Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

ہندوستانی صنعت پر بیرونی قبضے کا خوف، اداروں کو بیچنے کی مودی حکومت کی ضد خطرناک

Published

on

ممبئی :ریلوے کے پرائیویٹائزیشن یعنی نجکاری کے ساتھ ہی مودی حکومت اب ائیر انڈیا کو فروخت کرنے کے بھی پیچھے پڑی ہے۔ حکومت ائیر انڈیا کو پوری طرح سے بیچنا چاہتی ہے۔ حالانکہ حکومت ہوائی سروس کی نجکاری بہت پہلے کر چکی ہے، لیکن لوگ اب بھی ائیر انڈیا میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے نجی کمپنیوں کی من مانی۔ حکومت کے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نجی ائیر لائنس سے پریشان مسافروں کی شکایتوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ اس میں جیٹ ائیرویز کے ساتھ ساتھ اسپائس جیٹ، انڈیگو اور وستارا ائیر لائنس بھی شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں مئی تک جہاں ائیر انڈیا سے شکایت کرنے والے مسافروں کی تعداد 37079 رہی، جب کہ اسپائس جیٹ سے ناراض مسافروں کی تعداد 70060، انڈیگو سے 62958 اور جیٹ ائیرویز سے ناراض مسافروں کی تعداد 50920 ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ ائیر انڈیا کے ’ڈِس انویسٹمنٹ‘ کے بعد نجی کمپنیوں کی من مانی اور بڑھ جائے گی۔ اس سے جہاں ہوائی سفر مہنگا ہو جائے گا، وہیں مسافروں کی پریشانی بھی بڑھ جائے گی۔یہی حالت ملک میں ٹیلی مواصلات سروس کی ہے۔ حکومت نے منصوبہ بند طریقے سے بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو اس حد تک حاشیے پر پہنچا دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے کنکشن مجبوراً بند کرنے پڑ رہے ہیں اور دونوں کمپنیوں کی معاشی حالت بے حد خراب ہے۔ یہ حال اس وقت ہے جب کہ بی ایس این ایل کا نیٹورک پورے ملک میں پھیلا ہے۔ موبائل ٹاور بھی ملک کے تقریباً ہر گوشے میں لگے ہیں، بلکہ کئی جگہ تو نجی کمپنیاں بی ایس این ایل کے ٹاور کے ذریعہ اپنی خدمات پہنچاتی ہیں، لیکن اب اس کمپنی کے فروخت ہونے کے آثار بن گئے ہیں۔ اسے خریدنے کی قطار میں وہی کمپنی سب سے آگے ہے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو ہی نہیں بلکہ دوسری نجی کمپنیوں کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔حالانکہ ٹیلی کام سیکٹر کو نجی کمپنیوں کےلیے کھولنے کا فائدہ گاہکوں کو ملا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے کمپنیوں کے درمیان مقابلہ آرائی بڑھی ہے اور خدمات سستی ہوئی ہیں۔ مقابلہ آرائی کی اس دوڑ میں بی ایس این ایل بھی شامل تھا، لیکن نریندر مودی حکومت کے دور اقتدار میں صرف ایک ہی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی لگاتار کوششوں کے سبب اس کی بالادستی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اس کمپنی نے دوسرے نیٹورک پر بات کرنے پر ٹیکس وصولنے کا فیصلہ اس لیے لیا تاکہ وہ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) پر انٹرکنیکٹ یوزیز چارج (آئی یو سی) واپس لینے کے لیے دباؤ بنا سکیں۔ اسے صحت مند مقابلے کے ختم ہونے اور کمپنیوں کی منمانی کی شروعات مانا جا رہا ہے۔بلاسبب سرکاری بوجھ برداشت کرنے والی ایک اور کمپنی ہے بھارت پٹرولیم جو سیدھے سیدھے صارفین سے جڑی ہے۔نریندر مودی حکومت اس کمپنی کو بھی فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسے خریدنے کی دوڑ میں ریلائنس سب سے آگے ہے۔ جس طرح سے ریلائنس نے پچھلے کچھ سالوں کے دوران پٹرولیم بزنس میں تیاری کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سیکٹر پر بھی اس کی اجارہ داری ہو سکتی ہے۔ ریلائنس نے انگلینڈ کی کمپنی بی پی اور سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کے ساتھ شراکت داری شروع کی ہے۔ایمپلائی لیڈر اشوک راؤ کہتے ہیں کہ سرکار پی ایس یو فروخت تو کر رہی ہے، لیکن ہندوستانی کمپنیاں اپنے دم پر انھیں خرید نہیں سکتیں۔ اس لیے وہ بیرون ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر پی ایس یو میں حصہ داری بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں ڈر اس بات کا ہے کہ ایک دن ہندوستانی کمپنیاں اپنا حصہ بھی بیرون ملکی کمپنیوں کو نہ فروخت کر دیں اور دھیرے دھیرے ہندوستانی بازار اور صنعت پر بیرون ملکی کمپنیوں کا قبضہ نہ ہو جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان