Connect with us
Tuesday,12-May-2026
تازہ خبریں

سیاست

کیجریوال نے برطانیہ کی پروازوں پر پابندی بڑھانے کا مطالبہ کیا

Published

on

Kejriwal

دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے ملک میں برطانیہ کے کورونا وائرس کی نئی شکل کے معاملوں میں اضافہ ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی حکومت سے یہاں آنے والی پروازوں پر پانبدی کو بڑھا کر 31 جنوری تک کرنے کی اپیل کی ہے۔

مسٹر کیجریوال نے جمعرات کو ٹویٹ کرکے کہا،’’مرکزی حکومت نے برطانیہ سے آنے والی پروازوں سے پابندی ہٹاکر طیارہ خدمات پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وہاں کووڈ کے حالات نازک ہو رہے ہیں۔ میری مرکزی حکومت سے اپیل ہے کہ برطانیہ سے آنے والی پروازوں پر پابندی کو بڑھا کر 31 جنوری تک کیا جائے۔‘‘

برطانیہ میں کورونا کا نیا اسٹرین خطرناک اور تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کورونا کے نئے اسٹرین کو دیکھتے ہوئے برطانیہ میں ایک بار پھر سے فروری کے وسط تک سخت لاک ڈاؤں لگادیا گیا ہے۔ یہی نہیں برطانیہ کے وزیراعظم بورس جانسن اس بار یوم جموریہ کی پریڈ کے مہمان خصوسی تھے انہوں نے بھی اپنا ہندوستان کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔

مسٹر کیجریوال نے ایک دیگر ٹویٹ میں لکھا،’’برطانیہ میں کورونا کے حالات بہت نازک ہیں۔ بڑی مشکل سے دہلی میں لوگوں نے کورونا پر کنٹرول کیا ہے۔ ایسے میں پروازوں سے پابندی ہٹاکر لوگوں کی جان کو جوکھم میں ڈالنا ہوگا۔ حالات توجہ میں رکھتے ہوئے میں مرکزی حکومت نے پروازوں پر پابندی پھر لگانے کی اپیل کرتا ہوں۔‘‘

برطانیہ میں کورونا کے نئے اسٹرین کی وجہ سے مرکزی حکومت نے 23 دسمبر سے 7 جنوری تک وہاں سے آنے والی سبھی پروازوں پر روک لگائی تھی۔ برطانیہ کےلئے کل آٹھ جنوری سے شرطوں کے ساتھ خدمات بحال کی جانی ہے۔ ملک میں کورونا کے نئے اسٹرین کے فی الحال 73 معاملے سامنے آچکے ہیں۔

جرم

ممبئی : جے جے اسپتال میں ڈاکٹر کی خودکشی کے سبب سنسنی

Published

on

suicide

ممبئی : جے جے اسپتال کے ڈاکٹر نے ذہنی تناؤ کے مرض کے سبب خودکشی کرلی۔ آج دوپہر ڈاکٹر ابھیاسنگھ نرسنگھ مورے نامی شخص نے جو ڈاکٹر نواس میں ریڈیولاجی کے سال اول میں زیر تعلیم تھا, اس نے اپنے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ وہ ریڈیولاجی کے سال اول میں زیر تعلیم تھا اور سائیکو ٹراپک ادویات لے رہا تھا۔ اس نے ڈپریشن کی وجہ سے اپنے کمرے میں پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

حج کمیٹی کی غفلت کے سبب حجاج کرام کو دشواریاں، اضافی دس ہزار روپیہ کی وصولی، ضروری کارروائی کی سی او حج کمیٹی کی اعظمی کو یقین دہانی

Published

on

Azmi-&-Yusuf

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی کو حجاج کرام کو درپیش مسائل اور دشواریوں کے ازالہ کے لیے حج کمیٹی آف انڈیا کے سی ای او شہنواز سے ملاقات کر کے حجاج کرام کو درپیش دشواریوں کے ازالہ اور مشکلات کا تصفیہ کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے سی ای او کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کہ حجاج کرام سے جنگی صورتحال کے سبب ۱۰ ہزار روپیہ اضافی وصول کیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جو اسمارٹ واچ عازمین حج کو دی گئی وہ ناکارہ ہے۔ اسمارٹ واچ کے لیے حجاج کرام سے اضافی ۵ ہزار روپیہ وصول کیا گیا تھا, اس کے باوجود یہ دستی گھڑی ناکارہ ہے, جبکہ یہی اسمارٹ واچ مارکیٹ بازار میں ۷ سو سے ۶ سو رپیہ میں دستیاب ہے۔ یہ الزامات بھی عازمین حج نے حج کمیٹی آف انڈیا پر عائد کئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس گھڑی کی چارجنگ سمیت دیگر خرابیوں سے متعلق بھی شکایات موصول ہوئی ہے۔ اسی مسئلہ پر اعظمی نے سنٹرل حج کمیٹی کے سی ای شاہنواز سی سے حج ہاؤس میں ملاقات کی جس میں عازمین کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات پر بات کی گئی۔ حجاج کرام نے شکایت کی کہ تقریباً 10,000 روپے زائد وصول کیے جا رہے ہیں۔ مزید برآں، فراہم کردہ گھڑیوں کے لیے 5,000 وصول کیے گئے، جبکہ ان کی مارکیٹ قیمت تقریباً 700-800 ہے۔ بہت سے حجاج نے بتایا کہ گھڑیاں ٹھیک سے کام نہیں کر رہی تھیں اور ناقابل استعمال تھیں۔ سی ای او نے بغور باتیں سننے کے بعد یقین دلایا کہ گھڑیوں کا معائنہ کیا جائے گا اور درست معلومات فراہم کی جائیں گی۔

گزشتہ 20 سالوں سے حج کے دوران حج ہاؤس میں میں خدمت انجام دینے والے ملازمین کی برطرفی کا معاملہ بھی اعظمی نے سی ای او کے روبرو پیش کیا۔ عدالتی حکم کے باوجود انہیں دوبارہ برخاست کردیا گیا۔ ان ملازمین کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ سی ای او شاہنواز نے مرکزی حکومت کو خط لکھ کر کارروائی کا یقین دلایا۔ اس دوران وفد میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابرہانی اور دیگر عہدیدار موجود تھے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

“ہندوؤں پر حملہ ہوا تو میں استعفیٰ دے دوں گا” بنگلہ دیش کے وزیر نے کیا بڑا اعلان, بھارت سے مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔

Published

on

Bengladesh

ڈھاکہ : بنگلہ دیش کے مذہبی امور کے وزیر قاضی شاہ مفضل حسین کیکو آباد نے کہا ہے کہ وہ اقلیتوں کے خلاف کسی بھی قسم کے جبر کے خلاف سخت موقف اختیار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے وزارتی عہدے سے استعفیٰ بھی دے دیں گے لیکن ملک میں اقلیتوں یا دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے خلاف ظلم، ناانصافی یا ظلم و ستم کو قطعی طور پر برداشت نہیں کریں گے۔ بنگلہ دیشی وزیر نے یہ باتیں سیکرٹریٹ میں خبروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کی تنظیم بنگلہ دیش سیکرٹریٹ رپورٹرز فورم (بی ایس آر ایف) کے زیر اہتمام ایک مباحثے کے دوران کہیں۔ یہ تقریب پیر کو سیکرٹریٹ کے میڈیا سنٹر میں منعقد ہوئی۔ قاضی شاہ مفضل حسین کیکو آباد کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب مغربی بنگال میں بی جے پی کی حکومت کے قیام کے بعد ملک میں ہندوؤں کو دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ بنگلہ دیش میں مغربی بنگال کے انتخابی نتائج پر ریلیاں نکالی جا رہی ہیں، جس میں انتباہ جاری کیا جا رہا ہے کہ “اگر بنگال میں مسلمانوں کے خلاف تشدد ہوا تو بنگلہ دیش میں بھی ہندو محفوظ نہیں رہیں گے۔” ایک سوال کے جواب میں قاضی شاہ مفضل حسین نے کہا کہ ‘بھارت ایک بہت بڑا ملک ہے اور وہ اس کا احترام کرتا ہے کیونکہ یہ جمہوریت کو برقرار رکھتا ہے۔’

تاہم، اپنی تقریر کے دوران، انہوں نے یہ بھی کہا کہ “اگر ہندوستان اقلیتوں کو قبول کرتا ہے، ان کی حفاظت کو یقینی بناتا ہے، اور انہیں مساوی حقوق اور تحفظ فراہم کرتا ہے، انہیں اپنی آبادی کا اٹوٹ حصہ تسلیم کرتا ہے، تو وہ ہندوستان کا اور بھی زیادہ احترام کرے گا۔” مذہبی امور کے وزیر نے مزید کہا کہ “لیکن میں ایک بات کہنا چاہوں گا کہ ہندوستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ بنیادی مسئلہ نہیں ہے، صرف ہندوستان میں کچھ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ بنگلہ دیش میں ایسا ہونے دیا جائے گا، اگر ضرورت پڑی تو میں وزارت سے استعفیٰ دے دوں گا، لیکن میں یہاں کسی بھی مذہب یا اقلیت کے پیروکاروں کے خلاف کسی قسم کا ظلم، ناانصافی یا مظالم برداشت نہیں کروں گا۔” اس سب کے درمیان بنگلہ دیشی بنیاد پرست مولانا عنایت اللہ عباسی نے مغربی بنگال میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی جیت کے بعد ہندوؤں کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اگر مغربی بنگال میں مسلمان محفوظ نہیں ہیں تو ہندوؤں کو بنگلہ دیش میں بھی محفوظ رہنے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘‘۔ عنایت اللہ عباسی اس سے قبل بھارت اور ہندوؤں کے خلاف زہر اگلنے کے لیے بدنام رہے ہیں۔ انہوں نے 2023 میں کہا تھا کہ ‘بنگلہ دیش کے مسلمان نئی دہلی پر اسلامی پرچم لہرائیں گے۔’

واضح رہے کہ اگست 2024 میں شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد سے بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ بھارتی وزارت خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق اگست 2024 سے فروری 2026 کے درمیان ہندو برادری کے خلاف تشدد کے 3,100 سے زائد واقعات رپورٹ ہوئے، جن میں ان کے گھروں، کاروباروں اور عبادت گاہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دسمبر 2024 میں بھارتی پارلیمنٹ میں پیش کی گئی رپورٹ کے مطابق صرف 4 اگست سے 8 دسمبر 2024 کے درمیان 2,200 واقعات رپورٹ ہوئے۔ بنگلہ دیش ہندو-بدھ-مسیحی اتحاد کونسل (بی ایچ بی سی یو سی) کی ایک رپورٹ کے مطابق، 4 اگست 2024 سے 30 جون 2025 کے درمیان 2,442 فرقہ وارانہ حملے ریکارڈ کیے گئے۔ ان واقعات میں اجتماعی عصمت دری، گھروں اور کاروبار پر قبضے اور جبری استعفیٰ شامل تھے۔ دریں اثنا، ہیومن رائٹس واچ کی رپورٹ کے مطابق، فروری 2026 کے انتخابات سے عین قبل تشدد میں پھر اضافہ ہوا، صرف دسمبر 2025 میں فرقہ وارانہ تشدد کے 51 نئے واقعات اور ہندوؤں کے 10 قتل ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم اس وقت کی محمد یونس انتظامیہ نے ان واقعات کو کم کرنے کی کوشش کی۔ یونس حکومت کی رپورٹ کے مطابق 2025 میں اقلیتوں کے خلاف 645 واقعات پیش آئے، لیکن اس نے دعویٰ کیا کہ صرف 71 فرقہ وارانہ تھے، جب کہ باقی فوجداری کیسز زمینی تنازعات یا ذاتی دشمنی کی وجہ سے تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان