Connect with us
Monday,29-June-2026

(جنرل (عام

جموں و کشمیر : 34 گھنٹوں کے ‘کورونا کرفیو’ کے بعد معمولات زندگی بحال

Published

on

لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ کی طرف سے کورونا وباء کی روک تھام کو ممکن بنانے کے لئے 34 گھنٹوں پر محیط کورونا کرفیو نافذ رہنے کے بعد جموں و کشمیر میں پیر کے روز جزوی کاروباری سرگرمیاں بحال ہو گئیں۔

یاد رہے کہ انتظامیہ نے کورونا وائرس کے کیسز میں غیر معمولی اضافے کے پیش نظر جموں و کشمیر میں 34 گھنٹوں تک جاری رہنے والے ‘کورونا کرفیو’ کے نفاذ کے احکامات جاری کئے تھے، جس کے باعث یونین ٹریٹری میں اتوار کو ہر سو سناٹا چھایا رہا اور تمام تر کاروباری سرگرمیاں بند اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بند رہی۔

یو این آئی اردو کے ایک نمائندے نے شہر سری نگر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرنے کے بعد بتایا کہ سری نگر کے تمام علاقوں میں جزوی کاروباری سرگرمیاں بحال ہوگئی ہیں اورکرفیو پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لئے اتوار کو سڑکوں پر لگائی گئی رکاوٹوں کو ہٹایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سری نگر کے تجارتی مرکز لالچوک جس کو گذشتہ روز سیل کر دیا گیا تھا، میں کاروباری سرگرمیاں اور سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل بحال ہوئی ہے تاہم تازہ ہدایات کے مطابق بازاروں میں پچاس فیصد دکان ہی کھلے رہے، لوگوں اور دکانداروں کو دوسرے کارونا گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہوئے دیکھا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بازاروں، سڑکوں اور گاڑیوں میں لگ بھگ صد فیصد لوگوں کو فیس ماسک لگائے ہوئے دیکھا گیا اور دکانداروں کو بھی باقی تمام تر کورونا گائیڈ لائنز کو اپناتے ہوئے دیکھا گیا۔
موصوف نے کہا کہ سری نگر کے دیگر علاقوں بشمول مہاراج بازار، امیرا کدل، کورٹ روڈ، ریگل چوک، ریذیڈنسی روڈ، مولانا آزاد روڈ، مائسمہ، گاؤ کدل، ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ اور ڈلگیٹ وغیرہ میں بھی پیر کے روز معمولات بحال ہوئے اور پچاس فیصد دکان کھلے رہے۔

انہوں نے کہا کہ سڑکوں کے کناروں پر ریڑوں پر مختلف چیزیں بالخصوص سبزیاں اور پھل بیچنے والوں نے بھی پیر کے روز اپنے ریڑے لگائے تھے اور کام میں مصروف تھے۔ بازاروں کے ساتھ ساتھ بینکوں اور دیگر سرکاری دفاتر میں بھی معمول کا کام کاج بحال ہوا، اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی معمول کے مطابق جاری رہی۔

وادی کے دوسرے ضلع صدر مقامات و قصبہ جات میں بھی 34 گھنٹوں کے کورونا کرفیو کے نفاذ کے بعد کاروباری سرگرمیاں بحال ہونے کی اطلاعات ہیں۔

موصولہ اطلاعات کے مطابق سری نگر کے ساتھ ساتھ وادی کے دیگر اضلاع میں بھی پیر کو معمولات زندگی بحال ہوئے اور تازہ ہدایات کے مطابق بازاروں میں پچاس فیصد دکان کھلے رہے اور سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی بحال ہوئی۔ ادھر لوگوں کا الزام ہے کہ مسافر گاڑی والے کورونا گائیڈ لائنز کی خلاف ورزی کر کے گاڑیوں میں صد فیصد سواریاں اٹھاتے ہیں۔

محمد اشرف نامی ایک مسافر نے یو این آئی کو بتایا کہ میں نے جس سومو میں چھانہ پورہ سے لالچوک تک سفر کیا اس میں برابر سواریاں بیٹھی ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سومو ڈرائیور نے ہمارے اصرار پر بھی پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے انکار کیا۔ ادھر ٹرانسپورٹروں کا کہنا ہے کہ گاڑیوں میں پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے ان کو بے تحاشا نقصان ہوگا۔

تصدق حسین نامی ایک سومو ڈرائیور نے یو این آئی کو بتایا کہ پچاس فیصد سواریاں اٹھانے سے ہم تیل کا خرچہ بھی نہیں کما سکیں گے تو ہمارا اور گاڑی کے دوسرے اخراجات کا کیا ہوگا۔ قابل ذکر ہے کہ ملک بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی کورونا کیسز میں روز افزوں غیر معمولی اضافہ درج ہو رہا ہے، جس سے لوگوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

جموں و کشمیر انتظامیہ نے کورونا کی اس دوسری لہر کی روک تھام کے لئے یونین ٹریٹری میں جزوی لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے، جس کے تحت بازاروں میں صرف پچاس فیصد دکان ہی کھلے رہتے ہیں اور مسافر بردار گاڑیوں کو بھی پچاس فیصد سواریاں اٹھانے کی اجازت دی جا رہی ہے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ریاست میں امن و امان خراب، زانیوں کو خلیجی ممالک کے طرز پر عبرتناک سزا پھانسی دینے کا مطالبہ : ابوعاصم اعظمی

Published

on

abu asim

ممبئی : پونے کی خصوصی عدالت نے آج 29 جون 2026 کو پونے ضلع کے بھور تعلقہ کے تحت نصرا پور عصمت دری اور قتل کیس میں اپنا تاریخی فیصلہ سنایا ہے۔ عدالت نے 65 سالہ ملزم بھیم راؤ پربھاکر کامبلے کو پھانسی دے کر موت کی سزا سنائی ہے، اس درندگی کو اہم کیس سمجھتے ہوئےاس انتہائی حساس اور بڑے فیصلے کے بعد مانسون سیشن کے دوران ودھان بھون علاقے میں صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے سوالات پر ل سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ریاست کے موجودہ لا اینڈ آرڈر نظم و نسق پر سنگین سوال اٹھائے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ریاست میں خواتین کے خلاف تشدد، عصمت دری، لوٹ مار اور قتل جیسے سنگین واقعات میں زبردست اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے امن و امان کی صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی ہے۔پونے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اور خواتین کی حفاظت کے مسئلہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایم ایل اے اعظمی نے کہا کہ ایسے سنگین جرائم کے ملزمین کے خلاف فوری کارروائی کی جانی چاہئے۔ انہوں نے نظام انصاف میں تاخیر پر بات کرتے ہوئے خلیجی ممالک کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں مقدمات برسوں التوا کا شکار رہتے ہیں، اس کے برعکس خلیجی ممالک میں چار دن کے اندر ملزمان کو جیل بھیج دیا جاتا ہے اور بھاری جرمانے کے بعد براہ راست ملک سے باہر بھیج دیا جاتا ہے۔ ہمارے ملک میں عصمت دری اور قتل جیسے غیر انسانی فعل کی سزا صرف موت ہونی چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ اگر بغیر کسی تاخیر کے 10 سے 15 مجرموں کو فوری طور پر پھانسی دے دی جائے توایسے مجرموں میں قانون کا خوف پیدا ہوگا اور واقعات پر قابو پایا جائے گا۔ممبئی کے سیکورٹی نظام اور پولیس کے کام کاج کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے ایم ایل اے اعظمی نے بدعنوانی اور لاپرواہی کے سنگین الزامات لگائے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود پولیس اہلکاروں کو رنگے ہاتھوں پکڑا ہے اور اس کے پختہ ثبوت اور تصاویر بھی دکھائی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ شہر کی سیکیورٹی کے لیے ‘پولیس بیٹ’ قائم کی گئی ہے لیکن پولیس کی نفری کسی چوکی پر موجود نہیں ہے اور پوچھنے پر عملہ کی کمی کا بہانہ بنایا جاتا ہے۔ برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اور پولیس انتظامیہ اپنے فرائض ذمہ داری سے ادا کرے تو ریاست میں ایک بھی شخص منشیات کی خرید و فروخت نہیں کر سکتا، لیکن موجودہ حکومت اس کےلیے پر عزم نہیں ہے ۔ریاست میں منشیات اور منشیات کے نیٹ ورک کے پھیلاؤ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ہماری نوجوان نسل کو مکمل طور پر برباد کر رہا ہے۔ اس سے قبل وزیر اعلیٰ نے ہر تھانے کے تحت ‘اینٹی ڈرگ زون’ بنانے کا وعدہ کیا تھا، لیکن اس پر کوئی ٹھوس کارروائی نظر نہیں آ رہی ہے۔ خطرے کی گھنٹی یہ ہے کہ قانون کا خوف ختم ہو گیا ہے اور معمولی جھگڑوں پر بھی سڑکوں پر کھلے عام وار اور حملہ کے واقعات ہو رہے ہیں ۔ پریس کانفرنس کے آخر میں انہوں نے محرم کے پس منظر میں پکڑے گئے ایک مشتبہ شخص کا ذکر کیا جس سے 15 ہزار ممنوعہ زہریلی گولیاں برآمد ہوئیں۔ ابو عاصم اعظمی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس پورے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائے اور جو بھی قصوروار پایا جائے اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

محرم الحرام جلوس شام غریباں زہریلی گولی سانحہ کی انکوائری ہو، ایس پی لیڈر ابوعاصم کا مطالبہ، بگڑتے نظم ونسق اور بدامنی پر تشویش

Published

on

ABUASIM

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر ودھان بھون میں سینئر ایس پی لیڈر ابو عاصم اعظمی نے آج منعقد ایک پریس کانفرنس میں مہاراشٹر میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ چھیڑخانی کے تنازعہ پر دو افراد پر حالیہ چاقو سے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ ریاست میں چوری، ڈکیتی، قتل، اور عصمت دری کے واقعات میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ انتظامیہ غیر فعال ہے۔ اعظمی نے مطالبہ کیا کہ عصمت دری جیسے گھناؤنے جرائم میں ملوث افراد کو فوری طور پر پھانسی دی جائے تاکہ ان میں خوف پیدا ہو۔ نوجوانوں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے رجحان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انتظامیہ اور پولیس اس پر قابو پانے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ انہوں نے پولیس انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ محرم کے دوران یا کسی اور موقع پر مشکوک کیمیکلز (جیسے چوہے کا زہر یا زہریلا مادہ) کے ساتھ پکڑے جانے والے ملزم کے پس پشت بڑی سازش کو بے نقاب کیا جائے پولس نے اپنے فوائض کو تندہی سے انجام دیا تھا جس کے سبب فیاض نامی ملزم گرفتار کر لیا گیا ہے, اس کے پس پشت کون لوگ اس سازش میں شریک تھے اس کی بھی تفتیش ضروری ہے۔ اعظمی نے نیٹ کے بعد ٹی ای ٹی کے پرچہ لیک ہونے پر سرکار تنقید کیا اور کہا کہ سرکار امتحان منعقد کرنے میں ناکام ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

بھیونڈی : رئیس شیخ نے ڈپٹی چیف منسٹر سنیترا پوار کو لکھا خط، ایم ایل اے رئیس شیخ کا دعویٰ مسلمانوں کی ترقی کے لیے سروے ضروری ہے

Published

on

ممبئی مسلمان ترقی کے عمل سے میلوں دور ہے اور اس برادری کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے ‘اجیت پوار’ کے نام سے ایک اسٹڈی گرپ قائم کیاجائے سماج وادی پارٹی کے بھیونڈی ایسٹ کے ایم ایل اے رئیس شیخ نے ریاست کی اقلیتی ترقی اور نائب وزیر اعلیٰ سنیترا پوار سے مطالبہ کیا ہے کہ 15 سال سے زیر التوا سروے کو شروع کرنے کے لیے اجیت پوار اسٹڈی سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے۔ اس سلسلے میں ایم ایل اے شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سنترا پوار کو خط لکھا ہے۔ اس سلسلے میں جانکاری دیتے ہوئے ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ 2013 میں مہاراشٹر حکومت کے ذریعہ مقرر کردہ ڈاکٹر محمود الرحمن اسٹڈی گروپ نے مسلمانوں کا سماجی-تعلیمی-اقتصادی سروے کرانے کی سفارش کی تھی۔ 2022 میں ٹاٹا انسٹی ٹیوٹ آف سوشل سائنسز کو اس سلسلے میں ٹاسک دیا گیا تھا۔ حکومتی فیصلہ 21 ستمبر 2022 کو لیا گیا تھا۔ تاہم ریاست میں اقتدار کی تبدیلی ہوئی اور سروے نہیں ہو سکا۔

اگر مسلم کمیونٹی کے حالات زندگی، مالی امداد، اسکیموں کے فوائد، بنیادی ڈھانچے، تعلیمی مواقع، صحت کی سہولیات سے متعلق حقیقت سامنے آجائے تو اس جغرافیائی طور پر پسماندہ طبقے کے مسائل سمجھ میں آئیں گے اور حکومت کے لیے مسلم کمیونٹی کو ترقی کے دھارے میں لانے کے لیے پالیسی بنانا آسان ہوجائے گا۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ (2006) کے بعد مسلم کمیونٹی کی سماجی، معاشی، تعلیمی حیثیت کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے مزید کہا کہ مسلم کمیونٹی کا سروے کرنے کے لیے ’مرحوم اجیت دادا پوار‘ کے نام سے ایک نیا اسٹڈی گروپ تشکیل دیا جانا چاہیے۔ اجیت دادا نے مسلم کمیونٹی کے زیر التوا مسائل کو بھرپور طریقے سے آگے بڑھایا۔ اجیت دادا کے دلیرانہ فیصلے کی وجہ سے مارٹی قائم ہوئی، اقلیتی کمشنریٹ قائم ہوا اور انتخابات میں مسلم امیدواروں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔ مسلم کمیونٹی کے سروے سے اس کمیونٹی کی حالت کی واضح تصویر سامنے آئے گی۔ ریاست میں مسلمانوں کی آبادی 11.54 فیصد ہے، جو ہندوؤں کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ ریاست کے 56 شہروں میں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ ایسے سروے بیرونی ذرائع سے محدود فنڈز اور افرادی قوت کے ذریعے کیے جاتے ہیں۔ ایم ایل اے رئیس شیخ نے کہا کہ حکومت نے ماضی میں کئی ذاتوں کے ایسے سروے کرائے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان