Connect with us
Wednesday,22-July-2026

(جنرل (عام

رضا اکیڈمی اورنگ آباد کے اہم رُکن، حافظ قیصر اقبال صدیقی اپنے مالکِ حقیقی سے جاملے۔ (انا…. الخ)

Published

on

(خیال اثر )
بڑے ہی افسوس کے ساتھ یہ اطلاع دی جارہی ہے کہ اورنگ آباد رضا اکیڈمی کے اہم رکن، شاہ بازار نوری بکڈپو کے مالک، حافظ قیصر اقبال صدیقی مختصر سی علالت کے بعد قضائے الٰہی سے رحلت کرگئے۔
واضح رہے کہ حافظ قیصر اقبال صدیقی رضوی کا شمار اورنگ آباد میں اہلسنت و جماعت کے سرکردہ افراد میں ہوتا تھا۔ مسلک اعلیٰ حضرت کہ ترویج و اشاعت میں آپ کی مساعیِ جمیلہ قابلِ قدر و لائقِ تحسین تھیں۔ رضا اکیڈمی اورنگ آباد کے بینر تلے رضا اکیڈمی کی سرگرمیوں میں پیش پیش رہتے تھے، گذشتہ چند دنوں سے بستر علالت پر رہنے کے بعد آج بروز اتوار 14 ربیع الاول 1442ھ صبح کی اولین ساعتوں میں داعیِ اجل کو لبیک کہہ گئے۔ اہل خانہ سے ملی اطلاع کے مطابق نماز جنازہ بعد نماز ظہر کالی مسجد اورنگ آباد میں ادا کی جائے گی اور تدفین حضرت پیر غیب علیہ الرحمہ کے احاطے میں ہوگی۔
آپ کے اس طرح دنیائے فانی سے رخصت ہونے پر بیوی بچوں اور خاندان والوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے۔ ایسے وقت میں رضا اکیڈمی ممبئی و مہاراشٹر کے جملہ اراکین و خویش مندان آپ کے برادر اصغر جناب صفدر صدیقی و جملہ افرادِ خاندان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے صبر کی تلقین کرتے ہیں کہ یہ امرِ الہی ہے، ہر انسان کو اس فانی دنیا سے رخصت ہونا ہے، غم و اندوہ کی اس گھڑی میں صبر کا دامن نہ چھوڑیں اور اپنے مالکِ حقیقی کی رضا پر راضی رہیں۔
اللہ رب العزت کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولی تعالی مرحوم کی مغفرت فرمائے، سئیات کو حسنات سے مُبدّل فرمائے، جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، درجات کو بلند تر فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔آمین
اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، محمد سعید نوری بانی و سکریٹری رضا اکیڈمی ممبئی ،محمد عارف رضوی (کیلکو ممبئی)، مولانا عباس رضوی (صدر انجمن تحریکِ درود و سلام، ممبئی)، رضوی سلیم شہزاد، شکیل احمد سبحانی، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی و اراکین رضا اکیڈمی مالیگاؤں، شرجیل رضا قادری، شکیل رضوی و اراکینِ رضا اکیڈمی بھیونڈی، اعجاز رضا قادری و اراکینِ رضا اکیڈمی ناسک، سید جمیل رضوی و اراکینِ رضا اکیڈمی جالنہ، ظفر الدین رضوی و اراکینِ رضا اکیڈمی بھانڈوپ مُلنڈ، حاجی توفیق رضوی و اراکینِ رضا اکیڈمی ناندیڑ، محمد ساجد رضوی، محمد حسین رضوی، مصطفی رضا خان، مولانا عبدالعلیم نظامی، حافظ عارف نوری، محمد ظفر نظامی و اراکینِ رضا اکیڈمی اورنگ آباد، حاجی اقبال قادری خلدآباد و دیگر نے اپنے گہرے دکھ کا اظہار کیا ہے

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی تانسا جھیل لبریز

Published

on

Tansa-Deam

ممبئی تانسا جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (22 جولائی 2026) کو لبریز ہو گئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئر ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ جھیل آج صبح 8:51 پر بہنے لگی۔ بی ایم سی علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے، وہار جھیل 7 جولائی 2026 کو رات 9:00 بجے بہنے لگی۔ اس کے فوراً بعد، اسی دن 7 جولائی 2026 تلسی جھیل بھی رات 11:43 پر بہنے لگی۔ اب تونسا جھیل بھی آج صبح سے اوور فلو لبریز ہونے لگی ہے۔ نتیجتاً، 22 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے تین بہہ رہی ہیں۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ گزشتہ چند دنوں سے کیچمنٹ کے علاقوں میں مسلسل، شدید بارش ہوئی ہے۔ آج صبح 6:00 بجے کی گئی پیمائش کے مطابق، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ ان کی کل صلاحیت کا 61.90 فیصد ہے تانسا ڈیم تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں واقع ہے اور ملک کے چند ڈیموں میں سے ایک ہے جو پتھر کی چنائی سے بنائے گئے ہیں۔ تانسا جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش، جو آج سے بہہ رہی ہے، 14,508 کروڑ لیٹر (145,080 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سال، تانسا جھیل 23 جولائی کو شام 5:40 پر بہنے لگی۔ اس سے پہلے، یہ 24 جولائی 2024 کو صبح 4:16 پر بہنے لگی۔ 26 جولائی 2023 کو صبح 4:35 بجے؛ 14 جولائی 2022 کو شام 8:50 بجے؛ اور 22 جولائی 2021 کو صبح 5:48 پر۔ اس سے پہلے خاص طور پر 20 اگست 2020 کو یہ شام 7:05 پر بہنا شروع ہوا۔

اضافی معلومات :
تانسا ڈیم دنیا کے طویل ترین ڈیموں میں سے ایک ہے جس کی لمبائی 2,743.20 میٹر ہے۔
قیام کا سال : 1892
یومیہ سپلائی : 455 ایم ایل ڈی (ملین لیٹر فی دن)
پانی کی کل فراہمی میں شراکت : 11.00%
مقام : ممبئی سے 106 کلومیٹر

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

دھوکہ دہی کی ایف آئی آر کے بعد مھاڈا اور بی ایم سی کا بڑا ایکشن : ‘مدیار مینشن’ کی این او سی منسوخ، ‘سٹاپ ورک’ نوٹس جاری

Published

on

Madyar Mansion

ممبئی : دھوکہ دہی اور جعلی دستاویزات کے سنگین الزامات میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد مئی بائی یعنی مہاراشٹر ہاؤسنگ اینڈ ایریا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (مھاڈا) اور برہن ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے مانڈوی ڈویژن میں واقع ‘مدیار مینشن’ عمارت کے خلاف سخت کارروائی کی ہے۔ مھاڈا نے اس پروجیکٹ کے لیے جاری کردہ عدم اعتراض کا سرٹیفکیٹ (این او سی) منسوخ کر دیا ہے، جبکہ بی ایم سی کے بلڈنگ پروپوزل ڈیپارٹمنٹ نے تعمیراتی کام کو روکتے ہوئے ‘سٹاپ ورک نوٹس’ (کام روکنے کا نوٹس) جاری کر دیا ہے۔

مھاڈا کی جانب سے سخت ہدایات
مھاڈا کے جاری کردہ سرکاری حکم نامے میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ :
اس پروجیکٹ کو مستقبل میں کسی بھی قسم کی انتظامی اجازت، ترمیم یا منظوری نہیں دی جائے گی۔
کسی بھی قانونی یا انتظامی پیچیدگی سے بچنے کے لیے جائے وقوعہ پر جاری تمام تعمیراتی کام فوری طور پر روکنے کی ہدایت دی گئی ہے.
قابلِ غور بات : معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود، جائے وقوعہ پر ساتویں منزل (گراؤنڈ + 7) تک کی تعمیر کا کام جاری رکھا گیا تھا۔

جعلی دستاویزات پر مبنی 8 رجسٹریشنز منسوخی کے دائرے میں
معاملے میں ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سب رجسٹرار آف اشورینس (سب رجسٹرار آف ایشورنس) کی جانب سے 8 دستاویزات رجسٹر کی گئی تھیں۔ اس بات کا نوٹس لیتے ہوئے سب رجسٹرار کے دفتر نے متعلقہ پولیس اسٹیشن کو خط لکھا ہے جس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان 8 دستاویزات کی بنیاد جعلی کاغذات پر ہے، لہٰذا ان کا استعمال کہیں بھی نہ کیا جائے۔
معاملہ کیا ہے؟

اس جائیداد سے متعلق دھوکہ دہی کا انکشاف رواں سال 2 فروری کو اس وقت ہوا جب شکایت کنندہ محمد رفیق عثمان پودینہ والا نے دھوکہ دہی اور جعل سازی کا الزام لگاتے ہوئے شکایت درج کرائی۔
شکایت کی بنیاد پر پائے دھونی پولیس اسٹیشن میں درج ذیل ملزمان کے خلاف متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ (ایف آئی آر) درج کیا گیا تھا :

مریم محبوب کوڈیا
حسین کوڈیا
یوسف ابراہیم سپاری والا (بلڈر)
مھاڈا کے اس سخت موقف کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس پروجیکٹ سے جڑے دیگر انتظامی پہلوؤں اور افسران کے کردار کی تحقیقات میں بھی تیزی آئے گی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : دادر چیتنہ بھومی پر احتجاج کے دوران اورنگ زیب کی تصویر لہرانے پر ہنگامہ، پولس کو تفتیش کا حکم، اب تک ۸ ایف آئی آر درج

Published

on

FIR

ممبئی میں دادر چیتنہ بھومی پر سی جے پی کے احتجاجی مظاہرہ میں اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کی تصویر للہرانے پر ایک مرتبہ پھر ہنگامہ برپا ہو گیا ہے اور اس سے حالات بھی کشیدہ ہو گئے ہیں جبکہ اورنگ زیب کی آڑ میں اب سیاست بھی شروع ہو گئی ہے, جبکہ پولس اس معاملہ میں تفتیش کر رہی ہے۔ دلی کے جنتر منتر احتجاج کی حمایت میں مہاراشٹر اور ممبئی میں حمایت اور احتجاجی مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف ممبئی پولس نے کارروائی میں شدت پیدا کردی ہے, اب تک مظاہرین کے خلاف تقریبا ۸ ایف آئی آر درج کی گئی ہے جس میں چیتنہ بھومی شیواجی پارک میں چار ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ اس کے ساتھ مرین ڈرائیو میں ۲ آزاد میدان میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ ممبئی میں اب احتجاج کے دوران اورنگ زیب رحمتہ اللہ علیہ کا پوسٹر لہرانے پر سیاست شروع ہو گئی۔ اس معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے۔ اورنگ زیب کی تصویر یہاں دادر چیتنہ بھومی میں احتجاج کے دوران لہرائی گئی جیسے بعد میں ہٹا دیا گیا, لیکن اس معاملہ میں پولس تفتیش کر رہی ہے کہ آیا یہ تصویر کس نے احتجاج میں شامل کی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا ممبئی میں اورنگ زیب کی تصویر لہرانے کے معاملہ میں پولس نے تحقیقات شروع کردی ہے اور اس معاملہ میں باقاعدہ طور پر یہ معلوم کر رہی ہے کہ وہ کون تھا جس نے یہ تصویر لہرائی تھی اور اس کا مقصد کیا تھا۔ ڈی سی پی مہندر پنڈت نے بتایا کہ اس معاملہ میں سوشل میڈیا کے معرفت ملزم کی شناخت جاری ہے۔ اس کے ساتھ ہی غیر قانونی طریقے سے سڑک جام کرنے اور بلا پیشگی اجازت احتجاج کرنے پر کیس درج کیا گیا۔ اسی معاملہ میں اب یہ بھی تفتیش جاری ہے کہ اورنگ زیب کی تصویر کیوں لائی گئی تھی اور اس کے پس پشت کیا مقصد تھا, جبکہ اس واقعہ کے بعد سیاست شروع ہو گئی ہے اور پیپر لیک کا معاملہ اورنگ زیب کے نذر ہو گیا ہے۔ ممبئی پولس کو وزارت داخلہ نے اس معاملہ میں تحقیقات کا حکم صادر کیا ہے اور پولس اس معاملہ میں انکوائری کر رہی ہے۔ پولس نے اب تک جو ایف آئی آر درج کی ہے, اس میں ۶۰۰ ملزمین کو نامزد کیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان