Connect with us
Wednesday,16-September-2026

سیاست

سری کرشنا کمیشن مقدمہ التواءکا شکار، عدالتی کارروائی آگے بڑھانے کا مطالبہ

Published

on

babri-masjid

ممبئی میں بابری مسجد کی شہادت کے بعد ہونے والے دسمبر1992اور جنوری 1993میں دودور کے خونریز فرقہ وارانہ فسادات کے سلسلے میں سری کرشنا کمیشن رپورٹ کے مقدمہ میں سپریم کورٹ میں سماعت التواءشکار ہوگئی ہے اور اس درمیان ایک عرض گزار ڈاکٹر عظیم الدین نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ مظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے اس عدالتی کوشش کو آگے بڑھایا جائے ،کیونکہ فی الحال اس معاملہ میں کسی کو کو ئی دلچسپی نہیں ہے اور مظلومین انصاف کے ترس گئے ہیں جن میں رفیق ماپکر بھی شامل ہے،جوکہ وڈالا کی ہری مسجد میں نمازیوںپر ہونے والی اندھادھندپولیس فائرنگ میں زخمی ہوگیا تھا۔اور عدالت کے چکر لگا لگا کر تھک چکے ہیں۔انہوںنے انسپکٹر نکھل کاپسے کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا اور 2016میں سیشن کورٹ نے مقدمہ خارج کردیا تھا۔سپریم کورٹ کے گوشورے مطابق گزشتہ 12 فروری 2019کو ہونے والی سماعت ہوئی اور جسٹس ایس اے بوبرے ،جسٹس سنجے کشن کول اورجسٹس دیپک گپتا کی بینچ نے سماعت کی اور آئندہ تاریخ مقررکی تھی تاکہ سماعت ہوسکے لیکن فریقین کی غیر حا ضری کے نتیجے میں یکم اگست 2019کو جسٹس بوبڑے ،جسٹس سبھاش ریڈی اور جسٹس بی آر گوائی پر مشتمل بینچ کے روبروسماعت ہونا تھی لیکن پھر اس مقدمہ کو معطل کردیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر بھی تفصیل پائی جاتی ہے۔سپریم کورٹ میں ایکشن کمیٹی فار ایمپلیمنٹ آف سری کرشنا رپورٹ نے 21اگست 1998کو رپورٹ کے نفاذ کے لیے مقدمہ دائر کیا اور ایک ماہ بعد 21ستمبر 1998کو سپریم کورٹ نے اسے سماعت کے لیے منظورکرلیا ،سول رٹ پٹیشن 527\\1998کی سماعت کاآغاز ہوا۔ دراصل مہاراشٹر حکومت نے فسادات کی تحقیقات کے لیے سری کرشنا کمیشن تشکیل کی تھی ،لیکن آج دودہائی گزر جانے کے باوجودکمیشن کی رپورٹ کو نافذ نہیں کیا گیا ہے اور متاثرین آج بھی انصاف سے محروم اور سپریم کورٹ میں زیرسماعت مقدمہ کا کوئی پرسان حال نہیں ہے۔امسال سپریم کورٹ میں گزشتہ 12 فروری 2019کو ہونے والی سماعت ہوئی اور جسٹس ایس اے بوبرے ،جسٹس سنجے کشن کول اورجسٹس دیپک گپتا کی بینچ نے سماعت کی اور آئندہ تاریخ مقررکی تھی ،ایڈوکیٹ انیس سہروردی کے انتقال کے بعد جناب شکیل احمد سید اور اعجاز مقبول صاحب پیروی کررہے ہیں۔جبکہ مذکورہ رٹ پٹیشن کے عرض گزار میں ایکشن کمیٹی کے ساتھ ساتھ مولانا ظہیر عباس رضوی ،فیاض احمد خان،مفتی عبدالرحمن ملی ،اور ڈاکٹر ایم عظیم الدین شامل ہیں جوکہ ممبئی کی مختلف تنظیموں سے وابستہ رہے ہیں۔جبکہ فریق حکومت ہندکے محکمہ قانون وانصاف اور کمپنی امور کے سکریٹری اور حکومت مہاراشٹرکے چیف سکریٹری کو بنیا گیا تھا۔واضح رہے کہ پہلے شیوسینا۔بی جے پی محاذ حکومت اور پھر کانگریس۔این سی پی اتحادسرکار نے اسے نافذ کرنے میں کوتاہی برتی تھی ،جس کے بعد رپورٹ کو نافذکرنے کے لیے ممبئی میں ایک ایکشن کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا تاکہ رپورٹ کی سفارشات کو نافذکرکے قصورواروںکے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ،لیکن 1999میں کانگریس۔این سی پی اتحاد نے چند چیزوں کو چھوڑ کر رپورٹ کو ٹھنڈے بسہ میں ڈال دیا۔حالانکہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ رٹ پٹیشن کی سماعت کا سلسلہ جاری ہے۔لیکن افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس مقدمہ کا اب کوئی پرسان حال نہیں ہے اور تاریخ پر تاریخ کا سلسلہ جاری ہے۔گزشتہ فروری میں عدالت عظمیٰ نے فریقین کو چار ہفتے کا وقت دیا تھا ،مگر اس کے بعد سماعت ہر تاریخ پر آگے بڑھ جاتی ہے۔سری کرشنا کمیشن رپورٹ کو ایک غیر جانبدارانہ رپورٹ کہا جاتا ہے ،جسٹس سری کرشنا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ کمےشن کے سامنے جوثبوت پےش کیے گئے ہیں۔اس سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ انسان میں جوحیرانی فطرت پائی جاتی ہے۔اس کی خواہش میں وہ ہرحال میں آگے بڑھنا چاہتا ہے۔اختلاف کشمکش ہیجان اوررنگ ونسل اور مذہب پر بھی تنازعات پےدا ہوتے ہیں۔اس ملک سے برطانوی سامراج کو باہر نکالنے کے لیے ہندوؤ ںاور مسلمانوں نے متحد ہوکر آپسی ملنساری کے ساتھ جدوجہد کی تھی۔اس اتحاد واتفاق کو محمدعلی جناح کے ”دوقومی نظریہ “ نے تباہ وبربادکردیا۔ جس کے نتیجہ میں سیاسی طورپرملک کی تقسیم ہوگئی اور سرحد کے دونوں جانب لاکھوں معصوم اور بے گناہ انسانوںکا قتل عام کیا گیا۔ان کا قصور صرف یہ تھا کہ وہ دیگر فرقے کی اکثریت اور اثرورسوخ رکھنے والے علاقوںمیں رہائش پذیر تھے۔انہوںنے ملک کی آزادی اور اس ہندوستانی آئین کو تسلیم کرلیا تھا ،جس نے اقلیتوں کو ان کے بنیادی حقوق کے ساتھ ساتھ رعایتیں بھی دی تھیں۔ ایک وقفہ کے ساتھ اقلیتی فرقہ کو دیئے جانے والے خصوصی اختیارات نے ان کی نفسیات پر گہرا اثر کرنا شروع کیا۔ہندوؤں میں یہ خوف پایا جانے لگا کہ جلد ہی وہ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے۔ اس سوچ نے صورت حال کو کافی بگاڑدیا اور ”ہم اور وہ “ کی نفسیات پنپنے لگی۔اس کا سیاسی فائدہ مفاد پرستوں نے اٹھایا اور ہندوؤں کے ایک طبقہ نے متعدد مساجد کو آزاد کرانے کے لیے مہم شروع کردی ،جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ مسلم دورحکومت میںانہیں مندر سے ہی مسجد میں تبدیل کردیا گیا تھا ،اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانے لگی تھی۔ایک بار پھر ہندووادی (ہندو?ں کی فرقہ پرست جماعتوں،تنظےموں)نے اجودھیا میں بابری مسجد کی جگہ مجوزہ رام مندر کی تعمیر کرنے کی مہم شروع کردی۔ان کا دعویٰ تھا کہ یہ بھگوان شری رام کی جائے پیدائش ہے۔دوسری جانب ظاہر سی بات تھی کہ مسلمان ایک انچ زمین دینا نہیں چاہتے ہیں۔اس تنازعہ نے اس وقت سنگین ر ±خ اختیار کرلیا ،جب عدلیہ کی جانب سے مقدمہ میں کافی تاخیر ہوگئی اور سیاسی مفاد کے لیے اس معاملہ کو ایک نیار ±خ ۰۹کی دہائی میں بھارتیہ جنتا پارٹی نے دیا اور اس کے سربراہ ایل اے اڈوانی نے رام جنم بھومی۔ بابری مسجد تنازعہ پرعوامی(ہندو?ں) بیداری پیدا کرنے کے لیے رتھ یاترا نکالی اور اس دوران جگہ جگہ چھوٹے بڑے پیمانے پرفسادات ہوئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی میں گنیش اتسو پر روٹ مارچ, چمبور سمیت شمالی ممبئی میں پولس کا مارچ

Published

on

ممبئی کے مضافاتی شمالی ریجن کی حدود میں چمبور سمیت دیگر حساس علاقوں میں گنیش اتسو اور وسرجن جلوس کے پس منظر میں روٹ مارچ کا انعقاد کیا گیا ممبئی پولیس کی اضافی فورسیز اور دیگر دستوں نے سڑکوں پر روٹ مارچ کر کے عوام کو تحفظ کا یقین دلایا ہے۔ ایڈیشنل کمشنر ایسٹ ریجن دھننجے کلکر نی کی ہدایت پر شمالی علاقوں میں روٹ مارچ کیا گیا تاکہ گنپتی اتسو کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہ آئے اس کے ساتھ ہی ممبئی پولیس بھی گنپتی پر خصوصی طور پر الرٹ پر ہے۔ ممبئی میں گنپتی اتسو کے پس منظر میں شمالی علاقوں گوونڈی, کرلا, چمبور سمیت دیگر حساس میں پولیس نے گشت میں اضافہ کر دیا ہے اس کے ساتھ ہی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر بھی سیکورٹی سخت کر دی ہے۔

ممبئی کے مغربی مضافات اندھیری ساکی ناکہ سمیت دیگر علاقوں میں بھی پولیس الرٹ پر ہے یہاں ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے حساس علاقوں پر خصوصی نگرانی کے ساتھ پولیس اسٹیشن کے سنیئر افسران کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے ہیں ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر ممبئی کے تمام ریجن اور زونل سطح پر روٹ مارچ اور حفاظتی انتظامات کا جائزہ لیا جارہا ہے اعلی افسران ساحل سمندر اور مصنوعی تالاب اور وسرجن کے مقامات پر خیمہ زن بھی ہے 25 ستمبر کو شہر میں گنپتی وسرجن بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے ایسی صورتحال میں امن وامان کی بقا کیلئے پولیس مستعد اور الرٹ ہے۔ ممبئی کے اہم مقامات گرگاؤں چوپاٹی, دادر, و دیگر تالاب اور سمندر و وسرجن کے مقامات پر خصوصی پہرہ لگایا گیا ہے اس کے علاوہ بی ایم سی نے بھی یہاں گنیش بھکتوں کی سہولیات کے لئے خاطر خواہ انتظامات کر نے کا دعوی کیا ہے ممبئی کے باندرہ بینڈ اسٹینڈ سمیت دیگر سمندروں جوہو چوپاٹی پر بھی پولیس کا بندوبست رہے گا۔ آج شمالی ممبئی زون اور ریجن میں گنیش اتسوکے سبب پولیس نے روٹ مارچ کر کے حساس علاقوں کا بھی جائزہ لیا ہے اس روٹ مارچ کا مقصد عوام میں تحفظ کا احساس پیدا کرنا ہوتا ہے جبکہ فرقہ پرست اور سماج دشمن عناصر پر اس سے خوف طاری ہوتا ہے ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ہدایت پر شہر میں حالات پر نظر رکھی جارہی ہے جبکہ ممبئی میں گنیش اتسو کے دوران ہی آزاد میدان میں منوج جارنگے پاٹل کی ممبئی روانگی نے ممبئی پولیس کیلئے چیلنج کھڑا کر دیا ہے جبکہ ممبئی پولیس نے اب تک جارنگے کو احتجاجی مظاہرہ کی اجازت نہیں دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

اقلیتی نوجوانوں کے لیے ‘انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کا قیام،بھیونڈی ایسٹ سے رئیس شیخ کا مطالبہ

Published

on

Rais-Shaikh

ممبئی بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے ریاست کے چھ ریونیو ڈویژنوں میں ‘اقلیتی انٹرپرینیورشپ اور بزنس انکیوبیشن سینٹرز’ کے قیام کا مطالبہ کیا ہے تاکہ اقلیتی آبادی کے بڑے حجم کو مدنظر رکھتے ہوئے اقلیتی نوجوانوں کو اپنے کاروبار شروع کرنے میں مدد دی جا سکے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر نائب وزیر اعلیٰ اور وزیر برائے اقلیتی ترقی، سنیتر پوار کو ایک خط لکھا ہے۔اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ اقلیتیں ریاست کی کل آبادی کا 20 فیصد ہیں، جن میں مسلم برادری کا حصہ 11.54 فیصد ہے۔ غربت کی وجہ سے دسویں اور بارہویں جماعت کی سطح پر مسلم طلبہ میں اسکول چھوڑنے (ڈراپ آؤٹ) کی شرح 30 فیصد ہے۔ بمشکل 10 فیصد مسلم نوجوان ہی اعلیٰ تعلیم کے مرحلے تک پہنچ پاتے ہیں۔ تعلیمی دھارے سے باہر ہونے والے ان طلبہ کو ہنر مندی کی تربیت اور کاروبار کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

جہاں ‘بارٹی’ (بارٹی)، ‘مہاجیوتی’ (مہاجوتی) اور ‘سارتھی’ (سارتھی) جیسے تحقیقی اور تربیتی ادارے دیگر برادریوں کے نوجوانوں کو ہنر مندی اور کاروبار سے متعلق تربیت اور مواقع فراہم کرتے ہیں، وہیں اقلیتی برادری کے لیے مختص ادارہ ‘مارٹی’ (مارٹی) مناسب فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث طلبہ کی تربیت کے حوالے سے اب تک فعال نہیں ہو سکا ہے۔رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس بات کی طرف توجہ دلائی گئی کہ مولانا آزاد مائنارٹیز فنانشل ڈیولپمنٹ کارپوریشن’ ان مراکز کے ساتھ شراکت داری میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ کارپوریشن قرض کی اسکیموں کو مربوط کرنے، مالی امداد فراہم کرنے، اور پروجیکٹ رپورٹس کی تیاری اور جانچ پڑتال جیسے امور سنبھال سکتی ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نائب وزیر اعلیٰ سنیتر پوار کو لکھے گئے خط میں کہا کہ اگر ایسے مراکز قائم کیے جاتے ہیں تو ہر ریونیو ڈویژن میں سالانہ 1,000 سے زائد نوجوان مرد و خواتین اپنے مائیکرو اور چھوٹے کاروبار شروع کرنے کے قابل ہو سکیں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی آزاد میدان مراٹھا ریزرویشن منوج جارنگے پاٹل سے احتجاج سے متعلق تفصیلات طلب، پولیس کی جانب سے ضروری تفصیلات بتانے کی ہدایت

Published

on

ممبئی: آزاد میدان پولیس نے منوج جارنگے پاٹل کی بھوک ہڑتال سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہے اس سے قبل دو مرتبہ مراٹھا مورچہ کی عرضی کو پولیس نے یہ کہہ کر خارج کر دیا تھا کہ گنیش اتسو کے دوران بھیڑ بھاڑاور نظم ونسق کا مسئلہ کے سبب انہیں اجازت نہیں دی جاسکتی ہے ایسے میں اب مراٹھا مورچہ نے ایک مرتبہ پھر اجازت طلب کی ہے جس کے جواب میں ممبئی پولیس آزاد میدان نے احتجاجی مظاہرہ سے متعلق مکمل تفصیلات طلب کی ہیں اتنا ہی نہیں اس میں یہ بھی وضاحت طلب کی گئی ہے کہ آیا ممبئی میں بھوک ہڑتال کے دوران منوج جارنگے پاٹل مہاراشٹر بھر میں مظاہرین کو ممبئی آمد پر مدعو یا اس قسم کی اپیل تو نہیں کریں گے کیونکہ اس سے قبل انہوں نے ایسی اپیل میڈیا میں کی تھی اس کے ساتھ ہی مظاہرہ میں کتنے مظاہرین شامل رہیں اور کتنے رضا کار شرکت کر رہے ہیں اس کے علاوہ مظاہرہ کے دوران کتنی گاڑیاں ممبئی میں لائی جائے گی اس قسم کی تمام تفصیلات اب پولیس نے طلب کی ہیں تاکہ ممبئی میں احتجاجی مظاہرہ کے دوران نظم و نسق کے قیام میں پولیس کو مدد ملے۔ ممبئی پولیس نے اس سے قبل منوج جارنگے پاٹل کی دو مرتبہ عرضیاں خارج کر دی ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان