Connect with us
Wednesday,29-July-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

ملک کے امن وقانون سے عوام کا بھروسہ ٹوٹنا باعث تشویش ہے : کیجریوال

Published

on

دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے حیدرآباد کی ویٹرنری ڈاکٹر کے ساتھ عصمت دری کے بعد اسے جلاکر مارنے والے چاروں ملزمین کے پولیس مڈبھیڑ میں مارے جانے پر جمعہ کو کہا کہ اس سے لوگوں میں اطمینان اور خوشی ملی ہے، لیکن ملک کے امن وقانون سے عوام کا بھروسہ ٹوٹنا باعث تشویش ہے۔
حیدرآباد خاتون ویٹرنری ڈاکٹر کے ملزمین کو پولیس جائے وقوع پر اس واردات کو کس طرح سے انجام دیا گیا اسے جاننے کے لئے وہاں لے کر گئی تھی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمین نے بھاگنے کی کوشش کی اور مڈبھیڑ میں مارے گئے۔
مسٹر کیجریوال نے کہا،’’حیدرآباد کے واقعہ سے لوگوں میں اطمینان اور خوشی ہے۔ یہ تشویش کا موضوع ہے کہ ملک کےامن وقانون لوگوں کا یقین ٹوٹ چکا ہے۔ ہم سب کو مل کر ہمارے امن وقانون اور تفتیشی عمل کو مضبوط کرنا ہوگا تاکہ لوگ دوبارہ اس نظام پر یقین کرنے لگیں اور ہر متاثر کو جلد انصاف مل پائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

نیٹ پیپر لیک : گجرات کنکشن روہیت پوار کا نیا دعوی، ایکس پر ٹوئٹ کے بعد سیاست تیز، امتحانی پرچہ کے تین روز قبل پرچہ لیک کا انکشاف

Published

on

NEET-PAPER

ممبئی : نیٹ پیپر لیک پر دلی جنتر منتر میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج اور دھرمیندر پردھان کے استعفی کے بعد بھی نیٹ پیپر لیک کے معاملے میں نت نئے انکشاف شروع ہوگئے ہیں۔ پیپر لیک کو لے کر ایک سنسنی خلاصہ اور دھماکہ این سی پی شردپوار گروپ کے لیڈر و رکن اسمبلی روہیت پوار نے کیا ہے۔ روہیت پوار نے ایکس پر ٹوئٹ میں الزام عائد کیا ہے کہ پیپر لیک کا کنکشن گجرات سے ہے۔ کیونکہ گجرات میں تین روز قبل ہی نیٹ دوبارہ امتحان کا پرچہ پہنچایا گیا تھا اور گجرات سے ہی پرچہ لیک ہوا ہے۔ ایکس پر روہیت پوار کے ٹوئٹ سے ایک مرتبہ پھر بھونچال آگیا ہے۔ روہیت پوار نے ایکس پر تحریر کیا ہے کہ تین روز قبل ہی نیٹ کا پیپر لیک ہوا تھا یہ خبر ہے اس کی وضاحت کی جائے اس متعلق تمام دستاویزات لنک اور وہاٹس اپ چیٹ بھی میرے پاس موجود ہے۔ اس متعلق روہیت پوار نے ایک ای میل کی کاپی بھی ٹوئٹر ایکس پر شیئر کی ہے, جس میں اس پورے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے, جس میں تمام دستاویزات کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے۔ پیپر لیک اصلاحات بل پر بحث کے دوران ایک طرف پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی جاری ہے, تو دوسری طرف نیٹ پرچہ کے دوبارہ منعقد ہونے والے پرچہ کے لیک ہونے کے معاملے میں روہیت پوار نے ایک دھماکہ خیز انکشاف کیا ہے, جس کے بعد اب اس معاملہ میں سیاست بھی تیز ہوگئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

دہلی ہائی کورٹ نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کے خلاف کارروائی سے متعلق شکایات کیس ڈائری میں درج کرے۔

Published

on

highcourt

نئی دہلی : دہلی ہائی کورٹ نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او کو ہدایت دی ہے کہ وہ شام 5 بجے تک کیس ڈائری میں طلباء کے خلاف پولیس کارروائی سے متعلق عرضی گزاروں کی شکایت درج کریں۔ بدھ کو. اپنی شکایت میں درخواست گزاروں نے دہلی پولیس کمشنر انوراگ کمار، جوائنٹ کمشنر آف پولیس سندیپ لامبا اور دیگر پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ درخواست گزاروں نے کہا، “انہوں نے 23 جولائی کو پارلیمنٹ اسٹریٹ پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی، لیکن پولیس نے ابھی تک شکایت کی ڈائری نمبر اور رسید فراہم نہیں کی ہے۔” سماعت کے دوران دہلی پولیس نے عدالت کو بتایا کہ تکنیکی خرابیوں کی وجہ سے اس دن شکایت کی ڈائری نمبر اور رسید جاری نہیں کی جاسکی۔ پولیس نے عدالت کو یقین دلایا کہ بدھ کو درخواست گزاروں کو شکایت ڈائری نمبر اور رسید فراہم کر دی جائے گی۔

اس سے قبل دہلی پولیس نے جنتر منتر احتجاج کے دوران قابل اعتراض پوسٹس اور گالی گلوچ کے لیے سوشل میڈیا صارفین کے خلاف بڑی کارروائی کی تھی۔ پولیس نے ایسے صارفین کو نوٹس جاری کر دیئے۔ مزید برآں، دہلی پولیس نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم X کو جھنڈے والی پوسٹوں کو ہٹانے یا ہندوستان میں رسائی کو بلاک کرنے کی ہدایت کی۔ نوٹس میں کہا گیا کہ زیر بحث مواد کو اہم شخصیات اور دیگر افراد کو بدنام کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ تعزیرات ہند (آئی پی سی)، 2023 کی دفعہ 351(3)، 353(2) اور 356(2) کے تحت اسپیشل سیل پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

نوٹس میں کہا گیا کہ قابل اعتراض اور ہتک آمیز مواد پھیلانے سے وزیر اعظم کی ساکھ، وقار اور عوامی امیج کو شدید نقصان پہنچانے کا الزام ہے۔ اس میں مزید کہا گیا ہے کہ اس طرح کے مواد کی آن لائن دستیابی امن عامہ کو بری طرح متاثر کر سکتی ہے، غیر ضروری سیاسی تنازعہ پیدا کر سکتی ہے اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے غلط استعمال کی حوصلہ افزائی کر سکتی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

نوجوان آپ کے ساتھ نہیں ہیں صرف آپ سیاست کر رہے ہیں، شریکانت شندے کا اپوزیشن پر سخت حملہ

Published

on

Shrikant Shinde

عوامی امتحانات میں بے ضابطگیوں کو روکنے کے مقصد سے ترمیمی بل پر لوک سبھا میں بحث کے دوران شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے اپوزیشن پر سخت حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں مودی حکومت نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کر رہی ہے وہیں اپوزیشن طلبہ کی پریشانی پر محض سیاست میں مصروف ہے۔ ڈاکٹر شندے نے ریمارکس دیے کہ نوجوانوں کی طرف سے جس غصے کا اظہار کیا گیا ہے اسے محض ایک احتجاج کے طور پر نہیں بلکہ نظامی تبدیلی کی شروعات کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ کوئی ایک امتحان طالب علم کی پوری زندگی کا تعین نہیں کرتا۔ اگر کسی طالب علم کو امتحان میں کامیابی حاصل نہ ہو تو اسے مایوس نہیں ہونا چاہیے بلکہ اپنی زندگی، اپنے خاندان اور ملک کے مستقبل پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔

نوجوانوں کو چھترپتی شیواجی مہاراج کی زندگی سے تحریک حاصل کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ شیواجی مہاراج نے صرف سولہ سال کی عمر میں اپنا پہلا قلعہ فتح کرکے ہندوی سوراجیہ کی بنیاد رکھی۔ آج کے نوجوان قوم کو بدلنے کی طاقت بھی رکھتے ہیں۔ صرف صحیح سمت اور ایک مضبوط نظام کی ضرورت ہے ڈاکٹر شندے نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی حکومت نے پیپر لیک ہونے کے واقعات کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ پورے نظام کو صاف کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے ہیں۔ حکومت کے اخلاقی جوابدہی کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے نشاندہی کی کہ وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا، اور اب، اس ترمیمی بل کے ذریعے، فاسٹ ٹریک عدالتوں کے لیے انتظامات کیے جا رہے ہیں تاکہ پیپر لیک کے معاملے میں ملزمان کو جلد سے جلد سزا دی جائے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت کا مقصد صرف مجرموں کو قید کرنا نہیں ہے بلکہ لاکھوں طلباء کے ایک قیمتی سال کو بچانا ہے۔ تعلیمی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ڈاکٹر شندے نے کہا کہ برسوں کی محنت کا نتیجہ اور خاندانوں کے خوابوں کی تعبیر تین گھنٹے کے ایک امتحان پر منحصر نہیں ہونی چاہیے۔ طلباء کو سال میں کئی بار امتحان دینے کا موقع ملنا چاہیے۔ حکومت کو سوالیہ بینک کا نظام تیار کرنے، طلباء پر بڑھتے ہوئے ذہنی دباؤ کو کم کرنے اور کوچنگ انڈسٹری کے لیے موثر ضوابط کو نافذ کرنے کی طرف بھی قدم بڑھانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر میں مہایوتی حکومت نے معاشی طور پر کمزور طبقات اور ای سی-بی سی زمرے کی بیٹیوں کو مفت تعلیم فراہم کرنے کے لیے ایک تاریخی پہل شروع کی ہے۔ یہ حکومت محض قوانین نہیں بنا رہی بلکہ تعلیمی نظام میں جامع اصلاحات لانے کے لیے پرعزم ہے۔ اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے ڈاکٹر شریکانت شندے نے ریمارک کیا کہ جو لوگ اب نوجوانوں کو چیمپئن بنانے کا دعویٰ کررہے ہیں وہ 37 دنوں تک جاری طلبہ کے احتجاج کے دوران جنتر منتر جانے میں ناکام رہے۔ انہیں ایک نئے سیاسی متبادل کے ابھرنے کا خدشہ تھا۔ اب اپنے سیاسی میدان کو کھسکتے دیکھ کر نوجوانوں کے نام پر سیاست کرنا شروع کر دی ہے۔انہوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ وہ پہلے یہ واضح کریں کہ کیا واقعی نوجوان ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ طلباء کے جذبات بھڑکانا، حکومت پر گالی گلوچ کرنا، اور غلط معلومات پھیلانا مسئلے کا کوئی حل پیش نہیں کرتا۔ جمہوریت میں، حکومت نے طلباء کے ساتھ بات چیت کی، ان کے تحفظات کو سنا، اور یہاں تک کہ کئی واقعات میں ان کے خلاف درج مقدمات کو واپس لے لیا۔ اس سے جمہوریت کی مضبوطی اور مودی حکومت کی حساسیت کی مثال ملتی ہے۔ڈاکٹر شندے نے زور دے کر کہا کہ یہ ترمیمی بل صرف پیپر لیک ہونے پر روک لگانے کا قانون نہیں ہے بلکہ لاکھوں نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانے، امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور تعلیمی اصلاحات لانے کا پختہ عزم ہے۔ اپوزیشن سیاست کو ایک طرف رکھ کر ملک کے نوجوانوں اور ان کے مستقبل کی حمایت میں کھڑی ہو جائے۔امتحانی اصلاحات بل پر پارلیمانی بحث کے دوران شیوسینا کے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر شریکانت شندے نے کہا کہ ملک کے امتحانی نظام میں جامع اصلاحات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ سال میں صرف ایک بار این ای ای ٹی جیسے اہم امتحانات کا انعقاد لاکھوں طلباء پر غیر ضروری دباؤ ڈالتا ہے۔

ڈاکٹر شندے نے نوٹ کیا کہ بہت سے طلباء بیماری، خاندانی وجوہات یا دیگر حالات کی وجہ سے امتحان سے محروم رہ جاتے ہیں، دیہی علاقوں کے طلباء کو خاص طور پر زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں ان کا پورا ایک سال ضائع ہو جاتا ہےانہوں نے مشورہ دیا کہ سال میں ایک سے زیادہ بار این ای ای ٹی امتحان کے انعقاد پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔ بہت سے ممالک میں اس طرح کے امتحانات سال میں دو بار ہوتے ہیں۔ ہندوستان میں اسی طرح کے نظام کو نافذ کرنے سے طلباء کو دوسرا موقع ملے گا اور ذہنی دباؤ میں کمی آئے گی۔ ڈاکٹر شندے نے کہا کہ نہ صرف نیٹ بلکہ دیگر مسابقتی امتحانات کو بھی کنٹرول کرنے والے نظاموں کو بدلتے ہوئے وقت کے مطابق اپ ڈیٹ کیا جانا چاہیے تاکہ طلبہ کے لیے منصفانہ اور بہتر مواقع کو یقینی بنایا جا سکے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان