Connect with us
Sunday,30-November-2025
تازہ خبریں

ممبئی پریس خصوصی خبر

10 سالوں میں ملاڈ میں کام نہیں ہوئے، اسلم شیخ نے قبول کیا

Published

on

ممبئی: ہندوستان کے آئین کے مطابق سیاسی عہدیداران عوام کے خادم ہوتے ہیں، ان پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے حلقہ کی عوام کا خیال رکھا جائے، ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ لیکن ہمارے ملک میں خادم اپنے آپ کو حاکم سمجھنے لگتا ہے۔ کام نہ کرنے کی صورت میں انتخابات سے چند ماہ قبل لجاجت کے ساتھ ووٹوں کی بھیک مانگنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اگر عوام کا کام مطمئن بخش طریقے سے کیا جائے تو ووٹ کے لیے گھروں گھر گھومنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی میں انتخاب سے قبل سیاسی اتھل پتھل کی گئی جس میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار اسماعیل شیخ نے بغاوت کر کے کانگریس کے امیدوار شیخ اسلم کی حمایت کردی، اس کے باوجود اسلم شیخ کی ساکھ بچانا مشکل ترین امر ہے۔ عوام نے اسلم شیخ کو 10 سال کا موقع دیا تھا، 10 سال میں انہوں نے عوام کو ناراض کردیا۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی کی عوام کی ناراضگی کا خود اسلم شیخ کی تقریر سے چلتا ہے، اسلم شیخ نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے 10 سالوں میں اپنے حلقہ اسمبلی ملاڈ میں کام نہیں کئے ہیں۔ حلقہ کی عوام کو جذباتی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ میں نے عوام کا کام نہیں کیا، لیکن میں آپ کے گھر کا فرد ہوں۔ گھر کا کوئی فرد غلطی کرتا ہے تو اسے غلطی سدھارنے کا موقع دیا جاتا ہے، گھر سے گھر بدر نہیں کردیا جاتا ہے۔ اگر اسلم شیخ 5 سال تک کام نہیں کرتے تو ان کا جادو کچھ درجہ تک چل سکتا تھا، لیکن عوام نے انہیں سدھرنے کا 10 سال کا موقع دیا۔ بچہ بالغ ہوکر 10 سال تک نااہل رہتا ہے تو والدین اسے خود گھر سے الگ کر دیتے ہیں تاکہ ذمہ داری کا احساس ہوسکے۔ اسی طرح عوام انہیں 5 سال تک کم ازکم الیکشن کے میدان سے باہر رکھ سکتی ہیں تاکہ اپنی غیر ذمہ داری کا احساس جاگ جائے، 10 سال تک وقت ضائع کرنے اور عوام کی امانت میں خیانت کرنے کے لیے چن کر نہیں دیا جاتا ہے۔ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے بی جے پی کے امیدوار سے عوام کو ڈرایا جارہا ہے، اولڈ کلکٹر کمپاؤنڈ اور نیو کلکٹر کمپاؤنڈ کے جلسہ میں کہاکہ ملاڈ حلقہ میں اگر بی جے پی کا امیدوار جیت جائے گا تو ایس آر اے اسکیم کو نافض کردیا جائے گا، پھر دو منزلہ عمارت اور تین منزلہ عمارت کو مسمار کردیا جائے گا۔ اسلم شیخ کی جانب سے ڈر کا ماحول پیدا کرنے پر بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں ممبئی سے باہر کا نہیں ہوں میں بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں کسی کا گھر توڑوانے کے لیے نہیں آیا ہوں، میں عوام کا کام کرنا چاہتا ہوں اس حلقہ کے غریب طبقہ کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں، میں ان کا کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں مالوانی کی ترقی کرنے آیا ہوں، گزشتہ پانچ سال سے بی جے پی کے ممبر آف پارلیمنٹ گوپال شیٹی نے مالوانی میں ترقیاتی کام کریں ہیں۔ فی الحال بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں جیت کر آؤں گا تو ان لوگوں کا کام کروں گا جو میرا کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کا بھی کام کروں گا جو مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔ واضح ہوکہ 2014 میں بی جے پی کے امیدوار کو صرف 2300 ووٹوں سے شکست ملی تھی۔ اس وقت شیوسینا الگ انتخاب لڑرہی تھی اس لیے شیوسینا کے امیدوار نے 18000 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ منسے کے امیدوار نے 12000 ووٹ حاصل کئے تھے۔اس مرتبہ بی جے پی شیوسینا کا اتحاد ہوچکا ہے اسلم شیخ کی نااہلی بھی حلقہ کی عوام کے سامنے ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین ملاڈ کے صدر عرفان خلیفہ نے کہا کہ مجلس کا باغی امیدوار اسماعیل شیخ نے اسلم شیخ کو حمایت دے دی ہے لیکن مجلس نے نہیں دی ہے۔ ہم مجلس کے نشان پر زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس طرح اپنی ہار کے متعلق شیخ اسلم میں بھی ناامیدیں پیدا ہوئی ہوگی۔

جرم

جوگیشوری : پاسکو کیس میں ضمانت پر رہا ملزم دوبارہ گرفتار

Published

on

Arrest

ممبئی : ممبئی پاسکو کیس میں ملوث ایک مفرور ملزم کو ۶ سال بعد دوبارہ جوگیشوری پولس نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے. ممبئی کے جوگیشوری میں ۲۰۱۹ میں ملزم پنکج پنچال ۲۷ سالہ کو پاسکو اطفال پر تشدد اور استحصال کے کیس میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ ضمانت پر رہا تھا, لیکن عدالتی کارروائی میں غیر حاضر رہتا تھا اور گزشتہ ۶ سال سے اپنی شناخت چھپا کر روپوش تھا, پولس کو اطلاع ملی کہ ملزم ایس آر اے بلڈنگ کے قریب آیا ہے جس پر پولس نے جال بچھا کر جوگیشوری سے ملزم کر گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کر لی ہے. اس کے خلاف عدالت نے غیر ضمانتی وارنٹ بھی جاری کیا تھا, جس کے بعد پولس نے اس کی تعمیل کرتے ہوئے اسے گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا اور عدالت نے اسے ریمانڈ پر بھیج دیا ہے پولس مزید تفتیش کر رہی ہے۔ یہ اطلاع ممبئی پولس زون ۱۰ کے ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے دی ہے۔

Continue Reading

بزنس

ممبئی کچرے کی نقل و حمل کے لیے 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں ممبئی کے رہائشیوں کی خدمت میں داخل، فضلہ نقل و حمل کی صلاحیت دوگنی

Published

on

mini-compactor

ممبئی میں روزانہ کچرے کی نقل و حمل اب آسان ہو جائے گی، اور ٹرانسپورٹ راؤنڈز کی تعداد کم ہو جائے گی، جس سے ایندھن کی بچت ہو گی۔ بی ایم سی سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ نے اپنے بیڑے میں 30 نئی منی کمپیکٹر گاڑیاں شامل کی ہیں۔ گزشتہ منی کمپیکٹرز کے مقابلے نئی گاڑیوں میں ایک چکر میں دوگنا فضلہ لے جانے کی صلاحیت ہے۔ یہ گاڑیاں ایک سیشن میں دو چکر لگائیں گی۔


ممبئی میں فضلہ کی نقل و حمل کے بڑے عمل کو ذہن میں رکھتے ہوئے، ممبئی میونسپل کارپوریشن کمشنر اور ایڈمنسٹربھوشن گگرانی نے بتایا کہ محکمہ ٹرانسپورٹ انجینئرنگ نے پچھلی گاڑیوں کو درپیش مسائل کا مطالعہ کرنے کے بعد جو اختراعی اصلاحات کی ہیں وہ قابل تعریف ہیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) ڈاکٹر اشونی جوشی نے کہا کہ صفائی کے کارکنوں کی حفاظت کے لیے بیٹھنے کا مناسب انتظام، گیلے اور خشک کچرے کے لیے الگ الگ کمپارٹمنٹس، اور دیرپا مواد کا استعمال منی کمپیکٹر کی زندگی کو بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ اصلاحات ممبئی کے ماحول کے تحفظ کے لیے بھی کارآمد ثابت ہوں گی۔


کوڑا کرکٹ لے جانے والی گاڑیوں میں دیکھا گیا کہ کوڑے سے خارج ہونے والے مائع (لیچیٹ) کی وجہ سے دھات کی چادر مسلسل خراب ہو رہی ہے۔ نئی گاڑیوں میں 5 ملی میٹر موٹی ‘ہارڈوکس’ اسٹیل میٹریل کا فرش استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، ہائیڈرولک کلوزنگ پلیٹ کور نے گاڑی کے پچھلے حصے کو مکمل طور پر بند کر کے کوڑے کی نقل و حمل کی نوعیت کو بہتر بنایا ہے۔


گاڑیوں کے لیے سفید نیلے رنگ کی اسکیم :
انتظامیہ کا ارادہ ہے کہ میونسپل کارپوریشن کے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کے رنگ سفید اور نیلے رنگ میں تبدیل کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر (سالڈ ویسٹ مینجمنٹ) نے بتایا کہ یہ عمل مرحلہ وار طریقے سے انجام دیا جائے گا۔ آنے والے عرصے میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے بیڑے میں شامل تمام گاڑیوں کو نئے رنگ سکیم کے مطابق پینٹ کیا جائے گا۔
منی کمپیکٹر کی خصوصیات / انجن کی گنجائش : 115 ہارس پاور
ایک چکر میں فضلہ لے جانے کی صلاحیت 5 ٹن, اس طرح زیادہ فضلہ لے جایا جا سکتا ہے۔
صلاحیت : 9 کیوبک میٹر فضلہ رکھنے کی زیادہ صلاحیت
ملازمین کے لیے 4 نشستوں کا الگ انتظام
ویسٹ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے لیے نئی سفید نیلے رنگ کی اسکیم

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ناگپاڑہ ری ڈیولپمنٹ معاملہ : عدالت کا ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور فوجداری مقدمہ درج کرنے کا فیصلہ

Published

on

mahada

ممبئی : برسوں سے التوا کے شکار ری ڈیولپمنٹ اور کرایہ داروں کی مسلسل پریشانیوں کے بعد مہاراشٹر حکومت نے ناگپاڑہ کی تین خستہ حال عمارتوں—تاوُمباوالا بلڈنگ، دیوجی دارسی بلڈنگ اور زہرہ مینشن—کا جبری حصول منظور کر لیا ہے۔ حکومت نے ساتھ ہی ناکام ڈیولپر کو بلیک لسٹ کرنے اور اس کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کرنے کی ہدایت بھی جاری کی ہے۔ یہ فیصلہ 28 نومبر 2025 کو جاری کردہ سرکاری قرارداد کے ذریعے لیا گیا، جو مہادّا ایکٹ 1976 میں کی گئی ترامیم اور بمبئی ہائی کورٹ کے حالیہ احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

چھوتھی پیر خان اسٹریٹ پر واقع یہ عمارتیں سی ایس نمبر 1458، 1459 اور 1460 کے تحت آتی ہیں۔ ان کے ساتھ متعدد دیگر ڈھانچے بھی منصوبے میں شامل تھے، جن میں بلڈنگ نمبر 13–13A، 13B، 15، 17، 19، 21–23، 31–33 اور 35–37 شامل ہیں۔

ڈیولپر نے مجوزہ گراؤنڈ + 20 منزلہ ٹاور کا اسٹرکچر تو مکمل کر لیا تھا، لیکن تقریباً دس سال سے پورا پروجیکٹ رکا ہوا ہے۔ تاخیر کی اہم وجوہات یہ رہیں۔

  • کرایہ داروں کو مستقل مکان نہ دینا
  • گزشتہ تین سال سے ٹرانزٹ کرایہ ادا نہ کرنا
  • اندرونی تعمیراتی کاموں کی انتہائی سست رفتار
  • کرایہ داروں اور رہائشیوں کی بڑھتی ہوئی شکایات

ان حالات سے تنگ آکر کرایہ داروں نے بمبئی ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشن دائر کی، جس کے بعد 1 اکتوبر 2025 کو عدالت نے ریاستی حکومت کو مہادّا ایکٹ کے تحت کارروائی کرنے کا حکم دیا۔

عدالتی ہدایت کے بعد مہادّا نے زمین کے حصول کی تجویز حکومت کو پیش کی، جسے منظور کرتے ہوئے 1,532.63 مربع میٹر رقبے کے جبری حصول کی اجازت دے دی گئی ہے۔ اب مہادّا اس منصوبے کا کنٹرول سنبھال کر ری ڈیولپمنٹ مکمل کرے گی اور متاثرہ خاندانوں کا بحالی عمل آگے بڑھائے گی۔

حکومت نے اس فیصلے کے ساتھ کچھ بنیادی شرائط بھی عائد کی ہیں :

ڈیولپر کو درج ذیل کی مکمل تفصیلات پیش کرنا ہوں گی—

  • تھرڈ پارٹی حقوق
  • بینکوں یا مالی اداروں سے لیے گئے قرضے
  • دیگر تمام مالی ذمہ داریاں

ان دستاویزات کی جانچ کے بعد ہی حتمی منظوری دی جائے گی۔

حکومت نے ہدایت دی ہے—

  • ڈیولپر کو فوراً بلیک لسٹ کیا جائے
  • اس کی غفلت پر فوجداری مقدمہ درج کیا جائے
  • بی ایم سی سمیت تمام متعلقہ محکموں کو مطلع کیا جائے۔

مہادّا اور ممبئی بلڈنگ ریپئر اینڈ ریکنسٹرکشن بورڈ کو 22 اگست 2023 کے رہنما اصولوں کے مطابق تمام اضافی منظوری حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ سرکار نے متعلقہ حکام کو ہدایت دی ہے کہ فوری قانونی و انتظامی کارروائی کر کے مقام کا قبضہ لیا جائے اور تعمیر نو کا کام تیزی سے شروع کیا جائے۔

ممبئی کی پرانی اور خطرناک عمارتوں کا ری ڈیولپمنٹ برسوں سے ایک بڑا مسئلہ رہا ہے۔ حکومت کا یہ فیصلہ مہادّا ایکٹ میں کی گئی نئی ترامیم کو مضبوط بناتا ہے، جن کے تحت غیر محفوظ اور رکے ہوئے پروجیکٹ اب سرکاری نگرانی میں مکمل کیے جا سکیں گے۔

جبری حصول کی منظوری کے بعد مہادّا زہرہ مینشن، تاوُمباوالا بلڈنگ اور دیوجی دارسی بلڈنگ کے برسوں سے بے گھر رہنے والے مکینوں کی بحالی کے لیے عملی اقدامات شروع کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com