Connect with us
Wednesday,22-July-2026

سیاست

بابری مسجد کی حفاظت میں ناکام رہنے والے سابق کانگریس وزیراعظم نرسمہاراٶ کو بھارت رتن دینے کی سفارش

Published

on

(نامہ نگار)
جس طرح بابری مسجد کی شہادت کو کوٸی ایمان والا کبھی نہیں بھول سکتا ۔ ایمانی غیرت کا تقاضہ ہے کہ ہم اپنی آنے والی نسلوں کو بھی بابری مسجد کی شہادت کی معلومات دیں ۔ اسی کے ساتھ ساتھ اس وقت مقتدر کانگریس پارٹی کے دوغلے رویہ کے بارے میں بھی آنے والی نسلوں کو بتانا بھی نہایت ضروری ہے ۔ یہ وہی کانگریس پارٹی ہے جس نے آزادی کے بعد سے مسلسل مسلمانوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے کا کام کیا ہے ۔ پہلے تو سیکولرازم کے نام پر مسلمانوں کے ہمدرد بننے کا ڈھونگ رچایا گیا ۔ بدلے میں ستر سال تک وطن عزیز بھارت میں مسند اقتدار پر قابض رہے ۔ اور ہزاروں فسادات و سینکڑوں بم بلاسٹ کا تحفہ مسلمانوں کو ملا ۔ آج امت جن سیاسی مساٸل سے دوچار ہے اسکی ذمہ دار یہی دوغلی نام نہاد سیکولر کانگریس پارٹی ہے ۔
بابری مسجد میں رات کے اندھیرے میں مورتی رکھ دی جاتی ہے ۔ اسے ہٹانے میں کانگریس ناکام رہتی ہے بلکہ الٹا مسجد کو تالا لگا دیا جاتا ہے ۔ پھر شیلا نیاس کی اجازت بھی اسی کانگریس کے وزیراعظم کی دین ہے ۔ نماز کی اداٸیگی پر پابندی اور پوجا کے لیۓ عارضی چبوترہ بھی انہی کانگریسیوں کی دین ہے ۔ مسجد کی حفاظت کے لاکھ دعوٶں و وعدوں کے باوجود انگریس کے ہی وزیراعظم نرسمہاراٶ کے دور میں 6 دسمبر 1992 کو بابری مسجد شہید کردی جاتی ہے ۔ جس کے قصورواروں کو آج تک سزا نہیں مل سکی ۔ شہادت کے بعد بھی مسلمانوں کو دوبارہ تعمیر کرنے کا وعدہ دے کر ٹہلایا گیا ۔
کانگریس کا دوغلا پن پھر سامنے آیا جب بی جے پی کے اقتدار میں آنے کے بعد جب بابری مسجد کی جگہ وہاں مندر بننے کے عمل کا آغاز ہوا تو یہی دوغلی چوگلی کانگریس کے نام نہاد سیکولروں نے مندر کی تعمیر کا کریڈٹ لینے کے لیۓ بڑے بڑے دعوٶں پر مشتمل بیانات جاری کیۓ ۔ مگر کانگریس میں شامل مسلمانوں کے منہ پر نہ جانے کیوں پٹی بندھی رہی ۔ اور وہ منہ میں گھگنی بھرے بیٹھے رہے ۔ اپنے سیاسی آقاٶں کی ناراضگی کے خوف سے پورے ملک کے کسی بھی کانگریسی کی زبان تک نہیں ہلی ۔ بلکہ مقامی طور سے الگ الگ پاکھنڈ رچا کر عوام کی توجہ کو ہٹانے کی کوشش کی گٸی ۔ اس وقت بھی کل ھند مجلس اتحادالمسلمین ہی تھی جس نے ببانگ دہل مسجد کے حق میں بیانات دیۓ تھے ۔
ابھی ایک مرتبہ پھر کانگریس کا دوغلا رویہ دیکھنے کو ملا ۔ تلنگانہ اسمبلی کے جاری اجلاس میں بابری مسجد کی حفاظت میں ناکام رہنے والے کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راٶ (جو کہ اب آنجہانی ہوچکے ہیں) کو بعد از مرگ بھارت رتن دینے کی تجویز پیش کی گٸی ۔ تو ابھی پھر سے ایک مرتبہ مجلس اتحادالمسلمین کے تمام ایم ایل ایز نے ہی پوری شدت سے اسکی مخالفت کی ۔ لیکن بڑے افسوس کا مقام ہے کہ کانگریس کے مسلم ایم ایل اے شبیر علی نے اس تجویز کی حمایت کی ۔ اور اسکے بعد بھی اگر تنقید کی جاتی ہے تو صرف کل ھند مجلس اتحادالمسلمین پر ہی ؟
وطن عزیز بھارت کا ہر مسلمان چاہے وہ کانگریسی ہی کیوں نہ ہو جب بھی مسلمانوں کے سیاسی ، سماجی ، و ملی مساٸل پر آفت آتی ہے تو انکے کان نیند میں بھی کل ھند مجلس اتحادالمسلمین کے قومی صدر بیرسٹر اسدالدین اویسی کی آواز کے منتظر رہتے ہیں ۔ اور بعد میں انکو ہی مورد الزام ٹھہراتے ہیں ۔ مسلمانان وطن کو اس بارے میں غور کرنے اور اپنے پراۓ کا فرق کرنے کی موجودہ دور میں سخت ضرورت یے ۔

بین الاقوامی خبریں

ہندوستان-یو اے ای مشترکہ کمیٹی کی میٹنگ، نقل و حرکت اور حوالگی پر تعاون بڑھانے پر زور

Published

on

India-UAE

نئی دہلی : ہندوستان-یو اے ای مشترکہ کمیٹی برائے قونصلر امور کی ساتویں میٹنگ بدھ کو نئی دہلی میں ہوئی۔ میٹنگ کی مشترکہ صدارت ہندوستان کی سکریٹری (سی پی وی اور او آئی اے) سری پریہ رنگناتھن اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کی وزارت خارجہ کے انڈر سکریٹری عمر عبید محمد الحسن الشمسی نے کی۔ وزارت خارجہ (ایم ای اے) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک مختصر بیان جاری کیا۔ کئی تصاویر کے ساتھ اس پوسٹ میں کہا گیا کہ میٹنگ کے دوران، دونوں فریقوں نے ہندوستان-یو اے ای جامع اسٹریٹجک پارٹنرشپ کے مطابق تمام قونصلر معاملات پر تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر اتفاق کیا۔

بات چیت میں نقل و حرکت، حوالگی، اور باہمی قانونی مدد جیسے موضوعات کا احاطہ کیا گیا۔ ہندوستانی فریق نے متحدہ عرب امارات میں مقیم ہندوستانی تارکین وطن کی فلاح و بہبود اور مفادات کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی تعریف کی۔ حوالگی کے معاہدے کے حوالے سے، ہندوستان اور متحدہ عرب امارات نے 1999 میں ایک باضابطہ حوالگی کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ اس کا تعلق مفرور مجرموں کے تبادلے سے ہے۔ ہندوستان اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات بہت پرانے ہیں۔ متحدہ عرب امارات ہندوستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بھی ہے۔ ہندوستانی برادری نے متحدہ عرب امارات کے اقتصادی ڈھانچے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان کی مغربی ایشیا پالیسی میں متحدہ عرب امارات کا ایک اہم مقام ہے۔

ہندوستانی وزیر اعظم ایران پر اسرائیلی امریکی مشترکہ حملے کے دوران یو اے ای سے مسلسل رابطے میں رہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی 15 مئی کو یوروپ روانگی سے قبل متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا تھا۔ ابوظہبی میں متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زید النہیان کے ساتھ وسیع اور مثبت بات چیت کے بعد، پی ایم مودی نے کہا، “ہندوستان اور یو اے ای کے درمیان دوستی بہت مضبوط ہے۔ ہمارے ملک ہماری زمین کے بہتر مستقبل کی تعمیر کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔” متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں تقریباً 4.3 ملین ہندوستانی رہتے ہیں۔ سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، یہ تعداد متحدہ عرب امارات کی کل آبادی کا تقریباً 35% تا 38% ہے، جو خلیج میں رہنے والی سب سے بڑی تارکین وطن کی نمائندگی کرتی ہے۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

یوکرین کا دعویٰ : روس کے ملٹری سپلائی نیٹ ورک پر بڑا حملہ، آئل ڈپو بھی تباہ

Published

on

Rassia

نئی دہلی : یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے بدھ کے روز کئی اہم روسی فوجی اور رسد کی تنصیبات اور تیل ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر طویل فاصلے تک حملے کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حملوں کا مقصد روس پر دباؤ ڈالنا تھا کہ وہ سفارت کاری اور امن کا راستہ اختیار کرے۔ یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ای ایکس” پر لکھا، “یوکرین کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے حملوں نے روس کے کراسنودار اور سٹاوروپول علاقوں میں اہم اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنایا۔ ان میں لاجسٹک مرکز شامل تھے جو روسی فوج کو ڈرون کے پرزے، نیویگیشن آلات اور دیگر ضروری سامان فراہم کرتے تھے۔

زیلنسکی نے مزید کہا کہ بحیرہ اسود اور بحیرہ ازوف میں روس کے نام نہاد “شیڈو فلیٹ” سے تعلق رکھنے والے ایک ٹینکر اور چار کارگو جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “ہم ان کامیاب کارروائیوں کے لیے یوکرائن کی تمام دفاعی افواج کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔” ہم مکمل طور پر جائز طریقے سے اس جنگ کو روسی سرزمین پر واپس لا رہے ہیں۔ یوکرائنی صدر نے کہا کہ امن کی ضرورت ہے اور یوکرین نے روسی فریق کو ہر ممکن پیشکش کی ہے۔ اب انہیں سفارتی انداز اپنانے پر مجبور ہونا چاہیے۔ روس اور یوکرین کے درمیان کشیدگی کے درمیان حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اس سے ایک روز قبل منگل کو روس نے یوکرین پر شدید فضائی حملے کیے تھے۔ زیلنسکی نے ان حملوں کو جنگ کے اصولوں کے خلاف قرار دیا کیونکہ انہوں نے کثیر المنزلہ رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا۔ ان روسی فضائی حملوں میں زپوریزہیا، کھیرسن اور اوڈیسا میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ روس نے ایک عام کثیر منزلہ رہائشی عمارت کو نشانہ بنایا۔ پہلی سے ساتویں منزل تک کے فلیٹس میں آگ بھڑک اٹھی۔ تمام ضروری خدمات جائے وقوعہ پر موجود ہیں۔ ریسکیو ٹیمیں اور ڈاکٹرز لوگوں کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔ یوکرائنی صدر مسلسل اپنے ساتھی ممالک سے مدد کی اپیل کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ انتہائی اہم ہے کہ ہمارے شراکت دار ممالک یوکرین کی حمایت جاری رکھیں۔ یورپی یونین کے 21ویں پابندیوں کے پیکج کو منظور کیا جانا چاہیے، اور ہمارے دفاع کے لیے امداد جاری رکھنی چاہیے۔ یہ بھی بہت اہم ہے کہ مینوفیکچررز وہ ہتھیار اور سازوسامان فراہم کریں جن پر ہم نے فوج اور حکام سے تبادلہ خیال کیا ہے تاکہ روس کا مقابلہ جلد سے جلد کیا جا سکے۔ جان بچانے کے لیے جو بھی مدد فراہم کی جا سکتی ہے اس پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جانا چاہیے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی کو پانی فراہم کرنے والی تانسا جھیل لبریز

Published

on

Tansa-Deam

ممبئی تانسا جھیل ممبئی میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے ایک، آج (22 جولائی 2026) کو لبریز ہو گئی۔ بی ایم سی کے ہائیڈرولک انجینئر ڈپارٹمنٹ نے اطلاع دی ہے کہ جھیل آج صبح 8:51 پر بہنے لگی۔ بی ایم سی علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے، وہار جھیل 7 جولائی 2026 کو رات 9:00 بجے بہنے لگی۔ اس کے فوراً بعد، اسی دن 7 جولائی 2026 تلسی جھیل بھی رات 11:43 پر بہنے لگی۔ اب تونسا جھیل بھی آج صبح سے اوور فلو لبریز ہونے لگی ہے۔ نتیجتاً، 22 جولائی 2026 تک، بی ایم سی کے علاقے کو پانی فراہم کرنے والی سات جھیلوں میں سے تین بہہ رہی ہیں۔ آبی ذخائر میں پانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ گزشتہ چند دنوں سے کیچمنٹ کے علاقوں میں مسلسل، شدید بارش ہوئی ہے۔ آج صبح 6:00 بجے کی گئی پیمائش کے مطابق، تمام سات جھیلوں میں پانی کا کل ذخیرہ ان کی کل صلاحیت کا 61.90 فیصد ہے تانسا ڈیم تھانے ضلع کے شاہ پور تعلقہ میں واقع ہے اور ملک کے چند ڈیموں میں سے ایک ہے جو پتھر کی چنائی سے بنائے گئے ہیں۔ تانسا جھیل کی زیادہ سے زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش، جو آج سے بہہ رہی ہے، 14,508 کروڑ لیٹر (145,080 ملین لیٹر) ہے۔ پچھلے سال، تانسا جھیل 23 جولائی کو شام 5:40 پر بہنے لگی۔ اس سے پہلے، یہ 24 جولائی 2024 کو صبح 4:16 پر بہنے لگی۔ 26 جولائی 2023 کو صبح 4:35 بجے؛ 14 جولائی 2022 کو شام 8:50 بجے؛ اور 22 جولائی 2021 کو صبح 5:48 پر۔ اس سے پہلے خاص طور پر 20 اگست 2020 کو یہ شام 7:05 پر بہنا شروع ہوا۔

اضافی معلومات :
تانسا ڈیم دنیا کے طویل ترین ڈیموں میں سے ایک ہے جس کی لمبائی 2,743.20 میٹر ہے۔
قیام کا سال : 1892
یومیہ سپلائی : 455 ایم ایل ڈی (ملین لیٹر فی دن)
پانی کی کل فراہمی میں شراکت : 11.00%
مقام : ممبئی سے 106 کلومیٹر

Continue Reading
Advertisement

رجحان