Connect with us
Wednesday,16-September-2026

سیاست

مہاراشٹر میں این آر سی کا نفاذ نہیں ہوگا: وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے

Published

on

thackry

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کی قیادت میں شہر کے علمائے کرام ،اراکین اسمبلی امین پٹیل، این سی پی ترجمان نواب ملک اورعمائدین شہر کی ایک اہم میٹنگ میں یہ یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس لئے آپ پوری طرح سے مطمئن رہیں۔ یہ میرا وچن ہے۔ جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احتجاجی مظاہرے کا سماج دشمن عناصر غلط فائدہ اٹھا کر تشدد برپا کر سکتے ہیں۔ریاست میں نظم ونسق اور بقا کی ضرورت اب عوام کی ہے جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے وفد سے عہد لیا ہے کہ وہ ریاست میں امن وامان کی فضا کو بر قرار رکھنے میں تعاون کریں گے۔ علماۓ کرام نے یہ واضح کیا کہ ہم ریاست کی فلاح اور امن کے لئے آپ کے ساتھ ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ اس لئے ہم عوام کے جذبات سے طرح واقف ہیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے ۔ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں این آر سی کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حراستی مراکز ڈٹینشن کیمپ ہندوستانیوں کے لئےنہیں ہے۔ بلکہ یہ غیر قانونی طور پر مقیم نائیجریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے۔ این آر سی کےلئے مہاراشٹر میں کوئی ڈٹینشن سینٹر کاقیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ میرا وچن ہے کہ این آر سی کی زد میں کوئی بھی شہری نہیں آئے گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ اب احتجاجی مظاہرے نہ کریں ۔ کیونکہ سماج دشمن عناصر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کی بات ہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اب ریاست میں امن کے قیام کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کےدوران پولس کی شبیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پربھنی اور بیڑ میں پولس نے سخت کارروائی کی ہے ایسے معاملے میں جو کیس درج کئے گئے ہیں اس میں نرمی پیدا کی جائے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں کامقصد اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے یہ واضح کیا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کو اس ریاست میں نافذ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ ریاست میں نقص امن کے لئے خطرہ ہے انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آپ مسلمانوں اور عوام کو این آر سی اور سی اے اے کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ریاست مہاراشٹر میں اسے نافذ نہ کریں ۔ مولانا سجاد نعمانی بھی این آر سی اور سی اے اے پر عوام میں پھیلی ناراضگی اور بے اطمینانی سے وزیر اعلی کو واقف کروایا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ وفد میں شامل “ٹیس “کے لیڈر فہد شیخ نے گزارش کی ریاست میں این آر سی اور سی اے اے نفاذ نہ کرنے کے لئے آپ نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اب عوام میں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ہر کوئی این آر سی کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اس اہم میٹنگ میں مسلم اراکین اسمبلی این سی پی کے نواب ملک , رکن اسمبلی امین پٹیل ,سماجوادی پارٹی لیڈر اور ترجمان عبدالقادر چودھری، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، مولانا عبدالسلام سلفی ،مولانا مفتی حذیفہ قاسمی، مولانا اعجاز کشمیری ، ممبئی امن کمیٹی فرید شیخ، پرویز صدیقی سمیت اکابرین اور مقتدر اشخاص شریک تھے ۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس سبودھ جیسوال، پولس کمشنر سنجۓ بروے سمیت مختلف اعلی افسران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر چمبور سمیت شمالی ممبئی میں پولس کا مارچ

Published

on

ممبئی کے مضافاتی شمالی ریجن کی حدود میں چمبور سمیت دیگر حساس علاقوں میں گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر میں روٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا ممبئی پولیس کی اضافی فورسیز اور دیگر دستوں نے سڑکوں پر روٹ مارچ کر کے عوام کو تحفظ کا یقین دلایا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر ایسٹ ریجن دھننجے کلکر نی کی ہدایت پر شمالی علاقوں میں روٹ مارچ کیا گیا تاکہ گنپتی اتسو کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس بھی گنپتی پر خصوصی طور پر الرٹ پر ہے۔ ممبئی میں گنپتی اتسو کے پس منظر میں شمالی علاقوں گوونڈی, کرلا, چمبور سمیت دیگر حساس میں پولیس نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر بھی سیکورٹی سخت کر دی ہے۔

ممبئی کے مغربی مضافات اندھیری ساکی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی پولیس الرٹ پر ہے یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے حساس علاقوں پر خصوصی نگرانی کے ساتھ پولیس اسٹیشن کے سنیئر افسران کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر ممبئی کے تمام ریجن اور زونل سطح پر روٹ مارچ اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے اعلی افسران ساحل سمندر اور مصنوعی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر خیمہ زن بھی ہے 25 ستمبر کو شہر میں گنپتی وسرجن بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں امن وامان کی بقا کیلئے پولیس مستعد اور الرٹ ہے۔ ممبئی کے اہم مقامات گرگاؤں چوپاٹی, دادر, و دیگر تالاب اور سمندر و وسرجن کے مقامات پر خصوصی پہرہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ بی ایم سی نے بھی یہاں گنیش بھکتوں کی سہولیات کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر نے کا دعوی کیا ہے ممبئی کے باندرہ بینڈ اسٹینڈ سمیت دیگر سمندروں جوہو چوپاٹی پر بھی پولیس کا بندوبست رہے گا۔ آج شمالی ممبئی زون اور ریجن میں گنیش اتسوکے سبب پولیس نے روٹ مارچ کر کے حساس علاقوں کا بھی جائزہ لیا ہے اس روٹ مارچ کا مقصد عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جبکہ فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر پر اس سے خوف طاری ہوتا ہے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر شہر میں حالات پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ممبئی میں گنیش اتسو کے دوران ہی آزاد میدان میں منوج جارنگے پاٹل کی ممبئی روانگی نے ممبئی پولیس کیلئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے جبکہ ممبئی پولیس نے اب تک جارنگے کو احتجاجی مظاہرہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اقلیتی نوجوانوں کے لیے ‘انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کا قیام،بھیونڈی ایسٹ سے رئیس شیخ کا مطالبہ

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ریاست کے چھ ریونیو ڈویژنوں میں ‘اقلیتی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اقلیتی آبادی کے بڑے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جا سکے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اقلیتی ترقی، سنیتر پوار کو ایک خط لکھا ہے۔اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ اقلیتیں ریاست کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں، جن میں مسلم برادری کا حصہ 11.54 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے دسویں اور بارہویں جماعت کی سطح پر مسلم طلبہ میں اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) کی شرح 30 فیصد ہے۔ بمشکل 10 فیصد مسلم نوجوان ہی اعلیٰ تعلیم کے مرحلے تک پہنچ پاتے ہیں۔ تعلیمی دھارے سے باہر ہونے والے ان طلبہ کو ہنر مندی کی تربیت اور کاروبار کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جہاں ‘بارٹی’ (بارٹی)، ‘مہاجیوتی’ (مہاجوتی) اور ‘سارتھی’ (سارتھی) جیسے تحقیقی اور تربیتی ادارے دیگر برادریوں کے نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروبار سے متعلق تربیت اور مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں اقلیتی برادری کے لیے مختص ادارہ ‘مارٹی’ (مارٹی) مناسب فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ کی تربیت کے حوالے سے اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مولانا آزاد مائنارٹیز فنانشل ڈیولپمنٹ کارپوریشن’ ان مراکز کے ساتھ شراکت داری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کارپوریشن قرض کی اسکیموں کو مربوط کرنے، مالی امداد فراہم کرنے، اور پروجیکٹ رپورٹس کی تیاری اور جانچ پڑتال جیسے امور سنبھال سکتی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر پوار کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اگر ایسے مراکز قائم کیے جاتے ہیں تو ہر ریونیو ڈویژن میں سالانہ 1,000 سے زائد نوجوان مرد و خواتین اپنے مائیکرو اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی آزاد میدان مراٹھا ریزرویشن منوج جارنگے پاٹل سے احتجاج سے متعلق تفصیلات طلب، پولیس کی جانب سے ضروری تفصیلات بتانے کی ہدایت

Published

on

ممبئی: آزاد میدان پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہے اس سے قبل دو مرتبہ مراٹھا مورچہ کی عرضی کو پولیس نے یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ گنیش اتسو کے دوران بھیڑ بھاڑاور نظم ونسق کا مسئلہ کے سبب انہیں اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ایسے میں اب مراٹھا مورچہ نے ایک مرتبہ پھر اجازت طلب کی ہے جس کے جواب میں ممبئی پولیس آزاد میدان نے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہیں اتنا ہی نہیں اس میں یہ بھی وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آیا ممبئی میں بھوک ہڑتال کے دوران منوج جارنگے پاٹل مہاراشٹر بھر میں مظاہرین کو ممبئی آمد پر مدعو یا اس قسم کی اپیل تو نہیں کریں گے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ایسی اپیل میڈیا میں کی تھی اس کے ساتھ ہی مظاہرہ میں کتنے مظاہرین شامل رہیں اور کتنے رضا کار شرکت کر رہے ہیں اس کے علاوہ مظاہرہ کے دوران کتنی گاڑیاں ممبئی میں لائی جائے گی اس قسم کی تمام تفصیلات اب پولیس نے طلب کی ہیں تاکہ ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران نظم و نسق کے قیام میں پولیس کو مدد ملے۔ ممبئی پولیس نے اس سے قبل منوج جارنگے پاٹل کی دو مرتبہ عرضیاں خارج کر دی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان