Connect with us
Wednesday,16-September-2026

(جنرل (عام

اُردو میڈیا سینٹر پر منعقد پریس کانفرنس میں دستور بچاؤ کمیٹی کا این آر سی اور سی اے اے قانون کے مکمل بائیکاٹ کا اعلان

Published

on

آج 23 دسمبر 2019 کو دوپہر 3 بجے دستور بچاؤ کمیٹی کی جانب سے اردو میڈیا سینٹر پر منعقد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دستور بچاؤ کمیٹی کے سرپرست مولانا عمرین محفوظ رحمانی نے کہا کے آج ہمیں جو اعلان کرنا ہے وہ این آر سی کے بائیکاٹ کا اعلان ہے . جس ملک میں لوگ سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں. انھیں اس سے باہر نکالنے کی بجائے سرکار انھیں این آر سی اور سی اے اے کے جھمیلے میں ڈالنا چاہتی ہے . ہم ایسے قانون کی سخت مخالفت اور بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہیں . آج کی اس پریس کانفرنس کے ذریعے ہم پورے ملک کے باشندوں سے اپیل کرتے ہے کہ وہ این آر سی کے لاگو ہونے پر وہ اپنے کاغذات جمع نہ کرانے اور اس کا شدت سے بائیکاٹ کریں, آج ہمارے ساتھ برادران وطن بھی این آر سی اور سی اے اے کا بائیکاٹ کررہے ہیں اور اس کی مخالفت میں کھڑے ہیں, دستور بچاؤ کمیٹی میں باضابطہ برادران وطن کو بھی شامل کرنے کی مہم شروع کی جارہی ہیں. جس میں انھیں شامل کر کے اس احتجاج کو آگے بڑھایا جائے گا, جمعہ کے دن دستور بچاؤ کمیٹی کی جانب سے سبھی مساجد میں خطبہ دیا جائے گا . وہیں مہاراشٹر کے سبھی ایم ایل ایز کو لیٹر دیکر اسمبلی ہال میں اس کے خلاف احتجاج کرنے کی اپیل کی جائے گی . جو غلط فیصلے آج سرکار کررہی ہے اس کا خمیازہ اسے بھگتنا پڑے گا جو عوام کے احتجاج کے ذریعے اب سامنے آرہا رہےکہ اگر سرکار این آر سی زبردستی لاگو کرتی ہے تو ہم اس کا بائیکاٹ کرینگے, این آر سی کسی مسلمان کا مسئلہ نہیں ہے یہ پورے دیش کا مسئلہ ہے این آر سی سے صرف مسلمانوں کو پریشانی نہیں ہوگی بلکہ اس ملک کے 100 کروڑ سے زیادہ عوام کو لائن میں لگنا پڑے گا . ہم لوگوں نے پہلے دن ہی یہ بات طے کر لی ہے کہ کے ہمارے سامنے جیسے بھی حالات آئینگے ہم اس کا سامنا کرینگے, شہر میں اسٹوڈنٹ کی جانب سے سی اے اے اور این آر سی کے متعلق جاری میٹنگ اور اقدامات کے سوال پر مولانا عمرین نے کہا کہ انہوں نے مجھ سے رابطہ کیا تھا تب میں نے انھیں کہا کہ شہر میں اس کے خلاف ریلی ہوچکی ہو آپ لوگ جلسہ کر لیں . اس کے بعد بھی اگر وہ کچھ اور کرنے کا سوچ رہے ہیں تو پھر وہ اپنی ذمہ داری پر کریں . اس کانفرنس میں بہوجن سماج اگھاڑی کی جانب سے پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے این آر سی اور سی اے اے قانون کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا, اس کانفرنس میں مولانا عمرین, شاکرسر, بھرت مزدے, شکیل فیضی, مولانا قیوم قاسمی, صوفی غلام رسول, یوسف الیاس, یوسف سیٹھ نیشنل والے, جمیل کرانتی, مولانا عبدالحمید جمالی, عبدالعظیم فلاحی, رحمن شاہ, رضوان محمدی, صابر گوہر, مقیم مینا نگری ، سہیل ڈالریا سمیت دستور بچاؤ کمیٹی کے ذمہ داران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مراٹھا ریزروریشن منوج جارنگے پاٹل کو آزاد میدان میں احتجاج کی اجازت نہیں

Published

on

Manoj-Jarange

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کیلئے منوج جارنگے کی بھوک ہڑتال 18 ویں دن میں داخل ہوچکی ہے اور وہ ممبئی کیلئے اپنے قافلہ کے ساتھ کوچ کر رہے ہیں لیکن ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور ان کی درخواست کو مسترد کر دی ہے۔ مراٹھا مورچہ نے بھوک ہڑتال کیلئے ممبئی کے آزاد میدان میں اجازت طلب کی تھی اور 19 ستمبر سے یہ غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل اپنے قافلہ کے ساتھ ممبئی کیلئے کوچ کر چکے ہیں لیکن پولیس نے بھوک ہڑتال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اجازت نامہ سے انکار اور درخواست مسترد کر نے کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے کہا کہ 2025 ء میں بھی مراٹھا سماج نے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد آزاد میدان میں کیا تھا اور اجازت نامہ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود بھی احتجاج کو جاری رکھا تھا اور احتجاج کے دوران کے ممبئی کے شہریوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اتنا ہی نہیں اس احتجاج کے سبب عام شہری زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی ٹریفک اور نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا احتجاج کے دوران آزاد میدان کے علاقے میں 13 ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی احتجاج کے دوران اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

منوج جارنگے پاٹل کی عرضی مسترد کر تے ہوئے پولیس نے کہا ہے کہ چونکہ یہاں ممبئی میں 14 ستمبر سے 26ستمبر تک گنیش اتسو جاری ہے ایسے میں یہاں بھکتوں کی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے اور مراٹھا ریزرویشن کے مورچہ میں بھی بھیڑ جمع ہوگی اس لئے شہری نظام متاثر ہونے کے اندیشہ ہے اس کے ساتھ ہی بھیڑ بھاڑ کے دوران نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہونے کے ساتھ شہریوں کو دشواری ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل کی عرضی کو پولیس نے ان بنیادوں پر خارج کر دی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کی جو مظاہرین کی تعدادہے وہ پانچ ہزار ہے اور میدان میں لاکھوں کروڑوں مظاہرین کو مدعو کیا گیا ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ ہونے کا خطرہ ہے اس کے ساتھ ٹریفک نظام بھی متاثر ہوگا۔ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کو اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے اس کے باوجود منوج جارنگے پاٹل اپنے موقف پر اٹل ہے وہ اپنے قافلہ کے ساتھ جالنہ سے روانہ ہوچکے ہیں جبکہ پولیس نے ممبئی میں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کے جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے آن لائن امتحانات میں مبینہ طور پر سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء میں شامل ہوں گے۔

Published

on

CJP-Abhijit

چھترپتی سمبھاجی نگر : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے اب ایم پی ایس سی کے امیدواروں کی حمایت کریں گے۔ ابھیجیت ڈپکے نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے ذریعہ منعقد ہونے والے آن لائن امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایم پی ایس سی کے چیئرمین اور سیکرٹری کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے 24 ستمبر کی آخری تاریخ بھی مقرر کی ہے۔ یہ اعلان چھترپتی سمبھاج نگر کے ولوج علاقے میں ابھیجیت ڈپکے کے گھر پر دیپکے اور ایم پی ایس سی کے امیدواروں کے ایک گروپ کے درمیان میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ریاست بھر کے دورے کا انتباہ دیا چیف جسٹس نے کہا کہ ایم پی ایس سی چیئرمین اور سکریٹری کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والا احتجاج جاری رہے گا۔

سی جے پی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر دونوں عہدیدار 24 ستمبر تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو ابھیجیت ڈپکے اور پارٹی ممبران ایم پی ایس سی امیدواروں سے ملاقات کرنے اور ان کے تحفظات کا اظہار کرنے کے لئے ریاست بھر کا دورہ کریں گے۔ ابھیجیت ڈپکے اور دیگر چیف جسٹس ممبران بھی ایم پی ایس سی کے امیدواروں کے جاری احتجاج میں شامل ہوں گے۔

امیدواروں سے ملاقات کے بعد، ابھیجیت ڈپکے نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ چیف جسٹس اور میں اس لڑائی میں ایم پی ایس سی امیدواروں کے ساتھ ہیں۔ ایم پی ایس سی کے اعلیٰ عہدیداروں کے استعفیٰ تک ہم امیدواروں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ایم پی ایس سی امیدواروں نے مہاراشٹر میں کئی مقامات پر احتجاج کیا ہے۔ وہ بھرتی کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کمیشن کی طرف سے کرائے گئے مختلف امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ایم پی ایس سی امتحانات کے انعقاد میں احتساب اور شفافیت کے مطالبے پر مرکوز ہے۔ کے جے پی نے یہ اعلان ایم پی ایس سی کے کچھ امیدواروں نے چھترپتی سمبھاج نگر کے ولوج علاقے میں دیپکے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی… منشیات کی غیر قانونی فروخت دو گرفتار، گرفتارشدگان سے 12.81 کلو وزنی منشیات سمیت دیگر اسباب ضبط

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کاروائی کے دوران دو منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو ٹائیرازیپام کی گولیاں فروخت کرتے ہوئے پائے گئے۔ ۹ ستمبر کو یونٹ 6 کو ملی ہوئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کرائم برانچ کی ٹیم نے جال بچھا کر دو ملزمان کو پَنویل سائن ہائی وے کے قریب جنوبی واہنی سروس روڈ پر، ٹرامبے ٹرانسپورٹ دفتر کے پچھلے جانب، ٹرامبے، ممبئی اس جگہ نائٹرازپام کی گولیاں
اس منشیات کی 21,000 ٹیبلیٹس گولیاں جس کا کل وزن 12.81 کلو گرام، اور کل قیمت 64,05,000/- روپے قیمت کا مقدمے کا مال ضبط کیا۔ غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے ارادے اس نے یہ گولیاں رکھی تھی دونوں ملزمین نشہ کی گولیاں گاہکوں کو نشے کے لیے فروخت کرتے تھے اس کا انکشاف ہوا ہے۔ گرفتار ملزمان پر اس سے پہلے این ڈی پی ایس کے مطابق مقدمات درج ہیں اور دونوں ملزمان پر این ڈی پی ایس قانون 1985 دفعہ 8(سی), 22(سی), 29 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گرفتارشدگان مرد عمر 44 سال، رہنے والا شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی۔ مرد، عمر 50 سال، رہنے والا کوسہ، ممبرا، ضلع تھانے ہے.

مذکورہ کارروائی پولیس کمشنر، برہن ممبئی دیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) کرشن کانت اپادھیائے، پولیس ڈپٹی کمشنر ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے، اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر (ڈی مشرق) دھرما پال بنسوڈے کی رہنمائی میں یونٹ 6 کے انچارج پولیس انسپکٹر بھرت گھونگے، پولیس انسپکٹر سشانت ساونت، خاتون سب پولیس انسپکٹر چودھری، خاتون پولیس سب انسپکٹر ماشیرے، پولیس سب انسپکٹر دیسائی، پولیس حوالدار وانکھیڈے، پولیس حوالدار کھیڈکر، پولیس حوالدار بھالے راؤ، پولیس سپاہی پانچال، پولیس سپاہی شیخ، پولیس سپاہی بودھارے، پولیس سپاہی سسانے، خاتون پولیس سپاہی کھوٹوڈ، پولیس حوالدار چامگر اس ٹیم نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان