Connect with us
Thursday,06-August-2026

(جنرل (عام

جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے زیر اہتمام ہنگولی میں تعزیتی اجلاس, مولانا ناظر احمد خان ؒ کی ہمہ جہت شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا‎

Published

on

مولانا ناظر احمد خان ملی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک،ہمہ جہت شخصیت،مختلف شعبوں اور تحریکوں کے محرک تھے۔آپ کے اچانک انتقال سے ہم ایک عظیم رفیق،بہترین رہنما اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک اعلیٰ انسان کو کھو دیا۔ان خیالات کا اظہار مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ نے مسجد مستان شاہ نگر ہنگولی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں کیا۔
مفتی کلیم بیگ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہمولانا ناظر احمد خان ملی کے اچانک وصال سے تمام اہل علم اور دینی حلقوں میں اضطراب و بے چینی محسوس کی گئی،اور اسے ملت اسلامیہ کے لئے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گیا۔مولانا مرحوم مسلمانوں کی قدیم جماعت جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابر سے بہت عقیدت رکھتے تھے،آپ جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
اس تعزیتی اجلاس میں جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے اکابر اور مقامی علماء کرام،سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے تاثرات کااظہار کیا۔ابتدائی کلمات میں نہال بھائی کونسلر نے مختصر انداز میں مولانا کے دینی و تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب فاروقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مرحوم سے اپنی طویل رفاقت کا تذکرہ کیا اور مرحوم کے مخلصانہ و مجاہدانہ سر گرمیوں کو سلام پیش کیا۔
جناب خلیل صاحب بیلدار نے ملت کے تئیں مولانا کی طویل اور کامیاب سیاسی جد و جہد کا تذکرہ کیا۔مولانا جنید آزاد قاسمی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نہایت جامع انداز میں مولانا کی تعلیمی و ملی میدان میں خدمات کا اعتراف کیا۔مولانا عیسی خان کاشفی خازن جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے کہا کہ مولانا اپنے چھوٹوں کے ساتھ بھی بڑا ناصحانہ و مشفقانہ برتاؤ کرتے تھے اور ہمارے معاشرہ کا یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتے ہیں ان کے رخصت ہوجانے کے بعد انہیں ان کے کاموں سے یاد کرتے ہیں۔مولانا نظام الدین صاحب ملی اورنگ آباد نے مولانا مرحوم کی علاقہ مراٹھواڑہ میں طویل تعلیمی و فلاحی کاموں کو خراج عقیدت خوبصورت انداز میں پیش کیا،اور کہا ان کی زندگی کے خوبصورت گوشے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی نے مولانا ممدوح کی ملت اسلامیہ کے لئے مختلف الجہات کاوشوں کا تذکرہ کیا،اور کہا کہ ان کی یہ کاوشیں ناقابل فراموش ہیں میرا ان سے جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے تعارف ہوا۔جمعیۃعلماء کے لئے ان کی انتھک جد و جہد اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا سلیقہ و جذبہ اور جمعیۃ کے کاز و کام کو مضبوط و منضبط کرنے کے جذبات ہمارے لئے رہنما خطوط ہیں۔ہم لوگ صرف ان تذکرہ نہ کریں بلکہ ان کی متروکہ دعوتی،تنظیمی،سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو اپنے عملی میدان میں اپنانے کی کوشش کریں،یہی مرحوم کے حق میں صحیح معنوں میں خراج تحسین ہوگا۔مولانا شفیق ملی قاضی شریعت ہنگولی نے کہا کہ مولانا کے تلامذہ جن کی انہوں نے بڑی جانفشانی سے تربیت کی وہ آج دینی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں،وہ ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں، مولانا نے کسب معاش کے لئے تجارت کا شعبہ اختیار کیا لیکن اس کی وجہ سے ادارہ کے فرض منصبی سے غافل نہیں ہوئے۔ہنگولی ضلع کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد مسعود الرحمٰن صاحب فاروقی ملی اشرفی مہتمم مدرسہ کفایت العلوم لمبالہ نے مولانا مرحوم کے اچانک وصال پر بڑے افسوس و غم کا اظہا کیا اور موت کے عنوان سے سیر حاصل بیان کیا اور کہا کہ موت کی اس حقیقت اذا جاء اجلہا لا یستاخرون الخ کا ہمیں استحضار رہنا چاہئے۔حافظ اقبال انصاری اورنگ آباد نے اپنے تعزیتی تاثرات میں کہا کہ مولانا ناظر احمد خان صاحب ہمارے قدیم ترین رفیق تھے،ان کے اعلیٰ اوصاف میں بے باکی، بے خوفی، صحیح کام کرنے اور اس کو انجام تک پہونچانے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،ان کی اچانک وفات ہم سب کے لئے خصوصاً ناقابل تلافی نقصان ہے۔
قاری عبد الرشید حمیدی صاحب ناظم تنظیم جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے تعزیتی اجلاس کی بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے،مولانا عجاز خان بیتی صدر جمعیۃعلماء ضلع ہنگولی نے تمام شرکاء جلسہ کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر انہوں نے مولانا حلیم اللہ قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر،لاتور کے صدر مولانا محمد اسرائیل صاحب،عثمان آباد کے صدرحافظ ناصر،ناندیڑ کے سکریٹری مولانا ایوب قاسمی اور ان کے رفقاء کے ارسال کردہ تحریری تعزیتی پیغام کو پڑھ کر سنایا۔اس جلسہ میں اورنگ آباد،جالنہ،پربھنی،جنتور،ہنگولی وغیرہ کے علماء کرام وذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی،دیگر شرکاء میں حافظ عیسیٰ پربھنی،مصطفی خان صاحب خازن جمعیۃعلماء اورنگ آباد،ہنگولی کے مفتی عبد القدیر،حافظ محمد سالارخان کاشفی،حافظ خواجہ صاحب کمالی،مولانا جاوید،حافظ شیخ احمد،حافظ عبد الخالق،مولانا عمران صاحب،مولانا مسرت ملی،حافظ عبد الحکیم،مولانا عقیل ہاشمی،حاظ انیس،حافظ عبد الباسط وغیرہ تھے۔صدر جلسہ کی دعاء پر اس نشست کا اختتام عمل میں آیا۔

(جنرل (عام

بمبئی ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے انہیں فوری طور پر کام پر واپس آنے کا حکم دیا۔

Published

on

high

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کی ہڑتال کا ازخود نوٹس لیا ہے۔ احتجاج کرنے والے ڈاکٹروں کی سرزنش کرتے ہوئے ہائی کورٹ نے خبردار کیا کہ اگر انہوں نے کام کرنے سے انکار کیا تو ان کی تنخواہیں روک دی جائیں گی۔ عدالت نے پوچھا کہ اگر ہڑتال کے دوران میونسپل اسپتالوں میں ایک مریض کی بھی موت ہو جائے تو ذمہ دار کون ہوگا؟

مہاراشٹر میں ڈاکٹروں نے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو برج کورس کے ذریعے ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے دلیل دی کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی کے حقوق نہیں دیے جا سکتے۔ عدالت نے ڈاکٹروں کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنے کی ہدایت کردی۔

انڈین میڈیکل ایسوسی ایشن کے وکلاء نے کہا کہ ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایلوپیتھی پریکٹس کرنے کی اجازت دینے کے ریاستی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ان کی درخواست گزشتہ 12 سالوں سے زیر التوا ہے۔ اب 3 اگست کے ایک سرکاری حکم نامے کے ذریعے ریاستی حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے۔ کمیٹی کا کام مکمل ہونے سے پہلے ہی رجسٹریشن شروع ہو گئی ہے، اس پر انہیں اعتراض ہے۔

اس کے جواب میں ہائی کورٹ نے ہڑتالی ڈاکٹروں سے کہا کہ “فرض کریں کہ بعد میں آپ کی درخواست منظور کر لی جاتی ہے اور آپ جیت جاتے ہیں، لیکن اگر آپ کی ہڑتال کے دوران 50 مریض مر جاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری کون لے گا؟ آپ کو فوری طور پر ہڑتال ختم کرنی چاہیے، ورنہ ہم تنخواہیں منجمد کرنے کا حکم دیں گے۔” عدالت نے تمام ڈاکٹروں کو کھانے کے وقفے کے بعد کام پر واپس آنے کی ہدایت کی اور انہیں یقین دلایا کہ وہ مظاہرین کے کیس کی مکمل سماعت کرے گی۔

مہاراشٹر ایسوسی ایشن آف ریذیڈنٹ ڈاکٹرز (سارڈ) نے حکومت اور مہاراشٹر میڈیکل کونسل کے اس فیصلے کے خلاف ہڑتال شروع کی ہے جس میں ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو سرٹیفکیٹ کورس ان ماڈرن فارماکولوجی (سی سی ایم پی) کے تحت ایلوپیتھک ادویات تجویز کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔ ممبئی کے آزاد میدان میں، بڑی تعداد میں ریزیڈنٹ ڈاکٹروں اور آئی ایم اے کے عہدیداروں نے پلے کارڈز اٹھائے ہوئے، حکومت سے فوری طور پر اس فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے “کوئی سی سی ایم پی نہیں” کے نعرے لگائے۔ ہڑتالی ڈاکٹروں نے کہا کہ صرف 90 دن کا کورس کر کے ہومیوپیتھی ڈاکٹروں کو ایم بی بی ایس اور ایم ڈی ڈاکٹروں کے برابر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مریضوں کی حفاظت اور صحت سے سمجھوتہ کرتا ہے۔

Continue Reading

(جنرل (عام

بامبے ہائی کورٹ نے عصمت دری کیس میں ترون تیج پال کو 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔

Published

on

ARREST-7

ممبئی : بمبئی ہائی کورٹ نے جمعرات کو تہلکا کے سابق ایڈیٹر ترون تیج پال کو 2013 میں ایک جونیئر ساتھی کو جنسی طور پر ہراساں کرنے کے معاملے میں 10 سال قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے ان کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں تعزیرات ہند (آئی پی سی) کے تحت عصمت دری اور دیگر جرائم کا مجرم قرار دیا۔ جسٹس نیلا گوکھلے اور امیت جمسانڈیکر کی بنچ نے سزا کا اعلان کیا اور تیج پال کو جیل حکام کے حوالے کرنے کے لیے دو ہفتوں کی مہلت دی۔

اس سے قبل، جسٹس گوکھلے کی قیادت والی بنچ نے ماپوسا سیشن کورٹ کے مئی 2021 کے فیصلے کے خلاف گوا حکومت کی اپیل کی اجازت دی تھی، جس نے تیج پال کو تمام الزامات سے بری کر دیا تھا۔ اپنے فیصلے میں، بامبے ہائی کورٹ نے تیج پال کو آئی پی سی کی دفعہ 376(2)(ایف) اور 376(2)(کے) (ریپ)، 354اے (جنسی حملہ) اور 354بی کے تحت مجرم قرار دیا۔

سزا سنانے کی سماعت کے دوران تیج پال کے وکیل نے سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کی اجازت دینے کے لیے ان کی سزا پر آٹھ ہفتے کے لیے روک لگانے کی درخواست کی۔ اس نے دلیل دی کہ اس فیصلے نے ان کی بریت کو پلٹ دیا اور اس بات پر زور دیا کہ ان کے کیس کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ اس کے خلاف کوئی اور مجرمانہ کیس نہیں ہے۔ تیج پال نے جسٹس گوکھلے کی بنچ کے سامنے نرمی کی اپیل بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ خود کو شکار سمجھتے ہیں اور ہائی کورٹ سے درخواست کی کہ سزا کا فیصلہ کرتے وقت ہمدردانہ رویہ اپنائے۔

اپیل کی مخالفت کرتے ہوئے سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے دلیل دی کہ اس کیس میں جنسی تشدد کے خلاف ایک مضبوط پیغام بھیجنے کی ضرورت ہے۔ اس نے کہا، “جب کوئی لڑکی ‘نہیں’ کہتی ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے ‘نہیں’۔” کیس میں ایک جونیئر ساتھی کے الزامات شامل تھے کہ نومبر 2013 میں گوا کے ایک لگژری ہوٹل میں ایک تقریب کے دوران تیج پال نے لفٹ کے اندر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

گوا پولیس نے تیج پال کے خلاف عصمت دری سمیت کئی جرائم کی ایف آئی آر درج کی ہے۔ اس کے بعد، اسے نومبر 2013 میں گرفتار کر لیا گیا تھا جب ایک مقامی عدالت نے ان کی پیشگی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ سپریم کورٹ نے جولائی 2014 میں انہیں باقاعدہ ضمانت دی تھی۔ مئی 2021 میں ایڈیشنل سیشن جج کشما جوشی نے تیج پال کو بری کر دیا۔ جج نے کہا کہ استغاثہ اپنا مقدمہ معقول شک سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

انہوں نے تفتیش میں مبینہ کوتاہیوں کا بھی حوالہ دیا، جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج جیسے کچھ شواہد پیش کرنے میں ناکامی بھی شامل ہے۔ گوا حکومت نے بریت کو بمبئی ہائی کورٹ میں چیلنج کیا۔ حکومت نے دلیل دی کہ ٹرائل کورٹ نے ریکارڈ پر موجود شواہد کا جائزہ لینے میں غلطی کی ہے۔

اپیل کی سماعت کے دوران استغاثہ نے دلیل دی کہ سیشن کورٹ نے ملزم کے خلاف شواہد کا جائزہ لینے کے بجائے متاثرہ کے رویے اور واقعے کے بعد کے پس منظر پر زیادہ توجہ دی۔ استغاثہ نے یہ بھی استدلال کیا کہ ٹرائل کورٹ نے اہم شواہد کو نظر انداز کیا، جس میں مبینہ طور پر تیج پال کی طرف سے بھیجی گئی معافی کی ای میل بھی شامل ہے جب شکایت کنندہ نے اشاعت کے اس وقت کے منیجنگ ایڈیٹر کے ساتھ الزامات اٹھائے تھے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کی مانخورد شیواجی نگر ترقیاتی کاموں کے سلسلے میں مضافاتی ضلع کلکٹر کے ساتھ اہم میٹنگ

Published

on

Abu-Asim-A.

ممبئی : مقامی ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے ممبئی کے مضافاتی ضلع کلکٹر (آئی اے ایس) سوربھ کٹیار سے ملاقات کی تاکہ مانخورد شیواجی نگر (گوونڈی) اسمبلی حلقہ میں مختلف زیر التواء اور اہم ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بات چیت کی جا سکے۔ ملاقات میں علاقے میں تعلیم، سماجی بہبود اور بحالی سے متعلق اہم مسائل کے حوالے سے تعمیری بات چیت ہوئی۔ میٹنگ کے دوران ایم ایل اے اعظمی نے ضلع کلکٹر کے سامنے کلیدی مطالبات پیش کیے، جن میں مانخورد گوونڈی علاقے میں ڈگری کالج کے لیے سرکاری اراضی مختص کرنا، شیعہ مسلم کمیونٹی کے لیے تعزیہ کی تدفین کے لیے مناسب جگہ کی فراہمی، اور ٹرانزٹ کیمپوں میں رہنے والے مکینوں کی بحالی کے مسائل کا فوری حل شامل ہے۔ میٹنگ کے بعد ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا، “عوامی مفاد اور حلقہ کی ہمہ جہت ترقی میرے بنیادی مقاصد ہیں۔ ضلع کلکٹر کے ساتھ ملاقات بہت مثبت رہی، اور مجھے یقین ہے کہ انتظامیہ جلد ہی اٹھائے گئے مسائل کے بارے میں سازگار فیصلے کرے گی۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان