Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

مالیگاؤں سمیت پورے ناسک ضلع میں سڑک حادثات بے قابو, محض 10 ماہ میں 935 افراد موت کے شکار

Published

on

accident

مالیگاؤں (خیال اثر)
سڑک حادثات کی اپنی ایک تاریخ رہی ہے. بے شمار حادثات ڈرائیور حضرات کی لاپروائیوں سے وقوع پذیر ہوئے ہیں تو سڑکوں کی خستہ حالی, تیز رفتار مسلسل ڈرائیونگ اور بے ترتیب پارکنگ و ناجائز قبضہ جات بھی آئے دن حادثات کا سبب بنتے رہے ہیں طویل مسافت کم وقتوں میں طے کرنے کا جنون بھی حادثوں کا سبب بنتا رہا ہے. حالیہ دنوں ناسک ضلع ٹریفک محمکہ محفوظ ٹریفک ابھیان جاری کئے ہوئے ہے. کتابچہ, پمفلٹ کے ذریعے ٹریفک اصولوں اور رفتار کو قابو میں رکھنے جیسے نکات پر مشتمل یہ ابھیان جاری ہے.اسی محمکہ کے توسط سے عیاں کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق ناسک شہری حدود میں امبڑ گاؤں تا آڑ گاؤں ناکہ تک 372حادثے رونما ہوئے ہیں ان حادثوں میں 134 ڈرائیوروں کی موت واقع ہوئی تھی جبکہ 347 شدید زخمی ہو کر مختلف اسپتالوں میں زیر علاج رہے تھے. ناسک دیہی حلقہ جات میں 1239 حادثے ہوئے جن میں 801 جانیں تلف ہوئیں تھیں وہیں 691 افراد سنگین طور پر مجروح بھی ہوئے تھے. ناسک جیسے ترقی یافتہ شہر میں 611حادثات نے 935 افراد کو موت کے منہ میں ڈھکیل دیا تھا. ان حادثات میں شدید زخمیوں کی تعداد 1040 کے قریب تھی یہ حادثے 23 فیصد چار پہیہ گاڑیوں سے ہوئے تھے اس کے برخلاف مالیگاؤں شہری حدود میں 801 حادثات پیش آئے تھے. ان حادثوں میں مرنے والوں کا تناسب 17 فیصد سے زائد تھا. محفوظ راستہ ابھیان کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر حادثات موٹر سائیکلوں کے ذریعے ہوئے ہیں. ایسا نہیں ہے کہ چھوٹی بڑی چار پہیہ گاڑیوں کے حادثات نہیں ہوتے ہیں. ان ہیوی گاڑیوں کے حادثات جب بھی ہوئے ہیں گاڑیوں اور ڈرائیور کے علاوہ ان میں سوار مرد و خواتین اور بچوں کی زندگیاں بھی موت کے دہانوں تک پہنچ جاتی ہیں حالانکہ ٹریفک محمکہ نے جگہ جگہ رہنمایانہ بورڈ آویزاں کرتے ہوئے “درگھٹنا سے دیری بھلی “جیسے انتباہی جملے کندہ کر رکھے ہیں لیکن تیز رفتاری کا جنون اور متعینہ اوقات میں منزل تک پہنچنے کی طلب ہوشیار و مشاق ڈرائیوروں کو بھی حادثوں کا شکار بنا دیتی ہیں مالیگاؤں شہر میں تفریح پسند نوجوان جب بھی مصروف ترین ہائے وے پر دھوم اسٹائل میں اپنی موٹر سائیکل پر نکلتے ہیں تو ان کی غفلت کہیں نہ کہیں حادثوں کا شکار بن جاتی ہیں. ایسے حادثوں میں یہ بے فکرے نوجوان موت کے دامن میں پہنچ جاتے ہیں یا پھر شدید مجروح ہو کر زندگی بھر بنے والدین کے لئے پریشانیوں کا سبب بن جایا کرتے ہیں. ناسک ضلع محفوظ راستہ ابھیان کے ظاہر کردہ اعداد و شمار جہاں چونکانے کے باعث ہیں وہیں شہریان کے لئے دعوت فکر بھی دیتے ہیں.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان