Connect with us
Monday,10-August-2026

سیاست

مفتی اسماعیل میں ہمت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر روک کر بتائیں، آگرہ روڈ سمیت شہر بھر کے راستوں کی تعمیر ہم ہی کررہے ہیں : شیخ رشید

Published

on

(نامہ نگار )
آگرہ روڈ کی تعمیر کو لیکر پھر ایک مرتبہ سیاست تیز ہو گئی ہے موجودہ ایم ایل اے مفتی اسماعیل کے بے تکا بیان کے آگرہ روڈ کی تعمیر منترالیہ سے رکواونگا اس پر کانگریس کے صدر شیخ رشید کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر مفتی اسماعیل میں دم ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر پر روک لگا کر بتائیں، شیخ رشید نے کہا کہ ان میں اتنی ہی صلاحیت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر کیوں نہیں کروا سکے؟ ایک سال ہو جانے کے بعد بھی آگرہ روڈ کی تعمیر کے لئے ایک روپیہ بھی سرکار سے منظور نہیں کروا سکے اور جب مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے فنڈ سے ہم نے آگرہ روڈ کی تعمیر کا منصوبہ بنایا تو اس پر روک لگانے کی غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں۔ ہزار کھولی کانگریس رابطہ آفس پر شیخ رشید نے اردو صحافیوں کی پریس میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مفتی اسماعیل ہر محاذ پر ناکارہ ثابت ہوئے اور وہ ناکارہ ہی رہینگے۔ انھیں ایم ایل اے کے دائرہ اختیار میں آنے والے کاموں کو انجام دینے کی کوشش کرنا چایئے۔ شیخ رشید نے کہا کہ ہم نے مفتی اسماعیل کی کارکردگی کا انتظار کیا کہ وہ آگرہ روڈ بنائیں گے لیکن انہوں نےوقت گزار دیا اور روڈ نہیں بنایا پھر ہم نے اقلیتی وزیر نواب ملک سے ملاقات کر فنڈ کا مطالبہ کیا تب وزیر موصوف نے کورونا بحران سے بگڑی ریاست کی مالی حالت کا عذر پیش کرتے ہوئے فنڈ دینے سے انکار کردیا۔ اسکے بعد ہم نے ڈائریکٹ وزیر مالیات اجیت دادا پوار سے ملاقات کی تب اجیت دادا پوار نے بھی فنڈ نہ ہونے کی بات کہی ۔ تب ہم نے محسوس کیا کے ریاستی سرکار میونسپل کارپوریشنوں کو فنڈ دینے کی استطاعت میں نہیں ہے اسلئے ہم نے غور خوض کرتے ہوئے فیصلہ لیا کے اب جو بھی کرنا ہے ہمیں ہی کرنا ہے اسلئے ہم نے میونسپل کارپوریشن کے جنرل فنڈ سے آگرہ روڈ کی تعمیر کرنے کی تجویز مہا سبھا میں منظور کی ۔شیخ رشید نے کہا کہ مفتی اسماعیل تعمیری کام کا سبق ہمیں نا سکھائے اس شہر میں جو بھی کام ہوا ہے وہ کانگریس نے ہی کیا ہے اور آج بھی کانگریس پارٹی شہر میں تعمیری کام انجام دے رہی ہے ۔ آگرہ روڈ سمیت شہر بھر کی خستہ حال سڑکوں کے متعلق شیخ رشید نے کہا کہ پورے شہر پر ہماری نظر ہے اور ہم بلا کسی تفریق اور بھید بھاؤ کے ہر عوامی نمائندوں کے وارڈ میں تعمیری کام کررہے ہیں انہوں نے حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عبدالله نگر بلیو برڈ روڈ ہم نے بنائی ، امانت اللہ پیر محمّد کے وارڈ میں ہم نے تین روڈ بنائی ، ملّت مدرسہ سے نورنگ کالونی تک جانے والی روڈ ہم نے بنائی ، مدنی نگر پاور ہاؤس سے ویرپّن کی ہوٹل تک شیو روڈ اور جلانی چوک سے ڈپو تک جانے والی روڈ کے ساتھ ساتھ موہن بابا نگر آئی مری مندر والی روڈ اور اسی طرح امام احمد رضا روڈ سے امبیڈکر پتلے تک روڈ کی تعمیر بھی ہم ہی کررہے ہیں اسکے علاوہ وارڈ نمبر 3 میں بھی ڈیڑھ کروڑ کے تعمیری کام ہم ہی کررہے ہیں غرض کہ ہم شہر بھر میں تعمیری کام کررہے ہیں اور کرتے رہینگے ، شیخ رشید نے کہا کہ شہر کا ایم ایل اے ناکارہ تھا ناکارہ ہے اور ناکارہ ہی رہے گا ، انہوں نے ایم ایل اے پر طنز کرتے ہوئے کہا کے انھیں سچ بولنا نہیں آتا ، وعدہ خلافی اور جھوٹ بولنے میں اتنے ماہر ہو گئے ہیں کے انھیں اپنے عہدے اور منصب کا بھی کوئی خیال نہیں۔ مفتی اسماعیل جھوٹ بول کر شہر کے علماء اور حفاظ کو بدنام کررہے ہیں ۔ شہر میں آج بھی متقی اور پرہیز گار علماء و حفاظ موجود ہیں جنکی ہم عزت کرتے ہیں اور کرتے رہینگے ، شیخ رشید نے کہا کے مفتی اسماعیل نے اپنے کارپوریٹروں سے اسٹینڈنگ کمیٹی کے نام پر لاکھوں روپے کی رقم اینٹ لی ، اسی طرح مفتی موصوف نے ایم ایل سی الیکشن میں بھی پیسے لئے ، شیخ رشید نے کہا کے جب میں نواب ملک سے ملا تب انہوں نے کہا تھا کے تمہارے شہر کا ایم ایل اے کیسا ملّا ہے جو حجرے میں بھی پیسے لیتا ہے ، شیخ رشید نے یہ بھی کہا کہ مفتی اسماعیل میں ہمّت ہے تو وہ آگرہ روڈ کی تعمیر روک کر بتائیں ۔موصوف نے کہا کہ اب بہت ہو چکا اب حقیقت میں ہمیں بھی شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہمارے شہر کی اہم شاہراہ اتنی خستہ حال ہے ، اسی لئے ہم نے آگرہ روڈ کی تعمیر کرنے کا فیصلہ لیا ہے ۔ اب اگر مفتی اسماعیل بے غیرت اور بے شرم ہے تو وہ اسی طرح اپنا ٹائم پاس کرتے رہیں ۔ وہ ایوان اسمبلی سے غیر حاضر رہتے ، سرکار سے فنڈ نہیں لا سکتے ۔ شیخ رشید نے کہا کہ دھولیہ کے ایم ایل اے فاروق شاہ نے 2 کروڑ روپے کے تعمیری کام کئے اور مفتی اسماعیل کے تعمیری کام کہا ہے یہ انھیں بتانا چاہیئے یا پھر انہوں نے اپنا فنڈ فروخت کردیا؟ شیخ رشید نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنتا دل سے ہماری قربت نہیں بڑھ رہی ہے یہ عوامی نمائندوں کا حق ہے کہ وہ مئیر آفس میں آئیں اور جمہوری طرز پر اپنا کام کروائیں ۔ متحدہ محاذ کے کارپوریٹر خود انکے قائد و سالار سے ناراض ہیں ۔ اگر متحدہ محاذ میں کوئی ٹوٹ پھوٹ ہوتی ہے تو یہ انکے کرتوت کی وجہ سے ہوگی اس میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوگا ۔

سیاست

مہاراشٹر کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی نے ابان کی موت پر سوال اٹھاتے ہوئے یوگی حکومت پر شک ظاہر کیا ہے۔

Published

on

ممبئی : سماج وادی پارٹی کے رہنما اور مہاراشٹر میں ایم ایل اے ابو اعظمی نے عتیق احمد مرحوم کے بیٹے ابان کی موت پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ واقعہ کے اردگرد کے حالات یہ یقین نہیں دلاتے کہ مکمل انصاف مل رہا ہے۔ اس واقعے کے بارے میں ابو اعظمی نے کہا کہ بہت سے واضح سوالات جنم لیتے ہیں اور اب تک جو واقعات سامنے آئے ہیں ان سے شکوک پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کو مداخلت اور امتیاز کے بغیر اپنا راستہ اختیار کرنے دیا جائے۔ ان کے بقول منصفانہ اور شفاف تحقیقات سے ہی حقیقت سامنے آسکتی ہے اور عوام کا اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ ابو اعظمی نے کہا کہ اس کیس کی تحقیقات ہونی چاہیے، لیکن کیا وہ لوگ جو دن دیہاڑے اور پولیس کی حراست میں گولیاں مارتے ہیں، کیا واقعی اس کیس کی تفتیش کریں گے؟ انصاف کی کوئی امید نہیں۔ واحد سہارا عدالت ہے لیکن وہاں بھی تسلی نہیں ہوتی۔ میں زیادہ بول کر توہین نہیں کرنا چاہتا۔

ایس پی لیڈر نے کہا کہ اگر کسی کے خلاف کیس ہے تو گرفتار کریں۔ بہت سے لوگ پکڑے گئے اور سزائیں دی گئیں۔ حکومت طاقتور ہونے کا ڈرامہ کرتی ہے اور کسی کی غنڈہ گردی برداشت نہیں کرے گی۔ عتیق احمد اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ جو کچھ ہوا اس نے شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے۔ ابو اعظمی نے کہا کہ عتیق احمد جیل میں بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے بھائی کی عیادت کے لیے جا رہے تھے کہ حادثے میں ان کی موت ہو گئی۔ ایسے میں حکومت شکوک و شبہات کی زد میں ہے اور کسی غیر جانبدار ادارے سے تحقیقات کرائی جائیں، تاکہ عوام مطمئن ہوسکیں۔

جب ان سے خاندان کے دیگر افراد کی حفاظت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت حتمی طور پر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ صرف وقت ہی بتائے گا کہ آیا وہ کسی خطرے میں ہیں، حالانکہ کسی کو نہیں ہونا چاہیے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ اس واقعے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ جب کوئی پولیس حراست میں مر جاتا ہے تو اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے۔ حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے لیڈر نے الزام لگایا کہ انتظامیہ یہ پیغام دینا چاہتی ہے کہ اس کے پاس اقتدار ہے اور وہ کسی قسم کی دھونس یا دھمکی کو برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جہاں کچھ رپورٹس میں اس واقعہ کو سڑک حادثہ قرار دیا گیا ہے، وہیں تمام حقائق سے پردہ اٹھانے کے لیے ایک سرکردہ تحقیقاتی ایجنسی سے مکمل تحقیقات کی جانی چاہیے۔

ابو اعظمی نے کہا کہ امن و امان کے نظام پر عوام کا اعتماد برقرار رکھنا بہت ضروری ہے۔ ان کے مطابق، ایک معتبر اور آزاد مرکزی تفتیشی ایجنسی کی تحقیقات سے تمام شکوک و شبہات دور ہو جائیں گے، احتساب قائم ہو جائے گا، اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ کوئی بھی قانون سے بالاتر نہ ہو۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اس معاملے کی سچائی تب ہی سامنے آسکتی ہے جب تحقیقات کسی سیاسی یا انتظامی اثر و رسوخ سے آزاد ہو کر کی جائیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : پولیس کی کارروائی کے دوران سانتا کروز نقب زنی کا معمہ حل، چوری کی رقومات بینک میں جمع کرنے والے کا بھی خلاصہ، ایک گرفتار

Published

on

Arrest...8

ممبئی : سانتا کروز علاقہ میں نقب زنی کے معمہ کو حل کر کے پولیس نے 76.36 لاکھ روپے کی نقدی سمیت دیگر زیورات ضبط کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق سانتا کروز علاقہ میں 20 جون سے 27 جون کے درمیان جوہو تارہ روڈ پر واقع ایک گھر کی کھڑکی توڑ کر نامعلوم چوری نے نقب زنی کے غرض سے داخلہ لیا اور یہاں الماری میں موجود زیورات نقدی اور سونے کے بسکٹ لے کر فرار ہوگیا, اس معاملہ میں پولیس نے ٹیکنیکل تفتیش کے دوران ملزم چندن کملیش مکھیا 26 سالہ دربھنگہ ساکن کو گرفتار کیا کرلیا اس کا ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کر کے اسے مبئی میں حاضر کیا گیا اس معاملہ میں مزید مفرور ملزم کی تلاش جاری ہے۔ تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ مفرور ملزم کی مدد سے چور نے اپنے شناسا کیلاش شاہ کو رقم اور چوری کا مال سے زمین خریدنے کو کہا تھا اس لئے کیلاش شاہ نے نقدی رقم جمع کی اور اسے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کر دیا۔ پولیس کو تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ کیلاش شاہ نے چوری کی رقم 46.31 لاکھ روپے جمع کی ہے اس لئے اسے نوٹس دیا ہے۔ پولیس نے 200 گرام سونے کے زیورات رولیکس کمپنی کی گھڑیاں بھی برآمد کرلی ہے۔ یہ کاروائی ممبئی کے ایڈیشنل کمشنر ابھینو دیشمکھ ڈی سی پی موہیت کمار گرگ کی رہنمائی میں انجام دی گئی, جبکہ سانتا کروز کے سنیئر پولیس انسپکٹر دتاترے مسویکر نے اس چوری کے معمہ کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گوونڈی شیواجی نگر میں بس شیلٹرز کی فوری تنصیب کا مطالبہ، ابو عاصم اعظمی کا بیسٹ انتظامیہ کو میمورنڈم، مسافروں کے تحفظ پر تشویش

Published

on

Bus-Depo-Abuasim

ممبئی : شیواجی نگر اور گوونڈی (ایم ۔ایسٹ وارڈ) علاقوں کے رہائشیوں کو اہم بس اسٹاپس پر بس شیلٹرز اور بیٹھنے کے انتظامات کی کمی کی وجہ سے گرمیوں، مانسون اور خراب موسم میں خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس پس منظر میں، سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے بیسٹ کمیٹی کی چیئرپرسن ترشنا وشواسراؤ کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے، جس میں ان مقامات پر مضبوط بس شیلٹرز اور بیٹھنے کی سہولیات کی فوری تنصیب کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ شیواجی نگر ڈپو ممبئی کے سب سے بڑے ڈپو میں سے ایک ہے، جو روزانہ مسافروں کی ایک بڑی تعداد کی خدمت کرتا ہے۔ اس علاقے میں تقریباً 132 بیسٹ بسیں چلتی ہیں، اور ہزاروں اسکول اور کالج کے طلباء، خواتین، بزرگ شہری، حاملہ خواتین، معذور افراد اور کارکنان بیسٹ سروسز پر انحصار کرتے ہیں۔

اپنے میمورنڈم میں اعظمی نے کہا کہ علاقے کے چھ بڑے بس اسٹاپس میں سے کئی پر مسافروں کی ضروری سہولیات غائب ہیں۔ خاص طور پر، ان میں شیواجی نگر ڈپو جنکشن، کونکن بینک اور سائی مندر، جعفری اسکول، 10 فٹ روڈ نمبر 2، سنت نیرنکاری نگر، اور نیو بس ڈپو کے اسٹاپ شامل ہیں۔ محفوظ انتظار گاہیں نہ ہونے کی وجہ سے مسافر سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر بسوں کا انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔ یادداشت میں روشنی ڈالی گئی ہے کہ یہ صورتحال خاص طور پر خواتین، بزرگ شہریوں، حاملہ خواتین اور معذور مسافروں کے لیے ہے۔ اعظمی نے یہ بھی مشاہدہ کیا کہ مقامی باشندے 2023 سے ڈپو مینیجر اور شہری محکمہ کے ساتھ مسلسل پیروی کر رہے ہیں۔ حالانکہ روڈ نمبر 2 پر بس اسٹاپ کی منظوری مبینہ طور پر 2024 میں دی گئی تھی، لیکن کام ابھی تک شروع نہیں ہوا ہے، جس کی وجہ سے رہائشیوں میں عدم اطمینان ہے۔ تمام بس اسٹاپوں کے مشترکہ معائنہ کا مطالبہ اعظمی نے کیا ہے کہ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے لیا جائے اور مقامی شہریوں کے نمائندوں کے ساتھ فوری طور پر تمام بس اسٹاپس کا مشترکہ معائنہ کیا جائے۔ انہوں نے مزید زور دیا کہ بیسٹ کے انفراسٹرکچر فنڈ کا استعمال کرتے ہوئے متعلقہ مقامات پر مضبوط بس شیلٹرز اور بیٹھنے کے انتظامات کی تنصیب کے ذریعے کام مکمل کیا جائے۔

بیسٹ ممبئی کے لاکھوں شہریوں کے یومیہ سفر کے لیے ایک اہم لائف لائن کے طور پر کام کرتا ہے، اور یہ ضروری ہے کہ مسافروں کو محفوظ اور باوقار سفری سہولیات تک رسائی حاصل ہو۔ اس لیے اعظمی نے اس معاملے پر فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان