Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

امین پٹیل کے حلقہ اسمبلی میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر: جنید شیخ

Published

on

junaid-shaikh

اکھل بھارتیہ سینا کے ممبا دیوی کے نوجوان امیدوار جنید شیخ نے اپنی ایک سبھا میں عوام سے بات کرتے ہوے اس بات کا خلاصۃ کیا کے پچھلے ۱۰ سالوں میں ممبا دیوی ودھان سبھا میں سینکڑوں غیر قانونی بلڈنگوں کو بنایا گیا ہے یہ بلڈر مافیا غیر قانونی طریقے سے لوکھنڈ پر ۱۰ ؍منزلہ عمارت کھڑی کر دیتے ہیں جو مستقبل میں کبھی بھی گر سکتی ہے۔ ساتھ ہی غیر قانونی ہونے کی وجہ سے سرکاری لوگ کبھی بھی اس کو توڑ سکتے ہیں۔ کروڑوں روپئے کما کے یہ بلڈر مافیا یہاں سے چلے جاتے ہیں اور بلڈنگ گرنے پر معصوم لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ جنید شیخ نے بتایا کہ اگر پرانے ایم ایل اے آمین پٹیل چاہتے تو قانونی طریقے سے بھی یہاں بلڈنگیں بنائی جا سکتی تھی پر رشوت کے چکر میں ممبادیوی کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ کیا ڈونگری بلڈنگ حادثہ کا ذمہ دار رکن اسمبلی آمین پٹیل نہیں ہونا چاہیے؟وقف کی زمینیں ممبا دیوی حلقہ میں کس کی لاپرواہی سے گئی؟رکن اسمبلی آمین پٹیل نے غیرقانونی عمارتوں کے خلاف ایوان میں آواز بلند کیوں نہیں کی؟ جنید شیخ نے کہا کہ اگر ممبا دیوی حلقہ اسمبلی سے ۲ ؍ بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے امین پٹیل کے کاموں پر ایک نظر ڈالی جائے تو کام کم اور بدعنوانیاں زیادہ کرنے کی پوشیدہ حقیقت سے پردہ اٹھ جائے گا۔ کام کرنے کے لیے ۱۰؍ سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا لیکن ممبا دیوی حلقہ اسمبلی کے احاطے میں دلخراش واقعات پیش آئے ہیں اور مزید حادثات پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ بارش کے موسم میں ڈونگری میں واقع ۱۰۰؍سال پرانی خستہ حال کیسر بائی بلڈنگ منہدم حادثہ میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے کیوں اس بلڈنگ کو سرکاری فنڈ سے تعمیر نہیں کرایا گیا۔ ممبا دیوی میں ناگپاڑہ، کاذی پورہ، سدھارتھ نگر،کماٹی پورہ ، بھنڈی بازار، بھارت نگر، واڈی بندر ،دلال اسٹیٹ، وغیرہ علاقوں کا دورہ کرنے پر علم ہوتا ہے کہ بنیادی سہولیات میں ۱۰؍سالوں سے عوام کا کس طرح استحصال ہوتا رہا۔ عوام کے مسائل تو حل نہیں ہوئے لیکن کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی نے غیرقانونی کاموں کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ممبئی شہر میں سب سے زیادہ غیرقانونی تعمیراتی کاموں کو بے خوف ہوکر ممبا دیوی اسمبلی حلقہ میں انجام دیا گیا۔ممبئی رابطہ کے نمائندے نے جب جنید شیخ کے لگائے گئے الزامات کے تحقیق کی تو مسجد بندر علاقے کے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ہمارے علاقے میں بہت زیادہ بلڈنگیں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے اور اس بدعنوانی میں مقامی ایم ایل اے اور کارپوریٹرس کا ہاتھ رہا ہے۔ دو منزلہ اور۴؍منزلہ عمارت کی اجازت لے کر ۸؍ سے ۱۰؍ منزلہ عمارت تعمیر کردی گئی ہے۔ بلیک لسٹ بلڈروں کا سب سے زیادہ کام ممبا دیوی حلقہ اسمبلی میں ہوا ہے جن میں محبوب سورتیا، میراج رحمٰن، غنی جیٹھا، ابراہیم موتی والاجیسے بلیک لسٹ ڈیولپر نے دھوم مچا رکھی ہے انہیں مقامی ایم ایل اے کا مکمل تعاون شامل تھا۔ اسی وجہ سے ایک بھی ڈیولپر پر قانونی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کو جیل بھیجا گیا ۔ اگر ایک بھی مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا تو رکن اسمبلی کا عہدہ بھی خطرے میں آجاتا۔ بی ایم سی کے افسران و سیاسی پارٹی کے عہدیداران نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کیا ہے۔ کورٹ نے خستہ حال عمارتوں کو اور غیر قانونی عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انہیں منہدم نہیں کیا گیا۔ صورتی محلّہ کے اؤویس نامی شخص نے کہا کہ کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ایم ایل اے کے دباؤ میں کیا گیا ہے کیونکہ غیر قانونی تعمیراتی عمارت میں ایم ایل اے کے ووٹرس رہتےہیں اور ایم ایل اے نہیں چاہتا ہے کہ ان کے ووٹ بینک کو دھکا پہنچے اس کے لیے انہیں عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ناگپاڑہ کے ہوٹل کاروباری امجد شخص نے بتایا ہے کہ غیر قانونی تعمیر سے انسانی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے پر ممبا دیوی میں سیاسی لوگوں نے قانون کو تاک پر رکھ کے لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ مچا رکھا ہے۔ جنید شیخ نے آگے بتایا کے تمام غیرقانونی تعمیر ایم ایل اے کی ہری جھنڈی کے بعد ہی کی گئی۔ عوام یا میڈیا کے سامنے ایم ایل اے اس بات کا انکار کرسکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے ، اگر ایم ایل اے اس بات کے خلاف ہوتا تو ایوان اسمبلی میں آواز اٹھاتا لیکن گزشتہ ۱۰؍ سالوں میں انہوں نے کبھی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ اور نہ ہی تحریری شکل میں ایم ایل اے کے لیٹر ہیڈ پر افسران پر دباؤ بنانے کی کوشش کی۔وہ چاہتے تو غیر قانونی تعمیر ہوتی ہی نہیں یا جو عمارت غیرقانونی طور پر تعمیر کی جاچکی ہے اسے مسمار کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ایم ایل اے کی ناک کے نیچے غیر قانونی تعمیرات کا کھلم کھلا غلط طریقے سےکام کیا جاتا رہا ، غیرقانونی کام کرنے والوں کو ایم ایل اے کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی شکایت بھی عوام نے جنید شیخ سے کی ہے۔ وقف کی زمینیں کیوں مسلمانوں کے فائدے کےلیے استعمال نہیں کی جاتی ہے۔ وقف کی زمینوں میں بدعنوانی کی باتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وقف بورڈ کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے عمارت کی تعمیر کروائی گئی اوربی ایم سی کے افسران ،کارپوریٹرس اور ایم ایل اے نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ حجرہ محلّہ جمعہ مسجد کے بغل میں غیر قانونی بلڈنگ کی تعمیر کی گئی اور مسجد کے ٹرسٹی سیاسی دباؤ میں خاموش رہے۔لوگ خادم کا انتخاب ہر پانچ سالوں میں کرتے ہیں تاکہ ان کے کاموں کو ایمانداری سے کیا جائے اس لیے عوام کو طے کرنا ہے کہ کون سا ایم ایل اے ہمارے لیے ہمارے حلقہ کے لیے کارگر ثابت ہوگا اسی کو ووٹ کریں، فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں ایک بٹن دبانے سے ۵؍سال تک فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور ۵؍ سالوں تک آپ کی جھولی میں پچھتاوےکے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ وہیں اس معاملے پر جب ممبئی رابطہ کے نمائندے نے کانگریس کے امیدوار آمین پٹیل سے اس بارے میں بات کرنی چاہی تو اُنہوں میں اس معاملے پر بات کرنے سے منع کر دیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com