Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

مالیگاؤں میں شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کی مخالفت میں شہیدوں کی یادگار پرجمیعت کا دھرنا

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں جمعیت العلماء مالیگاؤں کی جانب سے آج مورخہ 13 دسمبر 2019 جمعہ کے بعد 3تا 5بجے شہیدوں کی یاد گار کے پاس شہریت ترمیمی بل کے خلاف اس احتجاجی مظاہرہ میں عوام اور خواص نے بازوؤں پر کالی پٹی لگا کر شرکت کی . مظاہرین نے پلے کارڈ ہاتھ میں اٹھا کر رکھے تھے جس پر شہریت ترمیمی بل مخالف نعرے درج تھے. شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف مالیگاؤں سراپا احتجاج بن گیا. آج کے اس دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ
یہ حکومت کا بہت پرانا ایجنڈا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا جائے اس کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اس کو بروئے کار لا کر وہ اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگی ہے۔ ہمیں اکثریتی فرقے کے امن پسند لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے کہ مذہب کی بنیاد پر یہ تفریق آئین کے خلاف ہے . رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تانا شاہ کی طرح کام کر رہی ہے ، اس لیے سیکولر زم پر اعتقاد رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے اس ایجنڈے کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت کریں ۔ اس دھرنے میں سرکردہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں . سبھی حضرات نے اجتماعی طورپر شہریت ترمیمی بل کی جم کر مخالفت کی ۔ اسی طرح
کل مورخہ 12 دسمبر بروز جمعرات کی شب حسین سیٹھ کمپاؤنڈ میں شہر کی تمام سنّی تنظیموں کے ذمہ داران اور شہر کے سرکردہ افراد کی مشورتی میٹنگ حاجی یوسف الیاس کی صدارت میں اور فدائے اہلسنت حضرت علامہ مولانا عبدالحئی نسیم القادری صاحب قبلہ کی سرپرستی میں منعقد کی گئی. حافظ سراج احمد رضوی کی قرآت سے میٹنگ کا آغاز ہوا. جس میں موجودہ پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے شہریت ترمیمی بل (کیب) کی مذمت کی گئی اور آنے والے دنوں میں این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو شہریت سے بے دخل کر دینے کی سازش پر احتجاج کیا جانا چاہئے اس تعلق سے مشورہ کیا گیا . بریلی شریف اور ممبئی کے علماء کرام اور قائدین کی جانب سے کئے جا رہے احتجاج کے مد نظر شہر مالیگاؤں میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج درج کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے. جس کے تحت آج 13 دسمبر بروز جمعہ کو نماز جمعہ سے قبل تمام مساجد میں آئمہ کرام اپنی تقریروں میں این آر سی اور شہریت ترمیمی بل کے تعلق سے عوام کو آگاہ کیا اور بیداری پیدا کی. یاد رہے اسی طرح آنے والے جمعہ مورخہ 20 دسمبر کو شام 7 بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں ایک زبردست احتجاجی جلسہ عام ہوگا اس کا بھی اعلان ہوگا. اور اسی جلسہ عام میں علمائے کرام اور قائدین کے مشورے سے نیز عوام کی حمایت سے مالیگاؤں بند کا اور احتجاجی جلوس کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا . میٹنگ میں مدثر رضا نے نعت پاک کا نظرانہ پیش کیا. میٹنگ میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی، صوفی غلام رسول قادری، قاری محمد ہارون رضوی، عمران رضوی، عتیق رضوی، جاوید انور، حاجی حنیف صابر، صادق حسین اشرفی، شکیل ممتا، صوفی انیس احمد قادری، صوفی جمیل احمد ٹیلر قادری ، ریاض احمد قادری عطر والے، نہال شیدائی، الطاف، شبیر ماکڑا، عرفان آمدانی، سہیل تابانی، مرتضیٰ رضوی، حاجی محمد، سلیم شہزاد، رفیق صدرالشریعہ، حافظ شریف، رئیس احمد رضوی، عزیز سر، یعقوب رضوی اور دیگر تنظیموں کے ذمہ داران کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان