Connect with us
Saturday,29-November-2025
تازہ خبریں

(جنرل (عام

اسلام نے حقوق عورتوں کے زیادہ رکھے ہیں اور ذمہ داریاں مردوں کی زیادہ رکھی ہیں: اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا (دہلی) میں دو روزہ ورکشاپ

Published

on

(نامہ نگار)
اسلام سے پہلے خواتین کو کسی قسم کا کوئی حق حاصل نہیں تھا، مردوں کی خدمت کرنا اور ان کی ہوس پورا کرنا ہی عورت کا کام تھا، اسے منحوس اور گناہ کا دروازہ سمجھا جاتا تھا، اسلام نے عورتوں کو قریب قریب مردوں کے برابر حقوق دئیے، حقوق زیادہ عورتوں کے رکھے اور ذمہ داریاں زیادہ مردوں کی مقرر کیں؛ البتہ یہ بات افسوسناک ہے کہ شریعت میں خواتین کو جو حقوق دئیے گئے ہیں، مسلم سماج میں بھی دین سے دوری اور خدا ناترسی کی بناء پر بہت سی دفعہ وہ ان حقوق سے محروم کر دی جاتی ہیں، اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا کے کانفرنس ہال میں ’’ خواتین کے حقوق پر‘‘ دو روزہ ورکشاپ ہوا، جس میں اسلامی تعلیمات اور موجودہ عالمی حقوق سے متعلق منشور کا جائزہ لیتے ہوئے مقررین نے ان خیالات کا اظہار کیا ، یہ ورکشاپ کل منعقد منعقد ہوا، پہلی نشست کی صدارات ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی اور دوسری نشست کی صدارت ڈاکٹر محمد مشتاق تجاروی (استاذ شعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ) نے کی، اور اکیڈمی کے شعبۂ علمی کے رفیق مفتی احمد نادر قاسمی نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔
اس موقع پر آن لائن خطاب کرتے ہوئے اکیڈمی کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ معاشرہ میں بنیادی طور پر عورت کے تین روپ ہوتے ہیں، ماں، بیوی اور بہن، اور تینوں حیثیتوں سے اسلام میں عورت کو عزت دی گئی ہے؛ بلکہ ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا ہے، مغرب نے عورتوں کی آزادی کے نام پر عورت پر کسبِ معاش اور محنت مزدوری کی ذمہ داری رکھ دی، جس کی وجہ سے خاندانی نظام بکھر گیا اور عورتوں کو اس سے سخت نقصان پہنچا، مولانا رحمانی نے کہا کہ اکیڈمی نے ہمیشہ خواتین کے حقوق اور مسائل پر خصوصی توجہ دی ہے ، اس نے متعدد سیمینار اسی سے مربوط مسائل پر منعقد کئے ہیں، اور موجودہ دور میں خواتین کو درپیش مسائل کو حل کرنے پر توجہ دی ہے۔
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی نے اپنے مقالہ میں دنیا کی دیگر تہذیبوں اور مذاہب میں خواتین کو دیے جانے والے حقوق اور شریعت اسلامی نے انہیں جو حقوق دئیے ہیں، اس کا تقابلی جائزہ لیا، اور بتایا کہ موجودہ دور میں مرتب ہونے والے قوانین، عورتوں کے حقوق کے معاملہ میں ابھی بھی اسلام سے پیچھے ہیں، ڈاکٹر مشتاق احمد تجاروی نے کہا کہ اسلام نے نہ صرف خواتین کے بنیادی حقوق کی پاسداری کی ہے؛ بلکہ معاشرہ میں انہیں باوقار مقام عطا کیا ہے، زمانۂ جاہلیت ہی میں نہیں؛ بلکہ اب بھی کئی جگہوں پر لڑکیوں کو بعض لوگ زندہ درگور کر دیتے ہیں، ڈاکٹر صفدر زبیر ندوی انچارج شعبہ علمی امور اکیڈمی نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق منشور کی دفعہ ۱۶؍ پر تفصیل سے گفتگو کی، جو شادی سے متعلق ہے، اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس کا جائزہ لیا، مفتی احمد نادر قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے ملازمت اور کسبِ معاش کی جدوجہد میں خواتین کی شرکت سے متعلق اسلامی نقطۂ نظر کو پیش کیا، اور شرعی حدود کی وضاحت کی، نیز مختلف مقاصد کے تحت خواتین کے سفر کے سلسلہ میں شرعی ہدایات کو واضح کیا، مفتی امتیاز احمد قاسمی رفیق شعبۂ علمی نے اکیڈمی اور بالخصوص اکیڈمی کے سکریٹری برائے سیمینار مولانا عبیدا اللہ اسعدی صاحب کی طرف سے شکریہ ادا کیا، اس دو روزہ پروگرام میں شرکاء کے درمیان تین اہم موضوعات پر تبادلۂ خیال کا موقع بھی فراہم کیا گیا، اور وہ ہے، ’’ مہر کی حیثیت، حق زوجیت اخلاقی حق ہے یا قانونی؟ اور چہرہ پردہ میں شامل ہے یا نہیں؟ ‘‘ اس دو روزہ تربیتی پروگرام میں دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ ، مظاہر علوم سہارنپور، جامعہ اسلامیہ سنابل دہلی، جامعہ ابن تیمیہ جمپارن( بہار) المعہد العالی پٹنہ، مدرسہ سبیل السلام دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی، دہلی یونیورسیٹی اور معہد التخصص فی اللغۃ العربیہ کے فضلاء اور اسکالرس نے شرکت کی، پروگرام کے اخیر میں مولانا عدنان ندوی، مولانا سعد مذکر ندوی، ڈاکٹر جسیم الدین قاسمی اور مولانا فیروز اختر قاسمی نے تأثرات پیش کئے، مولانا انیس اسلم مفتاحی انچارج انتظامی امور نے انتظام کی نگرانی کی۔

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com