Connect with us
Thursday,20-August-2026

سیاست

دین کی خاموش خدمت انجام دینے والا ایک چھوٹا سا مدرسہ ایسا بھی جہاں بڑی عمر کی خواتین بھی ختم قرآن کی سعادت حاصل کر رہی ہیں

Published

on

madrasa

مالیگاؤں (نامہ نگار) مالیگاؤں کے عائشہ نگر نامی علاقے میں واقع سونیا گاندھی کالونی کے ایک فلیٹ میں خواتین اور بچیوں کے لیے ایک مدرسہ گزشتہ پندرہ برسوں سے جاری ہے، جو ہزار کھولی کے مدرسہ اہل سنت عربیہ نورالعلوم کی ایک شاخ ہے ، شیخ غلام رسول آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عقیل بھائی رکشہ والے کی زیر نگرانی یہ مدرسہ ایسی خاموش خدمات انجام دے رہا ہے جو بہت متاثر کن ہے ، رضا اکیڈمی اور مدرسہ تہذیب البنات کی سرپرستی بھی اس مدرسے کو حاصل ہے .رضا اکیڈمی کے شکیل احمد سبحانی نے بتایا کہ گزشتہ دنوں نور باغ جانا ہوا، سونیا گاندھی کالونی کا وہ مدرسہ یاد آیا اور ہم لوگ وہاں پہنچ گئے ، جہاں مدرسہ اہل سنت تہذیب البنات سے شعبہ ء عالمیت میں سند فراغت حاصل کرنے کے بعد سے صبیحہ کوثر خدمت دین انجام دے رہی ہیں ، اپنی معلمہ صاحبہ کو دیکھ کر آس پاس کی بچیاں بھی مدرسے میں جمع ہوگئیں ، میں نے ان بچیوں سے پوچھا کہ تمہارے اس مدرسے سے اس بستی میں دین کی کیسی خدمت ہورہی ہے؟ سب نے بتایا کہ آس پاس کی چند گلیوں کے لیے یہ مدرسہ دینی تعلیم کے حصول کا ایک اہم ذریعہ ہے ، صرف ہم ہی نہیں بلکہ ہمارے محلے کی جو بچیاں شادی ہوجانے کے سبب اس محلے کو چھوڑ چکی ہیں ان سبھوں نے بھی اسی مدرسہ میں قرآن شریف پڑھنے کی سعادت پائی اور دین کی تعلیم حاصل کی ، اسی دوران ان بچیوں نے بتایا کہ ہمارے اس مدرسے کی ایک خاصیت یہ بھی ہے کہ اس میں جہاں چھوٹی چھوٹی بچیاں علم دین حاصل کرتی ہیں ، وہیں بڑی عمر کی خواتین بھی مدرسہ پڑھتی ہی. میں نے دریافت کیا کہ کیا مطلب ؟ کیا وہ روزانہ مدرسہ آتی ہیں یا ہفتہ واری درس میں شریک ہوتی ہیں ، بچیوں نے بتایا کہ روزانہ مدرسہ بھی آتی ہیں اور درس میں بھی شریک ہوتی ہیں می‍ں نے کہا کہ یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن وہ مدرسہ آتی ہیں تو کچھ پڑھتی بھی ہیں یا یوں ہی کچھ وعظ و نصیحت سن کر چلی جاتی ہیں. اس سوال پر مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے بتایا کہ اس ماہ کے آخری عشرے میں جب ہمارے اس مدرسے کا سالانہ جلسہ ہوگا تو کمسن بچیوں کے ساتھ ساتھ پانچ بڑی عمر کی خواتین کو بھی ناظرہ ختم قرآن کی سند دی جائے گی …….
میں نے دریافت کیا کہ بڑی عمر کا مطلب کیا؟
تیس چالیس برس ….. ؟
تو صبیحہ آپا نے بتایا کہ دو خواتین پچاس برس کے قریب اور دو خواتین پچپن برس کے آس پاس ہیں ، جنہوں نے اسی مدرسے میں حروف کی پہچان کی اور اب ختم قرآن کر رہی ہیں، یہ سن کر عجیب سی خوشی محسوس ہوئی اور میں نے فوراً کہا کہ کیا انہیں ابھی مدرسے میں بلایا جا سکتا ہے؟ تاکہ ہم بھی دیکھیں کہ کس طرح وہ قرآن پڑھتی ہیں اور جان سکیں کہ اس عمر میں انہیں کس طرح علم دین حاصل کرنے کی ترغیب ملی ؟ صبیحہ آپا نے کہا کیوں نہیں ؟ بچے ابھی انہیں بلا لائیں گے ، پانچ دس منٹوں میں ہی اپنی زندگی کی چار پانچ دہائیوں کو عبور کر لینے والی اس مدرسے کی وہ تمام طالبات اپنے مادر علمی میں موجود تھیں ، جو اپنی مثال آپ ہیں.
ان کے آتے ہی میں نے جو چند سوالات کیے وہ یہ تھے
سوال : کیا آپ سب بھی اس مدرسہ میں پڑھتی ہیں
جواب : جی ہاں، ہم اسی مدرسے میں پڑھتی ہیں
سوال : اپنا نام اور عمر بتائیں
جواب : ذکیہ شیخ خلیل ( 32 سال ) نسیم بانو سراج علی( 42 سال) رئیسہ شیخ سلیم ( 47 سال) رحیمہ بی شیخ سلیم ( 52 سال) قمرالنساء عبدالسلام ( 55 سال)
سوال : کیا آپ سب ہمارے سامنے قرآن کریم پڑھ سکتی ہیں ؟
جواب : بالکل پڑھ سکتی ہیں .
سوال : قرآن پاک کا کون سا پارہ آپ سب بہ آسانی پڑھ سکتی ہیں ؟جواب : آپ جو بھی پارہ کہو، ہم سنانے کی کوشش کریں گے.
انتہائی پر اعتماد انداز میں جس طرح ان پانچوں خواتین نے جواب دیا ، اس کے بعد اس بات کی قطعی ضرورت باقی نہیں رہ جاتی تھی کہ ان سے قرآن کریم سنا جائے ، لیکن چونکہ اس عنوان پر ایک مضمون قلمبند کرنے کا ذہن میں نے بنا لیا تھا اس لیے بہتر یہی تھا کہ قرآن کی کچھ آیتیں ان سے سن لی جائیں تاکہ جو کچھ لکھا جائے وہ مشاہدات پر مبنی ہو. اس لیے ہم نے یکے بعد دیگرے ان پانچوں خواتین سے قرآن کریم کو متعدد مقامات سے سنا اور دیکھا کہ واقعی جو کچھ انہوں نے کہا تھا اسی کے مطابق وہ قرآن کریم کی تلاوت بھی کر رہی تھیں .
جب قرآن پاک پڑھنے کا سلسلہ ختم ہوا تو پھر کچھ سوالات ہم نے ان سے کیے . پہلا سوال تھا .کتنے دنوں سے آپ سب مدرسہ آرہی ہیں .کسی نے کہا دیڑھ سال کسی نے دو سال، جب پوچھا گیا کہ اتنی عمر گزر جانے کے بعد مدرسہ آنے کا خیال کیسے پیدا ہوا، تو انہوں نے بتایا کہ اس مدرسے کی معلمہ صبیحہ کوثر نے ہماری ذہن سازی کی، ہمیں ہمت و حوصلہ دیا اور بتایا کہ علم حاصل کرنے کے لیے عمر کی کوئی قید نہیں ہے، صبیحہ کوثر کی ان باتوں نے ہمیں قرآن کریم پڑھنے اور دین کو سمجھنے کا ایسا موقع دیا جسے ہم کبھی بھول نہیں سکتے .انہوں نے بتایا کہ ہم سے قبل بھی محلے کی کچھ بزرگ خواتین نے صبیحہ کوثر کے پاس اس مدرسے میں قرآن کریم پڑھا تھا ، وہ خواتین ہمارے لیے رہنما ثابت ہوئیں .
سوال : اب جب کہ آپ سب قرآن کریم پڑھنا سیکھ چکی ہیں تو کیسا محسوس ہو رہا ہے ؟
جواب : ہم سب بہت خوش ہیں کہ ہم نے قرآن کریم پڑھ کر اپنے لیے توشہ ء آخرت جمع کر لیا ہے ،
سوال : یہ تو ایک چھوٹا سا مدرسہ ہے لیکن دین کی بڑی خدمت یہاں سے ہو رہی ہے ، اس کے متعلق کیا کچھ کہنا چاہیں گے آپ.
جواب : ہم چاہیں گے کہ یہ مدرسہ بڑا ہوجائے اور دین کی مزید خدمت یہاں سے ہو ، لیکن ہماری نظر میں یہ چھوٹا سا مدرسہ ہی بہت بڑا ہے اس لیے کہ یہیں سے ہم لوگوں نے قرآن کریم کو پڑھنا سیکھا ، اگر یہ مدرسہ اور یہ معلمہ نہیں ہوتی تو شاید ہم قرآن کریم پڑھنے کی اس نعمت سے محروم ہو جاتے جو ہمیں حاصل ہوئی.
سوال : اپنے محلے کی ان ماؤں بہنوں کو آپ کیا پیغام دینا چاہیں گی ، جو کسی وجہ سے علم دین حاصل کرنے سے محروم رہے .
جواب : ہم ان سے یہی کہیں گے کہ مایوس نہ ہوں بلکہ ڈر، خوف اور جھجھک کو چھوڑ کر ہماری طرح وہ بھی اس یقین کے ساتھ مدرسہ آئیں کہ ہمیں بھی قرآن کریم پڑھنا ہے اور علم دین حاصل کرنا ہے . یہ تھے ایسی ماؤں بہنوں کے احساسات اور جذبات جو اپنی عمر کا ایک بڑا حصہ گزار لینے کے بعد علم دین حاصل کرنے کی جانب متوجہ ہوئی تھیں اور اس راہ میں کامیابی کے بعد وہ اس قدر خوش ہیں کہ اپنے مدرسے کے لیے اور دین کی خدمت کا بہترین جذبہ رکھنے والی اپنی فرض شناس معلمہ کا شکر ادا کرنے کے لیے جن کے پاس الفاظ نہیں ہیں. یقینی طور پر مبارکباد کے مستحق ہیں اس مدرسہ کے سرپرست اور ذمہ داران جنہوں نے زندگی کی بہت ساری مصروفیات کے باوجود اس مدرسے کو فراموش نہیں کیا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقے وطفیل اس کی بہترین جزا انہیں عطا فرمائے . آمین. اس مدرسے میں بیٹھے بیٹھے جو بات میرے ذہن میں گردش کر رہی تھی وہ یہی تھی کہ کیا ہی بہتر ہوتا اگر مدرسے سے متصل کوئی اور فلیٹ بھی حاصل کرکے اس مدرسے کو وسیع کردیا جاتا .میں سمجھتا ہوں مدرسہ عربیہ نورالعلوم کے منتظمین و ذمہ داران اگر غلام رسول بھائی آپریٹر، ڈاکٹر رئیس احمد رضوی اور عابد بھائی رکشہ والے کی سرپرستی میں اس جانب متوجہ ہوتے ہیں تو یہ کام کچھ مشکل نہیں ، برسہا برس سے جو مدرسہ دین کی خاموش خدمت انجام دے رہا ہے ، اس کی ترقی کے لیے قوم کے مخیر حضرات بھی ان شاء اللہ تعالٰی اپنا دست تعاؤن دراز کریں گے .

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

بین الاقوامی خبریں

جاپانی وزیر دفاع کا دہلی میں گرمجوش استقبال، راج ناتھ سنگھ سے ملاقات آج

Published

on

وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے جمعرات کو اپنے جاپانی ہم منصب شنجیرو کوئزومی کا نئی دہلی میں دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو گہرا کرنے کے لیے اعلیٰ سطحی بات چیت کے لیے استقبال کیا۔

جاپانی وزیر دفاع کا استقبال سنگھ نے بھارتی آرمی چیف جنرل دھیرج سیٹھ، بھارتی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامیناتھن اور بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل اے پی سنگھ سمیت سینئر حکام اور دفاعی اہلکاروں کی موجودگی میں کیا۔

کوئزومی نے نئی دہلی میں قومی جنگی یادگار پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ یہ دورہ ہندوستان اور جاپان کی طرف سے دو طرفہ دفاعی تعاون کو گہرا کرنے اور ہند بحرالکاہل کے خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینے کی کوششوں کے درمیان ہوا ہے۔ فریم ورک، جاپان کی جانب سے دفاعی ساز و سامان اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے تین اصولوں پر نظر ثانی کے بعد۔

کوئزومی بدھ کو اپنے پہلے ہندوستان کے دورے پر ممبئی پہنچے تھے۔ پہنچنے پر، انہوں نے ممبئی میں مغربی بحریہ کی کمان میں گارڈ آف آنر کا معائنہ کیا۔ ممبئی کے اپنے دورے کے دوران، جاپانی وزیر دفاع نے نیول ڈاکیارڈ میں واقع گورو استمبھ پر پھولوں کی چادر بھی چڑھائی۔ مزید برآں، انہوں نے دیسی جہاز آئی این ایس چنئی کا دورہ کیا۔

کوئزومی نے ہندوستانی بحریہ کے سربراہ ایڈمرل کرشنا سوامی ناتھن اور فلیگ آفیسر کمانڈنگ ان چیف، ویسٹرن نیول کمانڈ، وائس ایڈمرل سنجے واتسائن کے ساتھ بات چیت کی۔ وزارت دفاع کے مطابق وفد کو ہندوستانی بحریہ کے کردار اور ذمہ داریوں اور آپریشنل صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی، “بھارت میں خوش آمدید، جاپان کے وزیر دفاع، وزیر کوئیزومی! 2 روزہ پروگرام کا آغاز کل ممبئی میں ویسٹرن نیول کمانڈ کے دورے سے ہوا۔ جاپان-ہندوستان سمندری تعاون کو آگے بڑھانے کے بارے میں نتیجہ خیز بات چیت ہوئی”۔ جمعرات.

ہندوستان اور جاپان ایک آزاد، کھلے، لچکدار اور خوشحال ہند-بحرالکاہل خطے کی تعمیر کے مشترکہ وژن کا اشتراک کرتے ہیں، وزارت دفاع نے کہا۔”جاپانی وزیر دفاع کا دو روزہ دورہ دو طرفہ دفاعی تعاون میں بڑھتی ہوئی رفتار کی نشاندہی کرتا ہے اور شراکت کو مزید وسعت دینے کے لیے دونوں فریقوں کے عزم کی عکاسی کرتا ہے،” اس نے مزید کہا۔

Continue Reading

سیاست

جھارکھنڈ: بھرتی امتحانات منسوخ ہونے پر طلبہ ہائی کورٹ پہنچ گئے، آج 3 بجے سماعت

Published

on

22 بھرتی امتحانات کو منسوخ کرنے کے جھارکھنڈ حکومت کے فیصلے کے خلاف متاثرہ امیدواروں کی طرف سے شروع کی گئی قانونی جنگ تیز ہو گئی ہے، اب تک ہائی کورٹ میں دائر اس اقدام کو چیلنج کرنے والی چار درخواستوں کے ساتھ۔ درخواستوں کی سماعت جمعرات کو سہ پہر تین بجے ہونے کا امکان ہے۔ عرضی گزاروں میں 11ویں سے 13ویں جے پی ایس سی کمبائنڈ سول سروسز ایگزامینیشن، جے ایس ایس سی-سی جی ایل اور فوڈ سیفٹی آفیسر امتحان میں کامیاب امیدوار شامل ہیں۔ درخواستیں کامیاب امیدواروں نے دائر کی ہیں جن میں اودھیش کمار، دیپ مالا، سونم کماری اور سوربھ سنگھ سمیت دیگر شامل ہیں۔

امیدواروں کا بنیادی استدلال یہ ہے کہ حکومت نے یکطرفہ طور پر امتحانات اور بعد میں ہونے والی تقرریوں کو انہیں اپنا کیس پیش کرنے کا موقع دیے بغیر منسوخ کر دیا۔ ان امیدواروں کی ایک بڑی تعداد نے اپنے انتخاب کے بعد پہلے ہی سرکاری ملازمت میں شمولیت اختیار کر لی تھی، اور حکومت کے فیصلے نے ان کی ملازمت کو براہ راست خطرے میں ڈال دیا ہے۔ درخواست گزاروں نے اپنے دفاع میں فطری انصاف کے اصولوں کو بھی مدعو کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ تحقیقات کے دوران مشکوک کردار ادا کرنے والے کسی بھی امیدوار کے خلاف کارروائی کی جانی چاہیے، لیکن انفرادی انکوائری یا سماعت کے بغیر تمام کامیاب امیدواروں کو ملازمتوں سے ہٹانا ناانصافی ہوگی۔

ان کا موقف ہے کہ انہوں نے مقررہ طریقہ کار کے مطابق امتحانات میں شرکت کی، میرٹ لسٹوں پر پوزیشنیں حاصل کیں اور بعد ازاں انہیں سرکاری عہدوں پر تعینات کیا گیا۔ جے ایس ایس سی -سی جی ایل کیس میں، کچھ درخواست گزاروں نے یہ بھی دلیل دی ہے کہ امتحانی نتائج کا اعلان ہائی کورٹ کے سابقہ ​​احکامات کی تعمیل میں کیا گیا تھا، جس سے حکومت کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھاتے ہوئے جے ایس خان کے بعد ہونے والے امتحانات کو منسوخ کرنے کا حکومتی فیصلہ کیا جا سکتا ہے۔ مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں کے بارے میں سی آئی ڈی اور ایس آئی ٹی کی تحقیقات کے نتائج پر مبنی 22 بھرتی امتحانات۔

متاثرہ امتحانات میں کئی آسامیوں کے لیے بھرتی کا احاطہ کیا گیا ہے، جن میں جے پی ایس سی 11ویں-13ویں کمبائنڈ سول سروسز ایگزامینیشن اور جے ایس ایس سی -سی جی ایل کے ساتھ ساتھ سول جج، ڈپٹی کلکٹر، فوڈ سیفٹی آفیسر، ڈرگ انسپکٹر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرر، اسسٹنٹ انجینئر، فاریسٹ رینج آفیسر کے اسسٹنٹ انجینئر، فاریسٹ رینج آفیسر اور اسسٹنٹ سرویس شامل ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

بھارت نے کابل کے ہسپتال کو طبی سامان پہنچایا، انسانی ہمدردی کی مدد کی تصدیق کی۔

Published

on

افغانستان کے لیے اپنی انسانی امداد کو جاری رکھتے ہوئے، ہندوستان نے جمعرات کو کابل کے ایک سرکاری اسپتال میں دوائیں اور طبی استعمال کی اشیاء فراہم کیں۔ وزارتِ خارجہ (ایم ای اے ) نے پوسٹ کیا: “افغانستان کی صحت کی دیکھ بھال کو بڑھانا! افغانستان کے دوست لوگوں کے ساتھ اپنی پائیدار صحت کی شراکت کی توثیق کرتے ہوئے، ہندوستان نے کابل کے سرکاری اسپتال میں ہندوستان کے قابل ادویات اور طبی سامان کی فراہمی کی ہے۔” افغانستان کو انسانی امداد فراہم کرنے کی مسلسل کوششیں، بشمول ضروری ادویات، امدادی سامان اور دیگر امداد کی فراہمی۔

اس ہفتے کے شروع میں، نئی دہلی میں دو ہفتہ وار میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے،ایم ای اے کے ترجمان رندھیر جیسوال نے کہا کہ افغانستان کے ساتھ ہندوستان کی مصروفیت گزشتہ سال کے دوران وسیع ہوئی ہے، جس میں سفارتی تبادلے، انسانی امداد اور ترقیاتی اقدامات پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔” ہندوستان کے افغان عوام کے ساتھ دیرینہ تعلقات ہیں۔ نیز افغانستان کے ساتھ ہمارے ترقیاتی تعاون کے پروگراموں کی نوعیت اور سطح ان ترجیحات سے رہنمائی کرتی رہے گی جن کا میں نے ابھی خاکہ پیش کیا ہے،” جیسوال نے کہا۔

گزشتہ ماہ، ہندوستان نے نورستان میں تباہ کن سیلاب کے دوران متاثرہ کمیونٹیز کی مدد کے لیے افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو امدادی سامان، بشمول خوراک کی اشیاء اور خاندانی خیمے فراہم کیے تھے۔”نورستان میں تباہ کن سیلاب کے پیش نظر، ہندوستان امدادی سامان، کھانے کی اشیاء اور خاندانی خیموں سمیت افغانستان کی نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو پہنچاتا ہے۔” ایکس پر لکھا۔

جون میں، ہندوستان نے کابل کو مزید 5 ٹن ضروری ادویات فراہم کیں، جو افغان عوام کی بہبود اور بہبود کے لیے اس کی دیرینہ وابستگی کی عکاسی کرتی ہے۔

اس سے قبل 22 مئی کو، ہندوستان نے 20 ٹن بیسیلس کالمیٹ – گیورین (بی سی جی ) اور تشنج اور تشنج پہنچایا۔ افغان بچوں میں حفاظتی ٹیکوں کی کوششوں کو فروغ دینے کے لیے خناق (ٹی ڈی) کی ویکسین کابل کو پہنچائی گئی۔ “بھارت افغانستان کے بچوں کے حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام کو بڑھانے کے لیے بی سی جی اور تشنج اور خناق (ٹی ڈی) ویکسین کے لیے 20 ٹن اہم خشک مواد کابل پہنچاتا ہے۔ مزید کھیپیں جاری ہیں” ایکس۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان