Connect with us
Friday,31-July-2026
تازہ خبریں

سیاست

پولیس کا کام شرپسندوں سے لوگوں کی حفاظت کرنا ہے۔ ڈاکٹر ارچنا

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف شاہین باغ خاتون مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے معروف ٹریڈ یونین لیڈر ڈاکٹر ارچنا نے کہا کہ کسی بھی شرپسند عناصر سے نمٹنا پولیس کا کام ہے اور شاہین باغ مظاہرین کو کسی دھمکی سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے دفعہ 144 کے نفاذ پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس کے پیسے سے پولیس والوں کو سیلری اس لئے دی جاتی ہے تاکہ وہ شرپسندوں اور سماج دشمن عناصر سے لوگوں کی حفاظت کرسکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہندو سینا کو روکنا پولیس اور انتظامیہ کا کام ہے اور اس سے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ انہوں نے شاہین باغ خاتون مظاہرین سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ دہلی کی مزدور تنظیمیں آپ کے ساتھ قدم سے قدم ملاکر چلنے کے لئے تیار ہیں۔
مظاہرین میں شامل سماجی کارکن سیما نے الزام لگایا کہ ملک میں نفرت کی تجارت کو بہت فروغ حاصل ہوا ہے اور یہ لوگ کچھ بھی کرلیں ان کا کچھ نہیں بگڑتا۔ انہوں نے مبینہ اشتعال انگیز بیان بازی کرنے والے کپل مشرا کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دعوی کیا کہ نفرت اوڑھو، نفرت بھڑکاؤ، نفرت کھاؤ، نفرت پیو، نفرت پھیلاؤواور پھر بھارت ماتا کی جے بول دو سارے گناہ اپنے آپ دھل جائیں گے اور پولیس بھی کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ انہوں نے عدالت کی صورت حال کے بارے میں کہاکہ جب نفرت پر لگام لگانے کی کوشش کرنے والے جج کا تبادلہ کردیا جاتا ہے تو نفرت پھیلانے والوں کو سزا کون دے گا اور کون اس پر لگام لگائے گا۔
انہوں نے کہاکہ یہ ملک محبت کرنے والوں کا ملک ہے اور یہاں نفرت کرنے والی شکست ہوگی۔ شاہین باغ خاتون مظاہرین نے نفرت کی مہم کے بدلے محبت کا پیغام دیا ہے۔ گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال بن کر شاہین باغ سامنے آیا ہے۔ اس لئے شاہین باغ کے خلاف نفرت کرنے والوں یا اسے ہٹانے والوں کی مہم پر ہماری مہم کامیاب ہوگی اورہم نے پورے ملک میں پیغام دیا ہے کہ کس طرح پرامن طریقے سے اتنے طویل عرصے تک مظاہرہ کیا ہے۔
ایک دیگر خاتون مظاہرین گل بانو نے میڈیا کے رویے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کا کام سچائی دکھانا ہے نہ کہ کسی کے خلاف مہم چلانا۔ انہوں نے دہلی کی حالت کی اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ امید ہے کہ اب میڈیا سچائی دکھائے گا۔ ساتھ ہی انہوں نے میڈیا سے یہ بھی کہاکہ میڈیا یہ بھی دکھائے گا کہ ہم یہاں کس مقصد کے لئے یہاں بیٹھی ہیں اور اس کو سمجھیں اور لوگوں کو سمجھائیں۔
محترمہ فاطمہ نے کہاکہ دفعہ 144لگانا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اس کا مقصد ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب کچھ پولیس کی منشا پر انحصار کرتا ہے کہ شرپسندوں کو روکنے کے لئے لگایا ہے یا مظاہرین کو ڈرانے دھمکانے کے لئے۔ ساتھ ہی انہوں نے مظاہرہ گاہ میں پولیس کے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے جانے پر دعوی کیا کہ اس پولیس پر کیسے بھروسہ کیا جائے جو خوریجی میں خود ہی سی سی ٹی وی کیمرے توڑتے ہوئے دکھائی دے رہی ہے۔
واضح رہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف شاہین باغ میں جاری مظاہرہ کے نزدیک دو گروپوں کے درمیان تصادم سے بچنے کیلئے اتوار کو اس علاقے میں دفعہ 144 کا نفاذ کردیاگیا۔ہندو سینا نے یکم مارچ کو شاہین باغ سڑک خالی کرانے کی دھمکی دی تہی حالانکہ پولس کے مداخلت کے بعد انہوں نے شاہین باغ میں سی اے اے کے خلاف تحریک کے خلاف اپنا مجوزہ مظاہرہ واپس لے لیا تھالیکن پولس نے احتیاطا بڑی تعداد میں پولس فورس کو تعینات کردیا ہے۔ایک پولس افسر نیبتایا کہ کسی قسم کی ناخوشگوار واقعہ سے بچنے کے لئے پولس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔
سماجی کارکن ملکہ خاں نے خوریجی مظاہرہ کو مبینہ طور پر طاقت کے استعمال سے ختم کرنے اور مظاہرین میں ایڈووکیٹ عشرت جہاں اور دیگر کودفعہ 307 اور فساد بھڑکانے کے دفعات پر گرفتار کرکے جیل بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنے کا حق ہیں دستور نے دیا ہے۔ یہ کسی حکومت کا تحفہ نہیں ہے یا بھیک نہیں ہے کہ جب چاہے دینے سے انکار کردے۔ انہوں نے اس قدم کو جمہوریت کو کچلنے والا قدم قرار دیتے ہوئے کہاکہ کوئی بھی جمہوریت اسی وقت اچھی ہوتی ہے جب وہاں احتجاج و مظاہرہ کرنے کی آزادی ہو۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کرکے مظاہرین کو ہٹادیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کوپھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کااظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیاتھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ،بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،،کھجوری، جعفرآباد، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کردیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلا ف جاری مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہورہی ہے۔ نوجوانوں کی ٹولی ان لوگوں کو گھروں میں جاکر اس قانون کے بارے میں بیدار کر ررہی ہے۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر،اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ا ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ یہاں پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور،بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ،، جامعہ ملیہ اسلامیہ،حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک،سیلم پور فروٹ مارکیٹ،جامع مسجد،،ترکمان گیٹ،،ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر،پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی،سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان،گوپال گنج،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی،پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد،کونڈوا،۔پونہ،ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ، امروکا،پراکی، اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد،جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، گریڈیہہ،جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہورہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ۸ سالہ بچہ کے والدین کا ٹی شرٹ سے سراغ، جوگیشوری سے گمشدہ بچہ صحیح سلامت والدین کے سپرد، ممبئی پولس کا عظیم کارنامہ

Published

on

missing-child

ممبئی پولس نے ایسے گمشدہ بچہ کو والدین کو تلاش کر کے اس بچہ ان کے سپرد کیا جو خصوصی بچہ تھا اور نام و پتہ بتانے سے قاصر تھا ٹی شرٹ سے پولس نے بچہ کے والدین کا سراغ لگایا۔ ممبئی 30 جولائی، 2026 کو جوگیشوری پولیس اسٹیشن کے دائرہ اختیار میں، پولیس نائیک مِسل کی فوری کارروائی کے نتیجے میں لڑکے کے والدین کا کامیاب سراغ لگایا گیا, گشت کے دوران گمشدہ بچہ برآمد کرلیا گیا۔ 30 جولائی 2026، تقریباً ۴ بجے ‘یولے چائے’ کی دکان کے سامنے، سبھاش روڈ، جوگیشوری (مشرق)، ممبئی پیدل گشت کے دوران، پولیس نائیک مسال کو ایک لڑکا ملا، جس کی عمر تقریباً 7 سے 8 سال تھی، روتا ہوا اور اکیلا راستہ بھٹک گیا تھا۔ ابتدائی پوچھ گچھ کرنے اور اس کا نام اور پتہ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ لڑکا بول نہیں سکتا۔ وہ صرف “ابا” (باپ) اور “اماں” (ماں) کے الفاظ ادا کرنے کے قابل تھا۔ پولیس نائک میسل نے لڑکے کی ٹی شرٹ کا باریک بینی سے جائزہ لیا اور اس پر لکھا ہوا پایا۔ برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن ہندی اسکول، جوگیشوری ایسٹ، ممبئی۔ انہوں نے فوری طور پر مذکورہ میونسپل اسکول کا دورہ کیا اور وہاں کے ایک استاد لکش کمار نندیشور سے رابطہ کیا۔ ٹیچر نے بتایا کہ لڑکا اس وقت اس مخصوص اسکول میں کلاسز میں نہیں جا رہا تھا، داخلے کے وقت اسے ٹی شرٹ جاری کی گئی تھی۔ اگرچہ اس لڑکے کا فی الحال وہاں داخلہ نہیں ہوا تھا، لیکن اسکول کے داخلے کے ریکارڈ میں دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اس وقت ‘سوپن اسپیشل انگلش میڈیم اسکول’ میں زیر تعلیم ہے۔ اس اسکول سے رابطہ کرنے پر، نیہا ٹنڈولکر نامی ایک ٹیچر نے لڑکے کی شناخت کی اور اس کے والدین کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں والدین کی شناخت ریاض احمد اکبر علی انصاری کے نام سے ہوئی ہے۔ بچے کا نام محمد شہباز انصاری عمر: 8 سال کی اطلاع دی گئی ہے بچہ ٹھیک سے بول یا پڑھ نہیں سکتا۔ والدین کا بیان لڑکا سہ پہر 3:00 بجے کے قریب میگھواڑی علاقے کے باندرہ پلاٹ میں اپنے گھر سے نکلا تھا اور اس کے والدین اسے تلاش کر رہے تھے۔

بچے کے والدین کو فوری طور پر جوگیشوری پولیس اسٹیشن میں طلب کیا گیا۔ اس کے بعد بچے کو بحفاظت ان کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ اطلاع اقبال شکلگر سینئر پولیس انسپکٹر، جوگیشوری پولیس اسٹیشن نے دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی سیاحوں کے لیے اعلیٰ معیار اور جامع سہولیات فراہم کرنے پر توجہ مرکوز کرتی ہے : میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwani-Joshi

ممبئی : ملک کے اندر اور بیرون ملک سے آنے والوں سیاحوں اورمہمانوں کے لیے ایک اہم سیاحتی مقام ہے ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) شہر بھر کے مختلف سیاحتی مقامات پر اعلیٰ معیار کی اور جامع سہولیات جیسے کہ صفائی، خوبصورتی، حفاظتی اقدامات، اشارے، عوامی بیت الخلاء، پینے کے پانی کی سہولیات، اور ڈیجیٹل معلوماتی نظام فراہم کرنے پر خصوصی زور دے رہی ہے۔ ممبئی کے ثقافتی، تاریخی اور ورثے کے اثاثوں کو سیاحوں کے سامنے زیادہ مؤثر طریقے سے دکھانے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ بی ایم سی کا مقصد ممبئی کی سیاحتی صلاحیت کو بڑھانا اور مقامی شہریوں اور ملک اور دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں دونوں کے لیے ایک اعلیٰ معیار، اطمینان بخش تجربہ کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے یہ بھی یقین دلایا کہ سیاحوں کی رہنمائی اور سہولیات کے حوالے سے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔ ممبئی ٹورازم’ کے حوالے سے ایک مشترکہ میٹنگ آج (31 جولائی 2026) بی ایم سی ہیڈکوارٹر میں منعقد ہوئی، جس میں ممبئی میونسپل کارپوریشن، مہاراشٹر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) اور ممبئی سٹی کے کلکٹر شامل تھے۔میٹنگ میں ممبئی سٹی ڈسٹرکٹ کلکٹر آنچل گوئل نے شرکت کی۔ ، ایڈیشنل کلکٹر بپا صاحب تھوراٹ، بی ایم سی کے ڈپٹی کمشنر (کمشنر آفس) شری پرشانت گائیکواڑ، ضلع منصوبہ بندی افسرسنجے کمار شندے، ایم ٹی ڈی سی کے جنرل منیجر چندر شیکھر جیسوال، اور بزنس ڈیولپمنٹ ڈپارٹمنٹ کی سربراہ مانسی کوٹھارے سمیت دیگر شریک تھے شروع میں مہاراشٹر ٹورازم ڈیولپمنٹ کارپوریشن (ایم ٹی ڈی سی) کے جنرل منیجر مسٹر چندر شیکھر جیسوال نے ڈیجیٹل پریزنٹیشن کے ذریعے ممبئی کی سیاحت کے بارے میں معلومات پیش کیں۔

میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے کہا کہ ممبئی کے باشندوں کو بنیادی سہولیات اور خدمات فراہم کرنا میونسپل کارپوریشن کا بنیادی فرض ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کارپوریشن سیاحت سے متعلق سرگرمیاں اور پروموشنل کوششیں بھی کر رہی ہے۔ ممبئی میں سیاحت کے شعبے میں بے پناہ صلاحیت اور طاقت ہے۔ میونسپل کارپوریشن سیاحوں کو راغب کرنے اور سیاحت کو فروغ دینے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے اور ایم ٹی ڈی سی کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی کے ذریعے ان کوششوں کو مزید بڑھایا جائے گا۔ شہر میں اضافی سیاحتی مقامات کو ترقی دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کی جائیں گی۔ محترمہ بھیڈے نے یہ بھی تجویز کیا کہ ایم ٹی ڈی سی کو سیاحوں اور شہریوں کو قابل اعتماد معلومات فراہم کرنے کے لیے ایک سرشار ویب سائٹ تیار کرنی چاہیے۔

ایم ٹی ڈی سی کے جنرل منیجرچندر شیکھر جیسوال نے کہا کہ حکومت مہاراشٹر ریاست بھر میں سیاحت کو فروغ دینے اور ترقی دینے کے لیے پرعزم ہے۔ ایم ٹی ڈی سی کے بنیادی مقاصد میں سیاحت کے بنیادی ڈھانچے کو بڑھانا، اسٹریٹجک منصوبے بنانا، اور پائیدار سیاحتی اقدامات کو نافذ کرنا شامل ہے۔ ممبئی جیسا ہلچل مچانے والا شہر سیاحوں کی توجہ کا بھرپور ورثہ رکھتا ہے۔ مقامی خود حکومتی اداروں کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ خاص طور پر میونسپل کارپوریشنز کے لیے ماحولیاتی سیاحت اور ایڈونچر ٹورازم کو فروغ دینے میں پہل کریں جیسوال نے زور دیا کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کو اس سلسلے میں قیادت کرنی چاہئے اور اپنا مثبت تعاون بڑھانا چاہئے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بامبے ہائیکورٹ : وانکھیڈے کے خلاف محکمہ جاتی انکوائری پر روک، این سی بی سے جواب طلب، ملزم کی شکایت پر افسر پر کارروائی ناپسندیدہ عمل

Published

on

delhi-high-court

ممبئی : بامبے ہائیکورٹ نے آئی آر ایس افسر سمیر وانکھیڈے کے خلاف ڈپارٹمنٹل اور محکمہ جاتی انکوائری اور ہراسائی پر روک لگانے کا حکم دیا ہے سمیر وانکھیڈے نے این سی بی کی انکوائری کو چلینج کیا تھا جس پر عدالت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہا کہ آیا ایک افسر کو ایک گمنام خط کی بنیاد پر متعدد انکوائریاں شروع کی گئی ہیں اس سے افسر کا حوصلہ پست ہو گا۔ اس کے ساتھ ہی وانکھیڈے کو عدالت نے راحت دیتے ہوئے انکوائری پر روک کے ساتھ تحفظ فراہم کیا ہے۔ ایک اہم پیش رفت میں، بمبئی ہائی کورٹ کے جسٹس اے ایس گڈکری اور جسٹس کمل کھتا نے سخت تشویش کا اظہار کیا جس میں نارکوٹکس کنٹرول بیورو (این سی بی) نے گمنام شکایات کی بنیاد پر اپنے ہی سابق زونل ڈائریکٹر سمیر دنیا دیو وانکھیڑے کے خلاف متعدد انکوائریاں شروع کی, سماعت کے دوران، بنچ نے این سی بی کو وانکھیڈے کے خلاف شروع کی گئی کارروائی کی بنیاد پر وسیع سوالات کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے سوال کیا کہ ایک تفتیشی افسر کے خلاف محض ایک ملزم شخص کی جانب سے لگائے گئے الزامات اور گمنام شکایات کی بنیاد پر کارروائی کیسے کی جا سکتی ہے، خاص طور پر جب اس طرح کی کارروائیوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کو کمزور کرنے کا اثر ہو اس ادارہ کو بھی متاثر کیا جاسکتا ہے۔ رٹ پٹیشن گمنام شکایات سے پیدا ہونے والے وانکھیڈے کے خلاف جاری کردہ متعدد ابتدائی تحقیقاتی نوٹس کو چیلنج کرتی ہے۔ بنچ نے این سی بی سے ایک مناسب سوال بھی کیا کہ آیا ملزم نے یہ الزامات اپنی ابتدائی گرفتاری کے وقت یا تفتیش کے دوران لگائے تھے عدالت نے سوال کیا کہ اس طرح کے الزامات بعد میں ہی کیوں سامنے آئے اور وضاحت طلب کی کہ آخر میں ان پر کیوں غور کیا گیا۔ عدالت نے مزید مشاہدہ کیا کہ اگر ملزم کو تفتیشی افسران کے خلاف الزامات لگانے کی اجازت دی جائے اور محکمے کی جانب سے ایسے الزامات پر آسانی سے کارروائی کی جائے تو اس سے فوجداری انصاف کی انتظامیہ میں افراتفری پھیل جائے گی۔ بنچ نے ریمارکس دیئے کہ اس طرح کے کورس سے اپنے سرکاری فرائض کی انجام دہی میں ایماندار افسروں کے حوصلے پست ہوں گے اور یہ ایک خطرناک اور مکمل طور پر ناپسندیدہ مثال قائم ہو گی جس سے ملزم تفتیشی افسران کو محض اس لیے نشانہ بنا سکیں گے کہ انہوں نے اپنے قانونی فرائض سرانجام دیے تھے۔ بنچ نے این سی بی سے گمنام شکایات پر نافذ قوانین کے باوجود وانکھیڈے کے خلاف بار بار کارروائی شروع کرنے اور ایجنسی نے اپنے ہی ایک افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے طریقہ پر بھی سوال کیا۔ عدالت نے جواب دہندہ ایجنسی کے اس طرح کے الزامات پر افسوس اور کارروائی کرنے کے طرز عمل پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ سماعت کے دوران، عدالت نے مشاہدہ کیا کہ سمیر وانکھیڑے کے خلاف شروع کی گئی بار بار کی جانے والی کارروائی درخواست گزار کو سراسر ہراساں کرنے کے مترادف ہے اور اس طرح کی شکایات کی بنیاد پر اسے لگاتار پوچھ گچھ کرنے کے جواز پر سوال اٹھایا۔ فریقین کو طوالت سے سننے کے بعد، بامبے ہائی کورٹ نے کہا کہ حتمی سماعت کے لیے رٹ پٹیشن کو قبول کیاجاتا ہے اس کے ساتھ ہی وانکھیڈے کو عبوری راحت اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جب تک درخواست پر حتمی فیصلہ نہیں ہو گی یہ راحت برقرار رہے گی۔

آج کی کارروائی ایماندار سرکاری ملازمین کو من مانی اور پریشان کن کارروائیوں سے بچانے میں ایک اہم پیشرفت کی نشاندہی کرتی ہے عدالت کی طرف سے دیے گئے مشاہدات اس بات کو یقینی بنانے کی وسیع تر عوامی اہمیت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ تفتیشی افسران تاخیر یا گمنام الزامات کی بنیاد پر شروع کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کے خطرے کے بغیر بلا خوف و خطر اپنے قانونی فرائض ادا کرنے کے قابل ہیں۔ سمیر وانکھیڈے نے مسلسل کہا ہے کہ ان کے خلاف شروع کی گئی کارروائی من مانی، بددیانتی، قانونی طور پر غیر پائیدار اور انتظامی عمل کا غلط استعمال ہے۔ درخواست میں گمنام شکایات کی بنیاد پر ان کے خلاف جاری کیے گئے ابتدائی انکوائری نوٹس کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان