Connect with us
Friday,27-March-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

10 سالوں میں ملاڈ میں کام نہیں ہوئے، اسلم شیخ نے قبول کیا

Published

on

ممبئی: ہندوستان کے آئین کے مطابق سیاسی عہدیداران عوام کے خادم ہوتے ہیں، ان پرذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اپنے حلقہ کی عوام کا خیال رکھا جائے، ان کی بنیادی ضرورتوں کو پورا کیا جائے۔ لیکن ہمارے ملک میں خادم اپنے آپ کو حاکم سمجھنے لگتا ہے۔ کام نہ کرنے کی صورت میں انتخابات سے چند ماہ قبل لجاجت کے ساتھ ووٹوں کی بھیک مانگنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اگر عوام کا کام مطمئن بخش طریقے سے کیا جائے تو ووٹ کے لیے گھروں گھر گھومنے اور پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی میں انتخاب سے قبل سیاسی اتھل پتھل کی گئی جس میں مجلس اتحاد المسلمین کے امیدوار اسماعیل شیخ نے بغاوت کر کے کانگریس کے امیدوار شیخ اسلم کی حمایت کردی، اس کے باوجود اسلم شیخ کی ساکھ بچانا مشکل ترین امر ہے۔ عوام نے اسلم شیخ کو 10 سال کا موقع دیا تھا، 10 سال میں انہوں نے عوام کو ناراض کردیا۔ ملاڈ حلقہ اسمبلی کی عوام کی ناراضگی کا خود اسلم شیخ کی تقریر سے چلتا ہے، اسلم شیخ نے قبول کیا ہے کہ انہوں نے 10 سالوں میں اپنے حلقہ اسمبلی ملاڈ میں کام نہیں کئے ہیں۔ حلقہ کی عوام کو جذباتی کرکے ووٹ حاصل کرنے کی حکمت عملی پر عمل کرتے ہوئے لوگوں سے کہہ رہے ہیں کہ میں مانتا ہوں کہ میں نے عوام کا کام نہیں کیا، لیکن میں آپ کے گھر کا فرد ہوں۔ گھر کا کوئی فرد غلطی کرتا ہے تو اسے غلطی سدھارنے کا موقع دیا جاتا ہے، گھر سے گھر بدر نہیں کردیا جاتا ہے۔ اگر اسلم شیخ 5 سال تک کام نہیں کرتے تو ان کا جادو کچھ درجہ تک چل سکتا تھا، لیکن عوام نے انہیں سدھرنے کا 10 سال کا موقع دیا۔ بچہ بالغ ہوکر 10 سال تک نااہل رہتا ہے تو والدین اسے خود گھر سے الگ کر دیتے ہیں تاکہ ذمہ داری کا احساس ہوسکے۔ اسی طرح عوام انہیں 5 سال تک کم ازکم الیکشن کے میدان سے باہر رکھ سکتی ہیں تاکہ اپنی غیر ذمہ داری کا احساس جاگ جائے، 10 سال تک وقت ضائع کرنے اور عوام کی امانت میں خیانت کرنے کے لیے چن کر نہیں دیا جاتا ہے۔ اپنی نااہلی کو چھپانے کے لیے بی جے پی کے امیدوار سے عوام کو ڈرایا جارہا ہے، اولڈ کلکٹر کمپاؤنڈ اور نیو کلکٹر کمپاؤنڈ کے جلسہ میں کہاکہ ملاڈ حلقہ میں اگر بی جے پی کا امیدوار جیت جائے گا تو ایس آر اے اسکیم کو نافض کردیا جائے گا، پھر دو منزلہ عمارت اور تین منزلہ عمارت کو مسمار کردیا جائے گا۔ اسلم شیخ کی جانب سے ڈر کا ماحول پیدا کرنے پر بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں ممبئی سے باہر کا نہیں ہوں میں بھی آپ لوگوں کو یقین دلاتا ہوں کہ میں کسی کا گھر توڑوانے کے لیے نہیں آیا ہوں، میں عوام کا کام کرنا چاہتا ہوں اس حلقہ کے غریب طبقہ کے لوگوں کا کوئی پرسان حال نہیں، میں ان کا کام کرنا چاہتا ہوں۔ میں مالوانی کی ترقی کرنے آیا ہوں، گزشتہ پانچ سال سے بی جے پی کے ممبر آف پارلیمنٹ گوپال شیٹی نے مالوانی میں ترقیاتی کام کریں ہیں۔ فی الحال بی جے پی کے امیدوار رمیش سنگھ ٹھاکور نے کہا کہ میں جیت کر آؤں گا تو ان لوگوں کا کام کروں گا جو میرا کام کرتے ہیں اور ان لوگوں کا بھی کام کروں گا جو مجھے ووٹ نہیں دیں گے۔ واضح ہوکہ 2014 میں بی جے پی کے امیدوار کو صرف 2300 ووٹوں سے شکست ملی تھی۔ اس وقت شیوسینا الگ انتخاب لڑرہی تھی اس لیے شیوسینا کے امیدوار نے 18000 ووٹ حاصل کئے تھے جبکہ منسے کے امیدوار نے 12000 ووٹ حاصل کئے تھے۔اس مرتبہ بی جے پی شیوسینا کا اتحاد ہوچکا ہے اسلم شیخ کی نااہلی بھی حلقہ کی عوام کے سامنے ہے۔ مجلس اتحاد المسلمین ملاڈ کے صدر عرفان خلیفہ نے کہا کہ مجلس کا باغی امیدوار اسماعیل شیخ نے اسلم شیخ کو حمایت دے دی ہے لیکن مجلس نے نہیں دی ہے۔ ہم مجلس کے نشان پر زیادہ سے زیادہ ووٹ ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس طرح اپنی ہار کے متعلق شیخ اسلم میں بھی ناامیدیں پیدا ہوئی ہوگی۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

بی ایم سی ملازمین کی حاضری بائیومیٹرک لازمی ، غیر حاضری پر تنخواہ میں کٹوتی، سسٹم نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی بی ایم سی نے ایک ایسے نظام کو مؤثر انداز میں نافذالعمل لایا ہے جس کے بعد اب کوئی بھی بی ایم سی ملازم غیر حاضری پر تنخواہ کا حقدار نہیں ہو گا اور اسے غیر حاضر قرار دیا جائے گا اب بی ایم سی نے تمام دفاتر میں بائیومیٹرک حاضری کو لازمی قرار دے کر یہ نظام قائم کیا ہے۔ ملازم کو اس کی حاضری کی روزانہ ایس ایم ایس رپورٹ بھیجی جاتی ہے۔اگر ملازم کسی دن غیر حاضر ہو تو اسے تیسرے دن ایس ایم ایس کے ذریعے مطلع کیا جاتا ہے۔ اگر متعلقہ ملازم مذکورہ دن موجود ہو تو وہ اپنی اسٹیبلشمنٹ سے رابطہ کر کے اپنی حاضری درج کرا سکتا ہے یا غیر حاضر ہونے کی صورت میں چھٹی کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔ اس کے لیے ملازم کو 43 سے 73 دن کا وقت دیا جاتا ہے (اس مہینے کے بعد دوسرے مہینے کی 13 تاریخ تک جس میں غیر حاضری ہوتی ہے، یعنی جنوری کے مہینے میں غیر حاضری کی صورت میں 13 مارچ تک)اگر مذکورہ مدت کے بعد بھی غیر حاضری حل نہ ہوسکے تو مذکورہ دنوں کی تنخواہ اگلی تنخواہ (مارچ میں ادا کی گئی اپریل) سے تخفیف کی جائے گی۔ نیز، مذکورہ کٹوتی کی گئی تنخواہ اس مہینے کی تنخواہ میں ادا کی جائے گی جس میں مذکورہ غیر حاضری کے بارے میں فیصلہ کیا جاتا ہے۔ہر ملازم کو اس کی ماہانہ تنخواہ کی پرچی میں غیرمعافی غیر حاضری کی رقم کے بارے میں مطلع کیا جاتا ہے۔ اس طرح ملازم کو پورا موقع اور معلومات دینے کے بعد ہی تنخواہ سے لامحالہ کٹوتی کی جا رہی ہے۔ اگر اس طریقے سے تنخواہ کاٹی نہ جائے تو ملازم کو غیر حاضری کی مدت کے لیے ادائیگی کی جائے گی۔ملازم کی موجودگی کو یقینی بنائے بغیر تنخواہ ادا کرنا مالی نظم و ضبط کے مطابق نہیں ہوگا۔ آگے بڑھتے ہوئے، اس غیرمعافی غیر حاضری کی وجہ سے، ریٹائرمنٹ کے دعوے ریٹائرمنٹ کے وقت طویل عرصے تک زیر التواء رہتے ہیں۔اس لیے مذکورہ فیصلہ ملازمین کے لیے طویل مدتی فائدے کا ہے۔ ایس اے پی سسٹم اور بائیو میٹرک حاضری کا نظام ٹھیک سے کام کر رہا ہے اور اس کے بارے میں کوئی شکایت نہیں ہے۔ایسے ملازمین کے اسٹیبلشمنٹ ہیڈ/رپورٹنگ آفیسر/ریویو آفیسر کی 10% تنخواہ جولائی 2023 سے روک دی گئی ہے تاکہ غیر حاضری معاف نہ ہو۔ اس سے ہیڈ آف اسٹیبلشمنٹ/رپورٹنگ آفیسر/ریویونگ آفیسر پر ناراضگی پایا جاتا ہے، تاہم، اس کا ملازمین پر کوئی اثر نہیں پڑتا کیونکہ انہیں ان کی غیر موجودگی کے باوجود باقاعدہ تنخواہیں مل رہی ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ملاڈ میں بھگوان کی مورتی لیجاتے وقت تنازع! دونوں جانب سے نعرہ بازی, کیس درج, حالات پرامن سیکورٹی سخت

Published

on

mumbai police

ممبئی: ممبئی ملاڈ علاقہ میں گزشتہ شب رام بھگوان کی مورتی لیجانے کے دوران اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب جامع مسجد کے پاس کچھ شرپسندوں نے شور شرابہ کیا جس کے بعدیہاں حالات خراب ہوگئے پولیس نے حالات کو قابو میں کرلیا دونوں جانب سے نعرے بازی ہوئی ایک طرف سے نعرہ تکبیر اللہ اکبر تو دوسری طرف جئے شری رام کا نعرہ لگایا گیا گزشتہ رات جامع مسجد میں عشاء کی نماز جاری تھی اسی دوران بھگوان رام کی مورتی لیجاتے وقت شور شرابہ ہوا تو نمازیوں نے اعتراض کیا اس کے بعد حالات خراب ہوگئے پولیس نے فریقین کو قابو میں کیا اور پھر اب یہاں حالات پرامن ضرور ہے لیکن کشیدگی برقرار ہے پولیس نے جامع مسجد سمیت تمام حساس علاقوں میں سیکورٹی سخت کر دی ہے چونکہ شام میں رام نومی کا جلوس نکالا جاتا ہے اور رام نومی جلوس شوبھایاترا میں کسی بھی قسم کی گڑ بڑی نہ ہو اس کو یقینی بنانے کیلئے چپہ چپہ پر فورسیز کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی نے اس معاملہ میں پولیس کو سخت ہدایت جاری کی ہے جبکہ تنازع پیدا کرنے والوں کے خلاف پولیس نے کیس درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔
ممبئی کے ملاڈ علاقہ میں رام نومی پر تین سال قبل تشدد پھوٹ پڑا تھا اور اس کے بعد اب دوبارہ شرپسند عناصر یہاں ماحول خراب کر نے کی کوشش کر رہے ہیں گزشتہ شب بھی یہاں ماحول خراب کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پولیس نے اسے ناکام بنا دیا اب حالات پرامن ہے پولیس نے افواہ پھیلانے والوں اور سوشل میڈیا پر متنازع ویڈیو شیئر کرنے والوں پر بھی کارروائی کا انتباہ دیا ہے اس کے ساتھ ہی پولیس اس معاملہ کی تفتیش کر رہی ہے کہ آیا ماحول خراب کیا ہے۔ فرقہ وارانہ تنازع کے بعد پولیس نے حساس علاقوں کی نشاندہی کے ساتھ محلہ کمیٹیوں اور امن کمیٹیوں کی میٹنگ بھی منعقد کی تھی۔ ملاڈ میں سی سی ٹی وی فوٹیج کی تنصیب کے ساتھ جلوس کی نگرانی ڈرون سے کی گئی چپہ چپہ پر فورسیز کی موجودگی کے سبب جلوس کے پرامن اختتام کا دعوی بھی پولیس نے کیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کے سیکشن 154 میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کے لیے ترمیم، قانون ساز اسمبلی اور کونسل میں بل منظور

Published

on

ممبئی: قانون ساز اسمبلی اور قانون ساز کونسل نے ممبئی میونسپل کارپوریشن ایکٹ 1888 کی دفعہ 154 میں ترمیم کو منظوری دی ہے تاکہ ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں پراپرٹی ٹیکس کی وصولی کی جاسکے۔ اس ترمیم سے رہائشی املاک کے مالکان اور کمرشل پراپرٹی مالکان پر ٹیکس کا بوجھ نہیں بڑھے گا۔ جس سے رہائشی اور کمرشل پراپرٹی مالکان کو راحت ملے گی ۔قطعہ اراضی لینڈ ٹیکس کی تشخیص کارپٹ ایریا انڈیکس کو چھوڑ کر کی جائے گی۔ اس سے مختلف ترقیاتی منصوبوں کو تقویت ملے گی جو تعطل کا شکار ہیں اور اس وقت جاری ہیں۔اس بل کی منظوری کے بعد، سال 2010 سے پورے ممبئی میونسپل کارپوریشن کے علاقے میں تقریباً 10.5 لاکھ جائیدادوں کا دوبارہ جائزہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی پیچیدگیوں اور عدالتی معاملات کو روک دیا جائے گا۔ دفعہ 154 میں ترمیم نے ان جائیداد کے مالکان سے بقیہ 50 فیصد ٹیکس کی وصولی کی راہ ہموار کر دی ہے جو سال 2014 میں معزز ہائی کورٹ کے عبوری حکم کے مطابق 50 فیصد پراپرٹی ٹیکس ادا کر رہے تھے۔ اس کے نتیجے میں میونسپل کارپوریشن کے پراپرٹی ٹیکس کے ساتھ ریاستی حکومت کے زیر التواء ٹیکس کی وصولی ہو گئی ہے اور محصولات کی وصولی کا راستہ صاف ہموار ہو گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان