Connect with us
Saturday,01-August-2026

سیاست

مہاراشٹر میں این آر سی کا نفاذ نہیں ہوگا: وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے

Published

on

thackry

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کی قیادت میں شہر کے علمائے کرام ،اراکین اسمبلی امین پٹیل، این سی پی ترجمان نواب ملک اورعمائدین شہر کی ایک اہم میٹنگ میں یہ یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس لئے آپ پوری طرح سے مطمئن رہیں۔ یہ میرا وچن ہے۔ جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احتجاجی مظاہرے کا سماج دشمن عناصر غلط فائدہ اٹھا کر تشدد برپا کر سکتے ہیں۔ریاست میں نظم ونسق اور بقا کی ضرورت اب عوام کی ہے جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے وفد سے عہد لیا ہے کہ وہ ریاست میں امن وامان کی فضا کو بر قرار رکھنے میں تعاون کریں گے۔ علماۓ کرام نے یہ واضح کیا کہ ہم ریاست کی فلاح اور امن کے لئے آپ کے ساتھ ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ اس لئے ہم عوام کے جذبات سے طرح واقف ہیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے ۔ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں این آر سی کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حراستی مراکز ڈٹینشن کیمپ ہندوستانیوں کے لئےنہیں ہے۔ بلکہ یہ غیر قانونی طور پر مقیم نائیجریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے۔ این آر سی کےلئے مہاراشٹر میں کوئی ڈٹینشن سینٹر کاقیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ میرا وچن ہے کہ این آر سی کی زد میں کوئی بھی شہری نہیں آئے گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ اب احتجاجی مظاہرے نہ کریں ۔ کیونکہ سماج دشمن عناصر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کی بات ہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اب ریاست میں امن کے قیام کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کےدوران پولس کی شبیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پربھنی اور بیڑ میں پولس نے سخت کارروائی کی ہے ایسے معاملے میں جو کیس درج کئے گئے ہیں اس میں نرمی پیدا کی جائے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں کامقصد اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے یہ واضح کیا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کو اس ریاست میں نافذ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ ریاست میں نقص امن کے لئے خطرہ ہے انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آپ مسلمانوں اور عوام کو این آر سی اور سی اے اے کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ریاست مہاراشٹر میں اسے نافذ نہ کریں ۔ مولانا سجاد نعمانی بھی این آر سی اور سی اے اے پر عوام میں پھیلی ناراضگی اور بے اطمینانی سے وزیر اعلی کو واقف کروایا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ وفد میں شامل “ٹیس “کے لیڈر فہد شیخ نے گزارش کی ریاست میں این آر سی اور سی اے اے نفاذ نہ کرنے کے لئے آپ نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اب عوام میں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ہر کوئی این آر سی کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اس اہم میٹنگ میں مسلم اراکین اسمبلی این سی پی کے نواب ملک , رکن اسمبلی امین پٹیل ,سماجوادی پارٹی لیڈر اور ترجمان عبدالقادر چودھری، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، مولانا عبدالسلام سلفی ،مولانا مفتی حذیفہ قاسمی، مولانا اعجاز کشمیری ، ممبئی امن کمیٹی فرید شیخ، پرویز صدیقی سمیت اکابرین اور مقتدر اشخاص شریک تھے ۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس سبودھ جیسوال، پولس کمشنر سنجۓ بروے سمیت مختلف اعلی افسران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان