Connect with us
Monday,22-June-2026

سیاست

آصف شیخ رشید کا فیصلہ کن جلسہ عام تاریخی حیثیت اختیار کرگیا شہر کی تعمیر و ترقی اور مستقبل کے لائحۂ عمل ڈرافٹ کمیٹی کی شفارشات پر یقین دہانی کرنے والی پارٹی میں شمولیت کا اعلان

Published

on

asif-rashid-shaikh-malegaon

مالیگاؤں(پریس ریلیز ) :
کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد سابق رکن اسمبلی کس سیاسی پارٹی میں شامل ہوں گے اس بات کو لیکر مختلف قیاس آرائیوں کے بعد گذشتہ روز مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس رونق آباد چوک پر ایک فیصلہ کن جلسہ عام کا انعقاد ہوا جو تاریخی حیثیت اختیار کرگیا۔ حالاں کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل بورڈ اور ہورڈنگنس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹ اور اسٹیکر کے ذریعہ نوجوانوں کا جوش و خروش اس جلسہ کی کامیابی کا ضامن بنا ہوا تھا۔ جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے بعد شہر کی شاہراہوں اور اہم راستوں پر نوجوانوں کا غول موٹر سائیکل پر آصف شیخ رشید کے کٹ آؤٹ کیساتھ “آصف صاحب جدھر ہم ادھر” چلو ایک پہل کی جائے۔۔۔۔۔نئے راستے کی اور”آصف صاحب آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں” اور دیگر انقلابی نعروں کیساتھ شہر کا گشت کرتا دکھائی دیا۔ مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس شام سے ہی جلسہ کی تیاریاں جاری تھیں۔

فیصلہ کن جلسہ عام میں عوام کی بھیڑ نے اس علاقہ میں ہونے والے ہر جلسہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جس طرف نظر جاتی سروں کا سمندر دکھائی دیتا۔ یہ حقیقت ہیکہ اس بھیڑ میں کانگریس پارٹی سے منسلک ان نوجوانوں کی اکثریت رہی جو سوشل میڈیا پر سرگرم رہا کرتے ہیں اور آصف شیخ رشید کے ذریعہ چلائی جانے والی ہر تحریک جیسے مسلم ریزرویشن فیڈریشن، انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی، مآب لنچنگ مخالف تحریک، اردو میلہ، میں تن من اور دھن کیساتھ شریک رہے۔ ان کے پرجوش نعروں سے اطراف کا علاقہ گونج اٹھتا۔

اس گہما گہمی کے دوران سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے 21,رکنی ڈرافٹ کمیٹی کے ذریعہ شہر کی فلاح و بہبود اور کارو باری اور معاشی ترقی، نوجوانوں کو روزگار، تعلیم، اور گنگا جمنی تہذیب اور روایت کو قائم رکھنے کیلئے جو نکات ظاہر کئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے جو سیاسی پارٹی یقین دہانی کروائے گی اس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کیساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے شہر کے چوک چوراہوں اور عوام سے مشورہ کیا اور ان کی رائے طلب کی ان میں تقریباً ستر فیصد لوگوں نے راشٹروادی کانگریس کو اولیت دی جبکہ خود ان کا اپنا مزاج بھی نوے فیصد راشٹروادی کانگریس کو ہی ترجیح دینے کا ہے۔ لیکن عوامی رائے اور ڈرافٹ کمیٹی کے مسودہ پر سیاسی جماعتوں سے گفتگو کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کا اعلان کیا جائیگا۔ دوسری طرف موجودہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ جن سوراجیہ شکتی پارٹی کے نشان پر 2009 سے 2014 تک اسمبلی میں نمائندگی کرنے اور اسمبلی اجلاس کو پکنک پوائنٹ بتلانے کے علاوہ ڈنڈی مار آمدار کا خطاب حاصل کرلینے اور پھر دوبارہ نمائندگی حاصل ہونے پر تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شہری مسائل پر حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کرنے اور پہلی بار آموختہ کرکے بولنے پر حضرت والا کے جاننے اور ماننے والوں کی جانب سے استقبال کرنے پر شہر میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ شہری مسائل کے متعلق اسمبلی میں آواز اٹھانا شہری نمائندہ کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اسمبلی میں آواز بلند کرکے انہوں سے اہلیانِ شہر پر کوئی احسان نہیں کیا۔کیونکہ انہیں اسی مقصد کے تحت شہری عوام نے منتخب کیا ہے۔ موصوف کا استقبال کرنے کی بجائے شہر کے مسائل کو ان کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہیئے۔ ساتھ ہی اس بات پر نظر رکھنا چاہیئے کہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ نے اگر نشیلی ادویات اور غیر قانونی کاروبار کیلئے آواز اٹھائی ہے تو پولیس ڈیپارٹمینٹ ان غیر قانونی کاروبار کیخلاف کیا اقدامات اٹھاتا ہے یا شہر میں غنڈہ گردی، لوٹ مار، قتل و غارتگری، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کتنا فرق پڑتا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ہم اپنے نمائندہ کے اثر ورسوخ کا احاطہ کرسکتے ہیں۔ استقبال کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان