Connect with us
Friday,07-August-2026

(جنرل (عام

ہندوستانی صنعت پر بیرونی قبضے کا خوف، اداروں کو بیچنے کی مودی حکومت کی ضد خطرناک

Published

on

ممبئی :ریلوے کے پرائیویٹائزیشن یعنی نجکاری کے ساتھ ہی مودی حکومت اب ائیر انڈیا کو فروخت کرنے کے بھی پیچھے پڑی ہے۔ حکومت ائیر انڈیا کو پوری طرح سے بیچنا چاہتی ہے۔ حالانکہ حکومت ہوائی سروس کی نجکاری بہت پہلے کر چکی ہے، لیکن لوگ اب بھی ائیر انڈیا میں سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہے نجی کمپنیوں کی من مانی۔ حکومت کے ہی اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ نجی ائیر لائنس سے پریشان مسافروں کی شکایتوں کی تعداد کافی بڑھ گئی ہے۔ اس میں جیٹ ائیرویز کے ساتھ ساتھ اسپائس جیٹ، انڈیگو اور وستارا ائیر لائنس بھی شامل ہیں۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2019 میں مئی تک جہاں ائیر انڈیا سے شکایت کرنے والے مسافروں کی تعداد 37079 رہی، جب کہ اسپائس جیٹ سے ناراض مسافروں کی تعداد 70060، انڈیگو سے 62958 اور جیٹ ائیرویز سے ناراض مسافروں کی تعداد 50920 ہے۔ ماہرین مانتے ہیں کہ ائیر انڈیا کے ’ڈِس انویسٹمنٹ‘ کے بعد نجی کمپنیوں کی من مانی اور بڑھ جائے گی۔ اس سے جہاں ہوائی سفر مہنگا ہو جائے گا، وہیں مسافروں کی پریشانی بھی بڑھ جائے گی۔یہی حالت ملک میں ٹیلی مواصلات سروس کی ہے۔ حکومت نے منصوبہ بند طریقے سے بی ایس این ایل اور ایم ٹی این ایل کو اس حد تک حاشیے پر پہنچا دیا ہے کہ لوگوں کو ان کے کنکشن مجبوراً بند کرنے پڑ رہے ہیں اور دونوں کمپنیوں کی معاشی حالت بے حد خراب ہے۔ یہ حال اس وقت ہے جب کہ بی ایس این ایل کا نیٹورک پورے ملک میں پھیلا ہے۔ موبائل ٹاور بھی ملک کے تقریباً ہر گوشے میں لگے ہیں، بلکہ کئی جگہ تو نجی کمپنیاں بی ایس این ایل کے ٹاور کے ذریعہ اپنی خدمات پہنچاتی ہیں، لیکن اب اس کمپنی کے فروخت ہونے کے آثار بن گئے ہیں۔ اسے خریدنے کی قطار میں وہی کمپنی سب سے آگے ہے جس کی وجہ سے اس کمپنی کو ہی نہیں بلکہ دوسری نجی کمپنیوں کو بھی بہت نقصان پہنچا ہے۔حالانکہ ٹیلی کام سیکٹر کو نجی کمپنیوں کےلیے کھولنے کا فائدہ گاہکوں کو ملا ہے، کیونکہ ایسا کرنے سے کمپنیوں کے درمیان مقابلہ آرائی بڑھی ہے اور خدمات سستی ہوئی ہیں۔ مقابلہ آرائی کی اس دوڑ میں بی ایس این ایل بھی شامل تھا، لیکن نریندر مودی حکومت کے دور اقتدار میں صرف ایک ہی کمپنی کو فائدہ پہنچانے کی لگاتار کوششوں کے سبب اس کی بالادستی ہوتی جا رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں اس کمپنی نے دوسرے نیٹورک پر بات کرنے پر ٹیکس وصولنے کا فیصلہ اس لیے لیا تاکہ وہ ٹیلی کام ریگولیٹری اتھارٹی (ٹرائی) پر انٹرکنیکٹ یوزیز چارج (آئی یو سی) واپس لینے کے لیے دباؤ بنا سکیں۔ اسے صحت مند مقابلے کے ختم ہونے اور کمپنیوں کی منمانی کی شروعات مانا جا رہا ہے۔بلاسبب سرکاری بوجھ برداشت کرنے والی ایک اور کمپنی ہے بھارت پٹرولیم جو سیدھے سیدھے صارفین سے جڑی ہے۔نریندر مودی حکومت اس کمپنی کو بھی فروخت کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اسے خریدنے کی دوڑ میں ریلائنس سب سے آگے ہے۔ جس طرح سے ریلائنس نے پچھلے کچھ سالوں کے دوران پٹرولیم بزنس میں تیاری کی ہے، اس سے لگتا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس سیکٹر پر بھی اس کی اجارہ داری ہو سکتی ہے۔ ریلائنس نے انگلینڈ کی کمپنی بی پی اور سعودی عرب کی کمپنی آرامکو کے ساتھ شراکت داری شروع کی ہے۔ایمپلائی لیڈر اشوک راؤ کہتے ہیں کہ سرکار پی ایس یو فروخت تو کر رہی ہے، لیکن ہندوستانی کمپنیاں اپنے دم پر انھیں خرید نہیں سکتیں۔ اس لیے وہ بیرون ملکی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری کر پی ایس یو میں حصہ داری بڑھا رہی ہیں۔ ایسے میں ڈر اس بات کا ہے کہ ایک دن ہندوستانی کمپنیاں اپنا حصہ بھی بیرون ملکی کمپنیوں کو نہ فروخت کر دیں اور دھیرے دھیرے ہندوستانی بازار اور صنعت پر بیرون ملکی کمپنیوں کا قبضہ نہ ہو جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

Published

on

Asim-Azmi

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔

اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔

اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

مہاراشٹر اے ٹی ایس کا آن لائن دہشت گردی کی خلاف سخت ایکشن، سوشل میڈیا پر گمراہی پھیلانے والوں پر کارروائی کا حکمنامہ جاری، ۶ اگست سے نافذ العمل

Published

on

ممبئی : ممبئی مہاراشٹر انسداد دہشت گردی (اے ٹی ایس) نے اب آن لائن ٹیررازم دہشت گردی کو فروغ دینے والے مشمولات اور مواد کے خلاف کارروائی کرنے کا حکمنامہ جاری کیا ہے اے ٹی ایس نے پاکستانی ڈان شہزاد بھٹی اور گینگسٹر لارنس بشنوئی کے خلاف کارروائی کے دوران یہ پایا کہ آن لائن دہشت گردی کو عام کر نے کے ساتھ نوجوانوں کو آن لائن طریقے سے ورغلایا جارہا ہے اے ٹی ایس کے تجزیہ میں اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آن لائن اور ڈیجیٹل اور سوشل میڈیا پر میڈیا آڈیو اور ویڈیو کے معرفت گمراہی کی جانب مائل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اس لئے اگر سوشل میڈیا پر کوئی متنازع مشمولات مواد، پی ڈی ایف، نشر و اشاعت اور اس کی تبلیغ کرتا ہے جو ملکی سالمیت کے خطرہ کے ساتھ بھائی چارگی اور ایکتا کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی اے ٹی ایس نے تفتیش کے دوران یہ پایا کہ ۱۱۴ پی ڈی ایف، میگزین، ڈیجیٹل مشمولات میں گمراہ کن پروپیگنڈہ کیا گیا ہے جس کے بعد اے ٹی ایس انہیں ضبط بھی کیا ہے اگر کوئی متنازع مشمولات اور مواد سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس پر بھی کارروائی ہو گی اے ٹی ایس پبلک سیکورٹی ایکٹ ۲۰۲۳ کے تحت حکمنامہ جاری کیا یہ حکمنامہ ۶ اگست سے نافذالعمل ہے اگر کوئی اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔ مہاراشٹرا ے ٹی ایس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے والے گمراہ کن اور پروپیگنڈہ ویڈیو اور دیگر مشمولات اور مواد سے دو ر رہیں بصورت دیگر ان پر بھی کارروائی ہو سکتی ہے اے ٹی ایس چیف نول بجاج نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے باز رہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس نے شہزاد بھٹی سمیت دیگر گینگسٹر کے خلاف بھی کارروائی تیز کی تھی اس کے مطابق شہزاد بھٹی اور لارنس بشنوئی سے رابطہ رکھنے والوں سے بھی اے ٹی ایس نے باز پرس کی تھی انکے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ کی گئی تھی اور بعدازاں انہیں رہا کردیا گیا تھا۔ اے ٹی ایس نے اب سوشل میڈیا پر بھی نگرانی شروع کر دی ہے کوئی بھی سوشل میڈیا پر دہشت گردی کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر کارروائی ہو گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان