Connect with us
Sunday,24-May-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

این پی آر کی مخالفت میں مشترکہ اقدام کے لیے آج دفتر رضا اکیڈمی پر اہم مشورتی میٹنگ کا انعقاد

Published

on

(نامہ نگار)
این پی آر کی مخالفت میں شہری سطح پر تعلیمی سماجی اور سیاسی ومذہبی جماعتوں کی جانب سے ایک مشترکہ فیصلہ کیا جائے اور اس کا اعلان کیا جائے رضا اکیڈمی کی اس تجویز کا شہر بھر میں خیر مقدم کیا جارہا ہے، آج رات ساڑھے نو بجے دفتر رضا اکیڈمی پر اس ضمن میں پہلی میٹنگ کا انعقاد کیا جارہا ہے، آج بھی رضا اکیڈمی کے وفد نے شہر کی اہم شخصیات سے ملاقات کے لیے شہر کا دورہ کیا.
مالیگاؤں میونسپل کارپوریشن کے سابق صدر بلدیہ اور مجلس اتحاد المسلمین کے سرپرست حاجی یونس عیسی صاحب سے بھی رضا اکیڈمی کے وفد نے ملاقات کی، اُن کی عیادت کی اور این پی آر سے متعلق حالاتِ حاضرہ پر تبادلہء خیال کیا. اس موقع پر سابق صدر بلدیہ شیخ یونس عیسی نے رضا اکیڈمی کے ذریعہ پیش کردہ تجویز کی کھل کر تائید وحمایت کی اور کہا کہ این پی آر ہی این آر سی کا دروازہ ہے جو ملک کے شہریان کو کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں. این پی آر کو لے کر مہاراشٹر حکومت کے غیر یقینی موقف اور سروے کی تیاریوں کے درمیان مالیگاؤں میں شہری سطح پر ایک رائے قائم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے رضا اکیڈمی نے پہل کی اور تمام سیاسی سماجی مذہبی اور تعلیمی سرکردہ افراد کے مشترکہ اعلامیہ کی کوشش کررہی ہے. میری اس تحریک کو تائید وحمایت ہے.
مشہور دانشور ومحقق ڈاکٹر الیاس وسیم صدیقی نے این پی آر کے تعلق سے شہر کے تمام دانشوروں، سیاسی قائدین اور مذہبی رہنماؤں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی سراہنا کی اور رضا اکیڈمی مالیگاؤں کے اس اقدام پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے طور پر ہر ممکن تعاون اور حمایت کا تیقن دیا- آل انڈیا سیکنڈری ٹیچرس فیڈریشن کے سکریٹری جناب غفران انصاری سر نے رضا اکیڈمی کے ذریعہ شہریان کو پیش کردہ تجویز کی مکمل تائید وحمایت کی، آپ نے کہا کہ شہری سطح پر تمام سیاسی، سماجی، تعلیمی اور مذہبی تنظیموں کا مشترکہ اعلان نامہ ظاہر ہونا چاہیے. فیڈریشن سے منسلک تمام تنظیمیں رضا اکیڈمی کے اس اقدام کی مکمل تائید وحمایت کرتی ہیں. آل انڈیا سنّی جمیعۃ العلماء کے سرپرست الحاج قاری زین العابدین صاحب نے این پی آر مخالف رضا اکیڈمی کی بر وقت حکمت عملی کی سراہنا کی اور کہا کہ ہم رضا اکیڈمی کے اس اقدام کی تائید وحمایت کرتے ہیں، شہری سطح پر این پی آر مخالف مشترکہ لائحہ عمل وقت کی ضرورت ہے. جنتادل کے سکریٹری مستقیم ڈگنٹی صاحب سے ہوئی گفتگو میں آپ نے کھل کر کہا کہ ملک کی ایک اہم ریاست بہار میں این ڈی اے کی حکومت جب نئے این پی آر کی بجائے سینسس اور پرانے طرز کے این پی آر پر متفق ہوچکی ہے تو مہاراشٹر حکومت کو بھی کوئی دقت نہیں ہونا چاہیے اور کھل کر حکومت کو اعلان کرنا چاہیے کہ نیا این پی آر نہیں ہوگا. 2010 کے مطابق کالم پر ہی سروے ہوگا، اگر ایسا ہوتا ہے تو عوام تعاؤن کرے گی لیکن اسکے خلاف ہوتا ہے تو شہری سطح پر تمام سیاسی سماجی مذہبی اور تعلیمی شخصیات کو ایک رائے سے شہریان کی رہنمائی کرنا چاہیے اس کے لئے رضا اکیڈمی کوشاں ہے، ہم رضا اکیڈمی کے اس اقدام کے ساتھ ہیں. سابق نائب مئیر جمیل سیٹھ زر والا سے ہوئی گفتگو میں آپ نے بھی رضا اکیڈمی کے اس اقدام کی تائید کی اور شہری سطح پر ایک رائے بننا چاہیے اس کی حمایت کی اور کہا کہ جب بھی رضا اکیڈمی اس عنوان پر ہمیں یاد کرے گی ہم پوری طرح ساتھ دیں گے. این پی آر سے متعلق شہری سطح پر ایک رائے بنانے کے لیے حاجی حنیف صابر صاحب، الحاج جمیل کرانتی صاحب اور پروفیسر عبدالمجید صدیقی صاحب کے توسط سے رضا اکیڈمی شہر کی مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں سے رابطہ کررہی ہے.

ممبئی پریس خصوصی خبر

باندرہ غریب نگر انہدامی کارروائی : ایکس اکاؤنٹ پر افواہ پھیلانے والے اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج, مذہبی منافرت پھیلانے کا الزام

Published

on

Bandra-Demolition

ممبئی : ممبئی کے باندرہ غریب نگر میں انہدامی کارروائی سے متعلق افواہ پھیلانے کے معاملہ میں سائبر پولیس نے ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر کیس درج کرنے کا دعوی کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دوپہر ایک ایکس اکاؤنٹ پر یہ افواہ پھیلائی گئی کہ دوسرے روز بھی باندرہ میں انہدامی کارروائی کے دوران ہنگامہ آرائی اور تشدد برپا ہوا, جس کے بعد سائبر باندرہ نے کیس درج کرنے کے بعد تفتیش شروع کر دی ہے۔ ایکس اکاؤنٹ ہولڈر پر دو فرقوں میں نفرت پھیلانے اور بدامنی پھیلانے کا الزام ہے۔ اس معاملہ میں پولیس مزید تفتیش کر رہی ہے۔

ممبئی پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ کسی بھی قسم کے متنازع اور قابل اعتراض مشمولات سوشل میڈیا پر شیئر نہ کریں سوشل میڈیا پر گمراہ کن پروپیگنڈے چلانے اور بے بنیاد افواہ پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ اس کے ساتھ ہی سوشل میڈیا کے استعمال میں احتتاط برتنے کی بھی پولیس نے درخواست کی ہے۔ پولیس نے شہریوں سے کہا ہے کہ وہ بلا کسی تصدیق غیر مصدقہ اطلاعات سوشل میڈیا پر عام نہ کرے اگر کوئی اس قسم کے مشمولات شائع کرتا ہے یا اسے سوشل میڈیا پر عام کرتا ہے تو اس کے خلاف کارروائی ہوگی۔ ممبئی پولیس کی اس کارروائی کے بعد سوشل میڈیا پر مونیٹرنگ بھی شروع کر دی گئی ہے۔ ایکس پر یہ افواہ پھیلائی گئی تھی کہ جمعہ کی نماز کے بعد ایک مرتبہ پھر باندرہ میں حالات خراب ہوگئے اور پولیس نے لاٹھی چارج کی ہے۔ اس پر پولیس نے کارروائی کی ہے اور اس ایکس اکاؤنٹ پر کیس درج کر لیا ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاش گرفتار، کرائم برانچ کی بڑی کارروائی، تینوں جرائم پیشہ کے نشانہ پر کون؟ تفتیش جاری

Published

on

ممبئی : ممبئی شہر میں ہتھیاروں کی فروخت کی غرض سے آنے والے تین بدمعاشوں کو ممبئی کرائم برانچ کی انسداد ہفتہ وصولی دستہ نے گرفتار کرنے کا دعوی کیا ہے۔ ممبئی کرائم برانچ کو اطلاع ملی تھی کہ ممبئی کے سینٹ جارج اسپتال کے قریب تین افراد پی ڈمیلو روڈ عوامی بیت الخلا کے پاس ہتھیار فروخت کرنے کی غرض سے آنے والے ہیں, اس بنیاد پر یہاں جال بچھا کر کرائم برانچ نے تینوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کرتے ہوئے ان کے قبضے سے تین دیسی پستول میگزین اور 45 زندہ کارتوس برآمد کیا ہے۔ ان تینوں پر مجرمانہ معاملات درج ہیں۔ ان پر ایک قتل کیس بھی درج ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان تینوں نے یہ پستول کہاں سے لائی تھی اور یہ اسے کسے فروخت کرنے والے تھے اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ان کا تعلق کس گینگ سے ہے اور ان کے نشانے پر کون تھا, اس کے ساتھ ہی ان بدمعاشوں کا تعلق لارنس بشنوئی یا دیگر گینگ سے تو نہیں ہے, اس کی بھی جانچ کی جارہی ہے۔ ممبئی پولیس نے ان کے خلاف ہتھیاروں کی غیر قانونی فروخت آرمس ایکٹ اور ممبئی پولیس ایکٹ کے تحت کیس درج کر لیا ہے۔ ان تینوں کی شناخت 24 سالہ گھولا ارباز جھلاوار، 34 سالہ جشن پریت منگل سنگھ اور 24 سالہ سکھویندر کے طور پر ہوئی ہے۔ پولیس نے اس معاملہ میں مزید تفتیش شروع کردی ہے۔ ملزم نمبر ایک ارباز جھلاوار اور سکھویندر ایک قتل کے کیس میں 2022 سے مفرور ہے۔ اس معاملہ میں پولیس نے ملزمین کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع یہاں پریس کانفرنس میں ڈی سی پی ڈٹیکشن راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر گئی ہے۔ اس کے ساتھ ہی اس معاملہ میں مزید تفتیش جاری ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

مشرقی مہاراشٹر کے چندر پور ضلع کے سب سے زیادہ شیروں کے گھنے علاقے میں ایک شیر نے ایک ہی حملے میں چار خواتین کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

Tiger

چندر پور : مہاراشٹر کے چندر پور کے گنجواہی گاؤں کی شیرنی نے چار خواتین کو مار ڈالا۔ محکمہ جنگلات کے حکام کے مطابق یہ خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں کہ ان پر حملہ کیا گیا۔ چندر پور کی سندواہی تحصیل تاڈوبا ٹائیگر پروجیکٹ کے قریب ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں اکثر وائلڈ لائف آتے ہیں۔ ان چار اموات سے اس سال چندر پور ضلع میں انسانی وجنگلی حیات کے تنازعہ میں مرنے والوں کی تعداد 18 ہو گئی ہے۔ محکمہ جنگلات کے مطابق ناگپور سے تقریباً 200 کلومیٹر دور سندھواہی تحصیل کے گنجے واہی جنگلاتی علاقے میں شیرنی نے چار خواتین پر حملہ کیا۔ گاؤں کی چار خواتین جمعہ کی صبح ٹینڈو کے پتے لینے جنگل گئی تھیں۔ وہ اپنی روزی روٹی کے لیے جنگل پر انحصار کرتے ہیں۔ خواتین کی شناخت کاودوبائی داداجی موہورلے (45)، انوبائی داداجی موہورلے (46)، سنگیتا سنتوش چوہدری (36) اور سنیتا کوشک موہورلے (33) کے طور پر ہوئی ہے۔ جنگلات کے حکام نے بتایا کہ شیرنی کا چار خواتین پر حملہ انتہائی غیر معمولی تھا۔ انہیں شبہ تھا کہ شیرنی نے خود کو بچانے یا اپنے بچوں کی حفاظت کے لیے ایک ایک کر کے خواتین پر حملہ کیا ہو گا۔ اس واقعہ سے گنجواہی علاقہ میں خوف و ہراس پھیل گیا اور محکمہ جنگلات کے خلاف عوام میں ایک بار پھر غصہ پیدا ہوا۔

سندھواہی رینج فاریسٹ آفیسر انجلی سیانکر نے بتایا کہ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی سینئر پولیس اور فاریسٹ حکام فوری طور پر جائے وقوعہ پر پہنچے اور تحقیقات شروع کردی۔ محکمہ جنگلات نے فوری طور پر ہر متاثرہ خاندان کو 25,000 روپے کا معاوضہ فراہم کیا۔ جنگلاتی علاقوں میں انسانوں اور جانوروں کے تصادم کو کم کرنے کے لیے بھی کئی اقدامات کیے گئے ہیں۔ غور طلب ہے کہ پانچ دن پہلے 18 مئی کو ناگبھیڈ تعلقہ میں 55 سالہ ونیتا شنکر یوکی کو ٹندو کے پتے جمع کرنے کے دوران ایک شیر نے مار ڈالا تھا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان