Connect with us
Saturday,26-September-2026
تازہ خبریں

سیاست

آصف شیخ رشید کا فیصلہ کن جلسہ عام تاریخی حیثیت اختیار کرگیا شہر کی تعمیر و ترقی اور مستقبل کے لائحۂ عمل ڈرافٹ کمیٹی کی شفارشات پر یقین دہانی کرنے والی پارٹی میں شمولیت کا اعلان

Published

on

asif-rashid-shaikh-malegaon

مالیگاؤں(پریس ریلیز ) :
کانگریس سے استعفیٰ دینے کے بعد سابق رکن اسمبلی کس سیاسی پارٹی میں شامل ہوں گے اس بات کو لیکر مختلف قیاس آرائیوں کے بعد گذشتہ روز مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس رونق آباد چوک پر ایک فیصلہ کن جلسہ عام کا انعقاد ہوا جو تاریخی حیثیت اختیار کرگیا۔ حالاں کہ گذشتہ کئی دنوں سے شہر کے مختلف علاقوں میں ڈیجیٹل بورڈ اور ہورڈنگنس کے علاوہ سوشل میڈیا پر مختلف پوسٹ اور اسٹیکر کے ذریعہ نوجوانوں کا جوش و خروش اس جلسہ کی کامیابی کا ضامن بنا ہوا تھا۔ جمعہ کے روز جمعہ کی نماز کے بعد شہر کی شاہراہوں اور اہم راستوں پر نوجوانوں کا غول موٹر سائیکل پر آصف شیخ رشید کے کٹ آؤٹ کیساتھ “آصف صاحب جدھر ہم ادھر” چلو ایک پہل کی جائے۔۔۔۔۔نئے راستے کی اور”آصف صاحب آگے بڑھو، ہم تمہارے ساتھ ہیں” اور دیگر انقلابی نعروں کیساتھ شہر کا گشت کرتا دکھائی دیا۔ مالیگاؤں ہائی اسکول کے پاس شام سے ہی جلسہ کی تیاریاں جاری تھیں۔

فیصلہ کن جلسہ عام میں عوام کی بھیڑ نے اس علاقہ میں ہونے والے ہر جلسہ کا ریکارڈ توڑ دیا۔ جس طرف نظر جاتی سروں کا سمندر دکھائی دیتا۔ یہ حقیقت ہیکہ اس بھیڑ میں کانگریس پارٹی سے منسلک ان نوجوانوں کی اکثریت رہی جو سوشل میڈیا پر سرگرم رہا کرتے ہیں اور آصف شیخ رشید کے ذریعہ چلائی جانے والی ہر تحریک جیسے مسلم ریزرویشن فیڈریشن، انسانیت بچاؤ سنگھرش سمیتی، مآب لنچنگ مخالف تحریک، اردو میلہ، میں تن من اور دھن کیساتھ شریک رہے۔ ان کے پرجوش نعروں سے اطراف کا علاقہ گونج اٹھتا۔

اس گہما گہمی کے دوران سابق رکن اسمبلی آصف شیخ رشید نے 21,رکنی ڈرافٹ کمیٹی کے ذریعہ شہر کی فلاح و بہبود اور کارو باری اور معاشی ترقی، نوجوانوں کو روزگار، تعلیم، اور گنگا جمنی تہذیب اور روایت کو قائم رکھنے کیلئے جو نکات ظاہر کئے ہیں ان کی تکمیل کیلئے جو سیاسی پارٹی یقین دہانی کروائے گی اس پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کیساتھ ہی یہ اعلان بھی کیا کہ ہم نے شہر کے چوک چوراہوں اور عوام سے مشورہ کیا اور ان کی رائے طلب کی ان میں تقریباً ستر فیصد لوگوں نے راشٹروادی کانگریس کو اولیت دی جبکہ خود ان کا اپنا مزاج بھی نوے فیصد راشٹروادی کانگریس کو ہی ترجیح دینے کا ہے۔ لیکن عوامی رائے اور ڈرافٹ کمیٹی کے مسودہ پر سیاسی جماعتوں سے گفتگو کرنے کے بعد حتمی فیصلہ کا اعلان کیا جائیگا۔ دوسری طرف موجودہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ جن سوراجیہ شکتی پارٹی کے نشان پر 2009 سے 2014 تک اسمبلی میں نمائندگی کرنے اور اسمبلی اجلاس کو پکنک پوائنٹ بتلانے کے علاوہ ڈنڈی مار آمدار کا خطاب حاصل کرلینے اور پھر دوبارہ نمائندگی حاصل ہونے پر تقریباً ڈیڑھ سال کے بعد اسمبلی کے بجٹ اجلاس میں شہری مسائل پر حکومت سے نمائندگی کا مطالبہ کرنے اور پہلی بار آموختہ کرکے بولنے پر حضرت والا کے جاننے اور ماننے والوں کی جانب سے استقبال کرنے پر شہر میں حیرت کا اظہار کیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ شہری مسائل کے متعلق اسمبلی میں آواز اٹھانا شہری نمائندہ کی ذمہ داری اور فرض ہے۔ اسمبلی میں آواز بلند کرکے انہوں سے اہلیانِ شہر پر کوئی احسان نہیں کیا۔کیونکہ انہیں اسی مقصد کے تحت شہری عوام نے منتخب کیا ہے۔ موصوف کا استقبال کرنے کی بجائے شہر کے مسائل کو ان کے سامنے اجاگر کرتے ہوئے ذمہ داریوں کا احساس دلانا چاہیئے۔ ساتھ ہی اس بات پر نظر رکھنا چاہیئے کہ مجلسی ایم۔ایل۔اے۔ نے اگر نشیلی ادویات اور غیر قانونی کاروبار کیلئے آواز اٹھائی ہے تو پولیس ڈیپارٹمینٹ ان غیر قانونی کاروبار کیخلاف کیا اقدامات اٹھاتا ہے یا شہر میں غنڈہ گردی، لوٹ مار، قتل و غارتگری، چوری اور ڈکیتی کی وارداتوں میں کتنا فرق پڑتا ہے۔ اس کا جائزہ لینے کے بعد ہی ہم اپنے نمائندہ کے اثر ورسوخ کا احاطہ کرسکتے ہیں۔ استقبال کرنے سے یہ مسائل حل نہیں ہوسکتے۔اس بات کو بھی دھیان میں رکھنا چاہیئے۔

سیاست

’بی جے پی گیانیش کمار کو بچا رہی ہے،‘ پرینکا گاندھی نے کہا کہ ای سی آئی کے معاملے پر انڈیا بلاک پارٹیاں متحد ہے۔

Published

on

ملاپورم : کانگریس ایم پی پرینکا گاندھی واڈرا نے ہفتہ کے روز بی جے پی قیادت پر چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کو “بچانے” کا الزام لگاتے ہوئے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی “قیادت کے تعاون کے بغیر جمہوریت کے خلاف جرائم کا ارتکاب نہیں کر سکتا”۔ واڈرا نے یہ بھی کہا کہ انڈیا بلاک پارٹیاں الیکشن کمیشن آف انڈیا کے خلاف الزامات پر متحد ہیں۔ کیرالہ کے ملاپورم کے دورے کے دوران نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے واڈرا نے کہا: “انڈیا اتحاد بہت واضح ہے۔ اتحاد کا ہر ایک لیڈر، ہر ایک پارٹی اس بات پر پوری طرح متفق ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ بالکل غیر قانونی، خلاف آئین اور ہماری قوم اور جمہوریت کے خلاف ہے۔ کہ الیکشن کمشنر کو فراہم کردہ قانونی تحفظات، جو اس بی جے پی کی زیر قیادت حکومت نے قائم کیے ہیں، کو ہٹانے کی ضرورت ہے، اگر کوئی ہمارے ملک کے خلاف، اس آئین کے خلاف غیر قانونی کام کر رہا ہے، تو ان کے خلاف مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” اس دوران، 30 ستمبر کو انڈیا بلاک پارٹیوں کی ای سی آئی اختلاف رائے اور دیگر مسائل پر ملاقات ہونے کا امکان ہے۔

سی ای سی گیانیش کمار پر “غداری” کا الزام لگاتے ہوئے، کانگریس کے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا: “ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جانا چاہیے۔” “بی جے پی چیف الیکشن کمشنر کی حفاظت کر رہی ہے، لیکن اہم بات یہ ہے کہ وہ اپنی قیادت کی حفاظت کر رہے ہیں۔ اگر سی ای سی جمہوریت کے خلاف اتنا سنگین جرم کر رہا ہے، تو یہ عملی طور پر ناممکن ہے کہ وہ قیادت کی مکمل حمایت کے بغیر ایسا کر رہا ہو”۔ لوک سبھا، راہول گاندھی کے مطالبے پر، انہوں نے بھی سی ای سی کمار کا استعفیٰ طلب کیا۔ مزید برآں، واڈرا نے بی جے پی کے خلاف اپنے سابقہ ​​الزامات کو دہرایا، پارٹی کو “اوور کنفیڈنٹ” قرار دیا۔” لوگوں نے ہر الیکشن سے پہلے ان کے (بی جے پی) کے حد سے زیادہ پراعتماد بیانات دیکھے ہیں، جو انہیں ملنے والی سیٹوں کی صحیح تعداد کا اندازہ لگا رہے ہیں۔ وہ کہاں سے خوش ہیں کہ وہ ہندوستان سے اس بات پر خوش نہیں ہیں کہ آپ اس سے خوش ہیں۔ لوگوں سے زمین پر سننا کچھ اور ہے، اور جو آپ انتخابی نتائج کے طور پر دیکھ رہے ہیں وہ کچھ اور ہے،” انہوں نے دعویٰ کیا۔

Continue Reading

سیاست

ٹھاکرے برادران نے ایس آئی آر عمل کے خلاف 4 اکتوبر کو ممبئی میں احتجاجی ریلی کا کیا اعلان، اپوزیشن جماعتوں کو مدعو کیا۔

Published

on

ممبئی : مہاراشٹر نو نرمان سینا (ایم این ایس) کے سربراہ راج ٹھاکرے اور شیو سینا (یو بی ٹی) کے رہنما ادھو ٹھاکرے نے ہفتہ کو الیکشن کمیشن آف انڈیا پر بندوقیں چلائیں، مہاراشٹر کے لوگوں کو ایک مشترکہ کال جاری کی اور 4 اکتوبر کو ممبئی میں ایک عظیم عوامی احتجاجی ریلی کا اعلان کیا۔ مرکز میں حکمراں جماعت کا ونگ۔ جب کہ ایم این ایس اور شیوسینا یو بی ٹی مظاہرے کے لیے تنظیمی بنیادوں کی قیادت کر رہے ہیں، رہنماؤں نے زور دیا کہ یہ احتجاج متعصبانہ سیاست سے بالاتر ہے۔ 4 اکتوبر کی ریلی کو ایک عوامی عوامی تحریک کے طور پر وضع کرتے ہوئے، منتظمین نے تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بات چیت کرنے کے منصوبے کی تصدیق کی۔

“یہ عوام کی ریلی ہے۔ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ یہ کسی ایک پارٹی تک محدود نہ رہے بلکہ پورے سیاسی نظام اور شہریوں کی اجتماعی آواز بن جائے، ہم اس محاذ میں شامل ہونے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں تک پہنچیں گے۔” بیان میں کہا گیا کہ آنے والے ایجی ٹیشن کو ملک کے جمہوری ڈھانچے کی حفاظت کے لیے فیصلہ کن جنگ کے طور پر بنایا گیا ہے۔ ایس آئی آر کے عمل کے تحت قائدین ادارہ جاتی تعصب اور ووٹر لسٹ میں ہیرا پھیری کے خلاف سخت احتجاج درج کریں۔ 4 اکتوبر کی ممبئی ریلی کے مقام اور صحیح وقت کا باضابطہ طور پر جلد ہی اعلان کیا جائے گا۔ c کہ “بڑی تعداد میں اس ریلی میں شرکت کریں۔ اس ملک کی جمہوریت اور اس ملک کے آئین کو بچانے کے لیے ایک ساتھ آئیں!” اس سے قبل، بی جے پی اور چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) پر سخت حملہ کرتے ہوئے، راجیش کمار کے جاری کردہ کمیشن کے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر) کا عمل۔ اس نے حکمراں جماعت پر الزام لگایا کہ وہ “اقتدار پر نہ ختم ہونے والی گرفت” کو برقرار رکھنے کے لیے اہم ادارہ جاتی شخصیات کا فائدہ اٹھا رہی ہے اور ملک بھر کی تمام اپوزیشن جماعتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کاغذی بیلٹ واپس لانے کے لیے بڑے پیمانے پر ایجی ٹیشن کے لیے متحد ہوں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی اور مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا

Published

on

visarjan & police

ممبئی : ممبئی سمیت مہاراشٹر بھر میں گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ ممبئی میں سب سے طویل ممبئی کا لال باغ کا راجہ کا جلوس صبح 11 بجے اس وقت اختتام پذیر ہوا, جب گنپتی بھکتوں نے اپنی بپا کو پرنم آنکھوں سے گرگاؤں چوپاٹی پر الوداع کہا اور جل پرواہ یعنی وسرجن کے ساتھ ممبئی میں لال باغ کا راجہ کا جلوس ختم ہوگیا, اتنا ہی نہیں مہاراشٹر کے مختلف اضلاع میں وسرجن کے دوران امن وامان برقرار رکھا جبکہ کولہاپور میں گنپتی مورتی الیکٹرک تار سے ٹکرائی, جس کے سبب اسے نقصان پہنچا اس کے ساتھ ہی ناسک میں گانا بجانے کو لے کر دو گروپ میں تنازع پیدا ہوگیا اور دو زخمی ہوگئے دونوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا اورنگ آباد میں گنپتی وسرجن کے جلوس میں منڈلوں کے گنپتی جلوس آگے پیچھے لینے کے تنازع میں ٹکراؤ ہوا, جس کے بعد پولیس نے اسے حل کر لیا اس کے ساتھ ہی ناسک میں ڈی جے نہ بجانے کے حکم کے خلاف منڈلوں نے احتجاج کیا, لیکن پولیس کا معاملہ حل کرنے کے بعد جلوس دوبارہ شروع کر دیا گیا, تھانہ میں بھی گنپتی وسرجن پرامن طریقے سے اختتام پذیر ہوگیا۔ تھانہ پولیس کمشنر آشوشوس ڈومبرے نے سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی کیا تھا, یہی وجہ ہے کہ تھانہ میں بھی ایک بھی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ مہاراشٹر بھر میں ڈی جی پی سدا نند داتے نے ضروری ہدایت جاری کی تھی اس کے علاوہ الرٹ جاری کیا گیا تھا, یہی وجہ ہے کہ مہاراشٹر میں گنپتی وسرجن پرامن رہا۔ ممبئی شہر میں پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی سربراہی میں پرامن گنپتی وسرجن سر انجام دیا گیا۔ ممبئی میں تمام حفاظتی انتظامات پختہ کئے گئے تھے۔ لال باغ کے راجہ کے روٹ سے لے کر حساس علاقوں پر خصوصی پہرہ لگایا گیا تھا۔ مہاراشٹر اور ممبئی میں گنپتی وسرجن پرامن اختتام پذیر ہونے کے بعد پولیس نے چین کی سانس لی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان