Connect with us
Sunday,06-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مختارعباس نقوی نےکہاکہ این پی آر بھی کسی طور مسلمانوں کے خلاف نہیں

Published

on

mukhtar-abbas

اس تمہید کے ساتھ کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں موجودہ حکومت بلا تفریق مذہب و ملت ہر ضر ورت مند کی آنکھوں میں خوشی اور زندگی میں خوشحالی لانے کے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کا سرکاری فیصلہ کسی بھی طرح ہندستانی مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔
انہوں نے اپنے ایک آرٹیکل میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اس وضاحت کی تائید کی ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ، کسی کی شہریت لینے کے لئے نہیں بلکہ شہریت دینے کے لئے ہے اور اینآرسی کا 1951 سے تعلق آسام کے علاوہ کہیں اور سے نہیں۔
مسٹر نقوی نے الزام لگایا کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کے فیصلے کے حوالے سےسماج کے ایک طبقے میں ”خوف اور شک کا بھوت“کھڑا کیا جارہا ہے۔ ”جھوٹ کے جھاڑ سے سچ کے پہاڑ“ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں 2014 سے اب تک کے سرکاری کام کاج کوقوم کے حق میں مجموعی طو ر پر خودمختاری اور ظاہری خوشحالی سے سرشار ی کی کوشش پر محمول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جن 2 کروڑ غریبوں کو گھر دیا گیا ہے ان میں 31 فیصد اقلیتی آبادی خاص طور پر مسلم طبقہ کی ہے۔ 6 لاکھ دیہاتوں میں بجلی پہنچائی تو 39 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے گاؤں جن کے مکانات روشن ہیں، 22 کروڑ کسانوں کو ”کسان سمان ندھی“ کے تحت فوائد دیئے گئے تو، اس میں بھی 33 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے غریب کسان ہیں۔ اسی طرح 8کروڑ خواتین کو ”اْجوّ لا یوجنا“ کے تحت مفت گیس کنیکشن دیا تو اس میں 37 فیصد اقلیتی طبقے کے غریب خاندان مستفید ہو ئے۔ 21کروڑ افراد کو ”مدرایوجنا“ کے تحت روزگار سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کے لئے آسان قرضے دیئے گئے ہیں جن میں 36 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے افراد مستفید ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ بجلی،سڑک،پانی،تعلیم،روزگار، ذاتی روزگار کے پروگراموں کا بھرپور فائد ہ اقلیتی سماج کے غریب کمزور طبقے کو ہوا، کیونکہ زیادہ تر اسکیمیں غریبوں، کمزور طبقوں کے لئے ہوتی ہیں اور ان 70 برسوں میں، اقلیتی طبقہ خصوصآٓمسلم سماج غربت اور تعلیم کا شکار رہا۔اسی لئے مودی سرکار کی غریب اور کمزور طبقوں کی مضبوطی کی سبھی اسکیموں کا بھرپور فائدہ اقلیتی سماج کو ہو رہا ہے۔
حکومت کے کام کاج کی اس تفصیل کے پس منظر میں مسٹر نقوی سوال کیا کہ سوال کیا کہ جس وزیر اعظم نے کسی بھید بھاؤ کے بغیرغریبوں کو مکان دیا، ان کے گھروں میں اجالا کیا کیا وہ انھیں بے گھر اور ا ن کی زندگی میں اندھیرا ہوتے کبھی دیکھ سکتے ہیں؟اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شہریت بل،این۔آر۔سی پر وزیر اعظم نے واضح پیغام یہ دیا ہے کہ کسی قانون سے ہندستانی مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہوگا۔شہریت ترمیمی قانون۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان۔ میں مذہبی بھید بھاؤ اور اقلیتی طبقے کے متاثرہ افراد کو شہریت دینے کا قانون ہے۔ وہ بھی اگر وہ لوگ چاہیں گے تب۔ جہاں تک سوال ہے غیر ممالک میں بسنے والے مسلم سماج کے لوگوں کو شہریت دینے کا، تو یہ شق ہندوستانی سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں آج بھی موجود ہے اورکوئی بھی غیر ملکی شہری،جس میں مسلم بھی شامل ہیں، سٹیزن شپ ایکٹ 1955کے سیکشن 5 کے تحت ہندستانی شہریت لے سکتے ہیں۔ پچھلے 5برسوں میں، 500 سے زیادہ مسلمانوں کو ہندستانی شہریت دی گئی ہے۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا ہے کہ سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ کی تاریخی اہمیت ہے، 1955 میں ہندستان کے وزیر داخلہ پنڈت گووند بلبھ پنت اور پاکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل اسکندر مرزا کے مابین معاہدہ ہوا،اس سمجھوتے کے تحت بھارت سرکار کی ذمے داری ہے کہ پاکستان میں موجودغیر مسلم مذہبی مقامات کی حفاظت کا خیال رکھنا ہے۔ نیز غیر مسلمانوں کے مذہببی۔سماجی سروکار کی بھی فکرکرنی ہے۔
’’پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی پرظلم و ستم اور ایذا رسانی کی پہلے کی ہندستانی سرکاروں نے کوئی فکر نہیں کی۔ جو پناہ گزین مجبور اًبھاگ کر آگئے ان پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی تلوار لٹک رہی تھی۔اور بھارت میں قانون کا ڈنڈ ا لٹکا ہوا تھا۔ وہاں سے جان بچا کر آئے تو یہاں بھی جان مشکلوں سے دو چار ہوتی رہی۔ اسی غیرانسانی توہین کو انسانی احترام دینے کے لئے شہریت ترمیم قانون لایا گیا ہے۔ یہ خالص طور سے پاکستان،بنگلہ دیش افغانستان کی اقلیتوں کو انسانی احترام، تحفظ دینے کے مقصدسے لایا گیا ہے۔ اس کا ہندستانی مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اس سے ان پر کوئی اثر پڑے گا‘‘۔
مسٹر نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جہاں اقلیتی طبقے کے لوگ بے عزتی او ر توہین کے شکار ہیں وہیں بھارت میں اقلیتی طبقے کے لوگ ترقی میں برابر کے حصے دار رہتے آئے ہیں۔ پچھلے لگ بھگ پانچ برسوں میں ہی مختلف اسکالرشپ اسکیموں سے غریب،کمزور اقلیتی طبقے کے ریکارڈ تقریبآٓ 3 کروڑ 20 لاکھ طلباء مستفید ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ 60 فیصد طالبات بھی شامل ہیں۔، 2014 سے ابھی تک ”سیکھو اور کماؤ“ ، ”استاد“ ، ”غریب نواز روزگار یوجنا“، ”نئی منزل“ وغیرہ نئے ترقیاتی پروگراموں کے ذریعہ 8 لاکھ سے زیادہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو کوشل وکاس اور روزگار۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ ان میں تقریبآٓ 50 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ ”ہنر ہاٹ“ کے ذریعے پچھلے 2برسوں میں 2 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ اقلیتی طبقے کے دستکاروں۔شلپ کاروں کو نہ صرف ملازمت۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ بلکہ انھیں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ اور مواقع بھی مہیا کرائے گئے ہیں۔
ایک موازنہ کے تحت انہوں نے کہا کہ یو پی اے سرکارمیں صرف 90 اضلاع اقلیتی طبقوں کی ترقیّ کے لئے منتخب کئے گئے تھے وہیں مودی سرکار میں اس کو پھیلا کر دیش کے 308 اضلاع،1300 بلاک میں اقلیتی سماج خصوصاً لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے لئے لازمی سہولیات کے ساتھ جنگی پیمانے پر کام جاری ہے۔’’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘‘کے تحت گذشتہ لگ بھگ 5برسوں کے دوران 8 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 33 ڈگری کالج، 1 ہزار 398 اسکول کی عمارتیں، 40 ہزار 201 اضافی کلاس روم 574 ہاسٹلز 81 آئی ٹی آئی 50پالی ٹیکنک 39 ہزار 586 آنگن واڑی مراکز 398سدبھاونا منڈپ، 123 رہائشی اسکول، 570 مارکیٹ شیڈ، 104کامن سروس سینٹر وغیرہ سہولیات کا مودی سرکار کے ذریعہ زیادہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں تعمیر کرائی گئی ہیں۔
پاکستان کو اقلیتی طبقے کے لوگوں کے لئے جہنم اور ہندوستان کو جنت گردانتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ’’ یہی حقیقت کچھ غیر منظم قوتوں کی آنکھ میں کر کر ی بنی ہوئی ہے اور وہ بھارت کی کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی سازشوں کا تانا۔بانا بن رہی ہیں‘‘۔
این آر سی، کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ عمل 1951 سے آسام میں شروع ہوا، پھر 1975 میں اسے آگے بڑھانے کی تحریک اور مانگ ہوئی۔ پھر 2013 میں،سپریم کورٹ نے اسے آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔لیکن صرف آسام تک محدود ہے۔ ایک فہرست 31 اگست 2019 کو جاری ہوئی جو نام نہیں آئے سرکار این آرسی سیواکیندروں،ٹربیونلوں میں قانونی طور پر ان کو مددفر اہم کر رہی ہے۔ 1951 سے آسام میں جاری این آرسی کا عمل ابھی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
جہاں تک سوال ہے ملک کے دیگر حصوں میں این آر سی کو متعارف کرانے کا،تو اس سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے او ر نہ ہی دوسری ریاستوں میں این آر سی پر عمل کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جوہنگامہ اور سیا سی ڈرام عروج پر ہے اس کے پس منظر میں من گھڑت اور جھوٹ سے بھرپور کہانی بنا کر ایک خاص سماج کے کندھے پر بندوق رکھ کر “سیاست کی سانپ سیڑھی” کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دراصل موضوعات کی کنگالی نے کچھ سیاسی جماعتوں کو فروعی معاملات کا موالی “بنا دیا ہے۔ اور اب مردم شماری کو لے کر تشویش اور الجھن کا جال بچھایا جارہا ہے۔اور کچھ سیاسی پارٹیاں لوگوں کو اپنے “چالاکی کے چکرویو ” میں پھنسا نے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مردم شماری یا این پی آر لگاتار جاری رہنے والا عمل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مردم شماری 1951,1961,1971,1981,1991,2001,2011 میں ہوئی۔ اب اس حوالے سےبھی لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔’’ ہمیں سمجھناچاہئے کہ جمہوریت سے ہارے لوگ”غنڈہ تنتر“ سے جمہوریت کا اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
مسٹر نقوی نے اس عزم کے ساتھ اپنی بات مکمل کی کہ ’’ ہمارے لئے، ہندستان کی مٹی ہمارا ایمان ہے، اس مٹی میں پیدا ہوا ہر شخص یہیں رہے گا، کسی کے بھی سماجی، مذہبی،دستوری، شہری حق پر کوئی سوال یا خطرہ نہ ہے، نہ ہوگا۔یہی سچاّئی سے بھرپور حقیقت ہے،باقی سب تشویش سے بھرا ا فسانہ ہے۔ آئیے ہم سب متحد ہوکرخوف و ہراس اور شک کے بھوت کا صفایا کریں‘‘۔

سیاست

شیو سینا یو بی ٹی غیر مراٹھی لوگوں کو مراٹھی سکھانے کی مہم شروع کرے گی، زبان کے نام پر ایم این ایس پر تشدد کی مذمت، بی جے پی پر ملی بھگت کا الزام۔

Published

on

UBT-Anand-Dubey

ممبئی : مہاراشٹر میں ‘زبان’ کا تنازع ایک بار پھر بڑھ گیا ہے۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے کارکنوں کے ذریعہ غیر مراٹھی لوگوں کی مسلسل پٹائی کے معاملے پر بڑا بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایم این ایس کارکنوں سے کسی بھی قسم کی توقع رکھنا بے کار ہے۔ اس لیے اب شیو سینا (یو بی ٹی) لوگوں کو مراٹھی سکھائے گی۔ شیوسینا (یو بی ٹی) کے ترجمان آنند دوبے نے کہا کہ حالیہ دنوں میں آپ نے دیکھا ہوگا کہ خبریں آرہی ہیں کہ مہاراشٹر نو نرمان سینا کے کارکن غیر مراٹھی بولنے والوں پر حملہ کررہے ہیں۔ وہ اس کی توہین کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ اسے مراٹھی نہیں آتی۔ ہو سکتا ہے کچھ لوگ ایسے ہوں جو یہاں روزگار کی تلاش میں آئے ہوں اور اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ مراٹھی کا احترام نہیں کر رہے ہیں۔ سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ وہ کیسے سیکھیں گے؟ انہیں کون سکھائے گا؟ پھر ہمارے ذہن میں خیال آیا کہ ہم انہیں پڑھائیں گے۔ اس کے لیے ایک ٹیوٹر کی خدمات حاصل کی جائیں گی جو لوگوں کو مراٹھی زبان سکھائیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہماری طرف سے مہاراشٹر میں لوگوں کو مراٹھی سکھانے کا نعرہ بھی دیا گیا ہے۔ ایم این ایس والے لوگوں کی توہین کریں گے اور مار پیٹ کریں گے۔ لیکن ہم انہیں پیار سے مراٹھی زبان سکھائیں گے۔ یہی فرق ہے ان کی اور ہماری ثقافت میں۔ اس مہم کے تحت ہم لوگوں کے درمیان جائیں گے اور انہیں مراٹھی سیکھنے کی ترغیب دیں گے۔ آنند دوبے نے مراٹھی پڑھانے کے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ غیر مراٹھی بولنے والوں کو مراٹھی سکھانے کے فیصلے کو ووٹ بینک کی سیاست کے نقطہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ ہمیں بہت دکھ ہوتا ہے جب کسی غریب کو زبان کے نام پر قتل کیا جاتا ہے۔ اس لیے ہم نے انہیں مراٹھی سکھانے کا فیصلہ کیا۔ میں مہاراشٹر نو نرمان سینا سے بھی کہنا چاہوں گا کہ وہ لوگوں کو مارنے کے بجائے مراٹھی سکھانے پر توجہ دیں۔

انہوں نے بی جے پی اور مہاراشٹر نو نرمان سینا پر ملی بھگت کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی پہلے لوگوں کو مارتی ہے اور پھر ان کے زخموں پر مرہم رکھتی ہے اور ان کے ووٹ لیتی ہے۔ یوپی، بہار اور مہاراشٹر میں بی جے پی کی حکومتیں ہیں اور یہاں اگر کوئی غیر مراٹھی مارا پیٹا جائے تو یہ بی جے پی کی بدقسمتی ہے۔

Continue Reading

سیاست

وقف ترمیمی بل پر بہار میں ہنگامہ۔ اورنگ آباد میں جے ڈی یو سے سات مسلم لیڈروں نے استعفیٰ دے دیا۔

Published

on

JDU-leaders

اورنگ آباد : وقف بل کی منظوری کے بعد جے ڈی یو کو بہار میں مسلسل دھچکے لگ رہے ہیں۔ اس سلسلے میں جے ڈی یو کو اورنگ آباد میں بھی بڑا جھٹکا لگا ہے۔ بل سے ناراض ہو کر اورنگ آباد جے ڈی یو کے سات مسلم لیڈروں نے اپنے حامیوں کے ساتھ ہفتہ کو پارٹی کی بنیادی رکنیت اور عہدوں سے استعفیٰ دے دیا۔ استعفیٰ دینے والوں میں جے ڈی (یو) کے ضلع نائب صدر ظہیر احسن آزاد، قانون جنرل سکریٹری اور ایڈوکیٹ اطہر حسین اور منٹو شامل ہیں، جو سمتا پارٹی کے قیام کے بعد سے 27 سالوں سے پارٹی سے وابستہ ہیں۔

اس کے علاوہ پارٹی کے بیس نکاتی رکن محمد۔ الیاس خان، محمد فاروق انصاری، سابق وارڈ کونسلر سید انور حسین، وارڈ کونسلر خورشید احمد، پارٹی لیڈر فخر عالم، جے ڈی یو اقلیتی سیل کے ضلع نائب صدر مظفر امام قریشی سمیت درجنوں حامیوں نے پارٹی چھوڑ دی ہے۔ ان لیڈروں نے ہفتہ کو پریس کانفرنس کی اور جے ڈی یو کی بنیادی رکنیت اور پارٹی کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دینے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی بل 2024 کی حمایت کرنے والے نتیش کمار اب سیکولر نہیں رہے۔ اس کے چہرے سے سیکولر ہونے کا نقاب ہٹا دیا گیا ہے۔ نتیش کمار اپاہج ہو گئے ہیں۔

ان لیڈروں نے کہا کہ جس طرح جے ڈی یو کے مرکزی وزیر للن سنگھ لوک سبھا میں وقف ترمیمی بل 2024 پر اپنا رخ پیش کر رہے تھے، ایسا لگ رہا تھا جیسے بی جے پی کا کوئی وزیر بول رہا ہو۔ وقف ترمیمی بل کو لے کر جمعیۃ العلماء ہند، مسلم پرسنل لا، امارت شرعیہ جیسی مسلم تنظیموں کے لیڈروں نے وزیر اعلیٰ نتیش کمار سے بات کرنے کی کوشش کی، لیکن وزیر اعلیٰ نے کسی سے ملاقات نہیں کی اور نہ ہی وقف ترمیمی بل پر کچھ کہا۔ انہوں نے وہپ جاری کیا اور لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں بل کی حمایت حاصل کی۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اب جے ڈی یو کو مسلم لیڈروں، کارکنوں اور مسلم ووٹروں کی ضرورت نہیں ہے۔

وزیراعلیٰ نتیش کمار کو بھیجے گئے استعفیٰ خط میں ضلع جنرل سکریٹری ظہیر احسن آزاد نے کہا ہے کہ انتہائی افسوس کے ساتھ جنتا دل یونائیٹڈ کی بنیادی رکنیت اور عہدے سے استعفیٰ دے رہا ہوں۔ میں سمتا پارٹی کے آغاز سے ہی پارٹی کے سپاہی کے طور پر کام کر رہا ہوں۔ جب جنتا دل سے الگ ہونے کے بعد دہلی کے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں 12 ایم پیز کے ساتھ جنتا دل جارج کی تشکیل ہوئی تو میں بھی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد جب سمتا پارٹی بنی تو مجھے ضلع کا خزانچی بنایا گیا۔ اس کے بعد جب جنتا دل یونائیٹڈ کا قیام عمل میں آیا تو میں ضلع خزانچی تھا۔

انہوں نے مزید کہا کہ وہ بہار اسٹیٹ جے ڈی یو اقلیتی سیل کے جنرل سکریٹری بھی تھے۔ ابھی مجھے ضلعی نائب صدر کی ذمہ داری دی گئی تھی جسے میں بہت اچھے طریقے سے نبھا رہا تھا لیکن بہت بھاری دل کے ساتھ پارٹی چھوڑ رہا ہوں۔ جے ڈی یو اب سیکولر نہیں ہے۔ للن سنگھ اور سنجے جھا نے بی جے پی میں شامل ہو کر پارٹی کو برباد کر دیا۔ پورے ہندوستان کے مسلمانوں کو پورا بھروسہ تھا کہ جے ڈی یو وقف بل کے خلاف جائے گی لیکن جے ڈی یو نے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کے اعتماد کو توڑا اور خیانت کی اور وقف بل کی حمایت کی۔ آپ سے درخواست ہے کہ میرا استعفیٰ منظور کر لیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل 2025, دستور کی واضح خلاف ورزی ہے، اس پر دستخط کرنے سے صدر جمہوریہ اجتناب کریں۔

Published

on

Ziauddin-Siddiqui

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

ممبئی وحدت اسلامی ہند کے امیر ضیاء الدین صدیقی نے پارلیمنٹ سے منظور کردہ وقف ترمیمی بل کی شدید الفاظ میں مخالفت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسے منظور کرنے والے ارکان پارلیمنٹ نے اس بات کو نظر انداز کر دیا کہ یہ بل دستور ہند کی بنیادی حقوق کی دفعہ 26 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ دستور ہند میں درج بنیادی حقوق کی دفعات 14, 15, 29 اور 30 بھی متاثر ہوتی ہیں۔ جب تک یہ دفعات دستور ہند میں درج ہیں اس کے علی الرغم کوئی بھی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہذا صدر جمہوریہ کو اس پر دستخط کرنے سے اجتناب کرتے ہوئے اسے واپس کرنا چاہیے۔ وحدت اسلامی ہند کے امیر نے کہا کہ اوقاف کے تعلق سے نفرت آمیز و اشتعال انگیز اور غلط بیانیوں پر مشتمل پروپیگنڈا بند ہونا چاہیے۔ اوقاف وہ جائدادیں ہیں جنہیں خود مسلمانوں نے اپنی ملکیت سے نیکی کے جذبے کے تحت مخصوص مذہبی و سماجی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے وقف کیا ہے۔

اس قانون کے مندرجات سے بالکل واضح ہے کہ اوقاف کو بڑے پیمانے پر متنازع بناکر اس کی بندر بانٹ کر دی جائے اور ان پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو کھلی چھوٹ دے دی جائے۔ بلکہ صورت حال یہ ہے کہ بڑے پیمانے پر اوقاف پر ناجائز قبضے ہیں جن کو ہٹانے کے ضمن میں اس بل میں کچھ بھی نہیں کہا گیا ہے۔ بلکہ قانون حدبندی (حد بندی ایکٹ) کے ذریعے اوقاف پر ناجائز طور پر قابض لوگوں کو اس کا مالک بنایا جائے گا, اور سرمایہ داروں کو اوقاف کی جائیدادوں کو سستے داموں فروخت کرنا آسان ہو جائے گا۔

اس بل میں میں زیادہ تر مجہول زبان استعمال کی گئی ہے جس کے کئی معنی نکالے جا سکتے ہیں، اس طرح یہ بل مزید خطرناک ہو جاتا ہے۔ موجودہ وقف ترمیمی بل کے خلاف عدالتی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ بڑے پیمانے عوامی احتجاج و مخالفت کی ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے فیصلوں کو وحدت اسلامی ہند کا تعاون حاصل ہوگا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com