جرم
شاہین باغ خاتون مظاہرین نے خاموش احتجاج کرکے سی اے اے کی مخالفت کی
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں جاری خاتون مظاہرین نے منہ پر سیاہ پٹی باندھ کر خاموش مظاہرہ کیا اور کہا کہ ان کی کسی پارٹی سے کوئی وابستگی نہیں ہے بلکہ وہ اس سیاہ قانون کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ خواتین مظاہرہ میں کل کوئی تقریری نہیں ہوئی اور نہ ہی کوئی پروگرام ہوا۔سب نے خاموش ہوکرسبھی پارٹی سے برات کا اظہار کیا۔وہاں ایک بورڈ آویزا کردیا گیا تھا جس پر لکھا تھا ”آج خاموش دھرنا ہے، آپ سب لوگ خاموش رہیں،ہمار ا موضوع سی اے اے، این آر سی اور این پی آر ہے، ہم کسی پارٹی کی حمایت نہیں کرتے“۔ اس کی وجہ سے ہر طرف خاموشی رہی اورکوئی نعرے بھی نہیں لگے۔ شاہین باغ مظاہرہ گاہ میں بنے انڈیا گیٹ، ہندوستان کے نقشے اور لائبریری کے قریب مختلف گروپ نکڑ ناٹک‘ نغمے، ترانے اور نعرے لگاتے نظر آتے تھے۔
خاتون مظاہرین نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہاکہ ہمارا موضوع کوئی پارٹی یا سیاست نہیں ہے بلکہ ہم لوگ قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہیں۔ آج اس لئے بھی خاموش مظاہرہ رکھا گیا تاکہ کوئی پارٹی یا سیاست، انتخاب میں فتح و شکست کی بات نہ کرسکے۔ انہوں نے کہاکہ اس طرح ہم اپنے موضوع کے ہی ارد گرد رہنا چاہتی ہیں۔ اس کے علاوہ خاتون مظاہرین نے کہا تھا کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ و طالبات پر اور تغلق آباد میں خاتون مظاہرین کی حمایت میں بھی منہ پر سیاہ پٹی باندھ کر مظاہرہ کیا گیا ہے اوراس طرح ہم نے ان خواتین کے تئیں اظہار یکجہتی کیا ہے۔ واضح رہے کہ کل پولیس اور مبینہ طور پر سنگھ پریوار کے وابستہ غنڈوں نے خواتین پر حملہ کرکے ان کے ساتھ مار پیٹ کی اور قابل اعتراض نعرے لگائے۔
شاہین باغ مظاہرہ میں شامل ایک دیگر خاتون نصرت آراء نے بتایا کہ جس طرح گارگی کالج میں طالبات پر اورجامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ اور طالبات کے پرائیویٹ پارٹس کو نشانہ بناکر لاٹھی چلائی گئی ہے اس سے ہم لوگ صدمے ہیں۔انہوں نے کہاکہ مظاہرے کی تاریخ میں اس طرح کا واقعہ شاذ و نادر ہی ملتا ہے کہ پولیس نے طلبہ و طالبات کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا ہو۔انہوں نے بتایا کہ دلتوں کا ایک وفد آج شاہین باغ آئے گا اور شاہین باغ خاتون مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ساتھ اس سیاہ قانون کی مخالفت کرے گا۔
جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مارچ کی کوشش کے دوران پولیس کی بربریت کا نشانہ بننے والے طلبہ و طالبات نے آج پریس کانفرنس کرکے اپنی آب بیتی سنائی اور یہ بتایا کہ کس طرح پولیس نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے اور گندی گندی گالیاں دی ہیں۔ متاثرین بہت سے بچے اب بھی استپال میں زیر علاج ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری 24 گھنٹے احتجاج کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ دہلی میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف خاتون مظاہرین کا دائرہ پھیلتا جارہاہے اور دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور اس فہرست میں ہر روز نئی جگہ کا اضافہ ہورہا ہے۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ پولیس کے ساتھ سماج دشمن عناصر نے ان کے ساتھ گالی گلوج کیا اوردل آزار نعرے لگائے۔
شاہین باغ کے بعد خوریجی خواتین مظاہرین کا اہم مقام ہے۔خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین نے رات آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ریلے بھوک ہڑتال شروع کردی ہے جس میں اہم لوگ حمایت کرنے کے لئے آرہے ہیں۔اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ،بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک،بیری والا باغ، نظام الدین،جامع مسجدسمیت ملک تقریباً سیکڑوں مقامات پر مظاہرے ہورہے ہیں۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں اور یہ خواتین کا دھرنا ضلع سطح سے نیچے ہوکر پنچایت سطح تک پہنچ گیا ہے۔اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ وہاں کے منتظم نے بتایا کہ اس سیاہ قانون کے تئیں یہاں کی خواتین کافی بیدار ہیں۔ یہاں پر بھی مختلف شعبہائے سے وابستہ افراد یہاں آرہے ہیں اور قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال،اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔بلیریا گنج (اعظم گڑھ) میں پرامن طریقے سے دھرنا دینے والی 20سے زائد خواتین پر ملک سے غداری سمیت کئی دفعات کے تحت مقدمات درج کئے گئے ہیں اس میں ایک نابالغ بھی شامل ہے۔
اگر اترپردیش میں پولیس کے ذریعہ خواتین مظاہرین کو پریشان کرنے کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آرہی ہے توخواتین کے جوش خروش میں بھی کی کمی نہیں ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا لیکن آج ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں حالانکہ خالی کرانے کی کوشش کی لیکن پھر خواتین وہاں دوبارہ جمع ہوگئیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین رات دن کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیوبند عیدگاہ،سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور ہر روز یہاں ایک نیا شاہین باغ بن رہا ہے ارریہ کے فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور میں بھی احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، شاہین باغ خوریجی ہے۔سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ کے مولوی ٹولہ،سیوان، چھپرہ، بہار شریف، جہاں آباد،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ،دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ ’دہلی،۔آرام پارک خوریجی-حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی،ترکمان گیٹ، دہلی،ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شا،رانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار،سبزی باغ پٹنہ – بہار، ہارون نگر،پٹنہ’۔شانتی باغی گیا بہار،۔مظفرپور بہار،ارریہ سیمانچل بہار،بیگوسرائے بہار،پکڑی برواں نوادہ بہار،مزار چوک،چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار،مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار،مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی بہار،سیتامڑھی بہار، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان بہار،۔گوپال گنج بہار،کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج بہار، نرکٹیاگنج بہار، رکسول بہار، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج بہار، دھولیہ مہاراشٹر،۔ناندیڑ مہاراشٹر، ہنگولی مہاراشٹر،پرمانی مہاراشٹر، آکولہ مہاراشٹر،۔ پوسد مہاراشٹر،۔کونڈوامہاراشٹر،۔پونہ مہاراشٹر۔ستیہ نند ہاسپٹل مہاراشٹر، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ مغربی بنگال، اسلام پور مغربی بنگال، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی،روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان،کوٹہ، اپدے پور،جودھپور،راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش،، جامع مسجد گراونڈ اندور،مانک باغ اندور، اجین،دیواس، کھنڈوہ،مندسور‘ احمد آباد گجرات، بنگلور، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی،، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد،فریدآباد، اس کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی دھرنا جاری ہے۔ اسی کے ساتھ جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
جرم
ممبئی : اندھیری منشیات فروش ایم ڈی کے ساتھ گرفتار

ممبئی : ۷ ستمبر کومنشیات مخالف دستہ، باندرہ یونٹ، پولیس ٹیم کو ملی اطلاع کےمطابق جال بچھا کر مانوس بونا اپارٹمنٹ بس اسٹاپ کے بازو میں، ویسٹ 10 کنٹرکشن کے سامنے، سی ڈی برفی والا روڈ، اندھیری ویسٹ ممبئی اس عوامی جگہ پر میفیڈرون (ایم ڈی) یہ منشیات فروخت کے لیے لے کر جانے والے 01 شخص کوحراست میں لے کر گرفتار کیا گیا ہے۔ محمد ظہیب عبدالعزیز خان، عمر 36 سال، رہنے والا اندھیری مغرب ممبئی ہے۔ مذکورہ ملزم سے 153.6 گرام ایم ڈی یہ منشیات (قیمت 4,60,800/- روپے) ضبط کی گئی ہے۔
مذکورہ کارروائی دیوینط بھارتی، پولیس کمشنر، ممبئی،انیل کنبھارے، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم)، کرشن کانت اپادھیائے، ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم)، پورنیما چوگلے (شرنگی)، پولیس ڈپٹی کمشنر، منشیات مخالف دستہ، کرائم برانچ، ممبئی، اورسدھیر ہیرڈیکر، اسسٹنٹ پولیس کمشنر، منشیات مخالف دستہ، کرائم برانچ، ممبئی کی رہنمائی میں اے این سی ٹیم نے انجام دی ہے۔
جرم
جے پور کے عامر قلعے کے قریب سیاحتی رہنما کو چاقو مارنے کے بعد موت، احتجاجاً بازار بند

ٹورسٹ گائیڈ منیش سونی، جو جے پور میں امر فورٹ کے ماوتھا علاقے کے قریب ایک تنازعہ کے دوران چاقو کے وار کے بعد شدید زخمی ہو گئے تھے، منگل کو سوائی مان سنگھ (ایس ایم ایس) ہسپتال میں علاج کے دوران زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے، جس سے امیر شہر کے کچھ حصوں میں بڑے پیمانے پر احتجاج اور بندش شروع ہو گئی۔ پولیس کے مطابق یہ واقعہ پیر کی صبح 10 بجے کے قریب پیش آیا جب تاریخی امیر قلعہ کے قریب گاڑیوں کی نقل و حرکت پر اختلاف پیدا ہوگیا۔ منیش سونی مبینہ طور پر گاڑیوں کو قلعے کی طرف بڑھنے سے روکنے کی کوشش کر رہے تھے جب ان کی جیپ ڈرائیور سے جھگڑا ہو گیا، جس کی شناخت اعظم کے نام سے ہوئی ہے۔ جھگڑا جلد ہی تشدد کی شکل اختیار کر گیا۔ پولیس نے الزام لگایا کہ تصادم کے دوران اعظم نے اپنے ساتھی نازش کے ساتھ مل کر سونی پر چاقو سے حملہ کیا۔ سونی کے پیٹ میں شدید چوٹ آئی اور وہ موقع پر ہی گر گئے۔ اسے تشویشناک حالت میں ایس ایم ایس ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے بچانے کی کوشش کی۔ تاہم، پولیس نے کہا کہ خون کی زیادتی اور شدید اندرونی چوٹوں کی وجہ سے منگل کو اس کی موت ہوگئی۔
اس موت نے مقامی باشندوں، تاجروں اور ٹورسٹ گائیڈز ایسوسی ایشن کے اراکین میں غصے کو جنم دیا۔ احتجاج کے طور پر، عامر مارکیٹ میں دکانیں بند رہیں، جبکہ مظاہرین نے عامر تھانے کے باہر جمع ہو کر ملزمان کے خلاف سخت کارروائی اور متاثرہ خاندان کو معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا۔ امیر ایس ایچ او راجندر گودارا نے کہا کہ دونوں ملزمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور ان سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ پولیس ٹیمیں حملے میں مبینہ طور پر استعمال ہونے والا چاقو بھی برآمد کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اعظم کے خلاف عامر پولیس اسٹیشن میں اس سے قبل دو مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔ سونی کی موت کے بعد بڑھتے ہوئے تناؤ کے پیش نظر علاقے میں اضافی پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے، اور احتیاطی اقدام کے طور پر ٹریفک کو جل محل کے راستے سے موڑ دیا گیا تھا۔ حکام نے شہریوں سے تفتیش کے دوران امن برقرار رکھنے کی اپیل کی ہے۔
جرم
بنگال کے جلپائی گوڑی میں پارٹی دفتر کو آگ لگانے کے بعد سی پی آئی-ایم نے احتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔

سی پی آئی-ایم نے منگل کو مغربی بنگال کے جلپائی گوڑی ضلع میں اس کے پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ اور آگ لگانے کے بعد احتجاجی مارچ کی کال دی ہے۔ پارٹی نے الزام لگایا کہ سوموار کی رات، بی جے پی سے وابستہ شرپسندوں نے جلپائی گڑی میں ڈی بی سی روڈ پر پارٹی کے ضلعی دفتر پر حملہ کیا اور لاٹھیوں سے احاطے میں توڑ پھوڑ کرنے کے بعد اسے آگ لگا دی۔ تشدد مبینہ طور پر کافی دیر تک جاری رہا، سی پی آئی-ایم نے کہا، اس نے پولیس میں تحریری شکایت درج کرائی۔ سی پی آئی ایم کے ریاستی سکریٹری محمد سلیم نے اس واقعہ پر برہمی کا اظہار کیا۔
اپنے ایکس ہینڈل پر واقعہ کی ایک ویڈیو پوسٹ کرتے ہوئے، انہوں نے لکھا: “جلپائی گوڑی سی پی آئی ایم کے ضلع دفتر پر بی جے پی کے شرپسندوں کا حملہ! انہوں نے رات ساڑھے دس بجے کے قریب چوروں کی طرح حملہ کیا۔” ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ لوگوں کے ایک گروپ نے پارٹی دفتر پر اچانک حملہ کیا اور اسے آگ لگا دی۔ پارٹی دفتر کے اندر موجود افراد نے فوری گیٹ بند کر دیا۔ اس کے بعد شرپسندوں نے گیٹ توڑنے کی کوشش کی اور انہیں دھمکی دینے کی بھی کوشش کی۔سی پی آئی-ایم کے ضلع سکریٹری پیوش مشرا نے منگل کو شرپسندوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا، “آر ایس ایس-بی جے پی کے شرپسندوں نے جلپائی گوڑی ضلع پارٹی کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی، اسے آگ لگا دی، اور یہاں تک کہ پارٹی کے جھنڈے کو بھی جلا دیا۔ شرپسندوں کو فوری طور پر گرفتار کیا جانا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
سی پی آئی ایم لیڈر نے اعلان کیا کہ شام چار بجے تک جلپائی گوڑی ضلع سے ایک احتجاجی مارچ نکالا جائے گا۔ منگل کو واقعے کی مذمت کرتے ہوئے انہوں نے سب سے اپیل کی کہ وہ جلپائی گوڑی کے سبودھ سین بھون ضلع مرکز سے لال جھنڈے کی حفاظت کے لیے احتجاجی مارچ میں شامل ہوں۔اب تک بی جے پی کی طرف سے اس سلسلے میں کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
