سیاست
پولیس کا کام شرپسندوں سے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ڈاکٹر ارچنا
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے معروف ٹریڈ یونین لیڈر ڈاکٹر ارچنا نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر سے نمٹنا پولیس کا کام ہے اور شاہین باغ مظاہرین کو کسی دھمکی سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے دفعہ 144 کے نفاذ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس کے پیسے سے پولیس والوں کو سیلری اس لئے دی جاتی ہے تاکہ وہ شرپسندوں اور سماج دشمن عناصر سے لوگوں کی حفاظت کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو سینا کو روکنا پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے اور اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کی مزدور تنظیمیں آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے کے لئے تیار ہیں۔
مظاہرین میں شامل سماجی کارکن سیما نے الزام لگایا کہ ملک میں نفرت کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے اور یہ لوگ کچھ بھی کرلیں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ انہوں نے مبینہ اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والے کپل مشرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ نفرت اوڑھو، نفرت بھڑکاؤ، نفرت کھاؤ، نفرت پیو، نفرت پھیلاؤواور پھر بھارت ماتا کی جے بول دو سارے گناہ اپنے آپ دھل جائیں گے اور پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ انہوں نے عدالت کی صورت حال کے بارے میں کہاکہ جب نفرت پر لگام لگانے کی کوشش کرنے والے جج کا تبادلہ کردیا جاتا ہے تو نفرت پھیلانے والوں کو سزا کون دے گا اور کون اس پر لگام لگائے گا۔
انہوں نے کہاکہ یہ ملک محبت کرنے والوں کا ملک ہے اور یہاں نفرت کرنے والی شکست ہوگی۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین نے نفرت کی مہم کے بدلے محبت کا پیغام دیا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال بن کر شاہین باغ سامنے آیا ہے۔ اس لئے شاہین باغ کے خلاف نفرت کرنے والوں یا اسے ہٹانے والوں کی مہم پر ہماری مہم کامیاب ہوگی اورہم نے پورے ملک میں پیغام دیا ہے کہ کس طرح پرامن طریقے سے اتنے طویل عرصے تک مظاہرہ کیا ہے۔
ایک دیگر خاتون مظاہرین گل بانو نے میڈیا کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام سچائی دکھانا ہے نہ کہ کسی کے خلاف مہم چلانا۔ انہوں نے دہلی کی حالت کی اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے کہ اب میڈیا سچائی دکھائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا سے یہ بھی کہاکہ میڈیا یہ بھی دکھائے گا کہ ہم یہاں کس مقصد کے لئے یہاں بیٹھی ہیں اور اس کو سمجھیں اور لوگوں کو سمجھائیں۔
محترمہ فاطمہ نے کہاکہ دفعہ 144لگانا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اس کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ پولیس کی منشا پر انحصار کرتا ہے کہ شرپسندوں کو روکنے کے لئے لگایا ہے یا مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے۔ ساتھ ہی انہوں نے مظاہرہ گاہ میں پولیس کے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے پر دعوی کیا کہ اس پولیس پر کیسے بھروسہ کیا جائے جو خوریجی میں خود ہی سی سی ٹی وی کیمرے توڑتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیاگیا۔ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تہی حالانکہ پولس کے مداخلت کے بعد انہوں نے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف تحریک کے خلاف اپنا مجوزہ مظاہرہ واپس لے لیا تھالیکن پولس نے احتیاطا بڑی تعداد میں پولس فورس کو تعینات کردیا ہے۔ایک پولس افسر نیبتایا کہ کسی قسم کی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔
سماجی کارکن ملکہ خاں نے خوریجی مظاہرہ کو مبینہ طور پر طاقت کے استعمال سے ختم کرنے اور مظاہرین میں ایڈووکیٹ عشرت جہاں اور دیگر کودفعہ 307 اور فساد بھڑکانے کے دفعات پر گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے کا حق ہیں دستور نے دیا ہے۔ یہ کسی حکومت کا تحفہ نہیں ہے یا بھیک نہیں ہے کہ جب چاہے دینے سے انکار کردے۔ انہوں نے اس قدم کو جمہوریت کو کچلنے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی جمہوریت اسی وقت اچھی ہوتی ہے جب وہاں احتجاج و مظاہرہ کرنے کی آزادی ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔
بین الاقوامی خبریں
‘بھوت’، ‘جنات’ بنگلہ دیش میں ملبوسات کے کارخانوں کا شکار، بڑے پیمانے پر بیماری نے خوف و ہراس پھیلا دیا

نئی دہلی، 16 ستمبر، واقعات کے ایک عجیب و غریب سلسلے میں، بنگلہ دیش میں ٹیکسٹائل ورکرز اپنے کام کی جگہوں پر “بھوتوں” اور “جنوں” کا شکار ہونے کی شکایت کر رہے ہیں، جس سے صنعت میں بڑے پیمانے پر خوف و ہراس اور غیر یقینی کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے، ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق جس نے منطقی نتیجہ بھی اخذ کیا ہے۔ اس طرح کے واقعات کچھ عرصے سے رونما ہو رہے ہیں۔ پچھلی دہائی سے قبل، 2008 میں، اسی طرح کی خوف و ہراس کئی فیکٹریوں میں پھیل گیا، جو کہ کسی بھی سال کے مقابلے میں زیادہ تھا۔” حالیہ دنوں میں، برآمد پر مبنی گارمنٹس فیکٹری یونیورسل مینس ویئر میں لنچ کے وقفے کے بعد، تیسری منزل سے ایک خاتون کارکن نے “بھوت” کہا اور تیزی سے فیکٹری کے کارکنوں کے بارے میں رپورٹ 5 پھیل گئی۔ اس نے مزید کہا کہ یونٹ کے فرش بھی بیمار ہو گئے۔ غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرتے ہوئے انتظامیہ اس دن فیکٹری بند کرنے پر مجبور ہوئی۔ لیکن یہ واقعہ اگلے دن خود کو دہرایا گیا جس کی وجہ سے وہ دوبارہ بند ہو گئے۔
رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ 22 اگست کو نارائن گنج کے آدم جی ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں پیش آیا۔ یہ علاقہ ڈھاکہ کے مضافات میں ایک بڑا صنعتی مرکز ہے، جو اپنی جوٹ اور ٹیکسٹائل کی صنعتوں، دریائی بندرگاہوں اور بھرپور ثقافتی ورثے کے لیے جانا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ ایک الگ تھلگ واقعہ ہونے کے علاوہ، گزشتہ ایک دہائی کے دوران ملبوسات کے شعبے میں کم از کم 11 ایسی ہی اقساط واقع ہوئی ہیں۔ 2008 میں، متعدد فیکٹریوں میں مبینہ طور پر “کسی بھی دوسرے سال” کے مقابلے میں “زیادہ” کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک تجزیہ کے مطابق، ایسے واقعات عام طور پر بڑی فیکٹریوں میں رونما ہوتے ہیں، جن کی شروعات اکثر غسل خانوں میں بھوتوں کی افواہوں سے ہوتی ہے یا یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ کسی کو “قبضہ” کیا گیا ہے، رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک ورکر کی بیماری اکثر بیہوشی یا دوسروں کے درمیان بیماری کا باعث بنتی ہے۔ اس رپورٹ میں ایک عقلی جواب کا حوالہ دیا گیا، ناظمہ اختر، جو کہ ورکرز اور خواتین کارکنان کی جانب سے فزیکل ورکرز کی صدر ہیں، ان کا کہنا تھا ذہنی دباؤ.
کم اجرت کا مطلب ہے کہ وہ زیادہ تر دنوں میں غذائیت سے بھرپور کھانا برداشت نہیں کر سکتے۔ خاندانی مسائل ذہنی دباؤ میں اضافہ کرتے ہیں؛ اور بہت سے لوگ بیمار ہونے کے باوجود کام پر حاضر ہوتے ہیں۔ اس طرح کے دباؤ کے تحت، کارکن اکثر گر جاتے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کچھ لوگ خوف پھیلانے کے لیے حالات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس میں ایک دہائی کے دوران رپورٹ ہونے والے اسی طرح کے متعدد واقعات پر روشنی ڈالی گئی۔ فیکٹری مینیجرز اور لیبر یونین کے رہنماؤں نے مبینہ طور پر کام کے تناؤ، غذائی قلت، توہم پرستی اور نفسیاتی چھوت جیسے عوامل کو ان اقساط کے پیچھے ہونے کے طور پر اجاگر کیا۔ مناسب اجرت، غذائیت، اور دماغی صحت کی مدد کے بغیر، ایسے واقعات کے دوبارہ ہونے کا امکان ہے، پیداوار میں خلل ڈالنا اور کمزور محنت کشوں کو نقصان پہنچانا، جن میں نٹ ورکرز اور مزدوروں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ بیان کیا، اس طرح وجہ کو “مافوق الفطرت” سے بالاتر رکھتے ہوئے. کچھ مالکان کو یہ بھی شبہ ہے کہ منظم گروپ پیداوار میں خلل ڈالنے کے لیے جان بوجھ کر خوف و ہراس پھیلا رہے ہیں، حالانکہ یہ اخبار کے ذریعے قائم نہیں ہو سکا۔
مزید برآں، اس نے فرید پور میڈیکل کالج کے شعبہ نفسیات میں پروفیسر ہلال الدین احمد کا حوالہ دیا، جنہوں نے وضاحت کی کہ چکر آنا، متلی اور پیٹ میں درد جیسی علامات تبادلوں کے عارضے کی علامات ہیں۔ فنکشنل نیورولوجیکل ڈس آرڈر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، یہ ایسی حالت ہے جہاں حقیقی اعصابی جیسی علامات جیسے کمزوری، قبضے کے بغیر کسی بیماری کا پتہ لگانا، دماغی امراض کا پتہ لگانا، دماغی امراض کا پتہ لگانا۔ ساختی نقصان کے بجائے دماغی جسم کے مواصلات میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ پروفیسر کے مطابق جب یہ گروپوں میں پھیلتا ہے تو اسے بڑے پیمانے پر نفسیاتی بیماری کہا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسکولوں، ہاسٹلوں اور فیکٹریوں میں اس طرح کی وباء عام ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس طرح کی علامات کو روکنے کے لیے کارکنوں کو ذہنی صحت سے متعلق آگاہی، مشاورت، آرام کی سہولیات اور مناسب اجرت کی ضرورت ہے۔
بین الاقوامی خبریں
مکہ کے قریب ڈرون حملے پر بھارت کو ‘گہری تشویش’، امن کی جلد بحالی پر زور

نئی دہلی، 16 ستمبر، ہندوستان نے بدھ کو مکہ کے قریب ڈرون حملے پر تشویش کا اظہار کیا اور خطے میں امن اور استحکام کی جلد بحالی کی امید ظاہر کی۔ مکہ کے قریب ڈرون حملے کے بارے میں میڈیا کے سوالات کے جواب میں، وزارت خارجہ (ایم ای اے) کے ترجمان رندھیر جیسوال نے واقعہ کو “خاص طور پر تشویشناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کے قریب ڈرون حملے کے بارے میں گہری تشویش رکھتے ہیں۔ مکہ (مکہ) ہندوستان سعودی عرب کی خودمختار سرزمین پر حملوں اور شہریوں کی زندگیوں اور بنیادی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات کی مذمت کا اعادہ کرتا ہے، خاص طور پر مکہ کے نزدیک واقعہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے اس شہر کی خصوصی اہمیت کے پیش نظر ہے،” جیسوال نے ایک بیان میں کہا، “انہوں نے خطے میں جلد امن کی امید ظاہر کی۔”
ایم ای اے کا یہ بیان رائل سعودی ایئر ڈیفنس فورسز نے منگل کو مکہ کے ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل حوثیوں کی جانب سے لانچ کیے گئے ایک دشمن ڈرون کو روک کر تباہ کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ یمن کے سرکاری ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی میں قانونی حیثیت کی بحالی کے لیے اتحاد نے ایک بیان میں کہا: “منگل کی شام 18:50 پر 15 ستمبر، 2026 کو، رائل سعودی ایئر ڈیفنس فورسز نے مکہ شہر کے علاقے میں داخل ہونے سے پہلے دہشت گرد حوثی ملیشیا کی طرف سے شروع کیے گئے ایک دشمن ڈرون کو روک کر اسے تباہ کر دیا۔ سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ دشمن ڈرون کو جنوبی مکہ مکرمہ میں روکا گیا، “یہ دشمنانہ اور دہشت گردانہ کارروائی 27 جولائی 2017 کو بیلسٹک میزائل سے پہلی کوشش کے بعد مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کی دوسری کوشش ہے۔ اسے صرف ایک ذلت آمیز عمل، وحی کی جائے پیدائش، کو نشانہ بنانے کی کوشش کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے”۔ انہوں نے مزید کہا.
المالکی نے کہا کہ یہ واقعہ عمرہ ادا کرنے والوں کو دہشت زدہ کرنے کی ایک کوشش تھی اور اسے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنے کی ایک “دانستہ حرکت” قرار دیا، سعودی پریس ایجنسی نے رپورٹ کیا۔” حرمین شریفین اور عمرہ ادا کرنے والوں کی حفاظت ایک سرخ لکیر ہے، اور اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان دہشت گردوں کے خلاف ضروری اقدامات کرنے سے دریغ نہیں کرے گی۔ دشمنی اور دہشت گردانہ رویہ۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر چمبور سمیت شمالی ممبئی میں پولس کا مارچ

ممبئی کے مضافاتی شمالی ریجن کی حدود میں چمبور سمیت دیگر حساس علاقوں میں گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر میں روٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا ممبئی پولیس کی اضافی فورسیز اور دیگر دستوں نے سڑکوں پر روٹ مارچ کر کے عوام کو تحفظ کا یقین دلایا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر ایسٹ ریجن دھننجے کلکر نی کی ہدایت پر شمالی علاقوں میں روٹ مارچ کیا گیا تاکہ گنپتی اتسو کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس بھی گنپتی پر خصوصی طور پر الرٹ پر ہے۔ ممبئی میں گنپتی اتسو کے پس منظر میں شمالی علاقوں گوونڈی, کرلا, چمبور سمیت دیگر حساس میں پولیس نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر بھی سیکورٹی سخت کر دی ہے۔
ممبئی کے مغربی مضافات اندھیری ساکی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی پولیس الرٹ پر ہے یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے حساس علاقوں پر خصوصی نگرانی کے ساتھ پولیس اسٹیشن کے سنیئر افسران کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر ممبئی کے تمام ریجن اور زونل سطح پر روٹ مارچ اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے اعلی افسران ساحل سمندر اور مصنوعی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر خیمہ زن بھی ہے 25 ستمبر کو شہر میں گنپتی وسرجن بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں امن وامان کی بقا کیلئے پولیس مستعد اور الرٹ ہے۔ ممبئی کے اہم مقامات گرگاؤں چوپاٹی, دادر, و دیگر تالاب اور سمندر و وسرجن کے مقامات پر خصوصی پہرہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ بی ایم سی نے بھی یہاں گنیش بھکتوں کی سہولیات کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر نے کا دعوی کیا ہے ممبئی کے باندرہ بینڈ اسٹینڈ سمیت دیگر سمندروں جوہو چوپاٹی پر بھی پولیس کا بندوبست رہے گا۔ آج شمالی ممبئی زون اور ریجن میں گنیش اتسوکے سبب پولیس نے روٹ مارچ کر کے حساس علاقوں کا بھی جائزہ لیا ہے اس روٹ مارچ کا مقصد عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جبکہ فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر پر اس سے خوف طاری ہوتا ہے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر شہر میں حالات پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ممبئی میں گنیش اتسو کے دوران ہی آزاد میدان میں منوج جارنگے پاٹل کی ممبئی روانگی نے ممبئی پولیس کیلئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے جبکہ ممبئی پولیس نے اب تک جارنگے کو احتجاجی مظاہرہ کی اجازت نہیں دی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
