Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مہاراشٹر میں این آر سی کا نفاذ نہیں ہوگا: وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے

Published

on

thackry

ممبئی: مہاراشٹر کے وزیر اعلی ادھو ٹھاکرے نے آج سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کی قیادت میں شہر کے علمائے کرام ،اراکین اسمبلی امین پٹیل، این سی پی ترجمان نواب ملک اورعمائدین شہر کی ایک اہم میٹنگ میں یہ یقین دہانی کروائی کہ ریاست میں این آر سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا ۔ اس لئے آپ پوری طرح سے مطمئن رہیں۔ یہ میرا وچن ہے۔ جو احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اس کی اب کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کیونکہ یہ احتجاجی مظاہرے کا سماج دشمن عناصر غلط فائدہ اٹھا کر تشدد برپا کر سکتے ہیں۔ریاست میں نظم ونسق اور بقا کی ضرورت اب عوام کی ہے جو غلط فہمیاں ہیں اس کو بھی دور کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے وفد سے عہد لیا ہے کہ وہ ریاست میں امن وامان کی فضا کو بر قرار رکھنے میں تعاون کریں گے۔ علماۓ کرام نے یہ واضح کیا کہ ہم ریاست کی فلاح اور امن کے لئے آپ کے ساتھ ہیں ۔ ادھو ٹھاکرے نے یہ بھی کہا کہ سی اے اے شہریت ترمیمی ایکٹ اور این آر سی کے تعلق سے لوگوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ اس لئے ہم عوام کے جذبات سے طرح واقف ہیں۔ کیونکہ یہ مسئلہ ملک کا ہے اور ریاست میں ہم اس کا نفاذ قطعی نہیں کریں گے ۔ ادھوٹھاکرے نے کہا کہ مسلمانوں کو خوفزدہ اور فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہاں این آر سی کا نفاذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ حراستی مراکز ڈٹینشن کیمپ ہندوستانیوں کے لئےنہیں ہے۔ بلکہ یہ غیر قانونی طور پر مقیم نائیجریائی یا دیگر باشندوں کے لئے ہے۔ این آر سی کےلئے مہاراشٹر میں کوئی ڈٹینشن سینٹر کاقیام عمل میں نہیں لایا گیا۔ یہ میرا وچن ہے کہ این آر سی کی زد میں کوئی بھی شہری نہیں آئے گا۔ اس لئے میری یہ درخواست ہے کہ اب احتجاجی مظاہرے نہ کریں ۔ کیونکہ سماج دشمن عناصر ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ عوام کی بات ہم تک پہنچ گئی ہے۔ اس لئے اب ریاست میں امن کے قیام کی ضرورت ہے۔ رکن اسمبلی اور ایس پی لیڈر ابوعاصم اعظمی نے وزیر اعلی ادھوٹھاکرے کی توجہ مبذول کراتے ہوئے کہا کہ این آر سی اور سی اے اے سے عوام بالخصوص مسلمانوں میں اضطراب پایا جارہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ دراز ہو گیا۔ ریاست میں احتجاجی مظاہروں کےدوران پولس کی شبیہ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ پربھنی اور بیڑ میں پولس نے سخت کارروائی کی ہے ایسے معاملے میں جو کیس درج کئے گئے ہیں اس میں نرمی پیدا کی جائے۔ جبکہ احتجاجی مظاہروں کامقصد اپنی آواز بلند کرنا ہے۔ ابوعاصم اعظمی نے یہ واضح کیا ہے کہ سی اے اے اور این آر سی کو اس ریاست میں نافذ نہ کیا جائے۔ کیونکہ یہ ریاست میں نقص امن کے لئے خطرہ ہے انہوں نے وزیر اعلی سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر آپ مسلمانوں اور عوام کو این آر سی اور سی اے اے کو ختم کرنے کی کوشش کرنے کے ساتھ ریاست مہاراشٹر میں اسے نافذ نہ کریں ۔ مولانا سجاد نعمانی بھی این آر سی اور سی اے اے پر عوام میں پھیلی ناراضگی اور بے اطمینانی سے وزیر اعلی کو واقف کروایا اور کہا کہ اس سے مسلمانوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے۔ وفد میں شامل “ٹیس “کے لیڈر فہد شیخ نے گزارش کی ریاست میں این آر سی اور سی اے اے نفاذ نہ کرنے کے لئے آپ نوٹیفکیشن جاری کریں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اب عوام میں اس قدر عام ہوگیا ہے کہ ہر کوئی این آر سی کی مخالفت کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ریاستی حکومت نوٹیفکیشن جاری کرے۔ اس اہم میٹنگ میں مسلم اراکین اسمبلی این سی پی کے نواب ملک , رکن اسمبلی امین پٹیل ,سماجوادی پارٹی لیڈر اور ترجمان عبدالقادر چودھری، علماء کونسل کے جنرل سکریٹری مولانا محمود دریابادی، مولانا عبدالسلام سلفی ،مولانا مفتی حذیفہ قاسمی، مولانا اعجاز کشمیری ، ممبئی امن کمیٹی فرید شیخ، پرویز صدیقی سمیت اکابرین اور مقتدر اشخاص شریک تھے ۔ جبکہ ڈائریکٹر جنرل آف پولس سبودھ جیسوال، پولس کمشنر سنجۓ بروے سمیت مختلف اعلی افسران موجود تھے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com