Connect with us
Friday,07-August-2026
تازہ خبریں

جرم

مسجدوں میناروں کے شہر مالیگاؤں میں نوزائیدہ بچی کو موت کے منہ میں پھینکنے والی بے رحم ماں کی پولس کررہی ہے تلاش

Published

on

murder

اسپیشل اسٹوری : وفا ناہید
جانے کیسے لوگ ہوتے ہیں جو اپنے جگر گوشے کو پھینک کر چلے جاتے ہیں. ایک ماں جو کہ 9 مہینے تکلیف اٹھا کر اپنے مادر شکم میں ایک زندگی کی تخلیق کرتی ہیں. ہر طرح کا درد برداشت کرکے جب وہ ماں بنتی ہے تو وہ ایک لمحہ اس کی زندگی کا انتہائی انمول لمحہ ہوتا ہے. ماں کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ رب کائنات نے اس ماں کے قدموں میں جنت رکھ دی ہے اور وہ رب 70 ماؤں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے. اب اس کے بعد اگر ماں کا ایک گھناؤنا روپ سامنے آتا ہے تو دل یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ کیا واقعی یہ کوئی ماں ہے یا ڈائن. جس نے اپنی جوانی کے حسین پلوں کو گناہ کے سمندر میں غرق کردیا ہے اور اس گناہ کی نشانی کو وہ اپنے مادر شکم میں پال رہی ہے. کیا اس وقت اس عورت کی ممتا مرجاتی ہے. جب گناہ کرتے وقت اس کے قدم نہیں لڑکھڑائے, جب اپنے والدین کو دھوکہ دیتے وقت اس کے اس کا دل نہیں کانپا, جب اس عیاشی کے دلدل میں لذت گناہ کرتے ہوئے اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ خالق کائنات جو شہ رگ سے قریب ہے وہ 7 پردوں میں سے اسے دیکھ رہا ہے. مسلم اکثریتی شہر مالیگاؤں میں ایسا ہی ایک شرمناک واقعہ پیش آیا. موصولہ تفصیلات کے مطابق مورخہ 16 جون بروز منگل صبح 7 سے ساڑھے 7 بجے کے درمیان نیشنل ہائی وے نمبر 3 سوندگاؤں پھاٹہ مالدہ شیوار کے پاس جعفر سیٹھ کے ملّے کے بازو میں گٹ نمبر 76 پر کھلے میدان میں کسی نامعلوم عورت نے اپنا گناہ چھپانے کے لئے اپنی نوزائیدہ بچی کو خونخوار کتوں اور موذی جانوروں کے درمیان چھوڑ کر راہ فرار اختیار کرلی. روتی ہوئی ننھی معصوم بچی کو راہ چلتے ہوئے ذیشان مستری نے دیکھا تو اسے اٹھا کر اسی محلے کی ایک خاتون خانہ کو سونپ دیا اور اس بات کی اطلاع ذیشان مستری کے دوست اور مالدہ شیوار میں رہنے والے عبدالرحمن انصاری نے گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ مالیگاؤں کے انصاری ضیاء الرحمن مسکان کو دی تب گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کی جانب سے پوارواڑی پولیس اسٹیشن میں انصاری ضیاء الرحمن مسکان نے ایف آئی آر درج کروائی اور بچی کو سول ہسپتال میں ایڈمیٹ کروایا تاکہ قانونی کاروائی میں کسی طرح کی کوئی پیچیدگی نہ آئے اور بچی کا ڈی این اے ٹیسٹ ہوسکے اور دیگر معلومات مل سکے کی بچی کس کی ہے اور کیوں اسے اس طرح بے یار و مددگار مرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا. وہ گنہگار عورت بچی کو اس طرح کتوں کے سامنے موت کے منہ میں ڈال کر سمجھ رہی ہوگی کہ خس کم جہاں پاک مگر اسے شاید معلوم نہیں کہ قانون کے ہاتھ لمبے ہوتے ہیں. اور مجرم گناہ کرتے وقت کچھ نہ کچھ ثبوت چھوڑ دیتا ہے. تب وہ پولس کی دبش سے بچ نہیں پاتا. اس کے علاوہ ایک عدالت اور ہے جہاں نہ ثبوت کی ضرورت ہے اور گواہوں کی. اس ذات کا انصاف تو بہترین انصاف ہے. جو اس نوزائیدہ بچی کو ضرور ملے گا.
بچی کے ساتھ س طرح کی گھناؤنی حرکت کرنے والی ماں کو پولس تلاش کررہی ہے. ابھی فی الحال پوارواڑی پولیس اسٹیشن کے پی آئی گلاب راؤ پاٹل اور پی ایس آئی کالے اس کیس کی تحقیقات کررہے ہیں.
مسلسل دو روز سے گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے فیاض افسر, ضیاء الرحمن وائیرمین اور انصاری ضیاء الرحمن مسکان نے پولیس اسٹیشن میں اور سول ہوسپٹل میں کافی محنت کی ہے ابھی تحقیقات جاری ہے بچی سول ہوسپٹل میں ایڈمیٹ کرانے کے بعد اس کی دیکھ ریکھ کے لیے ایک لیڈیز پولیس کے علاوہ گمشدہ بچوں کی تلاش گروپ کے ضیاء الرحمن وائیرمین اور ان کی اہلیہ بھی خوب محنت کررہی ہے شہر کے مشہور عمرہ ٹور کے مالک شفیق حاجی کا بھی بہت تعاون رہا بچی کا دودھ اور دیگر اخراجات شفیق حاجی اور ضیاء الرحمن مسکان برداشت کررہے ہیں.

بین الاقوامی خبریں

فرانس کے شہر ویلنس میں اندھا دھند فائرنگ، 6 افراد زخمی، حملہ آور کی تلاش جاری ہے۔

Published

on

Firing

پیرس : فرانس کے جنوب مشرقی شہر ویلنس میں منگل کی رات ایک نوجوان کی فائرنگ سے چھ افراد زخمی ہوگئے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ فرانسیسی میڈیا نے بدھ کو بتایا کہ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے دس بجے کے قریب پیش آیا۔ حملہ آور نے اسالٹ رائفل سے لوگوں کے ایک گروپ پر اندھا دھند فائرنگ کی۔ اس کے بعد وہ گاڑی میں موقع سے فرار ہوگیا۔ سنہوا خبر رساں ایجنسی کے مطابق زخمیوں میں پانچ نوجوان اور ایک نوجوان خاتون شامل ہیں، جن کی عمریں 15 سے 22 سال کے درمیان ہیں۔ سبھی کو اسپتال میں داخل کرایا گیا ہے، جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔

حملہ آور فرار ہے۔ اس کی شناخت اور حملے کے پیچھے کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ تفتیش جاری ہے۔ بعد میں جائے وقوعہ سے چند کلومیٹر دور ایک جلی ہوئی گاڑی برآمد ہوئی، جس کے بارے میں خیال ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا تھا۔ اس سے قبل 27 جولائی کو پیرس میں چاقو سے حملے میں تین افراد زخمی ہوئے تھے، ایک مشتبہ شخص کو گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ حملہ پیرس کے شمال مغربی حصے میں ہوا جہاں باورچی خانے کے دو چاقوؤں سے مسلح ایک شخص نے سڑک پر پیدل چلنے والوں پر حملہ کیا۔ زخمیوں کو علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا جن میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے۔ ملزم کو ایک پولیس افسر نے گرفتار کیا جو اس وقت ڈیوٹی سے دور تھا۔ فرانس کے وزیر داخلہ لارینٹ نوز نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شخص نے صرف اپنی شناخت فراہم کی اور وہ “الجھن اور غیر واضح” زبان میں بات کر رہا تھا۔

واقعے کی کئی ویڈیوز سوشل میڈیا پر منظر عام پر آگئیں۔ ایک ویڈیو میں مشتبہ شخص کو روکتے ہوئے مذہبی تبصرے کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ویڈیو میں مشتبہ شخص کو زمین پر لیٹا یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ یہ اللہ کا حکم تھا۔ یہ واقعہ ایک روز قبل جرمنی میں ہونے والے ایک اور حملے کے فوراً بعد پیش آیا۔ دارالحکومت برلن کے ٹائرگارٹن پارک کے قریب ایک وین کو ہجوم پر چڑھا دیا گیا۔ اس کے بعد ڈرائیور نے پیدل چلنے والوں پر ہتھیار سے حملہ کیا، جس سے ایک خاتون ہلاک اور 29 دیگر زخمی ہو گئے۔

Continue Reading

جرم

ممبئی گینسگٹر ذوالفقار سمیت اس کے بھائی اور ۱۲ غنڈوں پر مکوکا کا اطلاق

Published

on

Mcoca-Case

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ نے ہتھیار کی نوک پر ڈرا دھمکا کر ۲۵ لاکھ روپے کا ہفتہ وصول کرنے والی زلفی گینگ پر انسداد منظم جرائم مکوکا کا اطلاق کیا ہے۔ کرائم برانچ نے ذوالفقار بہلیم اور اس کا بھائی محسن بہلیم کو ایک کاروباری سے ۲۵ لاکھ روپے ہفتہ وصولی کرتے ہوئے رنگ ہاتھوں گرفتار کیا تھا۔ ان کے ہمراہ ان کے مزید ۱۰ غنڈوں کو بھی پولس نے گرفتار کیا تھا۔ آج ان ۱۲ ملزمین پر مکوکا کا اطلاق کیا گیا ہے۔ ان ملزمین کی کافی دہشت و دبدبہ تھا, اس کے ساتھ ہی یہ گینگ کاروباری اور تاجروں کو ہراساں بھی کیا کرتے تھے۔ اس کی شکایت بھی عام تھی, جس کے بعد آج ان ملزمین پر منظم جرائم مکوکا کا نفاذ کیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی نوناتھ ڈھولے نے کی ہے۔

Continue Reading

جرم

جھارکھنڈ : پانچ خواتین سمیت آٹھ ماؤنوازوں نے بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی، تشدد ترک کر دیا

Published

on

jharkhand

رانچی : جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤنواز کیڈروں نے تشدد کا راستہ چھوڑ کر بیجاپور پولیس کے سامنے خودسپردگی کر دی ہے۔ ان میں پانچ خواتین بھی شامل ہیں۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں کے لیے 49 لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا گیا تھا۔ چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے، بحالی کی پالیسی، اور بحالی کے پروگراموں سے متاثر ہو کر، اور بیجاپور ضلع میں بحالی اور ہنرمندی کے فروغ کے پروگراموں سے متعلق خبروں سے متاثر ہو کر، جھارکھنڈ میں سرگرم آٹھ ماؤ نواز کیڈروں نے سی آر پی ایف اور جھار خان پولیس کی مدد سے بیجاپور پولیس کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام ماؤنواز طویل عرصے سے ممنوعہ سی پی آئی (ماؤسٹ) تنظیم سے وابستہ تھے اور جھارکھنڈ کے مختلف علاقوں میں سرگرم تھے۔ سیکورٹی فورسز کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ، تنظیم کی مسلسل کمزور ہوتی ہوئی پوزیشن، اس کے پرتشدد اور عوام مخالف نظریے سے مایوسی، سابق ماؤ نواز کیڈرز کی کامیاب بحالی، اور قبائلی علاقوں میں تیزی سے ہونے والے ترقیاتی کاموں سے متاثر ہو کر، انہوں نے تشدد کو ترک کرنے اور معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔ ہتھیار ڈالنے والے ماؤنوازوں میں 30 سالہ اشون عرف لچھو، رنگا عرف سوہن اور دوبا مادوی عرف راحت شامل ہیں۔ جن میں سے سبھی پر 8 لاکھ روپے کا انعام تھا۔ 28 سالہ فگنی پویام عرف رجنی، 25 سالہ سورج مُنی چمپیا عرف سبانی، 27 سالہ ہدمے کدتی عرف ریٹا، 25 سالہ بدھاری کنجم عرف انوشا اور 20 سالہ سلمی چمپیا عرف جیلانی ہر ایک کے ساتھ 5-5 لاکھ روپے لے گئے۔

ہتھیار ڈالنے والے تمام کیڈروں کو چھتیس گڑھ حکومت کی نکسل ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت مالی مدد، ہنرمندی کی ترقی کی تربیت، رہائش، تعلیم، خود روزگار، اور روزگار سے متعلق سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ حکومت کی نکسلی ہتھیار ڈالنے اور بازآبادکاری کی پالیسی کے تحت ہتھیار ڈالنے والے کیڈر کو مالی مدد، ہنر مندی کی تربیت، رہائش، تعلیم اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ مزید برآں، ضلعی انتظامیہ اور پولیس معاشرے میں ان کی باوقار بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مسلسل رہنمائی اور مدد فراہم کر رہی ہے، جس سے وہ مستقل طور پر مرکزی دھارے کی زندگی میں ضم ہو سکیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان