سیاست
پولیس کا کام شرپسندوں سے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ڈاکٹر ارچنا
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے معروف ٹریڈ یونین لیڈر ڈاکٹر ارچنا نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر سے نمٹنا پولیس کا کام ہے اور شاہین باغ مظاہرین کو کسی دھمکی سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے دفعہ 144 کے نفاذ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس کے پیسے سے پولیس والوں کو سیلری اس لئے دی جاتی ہے تاکہ وہ شرپسندوں اور سماج دشمن عناصر سے لوگوں کی حفاظت کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو سینا کو روکنا پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے اور اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کی مزدور تنظیمیں آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے کے لئے تیار ہیں۔
مظاہرین میں شامل سماجی کارکن سیما نے الزام لگایا کہ ملک میں نفرت کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے اور یہ لوگ کچھ بھی کرلیں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ انہوں نے مبینہ اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والے کپل مشرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ نفرت اوڑھو، نفرت بھڑکاؤ، نفرت کھاؤ، نفرت پیو، نفرت پھیلاؤواور پھر بھارت ماتا کی جے بول دو سارے گناہ اپنے آپ دھل جائیں گے اور پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ انہوں نے عدالت کی صورت حال کے بارے میں کہاکہ جب نفرت پر لگام لگانے کی کوشش کرنے والے جج کا تبادلہ کردیا جاتا ہے تو نفرت پھیلانے والوں کو سزا کون دے گا اور کون اس پر لگام لگائے گا۔
انہوں نے کہاکہ یہ ملک محبت کرنے والوں کا ملک ہے اور یہاں نفرت کرنے والی شکست ہوگی۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین نے نفرت کی مہم کے بدلے محبت کا پیغام دیا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال بن کر شاہین باغ سامنے آیا ہے۔ اس لئے شاہین باغ کے خلاف نفرت کرنے والوں یا اسے ہٹانے والوں کی مہم پر ہماری مہم کامیاب ہوگی اورہم نے پورے ملک میں پیغام دیا ہے کہ کس طرح پرامن طریقے سے اتنے طویل عرصے تک مظاہرہ کیا ہے۔
ایک دیگر خاتون مظاہرین گل بانو نے میڈیا کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام سچائی دکھانا ہے نہ کہ کسی کے خلاف مہم چلانا۔ انہوں نے دہلی کی حالت کی اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے کہ اب میڈیا سچائی دکھائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا سے یہ بھی کہاکہ میڈیا یہ بھی دکھائے گا کہ ہم یہاں کس مقصد کے لئے یہاں بیٹھی ہیں اور اس کو سمجھیں اور لوگوں کو سمجھائیں۔
محترمہ فاطمہ نے کہاکہ دفعہ 144لگانا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اس کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ پولیس کی منشا پر انحصار کرتا ہے کہ شرپسندوں کو روکنے کے لئے لگایا ہے یا مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے۔ ساتھ ہی انہوں نے مظاہرہ گاہ میں پولیس کے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے پر دعوی کیا کہ اس پولیس پر کیسے بھروسہ کیا جائے جو خوریجی میں خود ہی سی سی ٹی وی کیمرے توڑتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیاگیا۔ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تہی حالانکہ پولس کے مداخلت کے بعد انہوں نے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف تحریک کے خلاف اپنا مجوزہ مظاہرہ واپس لے لیا تھالیکن پولس نے احتیاطا بڑی تعداد میں پولس فورس کو تعینات کردیا ہے۔ایک پولس افسر نیبتایا کہ کسی قسم کی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔
سماجی کارکن ملکہ خاں نے خوریجی مظاہرہ کو مبینہ طور پر طاقت کے استعمال سے ختم کرنے اور مظاہرین میں ایڈووکیٹ عشرت جہاں اور دیگر کودفعہ 307 اور فساد بھڑکانے کے دفعات پر گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے کا حق ہیں دستور نے دیا ہے۔ یہ کسی حکومت کا تحفہ نہیں ہے یا بھیک نہیں ہے کہ جب چاہے دینے سے انکار کردے۔ انہوں نے اس قدم کو جمہوریت کو کچلنے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی جمہوریت اسی وقت اچھی ہوتی ہے جب وہاں احتجاج و مظاہرہ کرنے کی آزادی ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : شیواجی نگر میں عظیم الشان “کیرئیر گائیڈنس اور کاؤنسلنگ سیشن 2026” کا انعقاد، تعلیم کے ساتھ ہنرمندی بھی کامیابی کی کلید : ابوعاصم

ممبئی : تعلیمی بیداری پیدا کرنے اور نوجوانوں کے روشن مستقبل کو فروغ دینے کے مقصد کے ساتھ، ابو عاصم اعظمی فاؤنڈیشن نے آج مانخورد شیواجی نگر کے گیتا وکاس ہال میں ایک عظیم الشان “کیرئیر گائیڈنس اینڈ کاؤنسلنگ سیشن 2026” کا انعقاد کیا۔ اس تقریب میں علاقے کے دسویں اور بارہویں جماعت کے سینکڑوں طلباء اور والدین نے جوش و خروش سے شرکت کی۔
سیشن کے دوران مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے کیرئیر گائنڈنس کے ماہرین نے طلباء کو تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے روایتی ڈگریوں سے ہٹ کر آج دستیاب کیریئر کے نئے اور ابھرتے ہوئے اختیارات کی وضاحت کی۔ ماہرین نے مقابلہ جاتی امتحانات، فنی تعلیم اور پیشہ ورانہ کورسز کے بارے میں طلباء کے شکوک و شبہات کو بھی دور کیا۔ اس موقع پر فاؤنڈیشن کے چیئرمین اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے طلباء سے خطاب کرتے ہوئے تعلیم کے ساتھ ساتھ ہنر کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا “آج کی دنیا میں، صرف ڈگری حاصل کرنا کافی نہیں ہے, بچوں کو مختلف ہنر سیکھنے چاہئے۔ اگر آپ کے پاس ہنر ہے تو مستقبل میں آپ کے لیے نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی عظیم مواقع کے دروازے کھلیں گے۔ مہارت کی ترقی وہ کلید ہے جو آپ کو مالی طور پر خود مختار اور بااختیار بنائے گی۔پروگرام کے اختتام پر، طلباء نے ماہرین کے ساتھ براہ راست بات چیت کی اور اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کے لیے قیمتی مشورے حاصل کیے۔ مقامی باشندوں اور والدین نے ابو عاصم اعظمی فاؤنڈیشن کے اس اقدام کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی تقریبات غریب اور متوسط گھرانوں کے بچوں کو صحیح راستے کا انتخاب کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ پروگرام کی نظامت پرنسپل زیبا ملک اور شبانہ خان نے کی۔ طلباء کی کثیر تعداد نے پروگرام کو کامیاب بنایا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
لاک ڈاؤن کی افواہیں پھیلانے والے مشکل میں پڑ جائیں گے۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے بعد سخت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے: دیویندر فڑنویس

ممبئی : ملک میں لاک ڈاؤن کی افواہ پھیلانے والوں کی اب خیر نہیں ہے افواہ پھیلانے والوں پر وزیر اعظم نریندر مودی سے میٹنگ کے بعد سخت کارروائی کا انتباہ وزیر اعلی دیویندر فڑنویس نے دیا ہے۔ مہاراشٹر کے وزیر اعلی دیویندرفڑنویس نے یہ واضح کیا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نے وزرا اعلیٰ سے جو میٹنگ کی ہے اس میں حالات تشفی بخش ہے بحرانی کیفیت کے باوجود ملک میں گیس اور دیگر تیل کی کوئی کمی نہیں ہے اس لئے عوام افواہ نہ پھیلائیں اگر کوئی افواہ پھیلاتا ہے تو اس پر سخت کارروائی ہو گی خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ ہو اس لئے سرکار نے ایکسائز میں کی شرح قیمت میں کمی کی ہے اور یہی رعایت کے سبب عوام کو راحت ملی ہے لاک ڈاؤن سے متعلق افواہ پر وزیر اعلیٰ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں افواہ پھیلانے والوں پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی سخت کاررروائی کی ریاستی وزرا کو ہدایت دی ہے جس کے بعد آج وزیر اعلی نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ریاست میں گیس سمیت دیگر تیل کی کوئی قلت نہیں ہے اس لئے مصنوعی قلت پیدا نہ کی جائے انہوں نے کہا کہ پڑوسی ملکوں میں تو تیل اور دیگر ذرائع کے سبب لاک ڈاؤن بند کی نوبت آچکی ہے یہاں ہفتہ واری کام کا شیڈول طے کیا گیا ہے لیکن ہمارے یہاں حالات ٹھیک ہے اس لئے افواہ نہ پھیلائی جائے اگر کوئی سوشل میڈیا پر افواہ پھیلاتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی اس لئے وزیر اعلی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بدگمانی نہ پھیلائیں۔
جرم
ممبئی میں ڈیلیوری گاڑی سے 27 گیس سلنڈر چوری، تحقیقات جاری

ممبئی: ایران اور اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جنگ کے بعد اچانک گیس سلنڈروں کا جھگڑا شروع ہو گیا۔ توانائی بحران کے بڑھتے ہوئے خدشات کے درمیان، کاندیولی ویسٹ کے چارکوپ علاقے میں چوروں نے ڈلیوری گاڑی میں گھس کر 27 سلنڈر چوری کر لیے۔ پولیس نے ہفتہ کو بتایا کہ یہ واقعہ 25 اور 26 مارچ کی درمیانی شب پیش آیا۔ ملزمان نے گیس کی تقسیم کے لیے استعمال ہونے والے ٹیمپو کو نشانہ بنایا اور 5 بھرے اور 22 خالی سمیت 27 سلنڈر لے کر فرار ہوگئے۔ ممبئی پولیس نے کہا کہ چارکوپ پولیس اسٹیشن میں نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے، اور ملزمان کی شناخت اور گرفتاری کی کوششیں جاری ہیں۔ شکایت کنندہ نند کمار رام راج سونی (35) جو ملاڈ ویسٹ کے جئے جنتا نگر کا رہنے والا ہے، گزشتہ سات سالوں سے چارکوپ میں شری جی گیس سروس کے ساتھ ڈیلیوری ایجنٹ کے طور پر کام کر رہا ہے۔ وہ ٹیمپو کا استعمال کرتے ہوئے صارفین کو گھر گھر ایل پی جی سلنڈر فراہم کرتا ہے۔ 25 مارچ کو، نند کمار نے اپنا روزانہ ڈیلیوری کا کام مکمل کیا اور رات 11 بجے کے قریب گھر واپس آنے سے پہلے ٹیمپو کو چارکوپ کے علاقے میں کھڑا کیا۔ گاڑی اگلے دن تقسیم کے لیے سلنڈروں سے لدی ہوئی تھی۔ جب وہ 26 مارچ کی صبح 8 بجے کے قریب اسی مقام پر واپس آیا تو اس نے دیکھا کہ گاڑی کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی گئی تھی۔ کھڑکی کا شیشہ ٹوٹ گیا اور پیچھے کا تالا ٹوٹ گیا۔ جانچ کرنے پر نند کمار کو پتہ چلا کہ تمام سلنڈر چوری ہو گئے ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کی کل قیمت تقریباً 15,500 روپے بتائی جاتی ہے۔ ابتدا میں، نند کمار نے اپنے ساتھی کارکنوں سے یہ معلوم کرنے کے لیے رابطہ کیا کہ آیا سلنڈر کہیں اور منتقل کیے گئے ہیں، لیکن جب انھیں کوئی اطلاع نہیں ملی تو انھوں نے پولیس سے رابطہ کیا اور شکایت درج کرائی۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ ملزمان کی گرفتاری کے لیے متعدد ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔ علاقے سے سی سی ٹی وی فوٹیج میں کچھ مشکوک افراد کو گاڑیوں کے ساتھ پکڑا گیا ہے اور ان کی شناخت کے لیے کوششیں جاری ہیں۔ چوری شدہ سلنڈروں کا پتہ لگانے کے لیے تفتیش کار اسکریپ مارکیٹس اور گیس کے غیر قانونی تجارتی نیٹ ورک سے منسلک افراد سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔
-
سیاست1 year agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
سیاست6 years agoابوعاصم اعظمی کے بیٹے فرحان بھی ادھو ٹھاکرے کے ساتھ جائیں گے ایودھیا، کہا وہ بنائیں گے مندر اور ہم بابری مسجد
-
ممبئی پریس خصوصی خبر6 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم5 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
-
سیاست8 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
