Connect with us
Saturday,05-April-2025
تازہ خبریں

سیاست

مالیگاؤں میں شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کی مخالفت میں شہیدوں کی یادگار پرجمیعت کا دھرنا

Published

on

(وفا ناہید)
مالیگاؤں جمعیت العلماء مالیگاؤں کی جانب سے آج مورخہ 13 دسمبر 2019 جمعہ کے بعد 3تا 5بجے شہیدوں کی یاد گار کے پاس شہریت ترمیمی بل کے خلاف اس احتجاجی مظاہرہ میں عوام اور خواص نے بازوؤں پر کالی پٹی لگا کر شرکت کی . مظاہرین نے پلے کارڈ ہاتھ میں اٹھا کر رکھے تھے جس پر شہریت ترمیمی بل مخالف نعرے درج تھے. شہریت ترمیمی بل اور این آر سی کے خلاف مالیگاؤں سراپا احتجاج بن گیا. آج کے اس دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ
یہ حکومت کا بہت پرانا ایجنڈا ہے کہ ہندوستان کو ہندو راشٹر بنا دیا جائے اس کے پاس اقتدار کی طاقت ہے اس کو بروئے کار لا کر وہ اپنے ایجنڈے کو پورا کرنے میں لگی ہے۔ ہمیں اکثریتی فرقے کے امن پسند لوگوں کے ساتھ مل کر اس کے خلاف احتجاج کرنا چاہئے کہ مذہب کی بنیاد پر یہ تفریق آئین کے خلاف ہے . رکن اسمبلی مفتی محمد اسمٰعیل قاسمی نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت تانا شاہ کی طرح کام کر رہی ہے ، اس لیے سیکولر زم پر اعتقاد رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے اس ایجنڈے کی پوری قوت کے ساتھ مخالفت کریں ۔ اس دھرنے میں سرکردہ افراد بڑی تعداد میں شریک ہوئے اور اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں . سبھی حضرات نے اجتماعی طورپر شہریت ترمیمی بل کی جم کر مخالفت کی ۔ اسی طرح
کل مورخہ 12 دسمبر بروز جمعرات کی شب حسین سیٹھ کمپاؤنڈ میں شہر کی تمام سنّی تنظیموں کے ذمہ داران اور شہر کے سرکردہ افراد کی مشورتی میٹنگ حاجی یوسف الیاس کی صدارت میں اور فدائے اہلسنت حضرت علامہ مولانا عبدالحئی نسیم القادری صاحب قبلہ کی سرپرستی میں منعقد کی گئی. حافظ سراج احمد رضوی کی قرآت سے میٹنگ کا آغاز ہوا. جس میں موجودہ پارلیمنٹ میں منظور کئے گئے شہریت ترمیمی بل (کیب) کی مذمت کی گئی اور آنے والے دنوں میں این آر سی کے نام پر مسلمانوں کو شہریت سے بے دخل کر دینے کی سازش پر احتجاج کیا جانا چاہئے اس تعلق سے مشورہ کیا گیا . بریلی شریف اور ممبئی کے علماء کرام اور قائدین کی جانب سے کئے جا رہے احتجاج کے مد نظر شہر مالیگاؤں میں بھی بڑے پیمانے پر احتجاج درج کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے. جس کے تحت آج 13 دسمبر بروز جمعہ کو نماز جمعہ سے قبل تمام مساجد میں آئمہ کرام اپنی تقریروں میں این آر سی اور شہریت ترمیمی بل کے تعلق سے عوام کو آگاہ کیا اور بیداری پیدا کی. یاد رہے اسی طرح آنے والے جمعہ مورخہ 20 دسمبر کو شام 7 بجے اے ٹی ٹی ہائی اسکول میں ایک زبردست احتجاجی جلسہ عام ہوگا اس کا بھی اعلان ہوگا. اور اسی جلسہ عام میں علمائے کرام اور قائدین کے مشورے سے نیز عوام کی حمایت سے مالیگاؤں بند کا اور احتجاجی جلوس کے تعلق سے فیصلہ کیا جائے گا . میٹنگ میں مدثر رضا نے نعت پاک کا نظرانہ پیش کیا. میٹنگ میں ڈاکٹر رئیس احمد رضوی، صوفی غلام رسول قادری، قاری محمد ہارون رضوی، عمران رضوی، عتیق رضوی، جاوید انور، حاجی حنیف صابر، صادق حسین اشرفی، شکیل ممتا، صوفی انیس احمد قادری، صوفی جمیل احمد ٹیلر قادری ، ریاض احمد قادری عطر والے، نہال شیدائی، الطاف، شبیر ماکڑا، عرفان آمدانی، سہیل تابانی، مرتضیٰ رضوی، حاجی محمد، سلیم شہزاد، رفیق صدرالشریعہ، حافظ شریف، رئیس احمد رضوی، عزیز سر، یعقوب رضوی اور دیگر تنظیموں کے ذمہ داران کے علاوہ بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

وقف املاک پر قبضہ مافیا کے خلاف جدوجہد : نئے ترمیمی بل سے مشکلات میں اضافہ

Published

on

Advocate-Dr.-S.-Ejaz-Abbas-Naqvi

نئی دہلی : وقف املاک کی حفاظت اور مستحقین تک اس کے فوائد پہنچانے کے لیے جاری جنگ میں، جہاں پہلے ہی زمین مافیا، قبضہ گروہ اور دیگر غیر قانونی عناصر رکاوٹ بنے ہوئے تھے، اب حکومت کا نیا ترمیمی بل بھی ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔ ایڈووکیٹ ڈاکٹر سید اعجاز عباس نقوی نے اس معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے فوری اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف کا بنیادی مقصد مستحق افراد کو فائدہ پہنچانا تھا، لیکن بدقسمتی سے یہ مقصد مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے۔ دوسری جانب سکھوں کی سب سے بڑی مذہبی تنظیم شرومنی گردوارہ پربندھک کمیٹی (ایس جی پی سی) ایک طویل عرصے سے اپنی برادری کی فلاح و بہبود میں مصروف ہے، جس کے نتیجے میں سکھ برادری میں بھکاریوں اور انسانی رکشہ چلانے والوں کی تعداد تقریباً ختم ہو چکی ہے۔

وقف کی زمینوں پر غیر قانونی قبضے اور بے ضابطگیوں کا انکشاف :
ڈاکٹر نقوی کے مطابق، وقف املاک کو سب سے زیادہ نقصان ناجائز قبضہ گروہوں نے پہنچایا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ اکثر وقف کی زمینیں سید گھرانوں کی درگاہوں کے لیے وقف کی گئی تھیں، لیکن ان کا غلط استعمال کیا گیا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ایک معروف شخصیت نے ممبئی کے مہنگے علاقے آلٹاماؤنٹ روڈ پر ایک ایکڑ وقف زمین صرف 16 لاکھ روپے میں فروخت کر دی، جو کہ وقف ایکٹ اور اس کے بنیادی اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

سیکشن 52 میں سخت ترمیم کا مطالبہ :
ڈاکٹر نقوی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وقف کی املاک فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف ایکٹ کے سیکشن 52 میں فوری ترمیم کی جائے، تاکہ غیر قانونی طور پر وقف زمینیں بیچنے والوں کو یا تو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جا سکے۔ یہ مسئلہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے سرگرم افراد کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے، جو پہلے ہی بدعنوان عناصر اور غیر قانونی قبضہ مافیا کے خلاف نبرد آزما ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومت ان خدشات پر کس حد تک توجہ دیتی ہے اور کیا کوئی موثر قانون سازی عمل میں آتی ہے یا نہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

یوسف ابراہنی کا کانگریس سے استعفیٰ، جلد سماج وادی پارٹی میں شمولیت متوقع؟

Published

on

Yousef Abrahani

ممبئی : ممبئی کے سابق مہاڈا چیئرمین اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہنی نے ممبئی ریجنل کانگریس کمیٹی (ایم آر سی سی) کے نائب صدر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ ان کے اس فیصلے نے مہاراشٹر کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق، یوسف ابراہنی جلد ہی سماج وادی پارٹی (ایس پی) میں شامل ہو سکتے ہیں۔ ان کے قریبی تعلقات سماج وادی پارٹی کے سینئر لیڈر ابو عاصم اعظمی سے مضبوط ہو رہے ہیں، جس کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں کہ وہ سماج وادی پارٹی کا دامن تھام سکتے ہیں۔ یہ قدم مہاراشٹر میں خاص طور پر ممبئی کے مسلم اکثریتی علاقوں میں، سماج وادی پارٹی کے ووٹ بینک کو مضبوط کر سکتا ہے۔ یوسف ابراہنی کی مضبوط سیاسی پکڑ اور اثر و رسوخ کی وجہ سے یہ تبدیلی کانگریس کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ ان کا استعفیٰ اقلیتی ووٹ بینک پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

یوسف ابراہنی کے اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں میں چہ مگوئیاں تیز ہو گئی ہیں۔ تاہم، ان کی جانب سے ابھی تک باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا ہے، لیکن قوی امکان ہے کہ جلد ہی وہ اپنی اگلی سیاسی حکمت عملی کا اعلان کریں گے۔ کانگریس کے لیے یہ صورتحال نازک ہو سکتی ہے، کیونکہ ابراہنی کا پارٹی چھوڑنا، خاص طور پر اقلیتی طبقے میں، کانگریس کی پوزیشن کو کمزور کر سکتا ہے۔ آنے والے دنوں میں ان کی نئی سیاسی راہ اور سماج وادی پارٹی میں شمولیت کی تصدیق پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

Continue Reading

سیاست

وقف بورڈ ترمیمی بل پر دہلی سے ممبئی تک سیاست گرم… وقف بل کے خلاف ووٹ دینے پر ایکناتھ شندے برہم، کہا کہ ٹھاکرے اب اویسی کی زبان بول رہے ہیں

Published

on

uddhav-&-shinde

ممبئی : شیوسینا کے صدر اور ریاست کے نائب وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے پارلیمنٹ میں وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کرنے والے ادھو ٹھاکرے پر سخت نشانہ لگایا ہے۔ شندے نے یہاں تک کہا کہ ادھو ٹھاکرے اب اسد الدین اویسی کی زبان بول رہے ہیں۔ وقف بل کی مخالفت کے بعد ان کی پارٹی کے لوگ ادھو سے کافی ناراض ہیں۔ لوک سبھا میں بل کی مخالفت کرنے والے ان کے ایم پی بھی خوش نہیں ہیں۔ انہوں نے ہندوتوا کی اقدار کو ترک کر دیا ہے, جمعرات کو نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ وقف بورڈ ترمیمی بل کی مخالفت کر کے ادھو نے خود کو بالاصاحب ٹھاکرے کے خیالات سے پوری طرح دور کر لیا ہے۔ اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے آ گیا ہے۔ یقیناً آنے والے دنوں میں عوام ادھو کو سبق سکھائیں گے۔ اس طرح کی مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ادھو کی پارٹی کے اندر بے اطمینانی بڑھ رہی ہے۔ ان کے ذاتی مفادات کی وجہ سے پارٹی کی یہ حالت ہے۔ نائب وزیر اعلیٰ شندے نے کہا کہ ان کی پارٹی کے لوگ راہول گاندھی کے ساتھ زیادہ وقت گزار رہے ہیں، اس لیے ان کے لیڈر اور ادھو بار بار محمد علی جناح کو یاد کر رہے ہیں۔

ڈپٹی چیف منسٹر شندے نے دعویٰ کیا کہ وقف بل کی منظوری کے بعد زبردستی قبضہ کی گئی زمینیں آزاد ہوجائیں گی, جس سے غریب مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ شندے نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ مسلمانوں کو ہمیشہ غریب رکھنا چاہتی ہے اور اس لیے اس بل کی مخالفت کر رہی ہے، وہیں دوسری طرف ادھو ٹھاکرے نے بی جے پی اور شیو سینا کے حملوں پر کہا ہے کہ اس بل کا ہندوتوا سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی جے پی کی پالیسی تقسیم کرو اور حکومت کرو۔ ٹھاکرے نے کہا کہ بالا صاحب ٹھاکرے بھی مسلمانوں کو جگہ دینے کے حق میں تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com