Connect with us
Thursday,01-October-2026

سیاست

مفتی اسماعیل میں ہمت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر روک کر بتائیں، آگرہ روڈ سمیت شہر بھر کے راستوں کی تعمیر ہم ہی کررہے ہیں : شیخ رشید

Published

on

(نامہ نگار )
آگرہ روڈ کی تعمیر کو لیکر پھر ایک مرتبہ سیاست تیز ہو گئی ہے موجودہ ایم ایل اے مفتی اسماعیل کے بے تکا بیان کے آگرہ روڈ کی تعمیر منترالیہ سے رکواونگا اس پر کانگریس کے صدر شیخ رشید کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر مفتی اسماعیل میں دم ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر پر روک لگا کر بتائیں، شیخ رشید نے کہا کہ ان میں اتنی ہی صلاحیت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر کیوں نہیں کروا سکے؟ ایک سال ہو جانے کے بعد بھی آگرہ روڈ کی تعمیر کے لئے ایک روپیہ بھی سرکار سے منظور نہیں کروا سکے اور جب مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے فنڈ سے ہم نے آگرہ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تو اس پر روک لگانے کی غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں۔ ہزار کھولی کانگریس رابطہ آفس پر شیخ رشید نے اردو صحافیوں کی پریس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اسماعیل ہر محاذ پر ناکارہ ثابت ہوئے اور وہ ناکارہ ہی رہینگے۔ انھیں ایم ایل اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے کاموں کو انجام دینے کی کوشش کرنا چایئے۔ شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے مفتی اسماعیل کی کارکردگی کا انتظار کیا کہ وہ آگرہ روڈ بنائیں گے لیکن انہوں نےوقت گزار دیا اور روڈ نہیں بنایا پھر ہم نے اقلیتی وزیر نواب ملک سے ملاقات کر فنڈ کا مطالبہ کیا تب وزیر موصوف نے کورونا بحران سے بگڑی ریاست کی مالی حالت کا عذر پیش کرتے ہوئے فنڈ دینے سے انکار کردیا۔ اسکے بعد ہم نے ڈائریکٹ وزیر مالیات اجیت دادا پوار سے ملاقات کی تب اجیت دادا پوار نے بھی فنڈ نہ ہونے کی بات کہی ۔ تب ہم نے محسوس کیا کے ریاستی سرکار میونسپل کارپوریشنوں کو فنڈ دینے کی استطاعت میں نہیں ہے اسلئے ہم نے غور خوض کرتے ہوئے فیصلہ لیا کے اب جو بھی کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے اسلئے ہم نے میونسپل کارپوریشن کے جنرل فنڈ سے آگرہ روڈ کی تعمیر کرنے کی تجویز مہا سبھا میں منظور کی ۔شیخ رشید نے کہا کہ مفتی اسماعیل تعمیری کام کا سبق ہمیں نا سکھائے اس شہر میں جو بھی کام ہوا ہے وہ کانگریس نے ہی کیا ہے اور آج بھی کانگریس پارٹی شہر میں تعمیری کام انجام دے رہی ہے ۔ آگرہ روڈ سمیت شہر بھر کی خستہ حال سڑکوں کے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ پورے شہر پر ہماری نظر ہے اور ہم بلا کسی تفریق اور بھید بھاؤ کے ہر عوامی نمائندوں کے وارڈ میں تعمیری کام کررہے ہیں انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عبدالله نگر بلیو برڈ روڈ ہم نے بنائی ، امانت اللہ پیر محمّد کے وارڈ میں ہم نے تین روڈ بنائی ، ملّت مدرسہ سے نورنگ کالونی تک جانے والی روڈ ہم نے بنائی ، مدنی نگر پاور ہاؤس سے ویرپّن کی ہوٹل تک شیو روڈ اور جلانی چوک سے ڈپو تک جانے والی روڈ کے ساتھ ساتھ موہن بابا نگر آئی مری مندر والی روڈ اور اسی طرح امام احمد رضا روڈ سے امبیڈکر پتلے تک روڈ کی تعمیر بھی ہم ہی کررہے ہیں اسکے علاوہ وارڈ نمبر 3 میں بھی ڈیڑھ کروڑ کے تعمیری کام ہم ہی کررہے ہیں غرض کہ ہم شہر بھر میں تعمیری کام کررہے ہیں اور کرتے رہینگے ، شیخ رشید نے کہا کہ شہر کا ایم ایل اے ناکارہ تھا ناکارہ ہے اور ناکارہ ہی رہے گا ، انہوں نے ایم ایل اے پر طنز کرتے ہوئے کہا کے انھیں سچ بولنا نہیں آتا ، وعدہ خلافی اور جھوٹ بولنے میں اتنے ماہر ہو گئے ہیں کے انھیں اپنے عہدے اور منصب کا بھی کوئی خیال نہیں۔ مفتی اسماعیل جھوٹ بول کر شہر کے علماء اور حفاظ کو بدنام کررہے ہیں ۔ شہر میں آج بھی متقی اور پرہیز گار علماء و حفاظ موجود ہیں جنکی ہم عزت کرتے ہیں اور کرتے رہینگے ، شیخ رشید نے کہا کے مفتی اسماعیل نے اپنے کارپوریٹروں سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے نام پر لاکھوں روپے کی رقم اینٹ لی ، اسی طرح مفتی موصوف نے ایم ایل سی الیکشن میں بھی پیسے لئے ، شیخ رشید نے کہا کے جب میں نواب ملک سے ملا تب انہوں نے کہا تھا کے تمہارے شہر کا ایم ایل اے کیسا ملّا ہے جو حجرے میں بھی پیسے لیتا ہے ، شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ مفتی اسماعیل میں ہمّت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر روک کر بتائیں ۔موصوف نے کہا کہ اب بہت ہو چکا اب حقیقت میں ہمیں بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے شہر کی اہم شاہراہ اتنی خستہ حال ہے ، اسی لئے ہم نے آگرہ روڈ کی تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ اب اگر مفتی اسماعیل بے غیرت اور بے شرم ہے تو وہ اسی طرح اپنا ٹائم پاس کرتے رہیں ۔ وہ ایوان اسمبلی سے غیر حاضر رہتے ، سرکار سے فنڈ نہیں لا سکتے ۔ شیخ رشید نے کہا کہ دھولیہ کے ایم ایل اے فاروق شاہ نے 2 کروڑ روپے کے تعمیری کام کئے اور مفتی اسماعیل کے تعمیری کام کہا ہے یہ انھیں بتانا چاہیئے یا پھر انہوں نے اپنا فنڈ فروخت کردیا؟ شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنتا دل سے ہماری قربت نہیں بڑھ رہی ہے یہ عوامی نمائندوں کا حق ہے کہ وہ مئیر آفس میں آئیں اور جمہوری طرز پر اپنا کام کروائیں ۔ متحدہ محاذ کے کارپوریٹر خود انکے قائد و سالار سے ناراض ہیں ۔ اگر متحدہ محاذ میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو یہ انکے کرتوت کی وجہ سے ہوگی اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔

بین الاقوامی خبریں

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خطرے کے درمیان ہندوستان کو یورپ سے جوڑنے والی راہداری کی کھلی حمایت کرتے ہوئے اسے ایک اہم منصوبہ قرار دیا۔

Published

on

Trump-&-Modi

ابوظہبی/ریاض/واشنگٹن : انڈیا-مڈل ایسٹ-یورپ کوریڈور (آئی ایم ای سی) کے منصوبے کا اعلان ستمبر 2023 میں بھارت میں منعقدہ جی-20 سربراہی اجلاس کے دوران کیا گیا تھا۔ یہ راہداری، مشرق وسطیٰ کے راستے بھارت کو یورپ سے جوڑنے والی، چین کے پرجوش بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (بی) کے متبادل کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ لیکن یہ منصوبہ اسرائیل کی غزہ میں فوجی مہم شروع ہونے کے بعد واپس چلا گیا۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت کے بعد اس تین سال پرانے منصوبے نے ایک بار پھر توجہ مبذول کر لی ہے۔ ٹرمپ نے اس راہداری کی حمایت ایسے وقت میں کی ہے جب امریکہ ایران کے ساتھ تنازع میں ہے۔ ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری راستے کو مؤثر طریقے سے بند کر دیا ہے۔ ایرانی فوج اور آئی آر جی سی ان تنگ چوکیوں سے گزرنے والے بحری جہازوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو خطرناک سمندری راستوں سے دور کر کے آئی ایم ای سی کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کیا۔

ٹرمپ نے 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران خلیجی ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ ایک الگ ملاقات کی تھی۔ اس دوران انہوں نے کہا کہ “پڑوسی ممالک میں تجارتی جہاز رانی پر ایران کے دہشت گردانہ حملوں نے مشرق وسطی کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو ایرانی چوکیوں سے دور کرنے کی اہمیت کو ظاہر کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری انتظامیہ ہندوستان-مشرق وسطی-یورپ اقتصادی راہداری اور تیل کی دیگر اقتصادی راہداریوں کی حمایت کرتی ہے۔” امریکی صدر کے بیان کے بعد آئی ایم ای سی کے حوالے سے ایک بار پھر بحث شروع ہوگئی ہے۔ لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اس علاقائی تنازع نے آئی ایم ای سی کی کمزوری کو بھی عیاں کردیا ہے۔ یورپی کونسل آن فارن ریلیشنز کے پالیسی فیلو البرٹو رِزی پوچھتے ہیں: “ایک تجارتی راہداری کتنی مضبوط ہو سکتی ہے اگر اس کے کلیدی گیٹ ویز انہی چوکیوں پر منحصر ہوں جن سے بچنے کے لیے اسے ڈیزائن کیا گیا تھا؟” ریجی نے کہا کہ ایران جنگ کے دوران ہرمز کی بندش کی وجہ سے اس منصوبے کا دائرہ کار پہلے ہی تبدیل ہو رہا تھا۔

رِزی کا کہنا ہے کہ بحران نے آئی ایم ای سی کو ایک ایسے نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی ضرورت کو تقویت بخشی ہے جس میں بیک اپ یا متبادل راستے ہوں۔ انہوں نے ایس سی ایم پی کو بتایا کہ ایک ہی راستہ آسانی سے بند ہو سکتا ہے، جبکہ راستوں کا نیٹ ورک رکاوٹوں کو بہتر طریقے سے سنبھال سکتا ہے۔ یہ کمزوری آئی ایم ای سی کے مشرقی سمندری حصے میں سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔ یہ پٹی ہندوستانی بندرگاہوں کو متحدہ عرب امارات کی بندرگاہوں جبل علی اور خلیفہ سے جوڑتی ہے۔ اس کے بعد یہ کارگو زمینی راستے سے متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور اردن کے راستے اسرائیل اور پھر سمندری راستے سے یورپ پہنچتا ہے۔

کچھ ماہرین آئی ایم ای سی کے جغرافیائی دائرہ کار کو متنوع بنانے پر زور دیتے ہیں۔ اٹلانٹک کونسل میں پروجیکٹ فار مڈل ایسٹ انٹیگریشن کے ساتھی آفاق حسین کہتے ہیں کہ یہ صرف ایک لائن کی راہداری نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسے راہداریوں کے نیٹ ورک میں تبدیل کرنے سے یہ زیادہ محفوظ ہوگا اور رسک بھی تقسیم ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں عمان کی سلالہ جیسی بندرگاہیں شامل ہو سکتی ہیں۔ اس کے ساتھ مصر یا شام سے گزرنے والے راستے اردن کے راستے بنائے جاسکتے ہیں۔ کچھ ماہرین متبادل گیٹ ویز پر اصرار کرتے ہیں۔ اس کے لیے متحدہ عرب امارات کے مشرقی ساحل پر واقع فجیرہ ایک آپشن ہو سکتا ہے۔ فجیرہ پہنچنے والا کارگو متحدہ عرب امارات کے قومی ریل نیٹ ورک کے ذریعے ملک کے اندرونی علاقوں تک جا سکتا ہے۔ تاہم، اس کی حدود ہیں۔ صرف گیٹ وے کو تبدیل کرنے سے جنگ کے جغرافیائی چیلنجز حل نہیں ہو سکتے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک ہی راستے پر چلنا ضروری نہیں ہے۔ سامان کی نقل و حمل مختلف راستے اختیار کر سکتی ہے، جبکہ توانائی کی پائپ لائنیں، پاور گرڈز اور ڈیجیٹل کیبلز دوسرے راستے لے سکتے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پولس کی آپریشن شودھ مہم

Published

on

Police

ممبئی شہر میں ریکارڈ پر موجود اغواء/اختطاف شدہ 18 سال سے کم عمر کے لڑکے اور لڑکی (بچے) اور گمشدہ 18 سال سے اوپر کے مرد/خاتون کے بارے میں خصوصی تلاش مہم کرنے کے لیے تاریخ ۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر ۲۰۲۶ اس مدت میں ممبئی شہر میں “آپریشن شودھ 5” اس تلاش مہم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مذکورہ مدت میں ممبئی شہر سے 18 سال سے کم عمر کے گمشدہ زیادہ سے زیادہ لڑکے اور لڑکیاں اور 18 سال سے اوپر کی گمشدہ خاتون/مرد ملنے کے لیے پولیس تھانہ سطح پر زیادہ سے زیادہ کوشش کی جائے گی۔ مذکورہ مہم کامیاب ہونے کے لیے ممبئی کے شہریوں نے پولیس اور گمشدہ/اختطاف/اغواء کے سلسلے میں کام کرنے والی مختلف غیر سرکاری تنظیموں کو مدد کرنے سے زیادہ سے زیادہ گمشدہ/اختطاف شدہ بچوں، خواتین/مردوں کی تلاش لینے میں مدد ہوگی۔ اس لیے ممبئی کے تمام شہریوں سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ اپنے آس پاس میں مشکوک چھوٹے لڑکے/لڑکیاں گمشدہ خواتین/مرد ملنے پر اگر ان کے بارے میں کچھ معلومات کی حصولیابی پر نیچے دی گئی معلومات متعلقہ محکموں کو دے کر مذکورہ اقدام کو اچھے طریقے سے نافذ کرنے کے لیے ممبئی پولیس کی مدد کریں۔ کسی بھی مشکوک چھوٹے لڑکے اور لڑکی یا گمشدہ خاتون/مرد ملنے پر ان سے پوچھ گچھ کریں اور کچھ مشکوک لگنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں اور مذکورہ گمشدہ شخص/بچوں کو فوری قریبی پولیس تھانے لے جائیں۔

۲۹ ستمبر سے ۱۶ اکتوبر اس مدت میں ریلوے اسٹیشن، بس اسٹینڈ، راستے پر بھیک مانگنے والے یا کچرا جمع کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، مذہبی مقامات، ہسپتال، ہوٹل، دکانیں وغیرہ جگہوں پر کام کرنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔علاقے میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں کام کر رہے ہیں ایسا ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔> ریلوے اسٹیشن کے باہر کا علاقہ/بس اسٹینڈ کے باہر کا علاقہ اس جگہ پر بے وارث حالت میں چھوٹے لڑکے/لڑکیاں یا خاتون/مرد ملنے پر فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔اپنے رہائشی علاقے میں رشتہ داروں کے پاس رہنے والے چھوٹے لڑکے/لڑکیاں، خاتون/مرد کے بارے میں کچھ شک ہونے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔کوئی بھی کم عمر لڑکا یا لڑکی مشکوک لگنے پر اس بارے میں https://missionvatsalya.wcd.gov.in اس ویب سائٹ پر جا کر کھویا۔پایا اس پورٹل پر لڑکے اور لڑکی کا فوٹو اپ لوڈ کریں۔اپنے آس پاس کے علاقے میں کوئی چھوٹے لڑکے گھر کا کام کرتے ہوئے ملنے پر اس بارے میں فوری پولیس کنٹرول روم کو 100 یا 1098 اس نمبر پر اطلاع دیں یا قریبی پولیس تھانے سے رابطہ کریں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ہائی جیک الرٹ (ایل ڈی) کے بعد اسرائیل فلائی دبئی کاک پٹ واقعہ کی تحقیقات کر رہا ہے

Published

on

یروشلم : اسرائیلی سیکیورٹی ایجنسیاں دبئی سے تل ابیب جانے والی فلائی دبئی کی پرواز میں سوار ایک واقعے کی تحقیقات کر رہی تھیں جب طیارے نے ہنگامی سگنل منتقل کیا اور بدھ کے روز سعودی عرب کی طرف رخ کرنے سے پہلے تیزی سے نیچے اترا۔ ہوائی جہاز کو گرانے کی کوشش کی ہو گی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایک پائلٹ زخمی ہوا ہے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ایک ویڈیو میں، ایک اسرائیلی مسافر جس کے چہرے پر خون تھا، نے کہا، “ہم طیارے پر حملے کی زد میں ہیں، ہم نے دہشت گردوں پر قابو پالیا ہے، ہم لینڈ کرنے والے ہیں۔” قبل ازیں، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ترجمان نے کہا تھا کہ یہ خیال نہیں کیا جا رہا تھا کہ یہ ہائی جیکنگ تھا۔ ایک اسرائیلی اہلکار نے بتایا کہ پائلٹوں کے جسمانی جھگڑے کے بعد ایمرجنسی سگنلز منتقل ہوئے۔

فلائی دبئی کے ترجمان نے تصدیق کی کہ دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ سے بین گوریون انٹرنیشنل ایئرپورٹ جانے والی پرواز ایف زیڈ 1073 کو راستے میں “ایک واقعے کا سامنا کرنا پڑا”۔ طیارہ بعد میں سعودی عرب کے تبوک ہوائی اڈے پر اترا اور تمام مسافر “محفوظ اور حساب کتاب” ہیں، ترجمان کے مطابق، ژنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔ دریں اثنا، اسرائیل ایئرپورٹ اتھارٹی کے ترجمان کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے فلائی دبئی میں مسافروں کے اہل خانہ کے لیے انتظار اور معلومات کا ایک وقفہ علاقہ کھول دیا ہے، جس میں ایم آئی کی براہ راست وزیر ٹرانسپورٹ کی پرواز ہے۔ ریجیو۔”یہ علاقہ ٹرمینل 1 میں واقع ہے، بین گوریون ہوائی اڈے کے گھریلو آمد کے ہال میں۔ بین گوریون ہوائی اڈے پر آنے کے خواہشمند خاندان کے افراد کو ٹرمینل 1 کے نامزد علاقے میں جانے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے، جہاں وہ انتظار کر سکیں گے اور معلومات اور اپ ڈیٹس حاصل کر سکیں گے۔ فلائٹ میں مسافروں کے رشتہ داروں کو علاقے میں آنے سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ خاندانوں کی منظم اور مناسب مدد کی جا سکے۔‘‘ اس نے مزید کہا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان