Connect with us
Friday,07-August-2026

(جنرل (عام

جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے زیر اہتمام ہنگولی میں تعزیتی اجلاس, مولانا ناظر احمد خان ؒ کی ہمہ جہت شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا‎

Published

on

مولانا ناظر احمد خان ملی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک،ہمہ جہت شخصیت،مختلف شعبوں اور تحریکوں کے محرک تھے۔آپ کے اچانک انتقال سے ہم ایک عظیم رفیق،بہترین رہنما اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک اعلیٰ انسان کو کھو دیا۔ان خیالات کا اظہار مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ نے مسجد مستان شاہ نگر ہنگولی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں کیا۔
مفتی کلیم بیگ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہمولانا ناظر احمد خان ملی کے اچانک وصال سے تمام اہل علم اور دینی حلقوں میں اضطراب و بے چینی محسوس کی گئی،اور اسے ملت اسلامیہ کے لئے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گیا۔مولانا مرحوم مسلمانوں کی قدیم جماعت جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابر سے بہت عقیدت رکھتے تھے،آپ جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
اس تعزیتی اجلاس میں جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے اکابر اور مقامی علماء کرام،سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے تاثرات کااظہار کیا۔ابتدائی کلمات میں نہال بھائی کونسلر نے مختصر انداز میں مولانا کے دینی و تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب فاروقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مرحوم سے اپنی طویل رفاقت کا تذکرہ کیا اور مرحوم کے مخلصانہ و مجاہدانہ سر گرمیوں کو سلام پیش کیا۔
جناب خلیل صاحب بیلدار نے ملت کے تئیں مولانا کی طویل اور کامیاب سیاسی جد و جہد کا تذکرہ کیا۔مولانا جنید آزاد قاسمی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نہایت جامع انداز میں مولانا کی تعلیمی و ملی میدان میں خدمات کا اعتراف کیا۔مولانا عیسی خان کاشفی خازن جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے کہا کہ مولانا اپنے چھوٹوں کے ساتھ بھی بڑا ناصحانہ و مشفقانہ برتاؤ کرتے تھے اور ہمارے معاشرہ کا یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتے ہیں ان کے رخصت ہوجانے کے بعد انہیں ان کے کاموں سے یاد کرتے ہیں۔مولانا نظام الدین صاحب ملی اورنگ آباد نے مولانا مرحوم کی علاقہ مراٹھواڑہ میں طویل تعلیمی و فلاحی کاموں کو خراج عقیدت خوبصورت انداز میں پیش کیا،اور کہا ان کی زندگی کے خوبصورت گوشے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی نے مولانا ممدوح کی ملت اسلامیہ کے لئے مختلف الجہات کاوشوں کا تذکرہ کیا،اور کہا کہ ان کی یہ کاوشیں ناقابل فراموش ہیں میرا ان سے جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے تعارف ہوا۔جمعیۃعلماء کے لئے ان کی انتھک جد و جہد اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا سلیقہ و جذبہ اور جمعیۃ کے کاز و کام کو مضبوط و منضبط کرنے کے جذبات ہمارے لئے رہنما خطوط ہیں۔ہم لوگ صرف ان تذکرہ نہ کریں بلکہ ان کی متروکہ دعوتی،تنظیمی،سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو اپنے عملی میدان میں اپنانے کی کوشش کریں،یہی مرحوم کے حق میں صحیح معنوں میں خراج تحسین ہوگا۔مولانا شفیق ملی قاضی شریعت ہنگولی نے کہا کہ مولانا کے تلامذہ جن کی انہوں نے بڑی جانفشانی سے تربیت کی وہ آج دینی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں،وہ ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں، مولانا نے کسب معاش کے لئے تجارت کا شعبہ اختیار کیا لیکن اس کی وجہ سے ادارہ کے فرض منصبی سے غافل نہیں ہوئے۔ہنگولی ضلع کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد مسعود الرحمٰن صاحب فاروقی ملی اشرفی مہتمم مدرسہ کفایت العلوم لمبالہ نے مولانا مرحوم کے اچانک وصال پر بڑے افسوس و غم کا اظہا کیا اور موت کے عنوان سے سیر حاصل بیان کیا اور کہا کہ موت کی اس حقیقت اذا جاء اجلہا لا یستاخرون الخ کا ہمیں استحضار رہنا چاہئے۔حافظ اقبال انصاری اورنگ آباد نے اپنے تعزیتی تاثرات میں کہا کہ مولانا ناظر احمد خان صاحب ہمارے قدیم ترین رفیق تھے،ان کے اعلیٰ اوصاف میں بے باکی، بے خوفی، صحیح کام کرنے اور اس کو انجام تک پہونچانے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،ان کی اچانک وفات ہم سب کے لئے خصوصاً ناقابل تلافی نقصان ہے۔
قاری عبد الرشید حمیدی صاحب ناظم تنظیم جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے تعزیتی اجلاس کی بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے،مولانا عجاز خان بیتی صدر جمعیۃعلماء ضلع ہنگولی نے تمام شرکاء جلسہ کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر انہوں نے مولانا حلیم اللہ قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر،لاتور کے صدر مولانا محمد اسرائیل صاحب،عثمان آباد کے صدرحافظ ناصر،ناندیڑ کے سکریٹری مولانا ایوب قاسمی اور ان کے رفقاء کے ارسال کردہ تحریری تعزیتی پیغام کو پڑھ کر سنایا۔اس جلسہ میں اورنگ آباد،جالنہ،پربھنی،جنتور،ہنگولی وغیرہ کے علماء کرام وذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی،دیگر شرکاء میں حافظ عیسیٰ پربھنی،مصطفی خان صاحب خازن جمعیۃعلماء اورنگ آباد،ہنگولی کے مفتی عبد القدیر،حافظ محمد سالارخان کاشفی،حافظ خواجہ صاحب کمالی،مولانا جاوید،حافظ شیخ احمد،حافظ عبد الخالق،مولانا عمران صاحب،مولانا مسرت ملی،حافظ عبد الحکیم،مولانا عقیل ہاشمی،حاظ انیس،حافظ عبد الباسط وغیرہ تھے۔صدر جلسہ کی دعاء پر اس نشست کا اختتام عمل میں آیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی سائبر فراڈ کیس : گوا ویلا سے ایک گینگ کروڑوں کی دھوکہ دہی میں ملوث، بینک میں ۵۰ کروڑ سے زائد جمع شدہ روپے منجمد، ۱۲ ملزمین گرفتار

Published

on

Goa-Arrest

ممبئی : ممبئی سائبر فراڈ کے کیس میں متعدد بینک اکاؤنٹس اور سم کارڈ ایکٹیو سرگرم کرنے سائبر فراڈ کی واردات انجام دینے والے ایک گینگ کو پولس نے بے نقاب کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق پائیدھونی پولس اسٹیشن میں ۲۰۲۳ میں دھوکہ دہی کے کیس میں سائرن فراڈ کے کیس میں ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی۔ اسی کیس کی پیش رفت میں ممبئی کرائم برانچ یونٹ ۲ نے گوا کولن گوٹ پولس اسٹیشن کی حدود میں کارروائی کی اور ریاست گوا میں ۱۲ ملزمین کو زیر حراست لیا۔ ان کے قبضے سے ۱۵ لیپ ٹاپ، ۱۲۸ اے ٹی ایم ۸۵ موبائل ۷۶ سم کارڈ ۲۲ چیک بک ۷۷ پاس بک ۶ راؤٹر، ۳ کی بورڈ، ۲ ماؤس ملزمین ۱۰۰ پینل رودر نامی سائٹس کا استعمال کیا کرتے تھے اور اسی کی مناسبت سے گیمنگ ایپ سے سائبر فراڈ کی واردات انجام دیا کرتے تھے۔ سائبر فراڈ کی رقم نقدی اور ڈپازٹ کے نام بینک اکاؤنٹس میں جمع اور نکالی جاتی تھی اور تین فیصد کمیشن پر دبئی سے یہ گینگ آپریٹ کرتی تھی۔ ملزمین کے بینک اکاؤنٹ کی تفصیلات معلوم کی گئی تو اس معاملہ میں سائبر ویب سائٹ ۱۹۳۰ میں ملک بھر میں ۸۳ شکایت درج کی گئی ہے۔ ملزمین کو عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انہیں ۱۱ اگست تک پولس ریمانڈ پر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر جوائنٹ پولس کمشنر کرائم انیل کنبھارے، ڈی سی پی راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔ ملزمین متعدد بینک اکاؤنٹس میں رقومات جمع کر کے لوگوں سے دھوکہ دہی کیا کرتے تھے۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی کرائم کے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ ۵ سے ۶ ماہ میں اس گینگ نے سائبرفراڈ سے ۵۰۰ کروڑ کی منتقلی متعدد بینک اکاؤنٹ میں کی ہے, جبکہ ان کے اکاؤنٹس میں ۵۰ کروڑ سے زائد پائے گئے ہیں۔ انہیں منجمد کر دیا گیا ہے انہوں نے بتایا کہ ملزمین سے متعلق ممبئی میں تفتیش سے یہ انکشاف ہوا کہ ان کے اکاؤنٹس گوا میں بھی ہے اور گوا سے ہی گینگ آپریٹ کرتی ہے۔ یہ گینگ گوا میں بیج کے پاس ایک ویلا سے آپریٹ کیا کرتی تھی یہاں سے ۱۲ ملزمین کی گرفتاری عمل میں لائی گئی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی ہاؤسنگ سوسائٹیوں کو فٹ پاتھوں سے ریمپ اور تجاوزات کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم بصورت دیگر سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی : اشونی بھیڈے

Published

on

Ashwini-Bhide

ممبئی میں فٹ پاتھوں کا مقصد شہریوں کو محفوظ طریقے سے اور آسانی سے چلنے کی اجازت دینا ہے۔ اس لیے فٹ پاتھوں پر ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا کاروباری مالکان کی جانب سے غیر مجاز ریمپ، تجاوزات، کمرشل ڈھانچے یا کسی اور قسم کی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ہاؤسنگ سوسائٹیز اور یونٹ مالکان جنہوں نے فٹ پاتھوں پر ریمپ بنائے ہیں یا دوسری تجاوزات قائم کر رکھی ہیں۔ انہیں ایک ماہ کے اندر اپنے خرچے سے ہٹانا ہو گا۔ بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے واضح انتباہ جاری کیا ہے کہ ایسا نہ کرنے پر میونسپل کارپوریشن متعلقہ فریقوں کے خلاف سخت کارروائی کرے گی۔ ممبئی میونسپل کارپوریشن غیر مجاز ہاکروں اور تجاوزات کے فٹ پاتھوں کو صاف کرنے کے لیے پورے شہر میں ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کو مؤثر طریقے سے نافذ کر رہی ہے، اس بات کو یقینی بناتے ہوئے کہ وہ رکاوٹوں سے پاک رہیں۔ اس مہم کے ایک حصے کے طور پر، بی ایم سی کمشنر اشونی بھیڈے نے آج (6 اگست 2026) مغربی مضافاتی علاقوں کے ‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈوں کے کئی علاقوں کا ایک آن سائٹ معائنہ کیا۔ ان میں سوامی وویکانند مارگ، رام گنیش گڈکری مارگ، بندو گور مارگ، گوریگاؤں ریلوے اسٹیشن کی طرف جانے والی سڑک، شیٹھ شری دیوراج جی گنڈیچا چوک، گوریگاؤں اسٹیشن کے قریب ٹماٹر گلی، اور دودھ ساگر مارگ شامل ہیں۔ اس معائنہ کے دورے کے دوران کمشنر اشونی بھیڈے نے فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو مکمل طور پر ہٹانے اور شہریوں کے لیے آسانی سے چلنے کے قابل بنانے کی ہدایات جاری کیں۔ کمشنر بھیڈے نے تجاوزات، ریمپ، تجارتی ڈھانچوں اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کا جائزہ لیا۔ انہوں نے متعلقہ عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے فوری کارروائی کریں کہ فٹ پاتھ کی دستیاب جگہ کو عوام کے استعمال کے لیے مکمل طور پر کھول دیا جائے۔

‘کے-ویسٹ’ وارڈ میں، ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت، پہلے مرحلے کا مقصد 320 کلومیٹر فٹ پاتھوں سے تجاوزات کو ختم کرنا ہے، تاکہ انہیں شہریوں کے لیے قابل رسائی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، کے-ویسٹ وارڈ میں کل 355 سڑکوں میں سے 27 کو اس اقدام کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔ ان سڑکوں پر 37.7 کلومیٹر تک پھیلے فٹ پاتھوں کو تجاوزات سے پاک کیا جا رہا ہے۔

میونسپل کارپوریشن کی شہریوں سے اپیل :
‘کے-ویسٹ’ اور ‘پی-جنوبی’ وارڈز میں، ہاؤسنگ سوسائٹیوں یا دکانوں کے مالکان کی جانب سے گاڑیوں تک رسائی کی سہولت کے لیے بنائے گئے ریمپ اکثر پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں۔ اس طرح کی رکاوٹیں بزرگ شہریوں، خواتین، بچوں اور مختلف معذور افراد کو فٹ پاتھ سے ہٹ کر سڑک پر چلنے پر مجبور کرتی ہیں، جس سے پیدل چلنے والوں کی حفاظت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئے کمشنر بھیڈے نے ایسے ریمپ کو فوری طور پر ہٹانے کا حکم دیا۔ انہوں نے متعلقہ فریقوں کو ہدایت کی کہ وہ رضاکارانہ طور پر ان تجاوزات کو ہٹائیں اور ایک ماہ کے اندر فٹ پاتھ بحال کریں۔ کمشنر بھیڈے نے واضح کیا کہ ان ہدایات پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف میونسپل قواعد و ضوابط کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی۔ مزید برآں، بعض علاقوں میں فٹ پاتھوں پر قائم تجارتی سٹال ٹریفک میں رکاوٹ کا باعث بن رہے ہیں۔ بھیڈے نے عہدیداروں کو ہدایت کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان اسٹال مالکان کے لیے متبادل جگہیں فراہم کی جائیں۔

مریض، ان کے رشتہ دار اور ایمبولینسیں ڈاکٹر آر این تک پہنچنے کے لیے ولے پارلے (مغربی) میں رام گنیش گڈکری مارگ اور سوامی وویکانند مارگ کے ساتھ اکثر سفر کرتے ہیں۔ مزید برآں، ان راستوں پر کالجوں اور تعلیمی اداروں کی موجودگی کے نتیجے میں کالج کے طلباء کی پیدل آمدورفت میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ اس لیے ان سڑکوں پر ہموار اور رکاوٹوں سے پاک ٹریفک کی روانی کو یقینی بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ فٹ پاتھوں پر تجاوزات اور غیر مجاز رکاوٹوں کی وجہ سے طلباء اور دیگر شہری اکثر سڑک پر ہی چلنے پر مجبور ہیں۔ اس سے نہ صرف پیدل چلنے والوں کی حفاظت سے سمجھوتہ ہوتا ہے بلکہ ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس پس منظر میں اور ‘پیڈسٹرین فرسٹ’ مہم کے تحت ان راستوں پر فٹ پاتھوں کو شہریوں کے لیے مکمل طور پر رکاوٹوں سے پاک بنانے کو ترجیح دی گئی ہے۔ میونسپل کمشنر اشونی بھیڈے نے غیر مجاز ہاکروں، دکانداروں کی تجاوزات، غیر مجاز ریمپ اور پیدل چلنے والوں کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے والی دیگر رکاوٹوں کو فوری طور پر ہٹانے کی ہدایت جاری کی ہے۔

بزنس آپریٹرز کو منتقل کریں :
ایک معائنہ سے یہ بات سامنے آئی کہ گوریگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب بندو گور مارگ کے ساتھ فٹ پاتھوں پر رکاوٹوں کی وجہ سے شہریوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ چونکہ یہ صورتحال ٹریفک کی بھیڑ کا باعث بن رہی تھی، کمشنر بھیڈے نے متعلقہ کاروباری آپریٹرز کو جلد از جلد منتقل کرنے کا حکم دیا۔ بندو گور مارگ 350 میٹر لمبا اور 13.40 میٹر چوڑا ہے، جو روزانہ تقریباً 70,000 ریلوے مسافروں کی خدمت کرتا ہے۔ پہلے مرحلے میں، گورگاؤں (مغربی) ریلوے اسٹیشن کے قریب 43 تجارتی ڈھانچے کو ہٹا دیا گیا تھا، اور سڑک کو چوڑا کرنے کا منصوبہ ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان