Connect with us
Monday,27-April-2026
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

حالیہ دنوں میں مرکز سے واپس آنے والے حضرات احتیاطاً اپنا چیک اپ کروالیں :مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

(وفا ناہید)
ممبئی : حضرت نظام الدین دہلی میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز کے تعلق سے میڈیا کے ذریعہ پھیلائے جانے والے غلط پروپیگنڈے پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے جمعیۃ علماء مہاراشٹر کے جنرل سکریٹری مولانا حلیم الله قاسمی نے کہا کہ ایسے وقت میں کہ جبکہ پوری دنیا متحدہوکر کورونا وائر س جیسے مہلک مرض سے نمٹنے کیلئے اپنے اپنے اسباب و وسائل کے ساتھ میدان میں ہے، ایسے نازک وقت میں اس کوشش کو فرقہ وارانہ رخ دیکر کمزور کر دینا انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ مولانا حلیم الله قاسمی نے کہا کہ جنتا کرفیو کے بعد اچانک لاک ڈاؤن کی وجہ سے جہاں ملک کے طول وعرض میں بڑی تعداد میں مزدور اور عام لوگ پھنسے ہوئے ہیں وہیں اگر تبلیغی مرکز حضرت نظام الدین بنگلہ والی مسجد میں کچھ لوگ پھنسے رہ گئے تو اس پر اتنا واویلا مچانے کی کیا بات ہے۔ مولانا حلیم الله قاسمی نے یہ بھی کہا کہ حکومت کی تجویز کردہ احتیاطی تدابیر اور لاک ڈاؤن پر عمل کرنے کے باوجود ساڑھے انیس سو سے زائد افراد اس وائرس کی زد میں آچکے ہیں اور اب تک پچاس سے زائد اموات اس مہلک مرض کی وجہ سے واقع ہوچکی ہیں۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے یہ بھی کہا کہ معتبر ذرائع سے ملی اطلاع کے مطابق تبلیغی مرکز کے ذمہ داران برابر متعلقہ حکام سے رابطہ میں تھے، اندرون اور بیرون ملک کے لوگوں کو ان کے مقام تک پہونچا نے کے لئے پرمیشن کی باقاعدہ تحریری درخواست بھی دی تھی لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا- دوسرے لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے خود وزیراعظم ہند نے یہ کہا تھا کہ جو لوگ جہاں ہیں وہیں پر رہیں باہر نہ نکلیں ایسے میں مرکز کے ذمہ داران کو اس کے لئے قطعاً ذمہ دار نہیں ٹہرایا جاسکتا۔ مولانا نے کہا کہ ان سارے حقائق کے باوجود میڈیا اس کا ایک ہی رخ پیش کررہا ہے جو ملک کی گنگا جمنی تہذیب کے لئے انتہائی مضر اور خطرناک ہے۔ اس لئے مرکزی اور ریاستی حکومت اس کا نوٹس لیتے ہوئے مسلمانوں کے خلاف اس طرح کے پروپیگنڈہ کے خلاف کوئی اقدام کرے تاکہ ملک کی ہم آہنگی کو نقصان نہ پہونچے اور لوگ اتحاد و اتفاق کے ساتھ اس خطرناک وائرس کے خلاف جنگ لڑ سکیں۔
مولانا حلیم الله قاسمی نے یہ اپیل کی ہے کہ تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد جو اس پیریڈ میں مرکز نظام الدین دہلی گئے ہوئے تھے بلا جھجھک انتظامیہ کے پاس جاکر اپنے آپ کو ظاہر کریں،اور احتیاطاً اپنی اپنی طبی جانچ کروالیں ۔اگر کسی طرح کی پریشانی محسوس کرتے ہوں تو جمعیۃ علماء مہاراشٹر ارشد مدنی کے دفتر سے رابطہ قائم کریں۔
رابطہ کے لئے 022-23735373 /9323919894.
جمعیۃعلماء مہاراشٹر. یکم /اپریل2020

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں مشتبہ غذائی زہرخورانی سے ایک ہی خاندان کے چار افراد جاں بحق

Published

on

ممبئی، 27 اپریل: (قمر انصاری) ممبئی میں ایک نہایت افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے جہاں ایک ہی خاندان کے چار افراد مشتبہ غذائی زہرخورانی کے باعث جاں بحق ہو گئے، جس سے علاقے میں شدید تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

متوفیان میں 40 سالہ شوہر، 35 سالہ بیوی اور ان کی دو بیٹیاں (16 سال اور 13 سال) شامل ہیں۔ موصولہ معلومات کے مطابق 25 اپریل کی رات تقریباً 10:30 بجے اس خاندان نے اپنے پانچ دیگر رشتہ داروں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا تھا۔ اس طرح کل 9 افراد اس کھانے میں شریک تھے۔ بعد ازاں دیگر رشتہ دار اپنے گھروں کو واپس چلے گئے اور انہیں کسی قسم کی طبی شکایت نہیں ہوئی۔

ذرائع کے مطابق رات تقریباً 1:00 سے 1:30 بجے کے درمیان ان چاروں افراد نے گھر پر تربوز بھی کھایا۔ اگلی صبح 26 اپریل کو تقریباً 5:30 سے 6:00 بجے کے درمیان چاروں افراد کو قے اور اسہال کی شدید شکایت شروع ہو گئی۔

ابتدائی طور پر انہیں مقامی ڈاکٹر کے پاس لے جایا گیا، جہاں سے انہیں مزید علاج کے لیے سر جے. جے. ہسپتال منتقل کیا گیا۔ علاج کے دوران سب سے چھوٹی بیٹی صبح تقریباً 10:15 بجے انتقال کر گئی، جبکہ دیگر تین افراد بھی اسی دن جانبر نہ ہو سکے۔ خاندان کے سربراہ کا انتقال رات تقریباً 10:30 بجے ہوا۔

تمام افراد کا بعد از مرگ معائنہ (پوسٹ مارٹم) مکمل کر لیا گیا ہے، تاہم موت کی حتمی وجہ ابھی سامنے نہیں آئی ہے۔ حتمی رائے بافتی تجزیہ (ہسٹوپیتھالوجی) کی رپورٹ آنے کے بعد ہی دی جائے گی۔

اس معاملے میں جے جے مارگ پولیس اسٹیشن میں حادثاتی موت کا مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔

حکام اب یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ زہرخورانی کی اصل وجہ کیا تھی—رات کا کھانا، تربوز یا کوئی اور شے۔ اس واقعے کے بعد مقامی افراد میں خوف و ہراس پایا جا رہا ہے جبکہ حکام نے خوراک کی صفائی اور احتیاط برتنے کی اپیل کی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ناگپاڑہ گینگسٹر کالیا کے انکاؤنٹر کا بدلہ لینے کے لیے مخبر کا قتل، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، کالیا کا بھتیجہ اور ساتھی گرفتار

Published

on

kaliya

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ایک ایسے ملزم اور اس کے ساتھ کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ جس نے اپنے گینگسٹر چچا کالیا کے انکاؤنٹر کا انتقام لینے کے لیے ایک مخبرکا قتل کر دیا۔ اس معاملہ میں پولس نے گینگسٹر صادق کالیا کے بھتیجہ صادق عاقب جوار ۲۹ سالہ اور اس کے ساتھی نوشاد یوسف میٹھانی کو گرفتار کر لیا ہے۔ پولس نے ناگپاڑہ علاقہ میں ۲۰ اپریل کو محمد اقبال سلیا ۷۸ سالہ بزرگ کے قتل کے معمہ کو حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ ۲۰ اپریل کو مقتول کو اس کے گھر میں گھس کر دو حملہ آوروں نے حملہ کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس معاملہ میں ممبئی کرائم برانچ نے تفتیش شروع کر دی اور دو ملزمین کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس میں سے ملزم نمبر ایک گینگسٹر صادق کالیا اور عرف کالیا کا بھتیجہ ہے صادق کالیا کا ۱۹۹۷ میں اور عارف کالیا کا ۲۰۰۰ میں ممبئی پولس نے انکاؤنٹر کیا تھا۔ اس معاملہ میں پولس نے دونوں مفرور ملزمین کو ناگپور تاج باغ سے گرفتار کیا ہے۔ دونوں ملزمین ناگپور سے راہ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اسی دوران پولس کو اطلاع ملی اور پولیس نے اس معاملہ میں ایک ۲۹ سالہ اور اس کے ۲۵ سالہ دوست و ساتھی کو گرفتار کیا ہے۔ ان دونوں نے قتل کی واردات انجام دینے کے بعد اپنا موبائل فون بند کردیا تھا اور ناگپور میں روپوش ہو گئے تھے۔ پولس تفتیش میں ملزم نے انکشاف کیا ہے کہ صادق اور عارف کالیا کے انکاؤنٹر کے پس پشت سالیا خبری تھا اور اسی کی مخبری پر دونوں کا انکاؤنٹر ہوا, اس پر ملزم کو غصہ تھا اور اپنے چچا کے قتل کا انتقام لینے کے لیے اس نے سالیا کا قتل کر دیا اور اس کا تعاون اس کے دوست نے کیا تھا یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم لکمی گوتم کی رہنمائی میں ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

سیاست

ممبئی : گوونڈی شیواجی نگر میں غیرقانونی اسکولوں پر کارروائی کا کریٹ سومیا کامطالبہ، اسکول جہاد کا الزام، علاقہ میں کشیدگی

Published

on

kirit-somaiya

ممبئی : گوونڈی شیواجی نگر بیگن میں ۶۴ غیرقانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ آج بی جے پی لیڈر کریٹ سومیا نے کیا ہے۔ گوونڈی دورہ کے دوران کریٹ سومیا نے اس غیرقانونی اسکول کا بھی معائنہ کیا ہے, جس میں طلبا تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اسکول کی حالت انتہائی خستہ ہے اور مخدوش ہونے کے سبب حادثہ بھی خطرہ ہے, کیونکہ چار منزلہ غیرقانونی اسکول میں اول تا چہارم جماعت تک اسکول ہے۔ ایسے میں اگر اسکول کو حادثہ پیش آتا ہے تو جانی نقصان کا بھی خدشہ ہے۔ کریٹ سومیا نے اسکولوں کا دورہ کے بعد صحافیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ غیر قانونی اسکول سرکاری زمین پر ہے, اور ایسے میں ان اسکولوں پر مسلم مافیا کا قبضہ ہے, یہ ایک طرز کا لینڈ جہاد ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح سے یہ اسکول تعمیر کی گئی ہے اس کے خلاف میونسپل کارپوریشن محکمہ تعلیم میں شکایت درج کروائی گئی ہے اور آئندہ ہفتہ ان غیرقانونی اسکولوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ آج کریٹ سومیا کے ہمراہ بی ایم سی ایم ایسٹ وارڈ کا عملہ اور محکمہ تعلیم کے افسران بھی موجود تھے۔ کریٹ سومیا نے محکمہ تعلیم کے افسر کو ہدایت دی کہ اس طرح سے اس غیر قانونی اسکول کو محکمہ تعلیم کی اجازت کیسے فراہم ہوئی اس پر متعلقہ محکمہ نے اس پر کارروائی کی یقین دہانی کروائی ہے۔ جس عمارت میں یہ اسکول جاری ہے اس کی حالت انتہائی خطرناک ہے۔ کریٹ سومیا سے جب سوال کیا گیا کہ آپ مسلمانوں کے خلاف ہی تحریک چلاتے ہو تو انہوں نے کہا کہ ان کی تحریک لینڈ مافیا اور جہادی ذہنیت کے حامل افراد کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن اسکولوں میں بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں وہ مسلم لینڈ مافیا کے ہیں, اور اس میں کبھی بھی کوئی بڑا حادثہ پیش آسکتا ہے ایسی صورتحال میں اس کا ذمہ دار کون ہوگا؟ انہوں نے محکمہ تعلیم سے بھی اس متعلق سوال کیا, جس پر محکمہ تعلیم کی افسر نے کہا کہ اس متعلق اسکول انتظامیہ کو نوٹس ارسال کی گئی ہے۔ اس پر کوئی جواب موصول نہیں ہوا ہے, جس کے بعد اب پیر ہفتہ تک اس متعلق کارروائی کا حکم صادر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کریٹ سومیا نے بی ایم سی عملہ کے افسران سے سوال کیا کہ کیسے یہاں اسکول تعمیر ہو گئی اور پھر کارروائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔ کریٹ سومیا کے دورہ کے پیش نظر پولس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے کریٹ سومیا کے دورہ کے تناظر میں علاقہ میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ بی ایم سی کے مطابق شہر میں ۱۶۴ اسکولیں غیر قانونی ہیں اور یہ غیر وظیفہ یاب اسکولیں ہیں اس میں سب سے زیادہ غیر قانونی اسکولیں گوونڈی ۶۴ اور کرلا میں ۱۲ ہیں۔ اس میں چار مراٹھی میڈیم اسکولیں بھی غیرقانونی ہیں۔ کریٹ سومیا نے اسکول کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا, جس کے بعد جب ان سے دریافت کیا گیا کہ اسکول بند ہونے پر ان بچوں کے مستقبل کا کیا ہوگا تو انہوں نے کہا کہ ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ ان بچوں کو دیگر اسکولوں میں منتقل کروائیں گے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان