Connect with us
Sunday,21-June-2026

سیاست

دین کی خاموش خدمت انجام دینے والا ایک چھوٹا سا مدرسہ ایسا بھی جہاں بڑی عمر کی خواتین بھی ختم قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہیں

Published

on

madrasa

مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں کے عائشہ نگر نامی علاقے میں واقع سونیا گاندھی کالونی کے ایک فلیٹ میں خواتین اور بچیوں کے لیے ایک مدرسہ گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری ہے، جو ہزار کھولی کے مدرسہ اہل سنت عربیہ نورالعلوم کی ایک شاخ ہے ، شیخ غلام رسول آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عقیل بھائی رکشہ والے کی زیر نگرانی یہ مدرسہ ایسی خاموش خدمات انجام دے رہا ہے جو بہت متاثر کن ہے ، رضا اکیڈمی اور مدرسہ تہذیب البنات کی سرپرستی بھی اس مدرسے کو حاصل ہے .رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں نور باغ جانا ہوا، سونیا گاندھی کالونی کا وہ مدرسہ یاد آیا اور ہم لوگ وہاں پہنچ گئے ، جہاں مدرسہ اہل سنت تہذیب البنات سے شعبہ ء عالمیت میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد سے صبیحہ کوثر خدمت دین انجام دے رہی ہیں ، اپنی معلمہ صاحبہ کو دیکھ کر آس پاس کی بچیاں بھی مدرسے میں جمع ہوگئیں ، میں نے ان بچیوں سے پوچھا کہ تمہارے اس مدرسے سے اس بستی میں دین کی کیسی خدمت ہورہی ہے؟ سب نے بتایا کہ آس پاس کی چند گلیوں کے لیے یہ مدرسہ دینی تعلیم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے ، صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے محلے کی جو بچیاں شادی ہوجانے کے سبب اس محلے کو چھوڑ چکی ہیں ان سبھوں نے بھی اسی مدرسہ میں قرآن شریف پڑھنے کی سعادت پائی اور دین کی تعلیم حاصل کی ، اسی دوران ان بچیوں نے بتایا کہ ہمارے اس مدرسے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جہاں چھوٹی چھوٹی بچیاں علم دین حاصل کرتی ہیں ، وہیں بڑی عمر کی خواتین بھی مدرسہ پڑھتی ہی. میں نے دریافت کیا کہ کیا مطلب ؟ کیا وہ روزانہ مدرسہ آتی ہیں یا ہفتہ واری درس میں شریک ہوتی ہیں ، بچیوں نے بتایا کہ روزانہ مدرسہ بھی آتی ہیں اور درس میں بھی شریک ہوتی ہیں می‍ں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن وہ مدرسہ آتی ہیں تو کچھ پڑھتی بھی ہیں یا یوں ہی کچھ وعظ و نصیحت سن کر چلی جاتی ہیں. اس سوال پر مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے بتایا کہ اس ماہ کے آخری عشرے میں جب ہمارے اس مدرسے کا سالانہ جلسہ ہوگا تو کمسن بچیوں کے ساتھ ساتھ پانچ بڑی عمر کی خواتین کو بھی ناظرہ ختم قرآن کی سند دی جائے گی …….
میں نے دریافت کیا کہ بڑی عمر کا مطلب کیا؟
تیس چالیس برس ….. ؟
تو صبیحہ آپا نے بتایا کہ دو خواتین پچاس برس کے قریب اور دو خواتین پچپن برس کے آس پاس ہیں ، جنہوں نے اسی مدرسے میں حروف کی پہچان کی اور اب ختم قرآن کر رہی ہیں، یہ سن کر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی اور میں نے فوراً کہا کہ کیا انہیں ابھی مدرسے میں بلایا جا سکتا ہے؟ تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ کس طرح وہ قرآن پڑھتی ہیں اور جان سکیں کہ اس عمر میں انہیں کس طرح علم دین حاصل کرنے کی ترغیب ملی ؟ صبیحہ آپا نے کہا کیوں نہیں ؟ بچے ابھی انہیں بلا لائیں گے ، پانچ دس منٹوں میں ہی اپنی زندگی کی چار پانچ دہائیوں کو عبور کر لینے والی اس مدرسے کی وہ تمام طالبات اپنے مادر علمی میں موجود تھیں ، جو اپنی مثال آپ ہیں.
ان کے آتے ہی میں نے جو چند سوالات کیے وہ یہ تھے
سوال : کیا آپ سب بھی اس مدرسہ میں پڑھتی ہیں
جواب : جی ہاں، ہم اسی مدرسے میں پڑھتی ہیں
سوال : اپنا نام اور عمر بتائیں
جواب : ذکیہ شیخ خلیل ( 32 سال ) نسیم بانو سراج علی( 42 سال) رئیسہ شیخ سلیم ( 47 سال) رحیمہ بی شیخ سلیم ( 52 سال) قمرالنساء عبدالسلام ( 55 سال)
سوال : کیا آپ سب ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں ؟
جواب : بالکل پڑھ سکتی ہیں .
سوال : قرآن پاک کا کون سا پارہ آپ سب بہ آسانی پڑھ سکتی ہیں ؟جواب : آپ جو بھی پارہ کہو، ہم سنانے کی کوشش کریں گے.
انتہائی پر اعتماد انداز میں جس طرح ان پانچوں خواتین نے جواب دیا ، اس کے بعد اس بات کی قطعی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تھی کہ ان سے قرآن کریم سنا جائے ، لیکن چونکہ اس عنوان پر ایک مضمون قلمبند کرنے کا ذہن میں نے بنا لیا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ قرآن کی کچھ آیتیں ان سے سن لی جائیں تاکہ جو کچھ لکھا جائے وہ مشاہدات پر مبنی ہو. اس لیے ہم نے یکے بعد دیگرے ان پانچوں خواتین سے قرآن کریم کو متعدد مقامات سے سنا اور دیکھا کہ واقعی جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسی کے مطابق وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہی تھیں .
جب قرآن پاک پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا تو پھر کچھ سوالات ہم نے ان سے کیے . پہلا سوال تھا .کتنے دنوں سے آپ سب مدرسہ آرہی ہیں .کسی نے کہا دیڑھ سال کسی نے دو سال، جب پوچھا گیا کہ اتنی عمر گزر جانے کے بعد مدرسہ آنے کا خیال کیسے پیدا ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ اس مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے ہماری ذہن سازی کی، ہمیں ہمت و حوصلہ دیا اور بتایا کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، صبیحہ کوثر کی ان باتوں نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور دین کو سمجھنے کا ایسا موقع دیا جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے .انہوں نے بتایا کہ ہم سے قبل بھی محلے کی کچھ بزرگ خواتین نے صبیحہ کوثر کے پاس اس مدرسے میں قرآن کریم پڑھا تھا ، وہ خواتین ہمارے لیے رہنما ثابت ہوئیں .
سوال : اب جب کہ آپ سب قرآن کریم پڑھنا سیکھ چکی ہیں تو کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟
جواب : ہم سب بہت خوش ہیں کہ ہم نے قرآن کریم پڑھ کر اپنے لیے توشہ ء آخرت جمع کر لیا ہے ،
سوال : یہ تو ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے لیکن دین کی بڑی خدمت یہاں سے ہو رہی ہے ، اس کے متعلق کیا کچھ کہنا چاہیں گے آپ.
جواب : ہم چاہیں گے کہ یہ مدرسہ بڑا ہوجائے اور دین کی مزید خدمت یہاں سے ہو ، لیکن ہماری نظر میں یہ چھوٹا سا مدرسہ ہی بہت بڑا ہے اس لیے کہ یہیں سے ہم لوگوں نے قرآن کریم کو پڑھنا سیکھا ، اگر یہ مدرسہ اور یہ معلمہ نہیں ہوتی تو شاید ہم قرآن کریم پڑھنے کی اس نعمت سے محروم ہو جاتے جو ہمیں حاصل ہوئی.
سوال : اپنے محلے کی ان ماؤں بہنوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ، جو کسی وجہ سے علم دین حاصل کرنے سے محروم رہے .
جواب : ہم ان سے یہی کہیں گے کہ مایوس نہ ہوں بلکہ ڈر، خوف اور جھجھک کو چھوڑ کر ہماری طرح وہ بھی اس یقین کے ساتھ مدرسہ آئیں کہ ہمیں بھی قرآن کریم پڑھنا ہے اور علم دین حاصل کرنا ہے . یہ تھے ایسی ماؤں بہنوں کے احساسات اور جذبات جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار لینے کے بعد علم دین حاصل کرنے کی جانب متوجہ ہوئی تھیں اور اس راہ میں کامیابی کے بعد وہ اس قدر خوش ہیں کہ اپنے مدرسے کے لیے اور دین کی خدمت کا بہترین جذبہ رکھنے والی اپنی فرض شناس معلمہ کا شکر ادا کرنے کے لیے جن کے پاس الفاظ نہیں ہیں. یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں اس مدرسہ کے سرپرست اور ذمہ داران جنہوں نے زندگی کی بہت ساری مصروفیات کے باوجود اس مدرسے کو فراموش نہیں کیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل اس کی بہترین جزا انہیں عطا فرمائے . آمین. اس مدرسے میں بیٹھے بیٹھے جو بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کیا ہی بہتر ہوتا اگر مدرسے سے متصل کوئی اور فلیٹ بھی حاصل کرکے اس مدرسے کو وسیع کردیا جاتا .میں سمجھتا ہوں مدرسہ عربیہ نورالعلوم کے منتظمین و ذمہ داران اگر غلام رسول بھائی آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عابد بھائی رکشہ والے کی سرپرستی میں اس جانب متوجہ ہوتے ہیں تو یہ کام کچھ مشکل نہیں ، برسہا برس سے جو مدرسہ دین کی خاموش خدمت انجام دے رہا ہے ، اس کی ترقی کے لیے قوم کے مخیر حضرات بھی ان شاء اللہ تعالٰی اپنا دست تعاؤن دراز کریں گے .

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

اسرائیل نے جنگ بندی کے چند گھنٹے بعد ہی لبنان پر حملہ کر کے 5 افراد کو ہلاک کر دیا۔

Published

on

بیروت، جنوبی لبنان: اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ تازہ ترین حملے میں پانچ افراد مارے گئے ہیں۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی (این این اے) نے ہفتے کے روز اطلاع دی ہے کہ حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے عمل میں آنے کے 24 گھنٹے سے بھی کم وقت کے بعد جنوبی لبنان کے شہر سجاد کے قریب جبل الرافی کے علاقے کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا۔

جنگ بندی پر ایک روز قبل اتفاق ہوا تھا۔ ژنہوا کے مطابق، جنگ بندی شام 4:00 بجے نافذ ہوئی۔ جمعہ کو مقامی وقت کے مطابق۔

دریں اثناء حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے جمعے کے روز کہا کہ اگر تنظیم پر حملہ ہوا تو وہ ہتھیاروں کی طاقت سے اسرائیل کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ جان سے مارنے کی دھمکیاں اس کے ارکان کو نہیں روکیں گی۔

المنار ٹی وی چینل پر نشر ہونے والے اپنے خطاب میں قاسم نے کہا کہ “حزب اللہ کو ختم کرنے اور قبضے کو برقرار رکھنے کا منصوبہ ناکام ہو گیا ہے اور اسرائیل ہماری زمین کے ہر آخری انچ سے پیچھے ہٹ جائے گا۔”

انہوں نے کہا کہ لبنان کو اس وقت “انتہائی خطرناک دور” کا سامنا ہے اور ملک کے مستقبل کو نشانہ بنانے والی “امریکی اسرائیلی مہم” کا سامنا ہے۔ قاسم نے الزام لگایا کہ اسرائیل لبنان کی سیاسی طاقت کے خلاف ایک نئی تحریک کھڑا کرنا چاہتا ہے اور تنازعات سے متاثرہ علاقوں کی تعمیر نو میں بھی رکاوٹیں پیدا کر رہا ہے۔

قاسم نے یہ بھی کہا کہ حزب اللہ کے ہتھیار صرف اسرائیل کے خلاف استعمال کے لیے ہیں اور اسرائیل سے اپیل کی کہ وہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کرے۔

ان کے تبصرے جمعہ کو جنگ بندی کے نفاذ کے فوراً بعد جبل الرافی کے علاقے کو اسرائیلی فضائی حملوں نے نشانہ بنایا۔

قبل ازیں، حزب اللہ کے پارلیمانی بلاک “مزاحمت سے وفاداری” کے رکن ابراہیم الموسوی نے کہا کہ اگر اسرائیل بھی اپنی شرائط پر عمل کرتا ہے تو حزب اللہ جنگ بندی معاہدے کا احترام جاری رکھے گی۔

دریں اثنا، لبنان کے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی آپریشن سینٹر نے اطلاع دی ہے کہ 2 مارچ سے اب تک اسرائیلی حملوں میں کل 3,980 افراد ہلاک اور 12,001 زخمی ہو چکے ہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان