Connect with us
Tuesday,16-June-2026

سیاست

امین پٹیل کے حلقہ اسمبلی میں سب سے زیادہ غیر قانونی عمارتوں کی تعمیر: جنید شیخ

Published

on

junaid-shaikh

اکھل بھارتیہ سینا کے ممبا دیوی کے نوجوان امیدوار جنید شیخ نے اپنی ایک سبھا میں عوام سے بات کرتے ہوے اس بات کا خلاصۃ کیا کے پچھلے ۱۰ سالوں میں ممبا دیوی ودھان سبھا میں سینکڑوں غیر قانونی بلڈنگوں کو بنایا گیا ہے یہ بلڈر مافیا غیر قانونی طریقے سے لوکھنڈ پر ۱۰ ؍منزلہ عمارت کھڑی کر دیتے ہیں جو مستقبل میں کبھی بھی گر سکتی ہے۔ ساتھ ہی غیر قانونی ہونے کی وجہ سے سرکاری لوگ کبھی بھی اس کو توڑ سکتے ہیں۔ کروڑوں روپئے کما کے یہ بلڈر مافیا یہاں سے چلے جاتے ہیں اور بلڈنگ گرنے پر معصوم لوگوں کا نقصان ہوتا ہے۔ جنید شیخ نے بتایا کہ اگر پرانے ایم ایل اے آمین پٹیل چاہتے تو قانونی طریقے سے بھی یہاں بلڈنگیں بنائی جا سکتی تھی پر رشوت کے چکر میں ممبادیوی کی ترقی کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔ کیا ڈونگری بلڈنگ حادثہ کا ذمہ دار رکن اسمبلی آمین پٹیل نہیں ہونا چاہیے؟وقف کی زمینیں ممبا دیوی حلقہ میں کس کی لاپرواہی سے گئی؟رکن اسمبلی آمین پٹیل نے غیرقانونی عمارتوں کے خلاف ایوان میں آواز بلند کیوں نہیں کی؟ جنید شیخ نے کہا کہ اگر ممبا دیوی حلقہ اسمبلی سے ۲ ؍ بار رکن اسمبلی منتخب ہونے والے امین پٹیل کے کاموں پر ایک نظر ڈالی جائے تو کام کم اور بدعنوانیاں زیادہ کرنے کی پوشیدہ حقیقت سے پردہ اٹھ جائے گا۔ کام کرنے کے لیے ۱۰؍ سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا لیکن ممبا دیوی حلقہ اسمبلی کے احاطے میں دلخراش واقعات پیش آئے ہیں اور مزید حادثات پیش آنے کا اندیشہ ہے۔ بارش کے موسم میں ڈونگری میں واقع ۱۰۰؍سال پرانی خستہ حال کیسر بائی بلڈنگ منہدم حادثہ میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے کیوں اس بلڈنگ کو سرکاری فنڈ سے تعمیر نہیں کرایا گیا۔ ممبا دیوی میں ناگپاڑہ، کاذی پورہ، سدھارتھ نگر،کماٹی پورہ ، بھنڈی بازار، بھارت نگر، واڈی بندر ،دلال اسٹیٹ، وغیرہ علاقوں کا دورہ کرنے پر علم ہوتا ہے کہ بنیادی سہولیات میں ۱۰؍سالوں سے عوام کا کس طرح استحصال ہوتا رہا۔ عوام کے مسائل تو حل نہیں ہوئے لیکن کانگریس پارٹی کے رکن اسمبلی نے غیرقانونی کاموں کو فروغ دینے میں اہم رول ادا کیا ہے۔ ممبئی شہر میں سب سے زیادہ غیرقانونی تعمیراتی کاموں کو بے خوف ہوکر ممبا دیوی اسمبلی حلقہ میں انجام دیا گیا۔ممبئی رابطہ کے نمائندے نے جب جنید شیخ کے لگائے گئے الزامات کے تحقیق کی تو مسجد بندر علاقے کے ایک شخص نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر کہا کہ ہمارے علاقے میں بہت زیادہ بلڈنگیں غیرقانونی طور پر تعمیر کی گئی ہے اور اس بدعنوانی میں مقامی ایم ایل اے اور کارپوریٹرس کا ہاتھ رہا ہے۔ دو منزلہ اور۴؍منزلہ عمارت کی اجازت لے کر ۸؍ سے ۱۰؍ منزلہ عمارت تعمیر کردی گئی ہے۔ بلیک لسٹ بلڈروں کا سب سے زیادہ کام ممبا دیوی حلقہ اسمبلی میں ہوا ہے جن میں محبوب سورتیا، میراج رحمٰن، غنی جیٹھا، ابراہیم موتی والاجیسے بلیک لسٹ ڈیولپر نے دھوم مچا رکھی ہے انہیں مقامی ایم ایل اے کا مکمل تعاون شامل تھا۔ اسی وجہ سے ایک بھی ڈیولپر پر قانونی کاروائی نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی کو جیل بھیجا گیا ۔ اگر ایک بھی مجرم جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا تو رکن اسمبلی کا عہدہ بھی خطرے میں آجاتا۔ بی ایم سی کے افسران و سیاسی پارٹی کے عہدیداران نے عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا کام کیا ہے۔ کورٹ نے خستہ حال عمارتوں کو اور غیر قانونی عمارتوں کو منہدم کرنے کا حکم دیا تھا لیکن انہیں منہدم نہیں کیا گیا۔ صورتی محلّہ کے اؤویس نامی شخص نے کہا کہ کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ایم ایل اے کے دباؤ میں کیا گیا ہے کیونکہ غیر قانونی تعمیراتی عمارت میں ایم ایل اے کے ووٹرس رہتےہیں اور ایم ایل اے نہیں چاہتا ہے کہ ان کے ووٹ بینک کو دھکا پہنچے اس کے لیے انہیں عدالت کے حکم کی خلاف ورزی ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔ ناگپاڑہ کے ہوٹل کاروباری امجد شخص نے بتایا ہے کہ غیر قانونی تعمیر سے انسانی جانوں کو خطرہ ہوتا ہے پر ممبا دیوی میں سیاسی لوگوں نے قانون کو تاک پر رکھ کے لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ مچا رکھا ہے۔ جنید شیخ نے آگے بتایا کے تمام غیرقانونی تعمیر ایم ایل اے کی ہری جھنڈی کے بعد ہی کی گئی۔ عوام یا میڈیا کے سامنے ایم ایل اے اس بات کا انکار کرسکتا ہے لیکن حقیقت یہی ہے ، اگر ایم ایل اے اس بات کے خلاف ہوتا تو ایوان اسمبلی میں آواز اٹھاتا لیکن گزشتہ ۱۰؍ سالوں میں انہوں نے کبھی غیرقانونی تعمیرات کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔ اور نہ ہی تحریری شکل میں ایم ایل اے کے لیٹر ہیڈ پر افسران پر دباؤ بنانے کی کوشش کی۔وہ چاہتے تو غیر قانونی تعمیر ہوتی ہی نہیں یا جو عمارت غیرقانونی طور پر تعمیر کی جاچکی ہے اسے مسمار کیا جاسکتا تھا۔ لیکن ایم ایل اے کی ناک کے نیچے غیر قانونی تعمیرات کا کھلم کھلا غلط طریقے سےکام کیا جاتا رہا ، غیرقانونی کام کرنے والوں کو ایم ایل اے کی جانب سے تحفظ فراہم کرنے کی شکایت بھی عوام نے جنید شیخ سے کی ہے۔ وقف کی زمینیں کیوں مسلمانوں کے فائدے کےلیے استعمال نہیں کی جاتی ہے۔ وقف کی زمینوں میں بدعنوانی کی باتیں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ وقف بورڈ کی زمینوں پر ناجائز قبضہ کرکے عمارت کی تعمیر کروائی گئی اوربی ایم سی کے افسران ،کارپوریٹرس اور ایم ایل اے نے لاپرواہی کا مظاہرہ کیا۔ حجرہ محلّہ جمعہ مسجد کے بغل میں غیر قانونی بلڈنگ کی تعمیر کی گئی اور مسجد کے ٹرسٹی سیاسی دباؤ میں خاموش رہے۔لوگ خادم کا انتخاب ہر پانچ سالوں میں کرتے ہیں تاکہ ان کے کاموں کو ایمانداری سے کیا جائے اس لیے عوام کو طے کرنا ہے کہ کون سا ایم ایل اے ہمارے لیے ہمارے حلقہ کے لیے کارگر ثابت ہوگا اسی کو ووٹ کریں، فیصلہ سوچ سمجھ کر کریں ایک بٹن دبانے سے ۵؍سال تک فائدہ بھی ہوسکتا ہے اور ۵؍ سالوں تک آپ کی جھولی میں پچھتاوےکے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ وہیں اس معاملے پر جب ممبئی رابطہ کے نمائندے نے کانگریس کے امیدوار آمین پٹیل سے اس بارے میں بات کرنی چاہی تو اُنہوں میں اس معاملے پر بات کرنے سے منع کر دیا۔

جرم

سی آئی ڈی نے ابھیشیک بنرجی سے انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے کے سلسلے میں پوچھ گچھ کی۔

Published

on

کولکتہ: ترنمول کانگریس کے جنرل سکریٹری اور لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ ابھیشیک بنرجی منگل کو کولکتہ کے بھوانی بھون میں مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی ڈی) کے سامنے پیش ہوئے جس میں ان کے خلاف مبینہ طور پر اشتعال انگیز بیانات دینے اور اسمبلی انتخابات سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔

یہ رپورٹ لکھے جانے کے وقت، کیس کی تفتیش کرنے والے سی آئی ڈی کے اہلکار تقریباً دو گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کر رہے تھے۔

ابھیشیک بنرجی کو منگل کی دوپہر تک جنوبی کولکتہ کے بھوانی بھون میں سی آئی ڈی ہیڈکوارٹر میں پیش ہونا تھا۔ تاہم، وہ مقررہ وقت سے چند منٹ پہلے بھوانی بھون پہنچے، داخلی دروازے پر مہمانوں کے رجسٹر پر دستخط کیے، اور پوچھ گچھ کے لیے اندر چلے گئے۔

یہ لگاتار تیسرا دن ہے کہ کسی معاملے کے سلسلے میں تفتیشی ایجنسی نے ان سے پوچھ گچھ کی ہے۔ پیر کے روز، انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے اہلکاروں نے مغربی بنگال میں کروڑوں روپے کے “اسکول-نوکری-کیش” گھوٹالے کے سلسلے میں 11 گھنٹے تک ان سے پوچھ گچھ کی۔

اس سے پہلے اتوار کو سی آئی ڈی کے اہلکاروں نے بنرجی سے سی آئی ڈی کی تفتیش کے سلسلے میں ساڑھے آٹھ گھنٹے تک پوچھ گچھ کی۔ یہ معاملہ ریاستی اسمبلی میں سووندیب چٹوپادھیائے کو اپوزیشن لیڈر کے طور پر نامزد کرنے والی قرارداد پر ترنمول کانگریس کے اراکین اسمبلی کے جعلی دستخطوں سے متعلق ہے۔ جمع کرائے گئے دستاویزات میں تضاد کی وجہ سے سی آئی ڈی نے تحقیقات کا آغاز کیا۔

اس کے بعد، سی آئی ڈی منگل کو ایک ایسے معاملے میں ان سے دوبارہ پوچھ گچھ کر رہی ہے جس میں ان پر حالیہ ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل تشدد بھڑکانے اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو دھمکی دینے کا الزام ہے۔

اس معاملے میں، بنرجی کے خلاف گزشتہ ماہ بیدھا نگر سٹی پولس کے تحت بدھ نگر سائبر کرائم پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی تھی۔ سائبر کرائم تھانے کے اہلکار ابتدائی طور پر تفتیش کر رہے تھے لیکن بعد میں 11 جون کو تفتیش سی آئی ڈی کو منتقل کر دی گئی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : اندھیری ۶۰ لاکھ سے زائد کے زیورات چوری کا ڈرامہ تیار کرنے والے دو ملزمین گرفتار

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس دو ایسے شاطر ملزمین کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے, جنہوں نے چوری اور سڑک حادثہ کی من گھڑت کہانی بنا کر ۶۰ لاکھ کے زیورات چوری ہونے کا ڈرامہ تیار کیا تھا, لیکن پولس کی تفتیش میں یہ انکشاف ہوا کہ سونے کے زیورات کی ڈیلیوری کرنے والا ہی چور ہے اور اس نے اپنے ساتھی دوست کے ساتھ مل کر یہ چوری کی تھی۔ ایم آئی ڈی سی پولس نے گولڈ اسٹار کمپنی کے کنچن پوار کی شکایت پر چوری کا کیس درج کر لیا تھا۔ تفصیلات کے مطابق شکایت کنندہ نے اپنے ملازم اویناش گنگادھر کدم ۲۶ سالہ کو سونے کے زیورات ڈیلیوری کے لئے بھیجا تھا۔ اسی دوران اس نے بتایا کہ اس کی موٹر سائیکل ایکٹیوا کو حادثہ پیش آیا ہے اور اسی دوران سونے کے زیورات و بیگ بھی چوری ہو گئے۔ اس نے بلا کسی چوٹ اور زخم کے اسپتال میں داخلہ کےلئے ڈرامہ کیا, اس دوران پولس نے متعدد سی سی ٹی وی فوٹیج کا معائنہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ اس مشتبہ شخص حادثہ سے قبل یہاں مشتبہ حالت میں گشت کر رہا تھا۔ جس کا نام منوج ہیمنت جوگڈنڈ ۴۱ سالہ ہے۔ اس سے تفتیش میں پولس کو یہ معلوم ہوا کہ ان دونوں نے ہی چوری کا ڈرامہ کیا تھا اور اس واقعہ کو حادثہ بتا کر لوٹ مار کی منصوبہ بندی تیار کی تھی۔ اس کے بعد پولس نے اویناش کو بھی زیر حراست لیا اس معاملہ میں پولس نے دونوں ملزمین کو گرفتار کر کے معمہ کو حل کر لیا۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی دتہ نلاوڑے نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : بی ایم سی نے مانسون سے پہلے ہیلپ لائن ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم’ شروع کی، گڑھے بھرنے پر توجہ مرکوز کی

Published

on

ممبئی ممبئی میں گڑھوں کو بھرنے کےلئے بی ایم سی نے خصوصی ہیلپ لائن جاری کیا ہے شہریوں کی شکایات کا فوری اور مؤثر طریقے سے ازالہ کرنے کے مقصد کے ساتھ، ممبئی میونسپل کارپوریشن نے اس سال ایک مربوط شکایتی انتظامی نظام‘مائی بی ایم سی مارگ’ (شکایات کے انتظام اور ازالے کانظام) نافذ کیا ہے۔ اس سسٹم کے ذریعے شہری میونسپل کارپوریشن سے متعلق 114 مختلف قسم کی شکایات کو ایک ہی درخواست کے ذریعے درج کر سکیں گے اور وہ ان کی پیروی بھی کر سکیں گے۔ اس کے تحت ‘مائی بی ایم سی مارگ’ سسٹم پر سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کرنے کی سہولت شہریوں کو فراہم کی گئی ہے۔

مانسون کے موسم میں سڑکوں پر بعض اوقات گڑھے بن جاتے ہیں۔ اس تناظر میں میونسپل کارپوریشن شہریوں کی جانب سے موصول ہونے والی شکایات کا فوری نوٹس لینے اور ضروری اصلاحی کارروائی کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہے۔ شہریوں کے لیے گڑھوں کی شکایات کے اندراج کے عمل کو آسان اور موثر بنانے کے لیے ڈیجیٹل میڈیا کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ پچھلے سال، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے سڑکوں پر گڑھوں کے بارے میں شکایات درج کرنے کے لیے ایک الگ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ شروع کی تھی۔ اس ایپلی کیشن کے ذریعے شہری معلومات، تصاویر اور سڑکوں پر گڑھوں کی جگہ کے ساتھ شکایات درج کر سکتے ہیں۔ اس اقدام کو شہریوں کی جانب سے اچھا رسپانس ملا۔اس دوران شہریوں کو میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں سے متعلق شکایات کے لیے مختلف سسٹم استعمال کرنا پڑا۔ اس کو ذہن میں رکھتے ہوئے، برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن نے شہریوں کو مزید جامع اور آسان خدمات فراہم کرنے کے لیے اس سال سے ایک جامع نظام ‘مائی بی ایم سی مارگ’ شروع کیا ہے۔ موبائل ایپلیکیشن ‘گڑھے فوری درست کریں’ کو اس سسٹم میں ضم کر دیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، میونسپل کارپوریشن کے مختلف محکموں بشمول گڑھے، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ، سیوریج کے مسائل، پانی کی فراہمی، سڑک کی دیکھ بھال، پارکس، صحت عامہ، پیسٹ کنٹرول، تجاوزات، لائٹنگ سے متعلق کل 114 قسم کی شکایات درج کرنے کی سہولت ’مائی بی ایم سی مارگ‘ پر دستیاب ہے۔

‘مائی بی ایم سی مارگ’سسٹم خصوصیت یہ ہے کہ شہریوں کےلیے ایک پلیٹ فارم سے شکایات کا اندراج کرنا، متعلقہ تصاویر اپ لوڈ کرنا، شکایت کی موجودہ صورتحال کی جانچ کرنا، متعلقہ محکمے کی طرف سے کی گئی کارروائی کا پتہ لگانا اور شکایت کے حل ہونے کے بعد اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا ممکن ہے۔ اس لیے شکایت کے اندراج سے لے کر ازالے تک کا پورا عمل زیادہ شفاف اور شہریوں پر مبنی ہو گیا ہے۔ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن کے اس اقدام نے شکایت کے اندراج کے عمل کو آسان، شفاف اور موثر بنا دیا ہے اور شہریوں کو شکایات کے ازالے پر عمل کرنے کے لیے ایک واحد جامع ڈیجیٹل پلیٹ فارم فراہم کیا ہے۔خاص طور پر جب شہری سڑکوں پر گڑھوں کی شکایات درج کراتے ہیں تو متعلقہ محکمے کے لیے فوری کارروائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ اس سے گڑھے کی مرمت کے عمل کو تیز کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اینڈرائیڈ صارفین اپنے اسمارٹ فونز پر مائی بی ایم سی مارگ ایپلیکیشن کو مائی بی ایم سی مارگ – گوگل پلے پر ایپس کا استعمال کرکے ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں اور آئی فون کے صارفین مائی بی ایم سی مارگ ایپ – ایپ اسٹور کو ڈاؤن لوڈ کرسکتے ہیں۔ ممبئی کے لوگ میونسپل کارپوریشن سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ سڑکوں پر گڑھوں سے متعلق تمام شکایات ‘مائی بی ایم سی مارگ سسٹم پر درج کریں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان