں نے خوشیاں منائیں تھی ، انہیں قائد ملت کے خطاب سے نوازا تھا، ابو عاصم اعظمی کی شہرت کا ڈنکا بجتا تھا مگر سماج وادی نے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی اور بابری مسجد شہادت کے مجرم کلیان سنگھ سے ہاتھ ملا لیا تھا، تب زخم خوردہ مسلمانوں نے واپس کانگریس میں پناہ لی تھی کیونکہ ان کے پاس سیکولر کے نام پر کانگریس اور سماج وادی پارٹی تھی دونوں ہی پارٹیاں سیکولر کے مکھوٹے میں اپنا چہرہ جھپائے ہوئے تھی، راشڑ وادی بھی کانگریس کی کوکھ سے جنمی ہے، ایسے میں مسلمانوں کو ایک اپنی پارٹی کی اشد ضرورت تھی، جو واقعی ان کی اپنی ہو ، انہیں پتہ ہے کہ اگر مسلمان ایک ہوگئے تو یہ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔، ایک شخص اگر مسلمانوں کے لئے لڑرہا ہے انہیں متحد کررہاہے تو خدارا اگر اس شخص کے ہاتھ مضبوط نہیں کرسکتے تو نہ کریں مگر برائے کرم اس کی ٹانگ نہ کھینچے۔

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

Published

on

Mumbai Coastal Road

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان