Connect with us
Saturday,20-June-2026

(جنرل (عام

پربھنی میں حالات حاضرہ پر تاریخی اجلاس کا کامیاب انعقاد CAAملک کے آئین کے لئے خطرناک:مولانا حلیم اللہ قاسمی

Published

on

جمعیۃ علماء ہند ارشد مدنی ضلع پربھنی کے زیر اہتمام شالیمار فنکشن ہال میں پورے تزک و احتشام کے ساتھ منعقد ہوا۔جس میں خصوصی مقرر حضرت مولانا حلیم اللہ قاسمی جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر نے شرکت کی۔آں موصوف نے اجلاس میں کثیر تعداد میں موجود برادران وطن اور جم غفیر سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آج ملک کے تمام سماج کے لوگ دیش کی حفاظت اور اس کے آئین و دستور کی حفاظت کے لئے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔
مولانا حلیم اللہ قاسمی نے کہا کہ جس دیش کی آزادی کے لئے مسلمانوں نے اپنی ہر قسم کی قربانی دی۔جہاں رام پرشاد نے دیش کی حفاظت و آزادی کے لئے اپنی جان نچھاور کی وہیں اشفاق اللہ خان نے اس کے لئے سولی پر چڑھ کر اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔اس کے بدلے آج یہ دن دیکھنا پڑھ رہا ہے کہ مسلمانوں کو اس دیش سے در بدر کرنے کے لئے CAA,NRC,NPRکے ذریعہناپاک کوشش کی جارہی ہے۔
اس موقع پر شہر کی نامور شخصیت سابق ریاستی منسٹر محترمہ فوزیہ تحسین احمد خان صاحبہ نے بھی موجودہ مرکزی حکومت کی غلط پالیسیوں کی سخت الفاظ میں مخالفت کی،اور CAA,NCRاور NPRکو مرکزی حکومت کی نیت اور ہندوستانی سب سے بڑی اقلیت ہی نہیں بلکہ آئین ہند بنیادی دفعات کے خلاف کہا۔اور جب تک یہ ایکٹ ریجیکٹ نہیں ہوتا ہم احتجاج اور دھرنے شانتی پوروک کرتے رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ گرفتار جونوں کی رہائی کے لئے بھی ہم انتھک کوشش و محنت کے ساتھ جو بے قصور گرفتار نوجوان ہیں ان کی باعزت رہائی کے ساتھ ان پر لگی دفعات کو ختم کرانے چارہ جوئی کریں گے۔
صدر اجلاس مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے تمام برادران وطن کی شرکت اور اس احتجاج میں تعاون کی یقین دہانی پر جوش استقبال کیا،اور ہمارے اس مشترکہ احتجاج کو تاریخی فیصلہ قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ ملک عزیز کی آزادی کی لڑائی ہم سب نے مل کر لڑی تھی،اور نتیجہ ہم سب کے سامنے ہے۔اور آج بھی ہم سب ایک پلیٹ فارم پر مجتمع ہوچکے ہیں، لہٰذا کامیابی ہم سے دور نہیں ہے۔
اس سے قبل جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے نائب صدر مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے ہندوستان کی آزادی میں جمعیۃعلماء ہند کے اہم کردار کا ذکر کیا۔
جبکہ وجے واکوڑے ریپلکن پارٹی ضلع پر بھنی کے سربراہ نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ترمیمی شہریت بل کی مخالفت کی تحریک میں ہم مسلمانوں کے ساتھ ہیں ہم سب ملکر ۹/ ۰۱/ جنوری کو پربھنی میں بل کے خلاف اور جو مسلمانون کی حالیہ گرفتاری ہوئی اس کی مذمت میں ہم سب دھرنا دیں گے۔
نتیش ساونت مانو مکتی مشن کے سر براہ نے بھی حکومت کے حالیہ CAAکے ذریعہ بل پاس کیا،اس کے پیچھے دیش کو ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور ہندو مسلمانوں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی سازش ہے۔ملک اور اس کے باشندوں کے لئے بہت زیادہ خطرناک ہے یہ سنگھی ناپاک پالیسیوں کے مطابق بنایا گیا ہے۔ہم مل جل کر اس کا مقابلہ کریں گے اور اس وقت تک کریں گے جب تک یہ بل رد نہیں ہوجاتا۔
اس پروگرام کی خاص بات یہ رہی ہے کہ اس میں تحصیلدار نے بھی شرکت کی جو بعض جذباتی افراد کی زیادتیوں کی وجہ سے زخمی ہوگئے تھے،لیکن انہوں نے خیر سگالی اور انسانیت کے احترام کا لحاظ کرتے ہوئے اعلیٰ کردار کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ کہا کہہم آپ کے ساتھ ہیں۔اور احتجاجات میں امن و شانتی کا مظاہرہ کریں قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔
ایڈوکیٹ امتیاز نے گرفتار شدہ لوگوں کی رہائی کے لئے جوجمعیۃ علماء ارشد مدنی اور مسلم وکلاء کی مضبوط ٹیم مفت خدمت انجام دے رہی ہے۔جو قابل تحسین ہے۔
مولانا عیسی خان کاشفی نے برادران اسلام سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اس بل کے خلاف دستور ہند کی پاسداری کرتے ہوئے حالات کی مناسبت سے اسباب اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ دینی تعلیمات سے بھی وابستہ رہیں،اور خدا سے دعا بھی کرتے رہیں۔
اس اجلاس کا آغاز حافظ و قاری محمد شفیع معراجی نائب صدر جمعیۃعلماء ضلع پربھنی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا،بعدہ علاقہ کے نامور قاری خوش الحان قاری عرفان اللہ خان صاحب کی مسحور کن آواز سے سماں بندھ گیا۔ حافظ عیسیٰ نورانی نے ضلعی جمعیۃ کی شاندارکارگزاری پیش کی۔
اس جلسہ میں موجودہ حالات کے پس منظر میں بڑی تعداد میں شرکت کی مجمع کی کثرت کی وجہ سے ہال اور اس کے باہر ایک بڑا جم غفیر موجود تھا۔جلسہ کی نظامت قاری عبد الرشید حمیدی صدر جمعیۃعلماء ضلع پربھنی نے بحسن و خوبی کے ساتھ انجام دیا۔جبکہ اس اجلاس میں شہر و اطراف کے علماء کرام اور سیاسی و سماجی ہندو مسلم نے بڑی تعداد میں شرکت کی،اور جلسہ کو کامیاب بنانے میں جمعیۃعلماء کے کارکنان مقامی تمام تنظیموں اور جماعتوں کے ذمہ داران اور پر بھنی کے نوجوانان نے انتھک کوششیں کیں۔ اور اس کامیاب پروگرام کو سجانے میں مقامی ذمہ داروں کی محنتیں شامل رہیں،اللہ سب کی خدمات کو قبول فرمائے،اور بہترین جزاء عطا فرمائے۔
اس اجلاس میں اور بہت سے مقررین نے اپنے جذبات و خیالات کا اظہار کیا،جس میں اورنگ آباد سے حافظ اقبال انصاری صاحب،شہر اورنگ آباد کے صدر حافظ عبد العظیم شاہ،راجن سرساگر پربھنی،فاروق احمد ناندیڑ،شیواجی کدم سمبھا جی بریگیڈ پربھنی،مولانا عبد القدوس ملی پر بھنی،مفتی رضوان،محمود بھائی اورحافظ محمد سلیم صاحب قابل ذکرہیں۔
ایسی اطلاع اس اجلاس کے کنوینر جمعیۃعلماء ضلع پر بھنی کے صدر قاری عبد الرشید حمیدی نے اپنی پریس نوٹ کے ذریعہ دی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان