Connect with us
Tuesday,15-September-2026

(جنرل (عام

سیکولر امیدواروں کی شکست معمولی فرق سے ممکن : تجزیاتی رپورٹ

Published

on

muslim

ممبئی:شہر سمیت مہاراشٹر میں متعدد ایسے اسملی حلقے ہیں ،جن کے رائے دہندگان اگر بہتر اور منصوبہ انداز میں حق رائے دہی کا استعمال کریں تو کسی بھی پارٹی کے اقلیتی امیدوار اسمبلی کے ایوان میں آسانی سے داخل ہوسکتے ہیں۔اس سلسلے میں ایک غیرجانبدار تنظیم نے ممبئی سمیت تقریباً 14 اسمبلی انتخابی حلقوں کا جائزہ لیا اور اس کے نتیجے میں انکشاف ہوا کہ ان حلقوںسے اقلیتی امیدوارباآسانی کامیابی حاصل کرسکتا ہے۔اسمبلی الیکشن کے اعلان سے قبل چند معززشہریوں کے ایک گروپ نے اس سمت میں کوشش کی تھی ،لیکن اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا ،بلکہ اگر ان مسلم اکثریتی حلقوں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ ان حلقوںمیں امیدواروں کی بھر مار ہے اور ووٹوں کی تقسیم ہوگی اور سیکولر امیدواروں کی شکست یقینی ہے۔ مذکورہ انتخابی سروے کے روح رواںاور ایک کالج میں لیکچرار ریحان انصاری کے مطابق ممبئی کے متعدد حلقوں کے ساتھ ساتھ بھیونڈی بھی اس فہرست میں شامل ہے۔جوکہ ممبئی کا ایک نزدیکی اسمبلی حلقہ ہے اور اسمبلی میں مسلم نمائندگی کے لیے مشہورہے۔ ان اسمبلی حلقوں میں تقریباً 2.5 لاکھ اہل ووٹرز ہیں، لیکن چونکا دینے والی بات یہ ہے کہ آبادی کا نصف حصہ ہی الیکشن کے روز ووٹنگ کے لیے ووٹ ڈالنے کے لیے گھروںسے باہر آتا ہے ۔ممبئی کے شمال مغربی اسمبلی حلقہ ورسوا میں جوکہ ایک متمول علاقہ ہے ووٹنگ محض 39 فیصد ہوئی ہے اور ممبئی شہرمیں زیادہ سے زیادہ 55 فیصدووٹنگ بائیکہ اسمبلی حلقہ میں ریکارڈ ہوئی ہے۔ممبئی میں متعددحلقوںمیںسیکولر امیدواروں کو بی جے پی سے شکست کا سامنا کرنا پڑااور فرق کافی کم رہا ہے۔ دراصل دیگر سیکولر پارٹیوں کے اتنے امیدوارمیدان میں اترگئے کہ یہ اہم سیکولرپارٹیوں کے امید وارو ںکے لیے نقصان دہ ثابت ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں انڈین نیشنل کانگریس پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی)اتحاد پر مشتمل بڑی سیکولر پارٹیاں ہیں جوکہ اگر جنوبی ہند کی ایم آئی ایم اور شمالی ہند کی سماجوادی پارٹی(ایس پی) جیسی چھوٹی جماعتوں کے استھ انتخابی سمجھوتہ کرلیں تو یہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔فی الحال ممبئی میں سات اسمبلی کامیاب ایم ایل اے کا تعلق سیکولر پارٹیوں سے ہے اور اگر منصوبہ بندی اور حکمت عملی سے اقدام کیے جائیں تو موجودہ 7 جیتنے والوں کی تعداد 14 سے تجاوز ہوسکتی ہے۔اس کے لیے کسی بھی سیکولرپارٹی کے امیدوار کا انتخاب کیا جائے اور یکطرفہ ووٹ دیا جائے تو اس کی کامیابی یقینی ہے ۔ریحان انصاری کا خیال ہے کہ اگر موجودہ اوسطاً 50 فیصدپولنگ کا فیصد 5سے 10بڑھایا جائے تو سیکولرامیدوار کو آسانی سے کامیابی مل سکتی ہے۔بلکہ ایسے حلقہ جیت کے ضامن ہوںگے۔ اس کے لیے عوام کومناسب انداز میں ووٹ دینے کے لیے بیداری پیدا کی جائے تاکہ سیکولر ووٹوں کی تقسیم روکی جاسکے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ چھوٹی سیکولر جماعتیں کانگریس کے امیدواروںکو نقصان پہنچاتی ہے اور فی الحال پانچ حلقوں میں یہی ہونے والا ہے ، ان حلقوںمیںایم آئی ایم کے امیدوار میدان میں ہیں ،ایم آئی ایم نے 2014 میں یہاں سے انتخاب نہیں لڑا تھا ۔ ایسے میں ایک دوسرے کی حمایت کو یقینی بنانا ہے۔فی الحال جنوبی ممبئی میں ممبادیوی حلقہ سے کانگریس کے امین پٹیل ،بائیکلہ سے ایڈوکیٹ وارث پٹھان ،دھاراوی حلقہ سے کانگریس کی ورشا گائیکواڑ، چاندولی حلقہ سے سابق وزیراور اسمبلی کے ڈپٹی لیڈر عارف نسیم خان اور مالونی سے کانگریس کے ہی اسلم اور گوونڈی سے سماج وادی پارٹی کے ابوعاصم اعظمی کامیاب ہوئے تھے اور اب انہیں سخت آزمائش کا سامنا ہے ۔کیونکہ دیگر چھوٹی سیکولر پارٹیوں نے بھی ہر ایک حلقے میں امیدوار میدان میں اتار دیئے ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

مراٹھا ریزروریشن منوج جارنگے پاٹل کو آزاد میدان میں احتجاج کی اجازت نہیں

Published

on

Manoj-Jarange

ممبئی: مراٹھا ریزرویشن کیلئے منوج جارنگے کی بھوک ہڑتال 18 ویں دن میں داخل ہوچکی ہے اور وہ ممبئی کیلئے اپنے قافلہ کے ساتھ کوچ کر رہے ہیں لیکن ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال کو اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے اور ان کی درخواست کو مسترد کر دی ہے۔ مراٹھا مورچہ نے بھوک ہڑتال کیلئے ممبئی کے آزاد میدان میں اجازت طلب کی تھی اور 19 ستمبر سے یہ غیر معینہ بھوک ہڑتال شروع ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل اپنے قافلہ کے ساتھ ممبئی کیلئے کوچ کر چکے ہیں لیکن پولیس نے بھوک ہڑتال کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اجازت نامہ سے انکار اور درخواست مسترد کر نے کی وجوہات کا تذکرہ کرتے ہوئے ممبئی پولیس نے کہا کہ 2025 ء میں بھی مراٹھا سماج نے احتجاجی مظاہرہ کا انعقاد آزاد میدان میں کیا تھا اور اجازت نامہ کی معیاد ختم ہونے کے باوجود بھی احتجاج کو جاری رکھا تھا اور احتجاج کے دوران کے ممبئی کے شہریوں کو کافی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اتنا ہی نہیں اس احتجاج کے سبب عام شہری زندگی بھی مفلوج ہوکر رہ گئی تھی ٹریفک اور نظم و نسق کا مسئلہ پیدا ہوگیا تھا احتجاج کے دوران آزاد میدان کے علاقے میں 13 ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی احتجاج کے دوران اصول و ضوابط کی خلاف ورزی کی گئی تھی۔

منوج جارنگے پاٹل کی عرضی مسترد کر تے ہوئے پولیس نے کہا ہے کہ چونکہ یہاں ممبئی میں 14 ستمبر سے 26ستمبر تک گنیش اتسو جاری ہے ایسے میں یہاں بھکتوں کی بھیڑ بھاڑ ہوتی ہے اور مراٹھا ریزرویشن کے مورچہ میں بھی بھیڑ جمع ہوگی اس لئے شہری نظام متاثر ہونے کے اندیشہ ہے اس کے ساتھ ہی بھیڑ بھاڑ کے دوران نظم ونسق کا مسئلہ پیدا ہونے کے ساتھ شہریوں کو دشواری ہوگی اس لئے منوج جارنگے پاٹل کی عرضی کو پولیس نے ان بنیادوں پر خارج کر دی ہے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ آزاد میدان میں احتجاجی مظاہرہ کی جو مظاہرین کی تعدادہے وہ پانچ ہزار ہے اور میدان میں لاکھوں کروڑوں مظاہرین کو مدعو کیا گیا ہے ایسے میں نظم ونسق کا مسئلہ ہونے کا خطرہ ہے اس کے ساتھ ٹریفک نظام بھی متاثر ہوگا۔ممبئی پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کو اجازت دینے سے صاف انکار کر دیا ہے اس کے باوجود منوج جارنگے پاٹل اپنے موقف پر اٹل ہے وہ اپنے قافلہ کے ساتھ جالنہ سے روانہ ہوچکے ہیں جبکہ پولیس نے ممبئی میں احتجاج کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

کے جے پی کے بانی ابھیجیت ڈپکے آن لائن امتحانات میں مبینہ طور پر سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء میں شامل ہوں گے۔

Published

on

CJP-Abhijit

چھترپتی سمبھاجی نگر : کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) اور اس کے بانی ابھیجیت ڈپکے اب ایم پی ایس سی کے امیدواروں کی حمایت کریں گے۔ ابھیجیت ڈپکے نے مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن (ایم پی ایس سی) کے ذریعہ منعقد ہونے والے آن لائن امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کرنے والے طلباء میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ چیف جسٹس نے ایم پی ایس سی کے چیئرمین اور سیکرٹری کے استعفیٰ کے مطالبے کے لیے 24 ستمبر کی آخری تاریخ بھی مقرر کی ہے۔ یہ اعلان چھترپتی سمبھاج نگر کے ولوج علاقے میں ابھیجیت ڈپکے کے گھر پر دیپکے اور ایم پی ایس سی کے امیدواروں کے ایک گروپ کے درمیان میٹنگ کے بعد کیا گیا۔ چیف جسٹس نے ریاست بھر کے دورے کا انتباہ دیا چیف جسٹس نے کہا کہ ایم پی ایس سی چیئرمین اور سکریٹری کے استعفیٰ کا مطالبہ کرنے والا احتجاج جاری رہے گا۔

سی جے پی نے ایک بیان میں کہا کہ اگر دونوں عہدیدار 24 ستمبر تک استعفیٰ نہیں دیتے ہیں تو ابھیجیت ڈپکے اور پارٹی ممبران ایم پی ایس سی امیدواروں سے ملاقات کرنے اور ان کے تحفظات کا اظہار کرنے کے لئے ریاست بھر کا دورہ کریں گے۔ ابھیجیت ڈپکے اور دیگر چیف جسٹس ممبران بھی ایم پی ایس سی کے امیدواروں کے جاری احتجاج میں شامل ہوں گے۔

امیدواروں سے ملاقات کے بعد، ابھیجیت ڈپکے نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ چیف جسٹس اور میں اس لڑائی میں ایم پی ایس سی امیدواروں کے ساتھ ہیں۔ ایم پی ایس سی کے اعلیٰ عہدیداروں کے استعفیٰ تک ہم امیدواروں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔ ایم پی ایس سی امیدواروں نے مہاراشٹر میں کئی مقامات پر احتجاج کیا ہے۔ وہ بھرتی کے عمل میں زیادہ شفافیت کا مطالبہ کر رہے ہیں اور کمیشن کی طرف سے کرائے گئے مختلف امتحانات میں مبینہ پیپر لیک اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ احتجاج ایم پی ایس سی امتحانات کے انعقاد میں احتساب اور شفافیت کے مطالبے پر مرکوز ہے۔ کے جے پی نے یہ اعلان ایم پی ایس سی کے کچھ امیدواروں نے چھترپتی سمبھاج نگر کے ولوج علاقے میں دیپکے سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کے بعد کیا۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی… منشیات کی غیر قانونی فروخت دو گرفتار، گرفتارشدگان سے 12.81 کلو وزنی منشیات سمیت دیگر اسباب ضبط

Published

on

ممبئی : ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کاروائی کے دوران دو منشیات فروشوں کو گرفتار کیا گیا ہے جو ٹائیرازیپام کی گولیاں فروخت کرتے ہوئے پائے گئے۔ ۹ ستمبر کو یونٹ 6 کو ملی ہوئی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کرائم برانچ کی ٹیم نے جال بچھا کر دو ملزمان کو پَنویل سائن ہائی وے کے قریب جنوبی واہنی سروس روڈ پر، ٹرامبے ٹرانسپورٹ دفتر کے پچھلے جانب، ٹرامبے، ممبئی اس جگہ نائٹرازپام کی گولیاں
اس منشیات کی 21,000 ٹیبلیٹس گولیاں جس کا کل وزن 12.81 کلو گرام، اور کل قیمت 64,05,000/- روپے قیمت کا مقدمے کا مال ضبط کیا۔ غیر قانونی طور پر فروخت کرنے کے ارادے اس نے یہ گولیاں رکھی تھی دونوں ملزمین نشہ کی گولیاں گاہکوں کو نشے کے لیے فروخت کرتے تھے اس کا انکشاف ہوا ہے۔ گرفتار ملزمان پر اس سے پہلے این ڈی پی ایس کے مطابق مقدمات درج ہیں اور دونوں ملزمان پر این ڈی پی ایس قانون 1985 دفعہ 8(سی), 22(سی), 29 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ گرفتارشدگان مرد عمر 44 سال، رہنے والا شیواجی نگر، گوونڈی، ممبئی۔ مرد، عمر 50 سال، رہنے والا کوسہ، ممبرا، ضلع تھانے ہے.

مذکورہ کارروائی پولیس کمشنر، برہن ممبئی دیوین بھارتی، پولیس جوائنٹ کمشنر (کرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل پولیس کمشنر (کرائم) کرشن کانت اپادھیائے، پولیس ڈپٹی کمشنر ڈٹیکشن نوناتھ ڈھولے، اور اسسٹنٹ پولیس کمشنر (ڈی مشرق) دھرما پال بنسوڈے کی رہنمائی میں یونٹ 6 کے انچارج پولیس انسپکٹر بھرت گھونگے، پولیس انسپکٹر سشانت ساونت، خاتون سب پولیس انسپکٹر چودھری، خاتون پولیس سب انسپکٹر ماشیرے، پولیس سب انسپکٹر دیسائی، پولیس حوالدار وانکھیڈے، پولیس حوالدار کھیڈکر، پولیس حوالدار بھالے راؤ، پولیس سپاہی پانچال، پولیس سپاہی شیخ، پولیس سپاہی بودھارے، پولیس سپاہی سسانے، خاتون پولیس سپاہی کھوٹوڈ، پولیس حوالدار چامگر اس ٹیم نے انجام دی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان