Connect with us
Wednesday,16-September-2026

سیاست

مختارعباس نقوی نےکہاکہ این پی آر بھی کسی طور مسلمانوں کے خلاف نہیں

Published

on

mukhtar-abbas

اس تمہید کے ساتھ کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں موجودہ حکومت بلا تفریق مذہب و ملت ہر ضر ورت مند کی آنکھوں میں خوشی اور زندگی میں خوشحالی لانے کے عزم کے ساتھ کام کررہی ہے، اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کا سرکاری فیصلہ کسی بھی طرح ہندستانی مسلمانوں کے خلاف نہیں ۔
انہوں نے اپنے ایک آرٹیکل میں وزیر اعظم نریندر مودی کی اس وضاحت کی تائید کی ہے کہ شہریت ترمیمی ایکٹ، کسی کی شہریت لینے کے لئے نہیں بلکہ شہریت دینے کے لئے ہے اور اینآرسی کا 1951 سے تعلق آسام کے علاوہ کہیں اور سے نہیں۔
مسٹر نقوی نے الزام لگایا کہ سٹیزن شپ ترمیم ایکٹ،این آر سی اور اب قومی آبادی کا رجسٹر (این پی آر) کو اپ ڈیٹ کرنے کے فیصلے کے حوالے سےسماج کے ایک طبقے میں ”خوف اور شک کا بھوت“کھڑا کیا جارہا ہے۔ ”جھوٹ کے جھاڑ سے سچ کے پہاڑ“ کو چھپانے کی کوشش کی جارہی ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی سربراہی میں 2014 سے اب تک کے سرکاری کام کاج کوقوم کے حق میں مجموعی طو ر پر خودمختاری اور ظاہری خوشحالی سے سرشار ی کی کوشش پر محمول کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں جن 2 کروڑ غریبوں کو گھر دیا گیا ہے ان میں 31 فیصد اقلیتی آبادی خاص طور پر مسلم طبقہ کی ہے۔ 6 لاکھ دیہاتوں میں بجلی پہنچائی تو 39 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے گاؤں جن کے مکانات روشن ہیں، 22 کروڑ کسانوں کو ”کسان سمان ندھی“ کے تحت فوائد دیئے گئے تو، اس میں بھی 33 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے غریب کسان ہیں۔ اسی طرح 8کروڑ خواتین کو ”اْجوّ لا یوجنا“ کے تحت مفت گیس کنیکشن دیا تو اس میں 37 فیصد اقلیتی طبقے کے غریب خاندان مستفید ہو ئے۔ 21کروڑ افراد کو ”مدرایوجنا“ کے تحت روزگار سمیت دیگر معاشی سرگرمیوں کے لئے آسان قرضے دیئے گئے ہیں جن میں 36 فیصد سے زیادہ اقلیتی طبقے کے افراد مستفید ہوئے۔ یہی نہیں بلکہ بجلی،سڑک،پانی،تعلیم،روزگار، ذاتی روزگار کے پروگراموں کا بھرپور فائد ہ اقلیتی سماج کے غریب کمزور طبقے کو ہوا، کیونکہ زیادہ تر اسکیمیں غریبوں، کمزور طبقوں کے لئے ہوتی ہیں اور ان 70 برسوں میں، اقلیتی طبقہ خصوصآٓمسلم سماج غربت اور تعلیم کا شکار رہا۔اسی لئے مودی سرکار کی غریب اور کمزور طبقوں کی مضبوطی کی سبھی اسکیموں کا بھرپور فائدہ اقلیتی سماج کو ہو رہا ہے۔
حکومت کے کام کاج کی اس تفصیل کے پس منظر میں مسٹر نقوی سوال کیا کہ سوال کیا کہ جس وزیر اعظم نے کسی بھید بھاؤ کے بغیرغریبوں کو مکان دیا، ان کے گھروں میں اجالا کیا کیا وہ انھیں بے گھر اور ا ن کی زندگی میں اندھیرا ہوتے کبھی دیکھ سکتے ہیں؟اس لحاظ سے دیکھا جائے تو شہریت بل،این۔آر۔سی پر وزیر اعظم نے واضح پیغام یہ دیا ہے کہ کسی قانون سے ہندستانی مسلمانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے اور نہ ہوگا۔شہریت ترمیمی قانون۔ پاکستان، بنگلہ دیش، افغانستان۔ میں مذہبی بھید بھاؤ اور اقلیتی طبقے کے متاثرہ افراد کو شہریت دینے کا قانون ہے۔ وہ بھی اگر وہ لوگ چاہیں گے تب۔ جہاں تک سوال ہے غیر ممالک میں بسنے والے مسلم سماج کے لوگوں کو شہریت دینے کا، تو یہ شق ہندوستانی سٹیزن شپ ایکٹ 1955 میں آج بھی موجود ہے اورکوئی بھی غیر ملکی شہری،جس میں مسلم بھی شامل ہیں، سٹیزن شپ ایکٹ 1955کے سیکشن 5 کے تحت ہندستانی شہریت لے سکتے ہیں۔ پچھلے 5برسوں میں، 500 سے زیادہ مسلمانوں کو ہندستانی شہریت دی گئی ہے۔
مرکزی وزیر نے مزید کہا ہے کہ سٹیزن شپ ترمیمی ایکٹ کی تاریخی اہمیت ہے، 1955 میں ہندستان کے وزیر داخلہ پنڈت گووند بلبھ پنت اور پاکستان کے وزیر داخلہ میجر جنرل اسکندر مرزا کے مابین معاہدہ ہوا،اس سمجھوتے کے تحت بھارت سرکار کی ذمے داری ہے کہ پاکستان میں موجودغیر مسلم مذہبی مقامات کی حفاظت کا خیال رکھنا ہے۔ نیز غیر مسلمانوں کے مذہببی۔سماجی سروکار کی بھی فکرکرنی ہے۔
’’پاکستان میں اقلیتوں کی آبادی پرظلم و ستم اور ایذا رسانی کی پہلے کی ہندستانی سرکاروں نے کوئی فکر نہیں کی۔ جو پناہ گزین مجبور اًبھاگ کر آگئے ان پر بھی پاکستان میں دہشت گردی کی تلوار لٹک رہی تھی۔اور بھارت میں قانون کا ڈنڈ ا لٹکا ہوا تھا۔ وہاں سے جان بچا کر آئے تو یہاں بھی جان مشکلوں سے دو چار ہوتی رہی۔ اسی غیرانسانی توہین کو انسانی احترام دینے کے لئے شہریت ترمیم قانون لایا گیا ہے۔ یہ خالص طور سے پاکستان،بنگلہ دیش افغانستان کی اقلیتوں کو انسانی احترام، تحفظ دینے کے مقصدسے لایا گیا ہے۔ اس کا ہندستانی مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہی اس سے ان پر کوئی اثر پڑے گا‘‘۔
مسٹر نقوی نے دعویٰ کیا کہ پاکستان میں جہاں اقلیتی طبقے کے لوگ بے عزتی او ر توہین کے شکار ہیں وہیں بھارت میں اقلیتی طبقے کے لوگ ترقی میں برابر کے حصے دار رہتے آئے ہیں۔ پچھلے لگ بھگ پانچ برسوں میں ہی مختلف اسکالرشپ اسکیموں سے غریب،کمزور اقلیتی طبقے کے ریکارڈ تقریبآٓ 3 کروڑ 20 لاکھ طلباء مستفید ہوئے ہیں جن میں لگ بھگ 60 فیصد طالبات بھی شامل ہیں۔، 2014 سے ابھی تک ”سیکھو اور کماؤ“ ، ”استاد“ ، ”غریب نواز روزگار یوجنا“، ”نئی منزل“ وغیرہ نئے ترقیاتی پروگراموں کے ذریعہ 8 لاکھ سے زیادہ اقلیتی طبقے کے نوجوانوں کو کوشل وکاس اور روزگار۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ ان میں تقریبآٓ 50 فیصد لڑکیاں شامل ہیں۔ ”ہنر ہاٹ“ کے ذریعے پچھلے 2برسوں میں 2 لاکھ 65 ہزار سے زیادہ اقلیتی طبقے کے دستکاروں۔شلپ کاروں کو نہ صرف ملازمت۔ روزگار کے مواقع مہیا کرائے گئے ہیں۔ بلکہ انھیں قومی اور بین الاقوامی مارکیٹ اور مواقع بھی مہیا کرائے گئے ہیں۔
ایک موازنہ کے تحت انہوں نے کہا کہ یو پی اے سرکارمیں صرف 90 اضلاع اقلیتی طبقوں کی ترقیّ کے لئے منتخب کئے گئے تھے وہیں مودی سرکار میں اس کو پھیلا کر دیش کے 308 اضلاع،1300 بلاک میں اقلیتی سماج خصوصاً لڑکیوں کی بنیادی تعلیم کے لئے لازمی سہولیات کے ساتھ جنگی پیمانے پر کام جاری ہے۔’’پردھان منتری جن وکاس کاریہ کرم‘‘کے تحت گذشتہ لگ بھگ 5برسوں کے دوران 8 ہزار کروڑ روپے سے زائد کی لاگت سے 33 ڈگری کالج، 1 ہزار 398 اسکول کی عمارتیں، 40 ہزار 201 اضافی کلاس روم 574 ہاسٹلز 81 آئی ٹی آئی 50پالی ٹیکنک 39 ہزار 586 آنگن واڑی مراکز 398سدبھاونا منڈپ، 123 رہائشی اسکول، 570 مارکیٹ شیڈ، 104کامن سروس سینٹر وغیرہ سہولیات کا مودی سرکار کے ذریعہ زیادہ اقلیتی آبادی والے علاقوں میں تعمیر کرائی گئی ہیں۔
پاکستان کو اقلیتی طبقے کے لوگوں کے لئے جہنم اور ہندوستان کو جنت گردانتے ہوئے وزیر موصوف نے کہا کہ ’’ یہی حقیقت کچھ غیر منظم قوتوں کی آنکھ میں کر کر ی بنی ہوئی ہے اور وہ بھارت کی کثرت میں وحدت کی طاقت کو کمزور کرنے کی سازشوں کا تانا۔بانا بن رہی ہیں‘‘۔
این آر سی، کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ یہ عمل 1951 سے آسام میں شروع ہوا، پھر 1975 میں اسے آگے بڑھانے کی تحریک اور مانگ ہوئی۔ پھر 2013 میں،سپریم کورٹ نے اسے آگے بڑھانے کا حکم دیا۔ یہ عمل ابھی بھی جاری ہے۔لیکن صرف آسام تک محدود ہے۔ ایک فہرست 31 اگست 2019 کو جاری ہوئی جو نام نہیں آئے سرکار این آرسی سیواکیندروں،ٹربیونلوں میں قانونی طور پر ان کو مددفر اہم کر رہی ہے۔ 1951 سے آسام میں جاری این آرسی کا عمل ابھی بھی مکمل نہیں ہوا ہے۔
جہاں تک سوال ہے ملک کے دیگر حصوں میں این آر سی کو متعارف کرانے کا،تو اس سے متعلق انہوں نے کہا کہ کسی بھی سطح پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے او ر نہ ہی دوسری ریاستوں میں این آر سی پر عمل کا کوئی فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس حوالے سے جوہنگامہ اور سیا سی ڈرام عروج پر ہے اس کے پس منظر میں من گھڑت اور جھوٹ سے بھرپور کہانی بنا کر ایک خاص سماج کے کندھے پر بندوق رکھ کر “سیاست کی سانپ سیڑھی” کا کھیل کھیلا جارہا ہے۔ دراصل موضوعات کی کنگالی نے کچھ سیاسی جماعتوں کو فروعی معاملات کا موالی “بنا دیا ہے۔ اور اب مردم شماری کو لے کر تشویش اور الجھن کا جال بچھایا جارہا ہے۔اور کچھ سیاسی پارٹیاں لوگوں کو اپنے “چالاکی کے چکرویو ” میں پھنسا نے کی کوشش کر رہی ہیں۔ مردم شماری یا این پی آر لگاتار جاری رہنے والا عمل ہے ۔
انہوں نے کہا کہ مردم شماری 1951,1961,1971,1981,1991,2001,2011 میں ہوئی۔ اب اس حوالے سےبھی لوگوں کو گمراہ کرنے کا کام شروع ہوگیا ہے۔’’ ہمیں سمجھناچاہئے کہ جمہوریت سے ہارے لوگ”غنڈہ تنتر“ سے جمہوریت کا اغوا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں‘‘۔
مسٹر نقوی نے اس عزم کے ساتھ اپنی بات مکمل کی کہ ’’ ہمارے لئے، ہندستان کی مٹی ہمارا ایمان ہے، اس مٹی میں پیدا ہوا ہر شخص یہیں رہے گا، کسی کے بھی سماجی، مذہبی،دستوری، شہری حق پر کوئی سوال یا خطرہ نہ ہے، نہ ہوگا۔یہی سچاّئی سے بھرپور حقیقت ہے،باقی سب تشویش سے بھرا ا فسانہ ہے۔ آئیے ہم سب متحد ہوکرخوف و ہراس اور شک کے بھوت کا صفایا کریں‘‘۔

سیاست

میرا جسم ساتھ نہیں دے رہا: جرنگے پاٹل نے طبیعت بگڑنے کے باعث ممبئی مارچ منسوخ کرنے کا عندیہ دے دیا

Published

on

پٹودہ/بیڈ، 16 ستمبر واقعات کے ایک ڈرامائی موڑ میں، مراٹھا ریزرویشن کارکن منوج جارنگے پاٹل نے صبح 2:00 بجے مہاراشٹر کے بیڈ ضلع کے پٹودا میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے متنبہ کیا کہ شدید جسمانی تھکن انہیں ممبئی کی طرف اپنا اگلا مارچ منسوخ کرنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ اس کے پیچھے قافلے کے لیے، وہ اپنا سفر روکے گا اور مقامی طور پر اپنی دھرنا ہڑتال دوبارہ شروع کرے گا یا پھر واپس انتروالی سراٹی جائے گا۔ 1:30 بجے کے قریب پنڈال پر پہنچنے کے باوجود، مراٹھا برادری کے ہزاروں افراد، بشمول خواتین، ان کی بات سننے کے لیے رات بھر انتظار کرتے رہے۔

ظاہری جسمانی کمزوری کے ساتھ ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے، جارنگ پاٹل نے اعلان کیا کہ وہ 12 ستمبر کو آئی وی فلوئڈز کو روکنے کے بعد بمشکل اپنے اعضاء کو حرکت دے سکتا ہے۔ “میری برادری کے بچوں کے لیے لڑنے سے میرے جسم کو نقصان پہنچا ہے، لیکن میں نے آپ کے لیے حکومت پر قبضہ کر لیا ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ میں ہتھیار ڈال دوں، لیکن کیا میں اپنے مطالبے کو ترک کر دوں؟ میری برادری کسی بھی طاقت سے میری برادری کو دبانے سے زیادہ طاقتور ہے؟ حکومت کریں اور ایک نیا انسٹال کریں۔” انہوں نے زور دے کر کہا۔ جارنگ پاٹل نے تحریک کی پیشرفت پر روشنی ڈالی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ 58 لاکھ آرکائیو ریکارڈ (نونڈی) کا پردہ فاش کیا گیا ہے، جس سے کمیونٹی کے تقریباً 2.5 کروڑ افراد کو ریزرویشن کے فوائد تک رسائی کی راہ ہموار ہوئی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ دھکا سرکاری سرکاری گزٹ کو محفوظ بنانا ہے۔

انہوں نے چیف منسٹر دیویندر فڈنویس پر بھی براہ راست حملہ کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انہوں نے قدم بہ قدم سیاسی چالوں کا مقابلہ کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ تمام دستاویزی ریکارڈ محفوظ طریقے سے پین ڈرائیوز پر محفوظ کر لئے گئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سی ایم فڈنویس پر “ان کی زندگی کے خلاف سازش” کا الزام لگایا گیا ہے۔ لیکن کیا او بی سی برادریوں کے پاس بھی باغات نہیں ہیں تو پھر ان کے پاس ریزرویشن کیوں ہے؟” جارنگ پاٹل نے کہا کہ غیر معینہ مدت کے لیے ایک ریلی کا دورہ کرنا ناقابل برداشت ہے۔ انہوں نے حامیوں سے کہا کہ وہ پٹودہ سے باہر ان کی گاڑی کا پیچھا نہ کریں، ان پر زور دیا کہ وہ براہ راست کھوپولی میں ملیں، یا ان کے انتروالی واپس جانے کا خطرہ مول لیں یا بیڈ ضلع سے پٹودہ میں اپنا روزہ دوبارہ شروع کریں۔

اپنے خاندان کے نام ایک پیغام میں، جارنگے پاٹل نے کہا، “میں نے اپنے خاندان کو عزت کے ساتھ رہنے کو کہا ہے۔ میں نے اپنے بیٹے سے کہا تھا کہ اگر میں برادری کے لیے اپنی جان دوں تو ہمت سے قدم اٹھائے۔ مقصد کے لیے ایک جان قربان کر دیں، لیکن اپنی ذات کے وقار کو کبھی کم نہ ہونے دیں۔” پولیس کے ساتھ براہ راست بات چیت کرنے کے اپنے ارادے کا اظہار کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وہ ممبئی سے براہ راست عوامی سطح پر سفر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کی جسمانی حالت اجازت دیتا ہے.

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

لاس اینجلس میں ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ تین ہلاک

Published

on

crime

لاس اینجلس، 16 ستمبر، لاس اینجلس، کیلیفورنیا میں ایک ہیلی کاپٹر کے گرنے سے کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، مقامی حکام نے بتایا۔ یہ واقعہ منگل کو دیر گئے (مقامی وقت کے مطابق) چیٹس ورتھ میں جائے حادثہ کے قریب پیش آیا، جہاں ایک ایس یو وی پہلے میٹرو بس سے ٹکرا گئی تھی، جس سے کم از کم دو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ این بی سی لاس اینجلس نے تصدیق کی ہے کہ کریش ورتھ کی خبروں کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا تھا۔ لائیو شاٹ۔ جب حادثہ پیش آیا تو ہیلی کاپٹر مبینہ طور پر نیوز آرگنائزیشن کے زیر استعمال تھا۔

لاس اینجلس فائر ڈیپارٹمنٹ (ایل اے ایف ڈی) نے بھی طیارے کے حادثے کی تصدیق کی اور چیٹس ورتھ میں 9151 این میسن ایونیو پر واقع کی اطلاع دی۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق حادثہ شام سات بجے کے قریب پیش آیا۔ مقام پر دو تجارتی عمارتوں کے درمیان۔ این بی سی لاس اینجلس نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر میں سوار پائلٹ اور دیگر افراد تک پہنچنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ اس واقعے میں کم از کم تین افراد ہلاک ہو گئے، جب کہ ایک شخص کو قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ فوری طور پر ہسپتال میں داخل شخص کی حالت معلوم نہیں ہو سکی۔

سی بی ایس نیوز کے مطابق، ہیلی کاپٹر دو شپنگ کنٹینرز اور اس علاقے میں کھڑی کئی گاڑیوں کے اوپر سے نیچے آ گیا تھا۔ مبینہ طور پر کئی ہیلی کاپٹر چیٹس ورتھ سائٹ پر پرواز کر رہے تھے جب کہ حکام اور خبر رساں عملہ پہلے کی ایس یو وی -میٹرو بس کے حادثے کا جواب دے رہے تھے جب ہیلی کاپٹر گر گیا۔ ہنگامی امدادی کارکن جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور صورتحال پر قابو پانے کے لیے کام کیا۔ کے ٹی ایل اے نے ابتدائی معلومات کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ کم از کم ایک شخص کو ملبے سے نکالا گیا ہے۔ فوری طور پر ہیلی کاپٹر کے حادثے میں زخمی ہونے والوں کی کل تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔
سی بی ایس نیوز کے بعد کی تازہ کاری میں کہا گیا کہ حادثے کی جگہ پر آگ بجھا دی گئی ہے۔ ایک لاش کے اوپر ایک چھتری بھی بنائی گئی تھی کیونکہ ہنگامی عملے نے اپنا ردعمل اور بحالی کی کوششیں جاری رکھی تھیں۔

ہیلی کاپٹر کا حادثہ علیحدہ چیٹس ورتھ ایس یو وی اور میٹرو بس کے تصادم کے ردعمل کے درمیان پیش آیا، جس کے نتیجے میں پہلے ہی متعدد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ حادثے کی تحقیقات فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (ایف اے اے) اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ (این ٹی ایس بی) کر رہے ہیں۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

Continue Reading

سیاست

پائلٹ کی قیادت میں پنجاب کانگریس کی قیادت نے چندی گڑھ میں وزیر خزانہ چیمہ کے خلاف احتجاج کیا۔

Published

on

چنڈی گڑھ، 15 ستمبر نو مقرر کردہ آل انڈیا کانگریس کمیٹی (اے آئی سی سی) کے جنرل سکریٹری اور پنجاب کے انچارج سچن پائلٹ کی قیادت میں، پارٹی کی پوری اعلیٰ قیادت، طویل عرصے کے بعد اپنے اختلافات کو ختم کرتے ہوئے، ہزاروں کارکنوں کے ساتھ، منگل کو پنجاب کے وزیر خزانہ ہرپال چیمہ کی رہائش گاہ کی طرف مارچ کیا، ان کے استعفیٰ کا مطالبہ کرتے ہوئے مبینہ طور پر خود کشی کے لیے اکسانے والے سنگھ، گلزار سنگھ کے احتجاج کو روکنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ پولیس کی بھاری نفری چیمہ کی رہائش گاہ پر پہنچی۔ اس کے علاوہ پولیس نے مظاہرین کو آگے بڑھنے سے روکنے کے لیے واٹر کینن کا بھی استعمال کیا۔

پانی کی توپوں کی بھاری طاقت سے سینئر لیڈر کلجیت ناگرا سمیت پارٹی کے کئی کارکن زخمی ہو گئے۔اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے پائلٹ نے کہا کہ کانگریس کا وزیر خزانہ کے خلاف کوئی ذاتی نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے سوال کیا کہ کیا قانون فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) کے اندراج کا مطالبہ نہیں کرتا ہے جس کے بعد ایک تفصیلی تحقیقات کی جائیں جب کسی شخص نے اپنے مرنے کے اعلان میں وزیر کے نام کا ذکر کیا ہو؟ انہوں نے کہا کہ صورتحال ایسی ہے کہ ایک غریب دلت کو اپنی جان سے قیمت ادا کرنی پڑی کیونکہ اس نے منشیات کی مفت دستیابی کے بارے میں سوال اٹھایا جس کا شکار اس کا بیٹا ہوا تھا۔ انہوں نے اے اے پی کو یاد دلایا کہ اس نے ایک دلت نائب وزیر اعلیٰ کی تقرری کا اعلان کیا تھا۔ ایک دلت ڈپٹی سی ایم کی کیا بات کریں، گلزار سنگھ جیسے دلت آپ کے دور حکومت میں خودکشی کرنے پر مجبور ہیں، انہوں نے ریمارکس دئیے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے ان دعووں کو یاد دلاتے ہوئے جو انہوں نے انتخابات سے پہلے کئے تھے کہ حکومت بنانے کے تین ماہ کے اندر منشیات ختم کر دی جائیں گی، کانگریس لیڈر نے کہا کہ تقریباً پانچ سال کے اے اے پی کے دور حکومت کے بعد اب اتنی آسانی سے منشیات دستیاب تھی۔ ترسیل” (منشیات کی)۔

مختصر نوٹس پر اتنی بڑی تعداد میں جمع ہونے پر پارٹی کارکنوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے پائلٹ نے ان میں سے ہر ایک کو یقین دلایا کہ کانگریس ہمیشہ ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ پارٹی ہائی کمان کے نمائندے کی حیثیت سے انصاف کے حصول کے لیے ہر لڑائی اور جدوجہد میں سب سے آگے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ کانگریس کے ہر کارکن کے وقار اور عزت کو بحال کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ پنجاب کے سینئر لیڈران، جن میں ریاستی صدر امریندر سنگھ راجہ وارنگ، قائد حزب اختلاف پرتاپ سنگھ باجوہ اور سابق وزیر اعلیٰ چرنجیت سنگھ چنی شامل ہیں، نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اے اے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ریاست میں سب سے زیادہ طاقتور ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھگونت مان ریاست کے سب سے زیادہ تباہ کن وزیر اعلیٰ ثابت ہوئے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان