Connect with us
Tuesday,22-September-2026

(جنرل (عام

کمپنی کے ملازمین کی گزشتہ 6؍مہینوں کی تنخواہ روک دی گئی

Published

on

company

دھولیہ شہرمیں روزگار کم ہونے کی وجہ سے بیرون شہر روزگار حاصل کرنے شہر کے اکثر افراد نے رخ کیا ہے۔ سیاستدانوں نے خود کے بڑے بڑے شو روم کھول کر کچھ لوگوں روزگار فراہم کیا ہے لیکن تنخواہ بہت ہی کم دی جاتی ہے۔ دیوپور میں بلّاڑی روڈ پر واقع ٹریڈ کو ڈیسان پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی میں بھی سیاستداں کا شیئر ہونے سے جان پہنچان والوں کو اور ووٹ بینک رکھنے والوں کو اولیت دی جاتی ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد کو ڈیسان پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی میں کام کرنا پسند نہیں آتا ہے۔ انجینئرنگ کیے ہوئے طالب علم کو دس ہزار سے کم تنخواہ دینے والی کمپنی کو انجینئر حضرات نا پسند کرتے ہیں۔ مجبوری کے تحت اپنے گھریلو مسائل کے مدنظر جو افراد وہاں ملازمت کرتےہیں ان کی روزمرہ کی زندگی افراد خانہ کے ساتھ تو گزرتی ہے لیکن تنخواہ کے معاملہ میں بڑی پریشانی ہوتی ہے۔ کمپنی میں ملازمت کرنے والے ملازمین کا پارہ ساتویں آسمان پر چڑھ گیا جب کمپنی کے افسران ان سے وعدہ خلافی کرکے ٹال مٹول کرنے لگے۔کچھ ملازمین نے کہا کہ ہم اتنا تنگ آگئے ہیں کہ کبھی کبھی خود کشی کرنے کا اراد ہ ہوتا ہے۔ اس ضمن میں لیبر افسر کو ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کمپنی کے ملازمین نے کہا ہے کہ ہم تمام ملازمین ٹریڈ کو ڈیشان پرائیوٹ لمیٹیڈ کمپنی میں ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۱۰؁ سے کام کررہے ہیں۔ کمپنی نے اپریل ۲۰۱۹؁ سے اب تک تمام ملازمین کی تنخواہ روک دی ہے۔ کمپنی کے افسران ہمیں زبانی وعدہ کرکے وعدہ €خلافی کررہے ہیں۔ اگست سے ستمبرکا کہہ کر ہمیں ٹال دیا گیا ستمبر مہینہ شہروع ہوا تو ۲۶؍ ستمبر کہہ کر ہمیں ڈیوٹی پر لگادیا گیا۔۲۶؍ ستمبر کے بعد مزید تاریخ پر تاریخ دی جارہی ہے، لیبر افسر کو میمورنڈم دینے سے قبل دیوپور پولس اسٹیشن میں بھی کمپنی کے افسران و کمپنی کے خلاف شکایت درج کرائی گئی تھی۔ اس ضمن میں دیوپور پولس نے افسران و ملازمین کی میٹنگ منعقد کی تھی ،میٹنگ میں کوئی حل نہیں نکلنے پر معاملہ اور طول پکڑنے لگا ہے۔ لیبر افسر اور دیوپور پولس اسٹیشن میں شکایت درج کرانے کے بعد معاملہ حل نہیں ہوسکا ہے تو اپنا حق حاصل کرنے کے لیے ملازمین ہر ممکن کوشش کریں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ ہمیں انصاف نہیں دیا گیا تو ہم ضلع کلکٹر آفس پر بھوک ہڑتال کرکے اپنے احتجاج درج کرائیں گے۔ ہماری محنت کے روپئے کسی بھی حال میں ڈوبنے نہیں دیں گے، سرکار کو اور کمپنی کو ہمارے مطالبہ کے سامنے گٹھناٹیکنا ہی پڑے گا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی فرض انجام دہی پرخاتون پولیس اہلکار کے ساتھ بدسلوکی کرنے والے ملزم کو عدالت نے مجرم قرار دیا، ۶ ماہ قید بامشقت اور ۵۰۰ جرمانہ کی سزا

Published

on

Police

۲۱ ستمبر کو ایڈیشنل سیشن کورٹ، کورٹ نمبر 34، ممبئی گوونڈی پولیس216/2018 دفعہ 353, 509, 354(ا) بی این ایس کے تحت جرم میں ملزم نامہ سروج پیشہ ڈرائیور، رہائشی .کمپاؤنڈ کے سامنے، منزلہ، 11 واں روڈ، چمبورممبئی کو قصوروار ثابت ہونے پر مختلف دفعات کے تحت سزا سنائی۔۲۱ اگست ۲۰۱۸ کو شکایت کنندہ خاتون پولیس اہلکار ٹریفک کو رواں رکھنے کی ڈیوٹی کر رہی تھیں اس دوران ملزم نے شکایت کنندہ کو نشانہ بنا کر فحش اشارے کرکے اور فحش گالی گلوچ کرکے شکایت کنندہ سے ناروا سلوک کیا اس کے بعد متاثرہ شکایت کنندہ نے گوونڈی پولیس تھانے میں شکایت کی 216/2018 دفعہ 353, 354(ا), 509 بی این ایس کے مطابق مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ مذکورہ جرم میں ۲۱ ستمبر ایڈیشنل سیشن عدالت، کورٹ نمبر 34 ممبئی نے ملزم سروج کو دفعہ 353 تعزیری کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ، دفعہ 354(ا) کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ نیز دفعہ 509 دفعہ کے تحت 6 مہینے قید اور 500 روپے جرمانہ اور جرمانہ نہ بھرنے پر 1 مہینے کی اضافی قید کی سزا سنائی ہے۔مذکورہ معاملے میں تفتیشی افسر سپودن پرینکا پاٹل نے کی گئی گہری تفتیش، سائنسی اور مؤثر تفتیش، مضبوط شواہد کا مجموعہ اور اس کی صحیح طریقے سے دستاویزی کارروائی، نیز سرکاری وکیل جیوتی ساونت اور پیروی افسر سب انسپکٹر اجے یادو نے عدالت کے سامنے مؤثر پیروی کرمذکورہ معاملے کا عدالتی کام کاج دیکھنے والے افسران نے سرکاری فریق کے ساتھ مناسب تال میل رکھنا اور مسلسل اور نتیجہ خیز پیروی کرنا اس کی وجہ سے ملزم کے خلاف جرم بغیر کسی شک کے فائدے کے ثابت ہو کر اسےعدالت نے سخت سزا سنائی ہے۔مذکورہ قابل ذکر کارکردگی جناب پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر نظم و نسق منوج کمار شرما، دھننجے کلکرنی،ڈی سی پی زون 01 سمیر شیخ، کی رہنمائی میں انجام دی ہے ۔

Continue Reading

(جنرل (عام

پی ایم مودی نے دبئی کے حکمران کے بھائی کی موت پر تعزیت کا اظہار کیا، شاہی خاندان سے تعزیت کی۔

Published

on

Modi..5

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے پیر کو دبئی کے حکمران کے بھائی شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا اور سماج کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کی تعریف کی۔ اپنے پیغام میں پی ایم مودی نے شاہی خاندان اور دبئی کے لوگوں کے تئیں تعزیت کا اظہار کیا، “عزت مآب شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر گہرا دکھ ہوا ہے۔ معاشرے کی خدمت کے لیے ان کی کوششوں کو آنے والی نسلیں اہمیت دیں گی۔ میں شاہی خاندان اور عوام کے تئیں دلی تعزیت پیش کرتا ہوں”۔ اس سے پہلے، دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کی عدالت نے اعلان کیا کہ پیر کی صبح شیخ احمد بن راشد المکتوم کا انتقال ہوگیا۔ ان کی عمر 76 سال تھی۔ دبئی میں 10 روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔” عدالت عالیہ شیخ محمد بن راشد المکتوم، نائب صدر اور متحدہ عرب امارات کے وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران نے آج پیر کی صبح مرحوم شیخ احمد بن راشد المکتوم کے انتقال پر سوگ منایا ہے۔ آدھے مستول پر، آج پیر، مؤثر،” حکومت دبئی کے میڈیا آفس نے ایکس پر پوسٹ کیا شیخ محمد بن راشد المکتوم نے بھی اپنے بھائی کو ذاتی خراج تحسین پیش کیا۔

شیخ احمد بن راشد المکتوم دبئی کے آنجہانی حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم کے چوتھے اور سب سے چھوٹے بیٹے تھے۔ انہوں نے دبئی پولیس اور پبلک سیکیورٹی کے نائب چیئرمین، اے. آر. ایم کے گروپ چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔ ہولڈنگ، اور ال وصل اسپورٹس کلب کے صدر۔ رائل ملٹری اکیڈمی سینڈہرسٹ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد، شیخ احمد نے دبئی میں سنٹرل ملٹری بیس میں شمولیت اختیار کی اور بعد میں الوصل اسپورٹس کلب کی ویب سائٹ کے مطابق، بیس کے کمانڈر ان چیف بن گئے۔ 1990 کی دہائی کے اوائل میں شیخ احمد بن راشد المکتوم نے متحدہ عرب امارات میں گھڑ دوڑ کو فروغ دینے کے لیے جبل علی ریس کورس قائم کیا۔ شیخ احمد بن راشد المکتوم 60 سال سے الوصل اسپورٹس کلب کے صدر ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : فلسطینی بچوں سے اظہار ہمدردی پر پولیس کارروائی کے خلاف شکایت

Published

on

FIR

ممبئی : ممبئی کے باندرہ میں ۱۵ ستمبر کو فلسطین اور غزہ کے بچوں کی حمایت واظہار یکجہتی میں پتنگ بازی کے معاملہ میں پولیس ہراسائی اور بلا کسی سمن اور نوٹس کے طلبا و سماجی کارکن کے گھر کی تلاشی لینے کے خلاف ۲۶ سالہ سماجی کارکن اور طالبہ ہرشدا بور اڈے نے پولیس کمشنر سے شکایت کی ہے اور خاطی افسران و اہلکاروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے, اس شکایت کے ساتھ انہوں نے متعلق ثبوت بھی پیش کئے ہیں. شام پانچ بجے پولیس واکولہ میں واقع طالبہ کے گھر پر داخل ہوتی ہے اور ۲بجکر ۴۵ منٹ تک تلاشی مہم انجام دیتی ہے. ہرشدا نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ گھر کی تلاشی کا پولیس کے پاس کوئی بھی حکمنامہ نہیں تھا اور پولیس نے پرائیوٹ پنچنامہ کیا ہے جو سراسر غیر قانونی ہے. شکایتی مکتوب میں ہرشا نے بتایا کہ وہ ایک طالبہ ہے اور ممبئی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور فلسطینی بچوں سے اظہار یکجہتی کے لئے باندرہ میں پتنگ بازی کی تھی جس کے بعد ۱۷ستمبر کو پولیس نے ان کے گھر پہنچ کر تلاشی لی اور انہیں اور ان کے دوستوں و دیگر طلبا کو ہراساں کیا ہے, پولیس کو تلاشی سے قبل قانونی نوٹس دینا چاہئے تھا جو ہر شہری کا حق ہے, لیکن پولیس نے ایسا نہیں کیا جس طرح سے پولیس نے پتنگ بازی پر یہ کارروائی کی ہے یہ دستور کی دفعہ آرٹیکل ۱۹ کی خلاف ورزی ہے کیونکہ آزادی اظہار رائے کا ہر شہری کو حق حاصل ہے ہرشدا نے مطالبہ کیا ہے کہ باندرہ اور واکولہ پولیس اسٹیشن کے اہلکاروں کے خلاف قانونی کارروائی ہو اور اس معاملے کی شفاف انکوائری کی جائے۔ اس پورے معاملے کی انکوائری اعلی افسران کی نگرانی میں سائبر سیل کے معرفت کروائی جائے اور جو بھی پولیس اہلکار خاطی ہے ان پر کارروائی ہو۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان