(جنرل (عام
جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ کے زیر اہتمام ہنگولی میں تعزیتی اجلاس, مولانا ناظر احمد خان ؒ کی ہمہ جہت شخصیت کو خراج عقیدت پیش کیا گیا
مولانا ناظر احمد خان ملی اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک،ہمہ جہت شخصیت،مختلف شعبوں اور تحریکوں کے محرک تھے۔آپ کے اچانک انتقال سے ہم ایک عظیم رفیق،بہترین رہنما اور عمدہ صلاحیتوں کے مالک اعلیٰ انسان کو کھو دیا۔ان خیالات کا اظہار مفتی مرزا کلیم بیگ ندوی صدر جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ نے مسجد مستان شاہ نگر ہنگولی میں منعقدہ تعزیتی اجلاس میں کیا۔
مفتی کلیم بیگ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہمولانا ناظر احمد خان ملی کے اچانک وصال سے تمام اہل علم اور دینی حلقوں میں اضطراب و بے چینی محسوس کی گئی،اور اسے ملت اسلامیہ کے لئے بڑے نقصان سے تعبیر کیا گیا۔مولانا مرحوم مسلمانوں کی قدیم جماعت جمعیۃعلماء ہند اور اس کے اکابر سے بہت عقیدت رکھتے تھے،آپ جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے نائب صدر کے عہدے پر فائز تھے۔
اس تعزیتی اجلاس میں جمعیۃعلماء علاقہ مراٹھواڑہ کے اکابر اور مقامی علماء کرام،سیاسی و سماجی شخصیات نے اپنے تاثرات کااظہار کیا۔ابتدائی کلمات میں نہال بھائی کونسلر نے مختصر انداز میں مولانا کے دینی و تعلیمی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا،مولانا محفوظ الرحمٰن صاحب فاروقی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے مرحوم سے اپنی طویل رفاقت کا تذکرہ کیا اور مرحوم کے مخلصانہ و مجاہدانہ سر گرمیوں کو سلام پیش کیا۔
جناب خلیل صاحب بیلدار نے ملت کے تئیں مولانا کی طویل اور کامیاب سیاسی جد و جہد کا تذکرہ کیا۔مولانا جنید آزاد قاسمی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے نہایت جامع انداز میں مولانا کی تعلیمی و ملی میدان میں خدمات کا اعتراف کیا۔مولانا عیسی خان کاشفی خازن جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے کہا کہ مولانا اپنے چھوٹوں کے ساتھ بھی بڑا ناصحانہ و مشفقانہ برتاؤ کرتے تھے اور ہمارے معاشرہ کا یہ المیہ ہے کہ ہم اپنے بڑوں کی ان کی زندگی میں قدر نہیں کرتے ہیں ان کے رخصت ہوجانے کے بعد انہیں ان کے کاموں سے یاد کرتے ہیں۔مولانا نظام الدین صاحب ملی اورنگ آباد نے مولانا مرحوم کی علاقہ مراٹھواڑہ میں طویل تعلیمی و فلاحی کاموں کو خراج عقیدت خوبصورت انداز میں پیش کیا،اور کہا ان کی زندگی کے خوبصورت گوشے ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔مولانا سید نصر اللہ حسینی سہیل ندوی نے مولانا ممدوح کی ملت اسلامیہ کے لئے مختلف الجہات کاوشوں کا تذکرہ کیا،اور کہا کہ ان کی یہ کاوشیں ناقابل فراموش ہیں میرا ان سے جمعیۃعلماء ہند کے پلیٹ فارم سے تعارف ہوا۔جمعیۃعلماء کے لئے ان کی انتھک جد و جہد اور سب کو ساتھ لیکر چلنے کا سلیقہ و جذبہ اور جمعیۃ کے کاز و کام کو مضبوط و منضبط کرنے کے جذبات ہمارے لئے رہنما خطوط ہیں۔ہم لوگ صرف ان تذکرہ نہ کریں بلکہ ان کی متروکہ دعوتی،تنظیمی،سیاسی و سماجی سرگرمیوں کو اپنے عملی میدان میں اپنانے کی کوشش کریں،یہی مرحوم کے حق میں صحیح معنوں میں خراج تحسین ہوگا۔مولانا شفیق ملی قاضی شریعت ہنگولی نے کہا کہ مولانا کے تلامذہ جن کی انہوں نے بڑی جانفشانی سے تربیت کی وہ آج دینی حلقوں میں ممتاز مقام رکھتے ہیں،وہ ان کے لئے ذخیرہ آخرت ہیں، مولانا نے کسب معاش کے لئے تجارت کا شعبہ اختیار کیا لیکن اس کی وجہ سے ادارہ کے فرض منصبی سے غافل نہیں ہوئے۔ہنگولی ضلع کی بزرگ شخصیت حضرت مولانا محمد مسعود الرحمٰن صاحب فاروقی ملی اشرفی مہتمم مدرسہ کفایت العلوم لمبالہ نے مولانا مرحوم کے اچانک وصال پر بڑے افسوس و غم کا اظہا کیا اور موت کے عنوان سے سیر حاصل بیان کیا اور کہا کہ موت کی اس حقیقت اذا جاء اجلہا لا یستاخرون الخ کا ہمیں استحضار رہنا چاہئے۔حافظ اقبال انصاری اورنگ آباد نے اپنے تعزیتی تاثرات میں کہا کہ مولانا ناظر احمد خان صاحب ہمارے قدیم ترین رفیق تھے،ان کے اعلیٰ اوصاف میں بے باکی، بے خوفی، صحیح کام کرنے اور اس کو انجام تک پہونچانے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،ان کی اچانک وفات ہم سب کے لئے خصوصاً ناقابل تلافی نقصان ہے۔
قاری عبد الرشید حمیدی صاحب ناظم تنظیم جمعیۃعلماء مراٹھواڑہ نے تعزیتی اجلاس کی بہترین انداز میں نظامت کے فرائض انجام دیئے،مولانا عجاز خان بیتی صدر جمعیۃعلماء ضلع ہنگولی نے تمام شرکاء جلسہ کا شکریہ ادا کیا اس موقع پر انہوں نے مولانا حلیم اللہ قاسمی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃعلماء مہاراشٹر،لاتور کے صدر مولانا محمد اسرائیل صاحب،عثمان آباد کے صدرحافظ ناصر،ناندیڑ کے سکریٹری مولانا ایوب قاسمی اور ان کے رفقاء کے ارسال کردہ تحریری تعزیتی پیغام کو پڑھ کر سنایا۔اس جلسہ میں اورنگ آباد،جالنہ،پربھنی،جنتور،ہنگولی وغیرہ کے علماء کرام وذمہ داران نے بڑی تعداد میں شرکت کی،دیگر شرکاء میں حافظ عیسیٰ پربھنی،مصطفی خان صاحب خازن جمعیۃعلماء اورنگ آباد،ہنگولی کے مفتی عبد القدیر،حافظ محمد سالارخان کاشفی،حافظ خواجہ صاحب کمالی،مولانا جاوید،حافظ شیخ احمد،حافظ عبد الخالق،مولانا عمران صاحب،مولانا مسرت ملی،حافظ عبد الحکیم،مولانا عقیل ہاشمی،حاظ انیس،حافظ عبد الباسط وغیرہ تھے۔صدر جلسہ کی دعاء پر اس نشست کا اختتام عمل میں آیا۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی کیسل روڈ پر دل دہلا دینے والے حادثے میں تین افراد ہلاک، ایک زخمی

ممبئی؛ ممبئی کی کوسٹل روڈ پر ایک بی ایم ڈبلیو کار فلمی انداز میں پل سے نیچے گر گئی۔ یہ کوئی فلمی سین نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والا حادثہ تھا۔ پولیس نے لاپرواہی اور تیز رفتار ڈرائیونگ سمیت الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے جس میں تین افراد کی موت واقع ہوئی ہے جبکہ ایک زخمی ہے۔ پولیس کے مطابق 20 ستمبر 2026 کو صبح تقریباً 05:03 بجے کالے رنگ کی بی ایم ڈبلیوکار (رجسٹریشن نمبر ڈی ڈی 01 سی 6302) میرین ڈرائیو سے حاجی علی کے قریب پہنچی۔ جا رہی ہے کوسٹل روڈ کی شمالی طرف کی لین پر سفر کرتے ہوئے، خاص طور پر لال لاجپت رائے کالج اور لوٹس برج کے قریب، یہ گاڑی کوسٹل روڈ پل کے پاس سے گزری۔ یہ ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں کار پارکنگ کی تعمیراتی سرگرمیاں جاری تھیں۔ حادثے میں چار افراد شامل تھے۔ نائر ہسپتال، ممبئی کے طبی اہلکار۔ نے ان میں سے تین کو مردہ قرار دیا ہے۔ ایک شخص زخمی ہوا ہے اور اس وقت ممبئی کے نیر ہسپتال میں زیر علاج ہے۔ زخمی شخص کا نام: 1) آدتیہ کلپیشور اوسوال، عمر 23 سال، جب کہ مرنے والے کی عمر تین سال ہے۔ جو اموات ہوئی ہیں ان میں 1) دھریہ درشن سیٹھ، عمر 17 سال 2) آدتیہ جکاسانیہ، عمر 19 سال 3) شاہنے گجر، عمر 21 سال، تاردیو تھانہ پولیس کے افسران اور ٹیم موقع پر موجود ہے، اور واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہے۔ ڈی سی پی جینیٹ مینا نے تصدیق کی کہ اس معاملے میں ابتدائی تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ کی ہے۔
(جنرل (عام
ممبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ایک شخص کا رابطہ منقطع ہوا، جس کی وجہ سے اس کی گھبرائی ہوئی بیوی نے اغوا کی کرائی ایف آئی آر درج۔

پونے : ممبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد ایک تاجر کا رابطہ ختم ہوگیا۔ اس کی مسلسل ناقابل رسائی اس کی بیوی کو پریشان کر دیا اور اس نے اس کے اغوا کی ایف آئی آر درج کرائی۔ بیوی نے امیگریشن کے مسائل کا بہانہ بنایا تھا۔ اس نے یہ اس حقیقت کو چھپانے کے لیے کیا کہ اس سفر میں ایک خاتون دوست بھی اس کے ساتھ تھی، جب کہ گھر میں اس نے بتایا تھا کہ یہ سفر خالصتاً کاروباری مقاصد کے لیے تھا۔ ایک پولیس افسر نے بتایا کہ 46 سالہ شخص، جو لانڈری کا کاروبار کرتا ہے، نے 14 ستمبر کو اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ کوالالمپور جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ یہ منصوبہ اس وقت منسوخ کر دیا گیا جب امیگریشن حکام کو پتہ چلا کہ خاتون جس پاسپورٹ پر سفر کر رہی تھی، وہ پرانا ہے اور اسے پہلے ہی گمشدہ قرار دے دیا گیا تھا۔
قانونی پیچیدگیوں کے خوف سے اور اس ڈر سے کہ اس کی بیوی کو پتہ چل جائے گا کہ وہ کسی دوسری عورت کے ساتھ سفر کر رہا ہے، اس نے مبینہ طور پر امیگریشن کے مسائل کے بارے میں ایک کہانی گھڑ لی۔ سہار پولیس اسٹیشن کے ایک افسر کے مطابق، جب تاجر کی خاتون دوست کو امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے روکا تو اس نے اپنا سفر منسوخ کر دیا، اپنا موبائل فون بند کر دیا اور اس کے ساتھ چھترپتی شیواجی مہاراج ٹرمینس چلا گیا۔ تاہم، ایئرپورٹ سے نکلنے سے پہلے، اس نے اپنی اہلیہ کو لینڈ لائن سے فون کیا اور بتایا کہ اسے امیگریشن کے مسائل کی وجہ سے اپنا موبائل فون حوالے کرنا پڑا۔ افسر نے بتایا کہ اگلے دن اس نے اپنی بیوی سے واٹس ایپ ویڈیو کال پر مختصر بات کی اور وہی کہانی دہرائی۔ جب اس کا فون بعد میں ناقابل رسائی تھا، تو اس کی بیوی بدھ کو پولیس کے پاس گئی، جس کے بعد اس کی شکایت کی بنیاد پر اغوا کی ایف آئی آر درج کی گئی۔ بدھ کی رات، ایف آئی آر کے بارے میں جاننے کے بعد، وہ شخص سہار پولیس اسٹیشن گیا اور اس نے اعتراف کیا کہ اس نے امیگریشن کے مسائل کے بارے میں کہانی گھڑ لی ہے۔ افسر نے کہا کہ پولیس دو ہفتوں کے اندر عدالت میں سی سمری کلوزر رپورٹ داخل کرے گی۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ درجہ بندی اس وقت استعمال کی جاتی ہے جب کوئی مقدمہ کسی حقیقی غلط فہمی کی وجہ سے درج کیا گیا ہو یا جب کیس نہ تو مکمل طور پر سچا ہو اور نہ ہی مکمل طور پر غلط ہو۔
(جنرل (عام
پاسپورٹ کی میعاد کے لیے قوانین میں تبدیلی : نئے اصول کے تحت 15 سال سے کم عمر کے بچوں کا پاسپورٹ 18 سال کا بچہ نہیں ہو جاتا کارآمد رہے گا۔

نئی دہلی : حکومت نے 15 سال سے کم عمر کے بچوں کے پاسپورٹ سے متعلق قوانین میں تبدیلی کی ہے۔ اب اس عمر سے کم عمر بچوں کو جاری کیا جانے والا 36 صفحات پر مشتمل معیاری پاسپورٹ پانچ سال یا جب تک بچہ 18 سال کا نہیں ہو جاتا، جو بھی پہلے ہو، کارآمد رہے گا۔ وزارت خارجہ نے پاسپورٹ (ترمیمی) قواعد، 2026 کو مطلع کیا ہے، جو جمعرات کو گزٹ آف انڈیا میں شائع ہونے کے بعد نافذ ہوا تھا۔ اگر کسی بچے کو 12 سال کی عمر میں پاسپورٹ جاری کیا جاتا ہے، تو اس کا پاسپورٹ پانچ سال تک کارآمد رہے گا، یعنی جب تک کہ وہ 17 سال کی عمر کو نہ پہنچ جائے۔ تاہم، اگر کوئی بچہ 14 سال کا ہے، تو اس کا پاسپورٹ اس وقت تک کارآمد رہے گا جب تک کہ وہ 18 سال کا نہ ہو جائے۔ یہ تبدیلی پاسپورٹ رولز، 1980 کے رول 12(1اے) میں کی گئی ہے۔
اس سے قبل، حکومت نے پاسپورٹ خدمات کی فیسوں میں بھی نظر ثانی کی تھی، جو 1 جولائی سے لاگو ہوتی ہے۔ 36 صفحات پر مشتمل عام بالغ پاسپورٹ کی نئی درخواست یا تجدید کی فیس اب 2,500 ہے، جو کہ پہلے 1,500 تھی۔ 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 2000 روپے سے بڑھا کر 3500 روپے کر دی گئی ہے۔ تتکال سروس کے تحت 36 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 5,000 اور 60 صفحات کے پاسپورٹ کی فیس 6,000 کر دی گئی ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
