Connect with us
Thursday,24-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

لوک مانیہ تلک جنرل اسپتال میں ڈیجیٹل ادائیگی کی سہولیات دستیاب کرائی جائیں گی، ایڈیشنل میونسپل کمشنر کی ہدایت

Published

on

Lokmanya-Tilak-G.-Hospital

ممبئی : ممبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں مختلف طبی علاج کے خواہشمند مریضوں کی بڑی تعداد دیکھنے میں آتی ہے۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (سٹی) پراجکتا ورما لاونگارے نے ہدایت دی ہے کہ صحت کی دیکھ بھال کی مختلف خدمات کے لیے نقد اور ڈیجیٹل ادائیگی دونوں کے اختیارات دستیاب کرائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو ہسپتال کے اندر مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کی بھی ہدایت کی۔ سائن کے لوک مانیا تلک جنرل ہسپتال میں فی الحال صلاحیت میں توسیع کا منصوبہ جاری ہے۔ پراجکتا ورما لاونگارے نے توسیعی کام کی پیشرفت کا ذاتی طور پر معائنہ کرنے کے لیے آج (8 اگست 2026) ہسپتال کا دورہ کیا۔ انہوں نے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ، مختلف وارڈز، ایم آئی سی یو، اور سی سی ٹی وی کنٹرول روم سمیت دیگر علاقوں کا دورہ کیا۔

مریضوں اور ان کے لواحقین کو فی الحال مختلف طبی خدمات، جیسے ایکس رے، ایم آر آئی اسکین، آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) کیس پیپرز، اور طبی خدمات کی فیس کے لیے نقد ادائیگی کرنی پڑتی ہے۔ ان مقامات پر ڈیجیٹل ادائیگیوں کی سہولت کے لیے پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) مشینیں فراہم کی جانی چاہئیں۔ مزید برآں، ہسپتال کے اندر قطاروں کو کم کرنے میں مدد کے لیے ڈیجیٹل ادائیگیوں کے لیے ایک وقف کاؤنٹر قائم کیا جانا چاہیے۔ محترمہ ورما لاونگارے نے نوٹ کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگی کے اختیارات شہریوں، مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کو زیادہ سہولت فراہم کریں گے۔ ڈپٹی کمشنر (پبلک ہیلتھ) شرد اوگھاڈے، ڈپٹی کمشنر (زون-2) پرشانت ساپکلے، ڈائرکٹر (میڈیکل ایجوکیشن اینڈ میجر ہاسپٹل) ڈاکٹر شیلیش موہتے اور اسسٹنٹ کمشنر (ایف نارتھ) مسٹر ارون کشر ساگر سمیت افسران اور عملہ موجود تھا۔

مسز ورما-لاونگرے نے ہسپتال کی مرکزی عمارت (فیز 2اے)، آنکولوجی کی عمارت اور دیگر علاقوں میں جاری کاموں کا معائنہ کیا، جبکہ پروجیکٹ کی حالت کا بھی جائزہ لیا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ نئے ترقی پذیر ہسپتال کے اندر شہریوں کے ساتھ ساتھ رہائشی ڈاکٹروں اور عملے کے لیے تفریحی مقامات بنائے جائیں۔ انہوں نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ وہ ہسپتال کے داخلی دروازے اور احاطے کے اندر شہریوں کے لیے رکاوٹوں سے پاک واک ویز کی دستیابی کو یقینی بنائے۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت کی کہ کنٹرول روم میں عملے کو باقاعدگی سے تعینات کیا جائے ہسپتال میں کام کرنے والے عملے کی سی سی ٹی وی کنٹرول روم کے ذریعے نگرانی کی جانی چاہیے تاکہ ملازمین اپنے مقررہ وقت سے پہلے احاطے سے نکل جائیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ برہان ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) ہیڈکوارٹر میں انسانی وسائل کا محکمہ پہلے ہی مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے عملے کی حاضری کی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید ہدایت کی کہ کنٹرول روم سے چلنے والے پبلک ایڈریس سسٹم کے نفاذ کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

ہسپتال میں صفائی ستھرائی کو ترجیح دیتے ہوئے انہوں نے سٹاف کو مخصوص یونیفارم فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ ہسپتال کو چوہا اور آوارہ کتوں کی اذیت سے پاک رکھنے کے لیے بھی اقدامات کیے جائیں۔ ایڈیشنل میونسپل کمشنر (شہر) پراجکتا ورما-لاونگارے نے ہدایت دی کہ ہسپتال میں ہاسپٹل مینجمنٹ انفارمیشن سسٹم (ایچ ایم آئی ایس) کو لاگو کیا جائے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

رئیس شیخ کا مطالبہ… سی ایم دیویندر فڑنویس کو لکھا خط، جسٹس چوہان کے استعفے سے خالی ہونے والی نشست پر اقلیتی برادری کو موقع دیا جائے

Published

on

Raees

ممبئی : مہاراشٹر یو سی سی (یونیفارم سول کوڈ) ڈرافٹ کمیٹی سے ریٹائرڈ جسٹس آر سی چوہان نے استعفیٰ دے دیا ہے، اور ان کی جگہ اقلیتی برادری کو نمائندگی دی جانی چاہیے۔ بھیونڈی ایسٹ سے سماج وادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے یہ مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمیٹی کے وقار اور ساکھ میں اضافہ ہوگا۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے اس معاملے پر وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کو خط لکھا ہے۔“اس مسئلے پر بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے نشاندہی کی کہ مہاراشٹر یو سی سی ڈرافٹ کمیٹی جولائی میں سپریم کورٹ کی ریٹائرڈ جسٹس رنجنا دیسائی کی سربراہی میں تشکیل دی گئی تھی۔ اس کمیٹی کی مدت چھ ماہ ہے۔ کمیٹی میں اقلیتی برادری کا ایک بھی نمائندہ شامل نہیں ہے۔ نتیجتاً، کمیٹی کو شک کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے اور جسٹس چوہان کے استعفے نے اس کی ساکھ کو مزید مجروح کیا ہے۔ یو سی سی کا مسودہ تیار کرنے کے بی جے پی کے اقدام کے پیچھے ایک سیاسی ایجنڈا کارفرما ہے۔ مرکز اور ریاستی سطح پر بی جے پی کی قیادت والی ‘مہایوتی’ حکومتیں انتخابات کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اس قانون کے نفاذ کے لیے زور دے رہی ہیں۔ اس قانون سے ملک کے ثقافتی تنوع کے ختم ہونے کا خطرہ ہے۔ مزید برآں، اس سے مختلف مذاہب میں طلاق، وراثت، شادی اور گود لینے کے معاملات پر لاگو ہونے والے پرسنل لاز (ذاتی قوانین) عملی طور پر ختم ہو جائیں گے۔ رکن اسمبلی شیخ نے کہا کہ انہی وجوہات کی بنا پر اقلیتی برادری یو سی سی کو شک کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ بی جے پی اس یو سی سی قانون کے ذریعے اکثریتی طبقے کے اصول و ضوابط مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ مجوزہ قانون سازی کے بارے میں شکوک و شبہات کو دور کرنے اور ڈرافٹ کمیٹی کے خلاف اٹھائے گئے اعتراضات کا ازالہ کرنے کے لیے، کمیٹی میں اقلیتی برادری کے کسی نمائندے کو شامل کرنا ضروری ہے۔ رکن اسمبلی رئیس شیخ نے دعویٰ کیا کہ اس قانون سے اقلیتی برادری اور قبائلی لوگ بری طرح متاثر ہوں گے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

سوشل میڈیا پر شدت پسندی اور گمراہ کن پروپیگنڈوں سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت

Published

on

Abu-Asim-Azmi

ممبئی : مہاراشٹر سماجوادی پارٹی لیڈر اور رکن اسمبلی ابوعاصم اعظمی نے مہاراشٹر اور ملک میں شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال سے متعلق نوجوانوں میں بیداری پیدا کرنے کو لے کر آج اے ٹی ایس سربراہ نول بجاج سے ملاقات کی ان کے ہمراہ جماعت اسلامی کا وفد بھی شریک تھا اس وفد نے نول بجاج سے مختلف مسائل پر گفتگو کی اس کے ساتھ ہی دہشت گرد ی کے خلاف تحریک چلانے کا بھی ابوعاصم اعظمی نے عزم کیا ملاقات کے دوران نول بجاج کو جماعتِ اسلامی کی جانب سے عوامی رابطے اور سماجی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ، موجودہ حالات اور معاشرے سے متعلق مختلف اہم امور پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیر منصفانہ یا غیر قانونی گرفتاریوں پر پائے جانے والے خدشات اور نوجوانوں کو انتہا پسندی کی جانب مائل ہونے سے روکنے کی حکمتِ عملیوں پر مثبت اور تعمیری بات چیت ہوئی۔ نوجوانوں میں مناسب رہنمائی، کھلے مکالمے اور مثبت ماحول کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی غور و خوض کیا گیا تاکہ نوجوان گمراہ کن پروپیگنڈوں سے دور رہیں اکثر و بیشتر سوشل میڈیا پر کسی تبصرہ کو لے کر نوجوانوں کو مصیبت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس لیے نوجوان کو سوشل میڈیا کا استعمال انتہائی احتیاط سے کرنا چاہیے اور اس میں شرانگیزی اور قابل اعتراض مشمولات سے گریز کرنا چاہیے اس کے ساتھ ہی ممنوعہ تنظیموں سے بھی دور رہنا ضروری ہے جو ان دنوں سوشل میڈیا کے معرفت نوجوانوں کو ورغلا رہی ہے اس سے نوجوانوں کو محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ وفد میں حسیب بھٹکر، ظفر انصاری، عبدالمجیب شیخ، شاکر شیخ اور ہمایوں شیخ شامل تھے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان