Connect with us
Saturday,01-August-2026

(جنرل (عام

سیکولر امیدواروں کی شکست معمولی فرق سے ممکن : تجزیاتی رپورٹ

Published

on

muslim

ممبئی:شہر سمیت مہاراشٹر میں متعدد ایسے اسملی حلقے ہیں ،جن کے رائے دہندگان اگر بہتر اور منصوبہ انداز میں حق رائے دہی کا استعمال کریں تو کسی بھی پارٹی کے اقلیتی امیدوار اسمبلی کے ایوان میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک غیرجانبدار تنظیم نے ممبئی سمیت تقریباً 14 اسمبلی انتخابی حلقوں کا جائزہ لیا اور اس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان حلقوںسے اقلیتی امیدوارباآسانی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔اسمبلی الیکشن کے اعلان سے قبل چند معززشہریوں کے ایک گروپ نے اس سمت میں کوشش کی تھی ،لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ،بلکہ اگر ان مسلم اکثریتی حلقوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان حلقوںمیں امیدواروں کی بھر مار ہے اور ووٹوں کی تقسیم ہوگی اور سیکولر امیدواروں کی شکست یقینی ہے۔ مذکورہ انتخابی سروے کے روح رواںاور ایک کالج میں لیکچرار ریحان انصاری کے مطابق ممبئی کے متعدد حلقوں کے ساتھ ساتھ بھیونڈی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔جوکہ ممبئی کا ایک نزدیکی اسمبلی حلقہ ہے اور اسمبلی میں مسلم نمائندگی کے لیے مشہورہے۔ ان اسمبلی حلقوں میں تقریباً 2.5 لاکھ اہل ووٹرز ہیں، لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ آبادی کا نصف حصہ ہی الیکشن کے روز ووٹنگ کے لیے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروںسے باہر آتا ہے ۔ممبئی کے شمال مغربی اسمبلی حلقہ ورسوا میں جوکہ ایک متمول علاقہ ہے ووٹنگ محض 39 فیصد ہوئی ہے اور ممبئی شہرمیں زیادہ سے زیادہ 55 فیصدووٹنگ بائیکہ اسمبلی حلقہ میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ممبئی میں متعددحلقوںمیںسیکولر امیدواروں کو بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑااور فرق کافی کم رہا ہے۔ دراصل دیگر سیکولر پارٹیوں کے اتنے امیدوارمیدان میں اترگئے کہ یہ اہم سیکولرپارٹیوں کے امید وارو ںکے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)اتحاد پر مشتمل بڑی سیکولر پارٹیاں ہیں جوکہ اگر جنوبی ہند کی ایم آئی ایم اور شمالی ہند کی سماجوادی پارٹی(ایس پی) جیسی چھوٹی جماعتوں کے استھ انتخابی سمجھوتہ کرلیں تو یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔فی الحال ممبئی میں سات اسمبلی کامیاب ایم ایل اے کا تعلق سیکولر پارٹیوں سے ہے اور اگر منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے اقدام کیے جائیں تو موجودہ 7 جیتنے والوں کی تعداد 14 سے تجاوز ہوسکتی ہے۔اس کے لیے کسی بھی سیکولرپارٹی کے امیدوار کا انتخاب کیا جائے اور یکطرفہ ووٹ دیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے ۔ریحان انصاری کا خیال ہے کہ اگر موجودہ اوسطاً 50 فیصدپولنگ کا فیصد 5سے 10بڑھایا جائے تو سیکولرامیدوار کو آسانی سے کامیابی مل سکتی ہے۔بلکہ ایسے حلقہ جیت کے ضامن ہوںگے۔ اس کے لیے عوام کومناسب انداز میں ووٹ دینے کے لیے بیداری پیدا کی جائے تاکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم روکی جاسکے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ چھوٹی سیکولر جماعتیں کانگریس کے امیدواروںکو نقصان پہنچاتی ہے اور فی الحال پانچ حلقوں میں یہی ہونے والا ہے ، ان حلقوںمیںایم آئی ایم کے امیدوار میدان میں ہیں ،ایم آئی ایم نے 2014 میں یہاں سے انتخاب نہیں لڑا تھا ۔ ایسے میں ایک دوسرے کی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔فی الحال جنوبی ممبئی میں ممبادیوی حلقہ سے کانگریس کے امین پٹیل ،بائیکلہ سے ایڈوکیٹ وارث پٹھان ،دھاراوی حلقہ سے کانگریس کی ورشا گائیکواڑ، چاندولی حلقہ سے سابق وزیراور اسمبلی کے ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان اور مالونی سے کانگریس کے ہی اسلم اور گوونڈی سے سماج وادی پارٹی کے ابوعاصم اعظمی کامیاب ہوئے تھے اور اب انہیں سخت آزمائش کا سامنا ہے ۔کیونکہ دیگر چھوٹی سیکولر پارٹیوں نے بھی ہر ایک حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیئے ہیں۔

(جنرل (عام

ڈی آر سی میں ایبولا کا پھیلاؤ قابو سے باہر : تاریخ کا سب سے تیزی سے پھیلنے والا وبا، ہلاکتوں کی تعداد 1000 سے تجاوز کر گئی

Published

on

Ebola

کنشاسا : ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو (ڈی آر سی) میں ایبولا وائرس کی وبا اب تک کی سب سے تیزی سے پھیلنے والی وبا بن گئی ہے۔ انفیکشن کی مسلسل بڑھتی ہوئی تعداد نے ملک کے مشرقی حصے میں لوگوں کی زندگیوں کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ اب تک 3,442 افراد کے ایبولا سے متاثر ہونے کی تصدیق ہو چکی ہے، جب کہ 1,521 کی موت ہو چکی ہے، جو کہ شرح اموات تقریباً 45 فیصد ہے۔ ڈی آر سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق، یہ وبا اب مشرقی کانگو کے پانچ صوبوں تک پھیل چکی ہے، جہاں کئی سالوں سے جاری تشدد اور عدم تحفظ کی وجہ سے صحت کی خدمات پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔

کانگو کی حکومت نے 15 مئی کو باضابطہ طور پر اس وباء کے خاتمے کا اعلان کیا۔ تب سے، وائرس کا بنڈی بوگیو تناؤ ملک میں ایبولا کے پچھلے تمام 16 پھیلنے سے زیادہ تیزی سے پھیل چکا ہے۔ انفیکشن کی تعداد اب 2018-20 کے بڑے پھیلنے کے اعداد و شمار کے قریب پہنچ گئی ہے، جب 3,470 لوگ متاثر ہوئے تھے۔ اقوام متحدہ نے جمعرات کو یہ بھی کہا کہ ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں یہ بیماری تیزی سے پھیل رہی ہے۔ اموات میں اضافہ ہو رہا ہے اور کیسز کی تعداد ہر 20 دن میں دوگنی ہو رہی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورتحال سے نمٹنے میں مدد کر رہا ہے لیکن اس نے خبردار کیا ہے کہ یہ وبا پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید بگاڑ رہی ہے۔

وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے، حکومت نے نگرانی کو مضبوط بنایا ہے، ایبولا کے علاج کے 20 سے زیادہ مراکز قائم کیے ہیں، اور مقامی ٹیسٹنگ لیبارٹریز قائم کی ہیں۔ لوگوں پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر وہ ایبولا کی معمولی علامات کا بھی تجربہ کریں تو فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں تاکہ ٹرانسمیشن کا سلسلہ روکا جا سکے۔ اس کے باوجود، بونیا اور روامپارا جیسے صحت کے علاقوں میں ہر ہفتے 100 سے 150 نئے انفیکشن دیکھے جا رہے ہیں۔ بنڈی بوگیو سٹرین کے خلاف تیار کردہ ایک نئی ویکسین کے لیے جولائی کے اوائل میں کلینیکل ٹرائلز شروع ہوئے۔ فی الحال، اس تناؤ کا کوئی معیاری علاج دستیاب نہیں ہے۔ 15 جولائی تک، تقریباً 20 رضاکاروں کو اس مقدمے میں شامل کیا گیا تھا، اور سائنسدانوں کا اندازہ ہے کہ اسے مکمل ہونے میں تقریباً چار ماہ لگیں گے۔

دریں اثنا، یوگنڈا، جس نے حال ہی میں ایبولا کی وباء کو ختم کرنے کا اعلان کیا، نے بھی کانگو کی مدد کے لیے ماہرین کی ایک ٹیم بھیجی ہے۔ یہ ماہرین کانگو کے صحت کے حکام کے ساتھ مل کر اس پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں، خاص طور پر ٹچومیا اور کیسینی کے سرحدی علاقوں میں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر وائرس کے پھیلاؤ کو بروقت نہ روکا گیا تو یہ وباء کانگو کی تاریخ کا بدترین ایبولا بحران بن سکتا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان