Connect with us
Sunday,31-May-2026
تازہ خبریں

جرم

جامعہ کے زخمی طلبا اور طالبات نے پولس پر لگائے سنگین الزام

Published

on

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پولیس کی مبینہ بربریت کو بیان کرتے ہوئے طلباء اور طالبات نے الزام لگا یا ہے کہ پولیس پر طالبات کے سینے اور پیٹ پرہی لاتیں نہیں ماریں بلکہ ان کے حساس اعضا کو بھی نہیں بخشا۔
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف احتجاج اور پولس کی اجازت کے بغیر احتجاجی مارچ کرنے کی کوشش کرنے والے احتجاجیوں کو روکنے کے لئے پرسوں پولس کو لاٹھی چارج کرنا پڑی تھی جس میں کئی طلبا اور طالبات کو چوٹیں آئیں اور انہیں داخل اسپتال کرنا پڑا۔طلبا کا دعوی ٰ ہے کہ مارچ کی پر امن کوشش کرنے والے احتجاجیوں نے ایسی کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی تھی کہ اُن پر پرتشدد طریقے سے قابو پانے پر پولس کو مجبور ہونا پڑتا۔[
پندرہ دسمبر کو بھی پولس زیادتی کے الزام کی زد میں آئی تھی جس کے خلاف شکایت پر دہلی ہائی کورٹ نے جامعہ میں پولیس کارروائی کے بارے میں عدالت کی نگرانی میں کسی کمیٹی یا خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعہ تحقیقات کی درخواست پر کل منگل کو مرکز سے جواب طلب کیا ہے۔
10 فروری کے واقعے میں متاثرطلبہ و طالبات نے یو این آئی اردو سروس سے بات چیت میں دعویٰ کیا کہ پولیس نے کیمرے کے قید میں آنے سےسے بچنے کے لئے احتجایوں کو گرا کر ان پر لاٹھیاں برسائیں ۔ نتیجے میں طلبا اور طالبات اور لڑکیوں کے حساس اعضا میں چوٹیں آئیں۔
جامعہ نگر کے ایک پرائیویٹ استپال میں زیر علاج جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انگلش آنر کی ایک طالبہ نے اس استدلال کے ساتھ کہ مارچ کی کوشش پر امن تھی ، الزام لگایا کہ بریکیڈ کے سامنے پہنچنے پر پولیس نےان کو بھدی بھدی اور مذہبی منافرت سے لیس گالیاں دینی شروع کی اورکہاکہ ’’تم لوگ پاکستان چلے جاؤ، یہاں تم لوگوں کا وہی حال کریں گے جو ہم نے کشمیر میں وہاں کے لوگوں کے ساتھ کیا ہے‘‘۔
اس طالبہ نے یہ الزام بھی لگایا کہ ایک پولس والے نے جہاں اس کے منھ پر طمانچہ مارتے ہوئے کہا تھا کہ’’تم کو آزادی چاہئے،یہ لو آزادی‘‘ وہیں ایک دوسرا پولیس کانسٹبل اس کی جانگ پر جوتا سمیت چڑھ گیا تھا۔
جامعہ کی ہی ایک اور طالبہ نے نے بھی پولس پر اسی طرح کی زیادتیوں کے الزامات لگائے اور کہا کہ اس کا فون تک چھین لیا گیا تھا۔پولس لاٹھی چارج میں زخمی ہونے والوں نے پولیس پر اسپرے کرنے کا بھی الزام لگایا اور کہا کہ اس چھڑکاو کی زد میں آنے والے بے ہوش ہوگئے تھے۔
جامعہ نگر کے پرائیویٹ اسپتال میں داخل پانچ چھ طالب علموں نے بھی پولس کی اسی طرح کی مبینہ زیادتیوں کا الزام لگا یا اور دعوی کیا کہ مارچ کی پر امن کوشش کرنے والے احتجاجیوں ایسی کوئی غیر قانونی حرکت نہیں کی تھی کہ ان پر پرتشدد طریقے سے قابو پانے پر پولس کو مجبور ہونا پڑتا۔

جرم

ممبئی پوائی قتل کیس میں مفرور ملزم گرفتار، ہفتہ قبل تنازع پر غصہ قتل کا شاخسانہ، قتل کے بعد پولس تفتیش میں خلاصہ

Published

on

ARREST-1

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۱۰ نے قتل میں ملوث مفرور ملزم کو سورت گجرات سے گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پوائی تنگا گاؤں ساکی وہار میں ۲۴ مئی کو ایک ۵۵ سالہ یوسف نامی شخص کی لاش ملی تھی, جسے کسی نے دھاردار ہتھیار سے وار کر کے سینے پر وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ پولس نے اس معاملہ میں قتل کا کیس درج کر کے تفتیش شروع کر دیا اور پھر اس معاملہ میں تقریبا ۱۰۰ سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور معلوم ہوا کہ گجرات میں قتل کے بعد ملزم فرار ہو چکا ہے۔ اس کے بعد پولیس نے ملزم کو یہاں سے گرفتار کیا اور مزید کارروائی کے لئے پوائی پولس کے سپرد کر دیا ہے۔ ملزم دیپک عرف دیپا نتھو پرساد ورما ۲۶ سالہ کی یوسف سے کسی بات پر تنازع ہوا, ایک ہفتہ قبل تنازع ہوا تھا جس کا غصہ اس کے دل میں تھا اور اسی نے طیش میں آکر یوسف کو قتل کر دیا اور فرار ہوگیا, پولس نے اس معاملہ میں کارروائی کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کر کے کیس حل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی : آگری پاڑہ ہائی پروفائل رہائش گاہ میں بڑے پیمانے پر ایم ڈی ڈرگس ریکیٹ کا پردہ فاش، ملزمین کی تفتیش مبینہ بنگلہ دیشی کا بھی شبہ، 51 کروڑ کی ایم ڈی ضبط

Published

on

ARRESTED

ممبئی : ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل ششی کانت جگدالے کی قیادت میں کاندیوالی اے این سی یونٹ نے منشیات سازی کے ایک بڑے ریکیٹ کا پردہ فاش کیا۔ ملزمین مبینہ طور پر آگری پاڑہ میں ایک ہائی پروفائل رہائشی عمارت کے ایک کمرے میں ایم ڈی ڈرگس تیار کر رہے تھے۔آپریشن کے دوران، پولیس نے تقریباً 51 کروڑ روپے مالیت کا 14 کلو گرام ایم ڈی اور مائع ایم ڈی ضبط کیا۔ پولیس نے ملزمان سے ایک پستول اور 19 زندہ کارتوس بھی برآمد کرلیں۔ اس معاملے میں کل تین افراد کو گرفتار کیا گیا ہے، اور مزید تفتیش جاری ہے۔ ان ملزمین میں سے ایک کا تعلق مغربی بنگال سے ہے۔ ممبئی شہر میں یہ ملزمین ایم ڈی سازی کیا کرتے تھے۔ ایک ملزم کے پاس سے پستول کی برآمدگی بھی ہوئی ہے۔ اس نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے دستاویزات کی بھی جانچ جاری ہے اور یہ بھی معلوم کیا جارہا ہے کہ آیا یہ مبینہ بنگلہ دیشی تو نہیں ہے۔ ممبئی انٹی نارکوٹکس سیل کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کہا کہ پولس ہر پہلو پر اس معاملہ کی جانچ کر رہی ہے۔ جبکہ پولس کو ایک بڑی کامیابی ملی ہے۔ جس میں 51 کروڑ مالیت کی ایم ڈی اور مائع ایم ڈی برآمد کر لی گئی ہے۔ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد ملوث ہے, اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر اے این سی کے ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے انجام دی ہے۔ جن ملزمین کو گرفتار کیا گیا ہے, ان کی شناخت محمد شعیب شوکت علی منصوری ۳۱ سالہ (یاسمین ٹاور)، سفیان سلیم منصوری ۲۸ سالہ اور رینا اختر دختر اشرف الاسیکدار ۲۲ سالہ کے طور پر ہوئی ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان