Connect with us
Thursday,06-August-2026

جرم

پولیس کی ناک کے نیچے سریا مافیا مونو کررہا ہے بڑے پیمانے پر(اسٹیل) سریا کا غیر قانونی کاروبار

Published

on

yruck-chori

بھیونڈی: (نامہ نگار ) بھیونڈی کونگاؤں پولیس اسٹیشن کے تحت رانجنولی ناکہ کے قریب ٹاٹا آمنترا عمارت کے عقب میں ممبئی ناسک شاہراہ سے متصل سریا مافیا مونو ٹرک ڈرائیوروں کے ساتھ سازباز کرکے ٹریلر پر لدی سریہ چوری کرنے کا گورکھ دھندا گزشتہ چار مہینوں سے مسلسل کررہا ہے۔ ٹریلر پر لدے سریا چوری کا ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا ہے۔ وائرل ہورہے اس ویڈیو کو ایک مقامی صحافی نے رات کے وقت بنایا ہے جس میں ایک ٹریلر سے کچھ لوگ سریا چوری کررہے ہیں اس کے باوجود محکمہ پولیس لا علم۔

باوثوق ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق سریا مافیا مونو کا رابطہ ٹریلر ڈرائیوروں سے ہے یہ ٹریلر ڈرائیور کمپنیوں سے سریا لے کر نکلتے ہیں اور وزن کانٹا میں سیٹنگ کرکے زیادہ سریا اپنے ٹریلر میں بھر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ممبئی اور تھانہ وغیرہ شہروں میں سریا مافیا مونو سے رابطہ کرکے زائد سریا کو ٹاٹا آمنترا کی عمارت کے عقب میں یا اس کے ذریعہ طے شدہ جگہ پر اتار کر وہاں سے آگے نکل جاتے ہیں۔ اس کے عوض میں ڈرائیوروں کو سریا مافیا مونو اچھی خاصی رقم دیتے ہیں۔

واضح ہو کہ سریا کا یہ غیر قانونی کاروبار کونگاؤں پولیس اسٹیشن کی حدود کے تحت کافی طویل عرصے سے چلتا آرہا ہے ۔جس میں پولیس بعض اوقات چھوٹی مچھلیوں کو پکڑ کر واہ واہی بھی لوٹتی رہتی ہے لیکن بڑے مافیا جیسے مونو کی آج تک پولیس پشت پناہی کرتی چلی آرہی ہے۔

ذرائع سے موصولہ جانکاری کے مطابق سریا مافیا مونو شاہراہ کے آس پاس کے کئی گوداموں میں چوری شدہ سریا ذخیرہ کرکے رکھتے ہیں۔اور جب سریا کا بھاؤ بڑھ جاتا ہے تو اسے اونچی قیمت میں فروخت کردیتے ہیں۔ وہیں حیرت کی بات تو یہ ہے کہ سریا کے اس غیرقانونی کاروبار کو رات کے اندھیرے میں پولیس کی سرپرستی میں ہی انجام دیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق پولیس کے کچھ لوگ اپنی جیبیں گرم کرنے کے لئے اس قسم کے مجرموں کا پورا ساتھ دیتے ہیں۔ معلومات کے مطابق اسی شاہراہ پر غیر قانونی سریا کا کاروبار کافی طویل عرصے سے سرگرم عمل ہے۔ جس میں بڑے مافیا بھی شامل ہیں۔

غور طلب ہے کہ بھیونڈی کے ڈپٹی پولیس کمشنر یوگیش چوہان شہر کے مجرموں پر قہر برساتے ہوئے یکے بعد دیگرے آپریشن چلا کر ڈپٹی پولیس کمشنر مجرموں پر نکیل کسنے میں کافی حد تک کامیاب نظر آرہے ہیں اس کے ساتھ ہی اس عالمی وبائی بیماری کورونا سے شہریوں کو بچانے کے لئے مختلف قسم کے منصوبہ بند اقدامات کو شروع کر رکھا ہے۔ اس مصیبت کے وقت کا فائدہ کچھ مجرمانہ قسم کے لوگ اٹھا رہے ہیں۔کیا سریا مافیا مونو کے خلاف پولیس کے ذریعے کارروائی کی جائے گی؟ اس طرح کا سوال سوشل میڈیا پر وائرل ہورہے ویڈیو کی وجہ سے شہریوں کی جانب سے اٹھایا جارہا ہے۔

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان