Connect with us
Wednesday,23-September-2026

(جنرل (عام

آگرہ روڈ فلائ اوور برِج، گھرکُل یوجنا و دیگر معاملات پر این جی ٹی میں پیٹیشن داخل۔ چند سیاستدانوں کا ہوگا پردہ فاش، جانںٔے کیا ہیں نںٔے معاملات؟؟

Published

on

(خیال اثر)
ہمارا مالیگاؤں شہر دہائیوں سے سیاسی پسماندگی کا شکار رہا ہے، یہاں کے بیشتر سیاستدانوں نے اپنی لفاظی اور جھوٹے وعدوں سے عوام کو ہمیشہ بیوقوف بنایا اور بیت المال آپس میں مل جُل کر لوٹتے رہے۔ عوامی خزانوں کو لُوٹ لُوٹ کر یہ لوگ کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئے، لیکن لاکھوں شہریان کو تمام تر بنیادی سہولیات سے ہمیشہ محروم رکھا اور شہر کا برا حال کر اسے ایک کھنڈر میں تبدیل کر دیا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والی نسلیں بھی محرومی کا شکار رہیںنگی۔ مالیگاؤں شہر میں نہ اچھی کوالٹی کے سڑکیں ہیں، نہ معیاری ڈرینیج سیسٹم، نہ گارڈنز ہیں نہ ہمارے بچوں کو کھیلنے کودنے کیلۓ پلے گراؤنڈز اور نہ ہی عوامی تفریح گاہیں۔ سیاسی لُٹیروں نے دہائیوں سے سرکاری دواخانوں، اسکولوں اور شہر کا کیا حال کر رکھا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ ان تمام سنگین اور سلگتے مسائل کو قانونی طور سے حل کرنے کے لئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس میں درج ذیل‌معاملا کو اجاگر کیا گیا ہے اور ٹریبونل سے ان معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
1۔ گیارہ ہزار کالونی پروجیکٹ (IHSDP) میں کمزور اور غیر معیاری تعمیرات اور سیکڑوں کروڑ کی بدعنوانی کی قانونی جانچ کا مطالبہ، اور ہزاروں غریب خاندانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف کاروائی اور غریب خاندانوں کو کمپینزیشن دینے کا مطالبہ۔ ٹھیکیدار پاندھے کنسٹرکشنس اور پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ رتیش کانکریا کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ۔
2۔ آگرہ روڈ فلائ اوور برِج کے اِسٹرکچر و کوالٹی کی مکمل جانچ، اور برِج کی تعمیر کیلئے طے شدہ میعاد سے ذیادہ وقت لگنے کی وجہ اور کنسٹرکشن میں تاخیر کے خلاف کانٹریکٹر کمپنی پر کاروائی کا مطالبہ، لاکھوں عوام کو ہونے والی پریشانیوں اور صحت کے نقصانات کی بھرپائ (کمپینزیشن) کا مطالبہ۔
3۔ واٹر فلٹریشن پلانٹ کی جگہ پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ سِٹی کامپلیکس کنسٹرکشن معاملہ، نمیرہ ہائٹس کنسٹرکشن معاملہ، نعمانی پُل کی کمزور و غیر معیاری تعمیر، ہیریٹیج سائٹ احاطہ میں کارپوریشن بلڈنگ (مولانا آزاد بھون) کی تعمیر اور عوامی خزانے کی لوٹ مار کی جانچ، بنکر بازار پروجیکٹ کی خستہ حالی اور دیگر کئ غیر مکمل شدہ و غیر معیاری و غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جانچ اور قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
4- مالیگاؤں شہری حدود میں سیاستدانوں کے ذریعے درجنوں اوپن اِسپیس کی بندربانٹ اور ان پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
5- مالیگاؤں شہر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ فوریسٹ کی زمینوں پر کئ کسانوں اور زمین مافیاؤں کا قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تحقیقات و قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
6۔ اولڈ آگرہ روڈ اور مالیگاؤں شہر کی تمام اہم شاہراہوں کی جلد از جلد کوالٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق پختہ تعمیرات کا مطالبہ۔
7۔ شہر بھر میں راستوں پر سے اتی کرمن ہٹانے اور بجلی کے کھمبے وغیرہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بنے غیر قانونی بریکرز کو ختم کرنے کا مطالبہ۔
8۔ مالیگاؤں شہر میں امرُت یوجنا کے تحت کۓ گۓ ناقص کاموں اور کروڑوں روپیوں کی بدعنوانیوں کی جانچ، اس پروجیکٹ میں پانی کی پائپ لائن، گارڈنز، اور ڈرینیج سِسٹم وغیرہ کے نام پر عوامی حق کے کروڑوں روپے ہڑپ لئے گۓ، جسکے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
9۔ مالیگاؤں شہر میں 5 لاکھ درختوں کی شجرکاری، گارڈنز اور پارک ڈیولپمنٹ، اسی کے ساتھ شہر و اطراف میں ہرے بھرے درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
10۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر سے بڑی گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ، ٹرافک اور دُھول کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ۔
11۔ مالیگاؤں شہری حدود اور اسکے آس پاس غیر قانونی طریقے سے کرشر مشینوں کے ذریعے پتھریلی زمینوں کی کھدائی اور ریت اور موروم کی چوری کی جانچ کرتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ۔
12۔ مالیگاؤں شہر اور آس پاس کی زمینوں پر بغیر اوپن اسپیس اور امینٹی پلاٹس، اور 15-20 فیٹ باریک گلیوں والے غیر قانونی لے آؤٹ بیچ کر زمین مافیا کی غریبوں کے ساتھ دھوکہ دہی۔ (بارہ پچیس کے پلاٹ)، اسی کے ساتھ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران کی سانٹھ گانٹھ سے ریزرو (Reserve) زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کو لیکر عہدیداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
13۔ آواڑی نالے کی صفائی اور نالے کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ڈیمانڈ۔ اوپن گٹر اور نالوں کے ذریعے بہہ کر ندی اور ڈیم میں شامل ہونے والے گندے پانی جیسے مسائل کے حل کیلئے مطالبہ اور مالدہ کچرا ڈپو کی منتقلی کیلئے اقدامات۔
14۔ گنجان آبادی والے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی موبائل ٹاورز کی موجودگی اور انکے ریڈئیشن سے عوام (بالخصوص بچے اور حاملہ خواتین) کو ہونے والے بھیانک نقصانات کے مد نظر ان کی منتقلی کا مطالبہ۔
15۔ ٹرک ٹرمنس اور ہیوی کمرشیل وہیکلس کیلئے شہر کے بیرونی علاقوں میں مختلف مقامات پر پارکنگ زون کا انتظام کرنے کا مطالبہ۔
16۔ سڑکوں پر ٹھیلہ گاڑیوں پر چھوٹا موٹا دھندہ اور پھیری کرنے والے ہزاروں غریب افراد کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر ہاکرس زون کے نظم کا مطالبہ۔
17۔ مالیگاؤں شہر کارپوریشن حدود میں جو زمینیں جن جن مقاصد کیلئے ریزرو کی گئی تھیں ان تمام زمینوں کو فوراً مفاد عامہ میں اپنے اصل مقاصد کے تحت استعمال کیا جائے اور اگر غیر قانونی قبضہ ہو تو اسے ہٹایا جائے۔
18۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر اور اطراف میں آف اسٹریٹ اور آن اسٹریٹ پارکنگ فیسیلیٹی اور وہیکلس پارکنگ فیسیلیٹی کا نظم کیا جائے۔
19۔ مالیگاؤں شہر سے متصل نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر باقائدگی سے سروس روڈ کی تعمیر کی جائے، مالیگاؤں شہر کو نیشنل ہائی وے سے جوڑنے والے داخلی اور خارجی راستوں کو صحیح اور ٹیکنیکل طور سے تعمیر کیا جائے، ساتھ ہی نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر ناسک سے لیکر مالیگاؤں اور مالیگاؤں سے دھولیہ تک دونوں سمت میں لاکھوں درختوں سے بھرپور شجرکاری کی جاۓ۔
20۔ مالیگاؤں شہر میونسپل کارپوریشن حدود میں کچرا اٹھانے کیلئے مختص ٹھیکیدار کمپنی “واٹر گریس” اور کارپوریشن کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کاروائی اور جانچ کا مطالبہ، اور دیگر کئ سنگین مسائل کے حل کیلئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن داخل کی گئی ہے، جس میں فہیم یوسف عبداللہ (گرین مالیگاؤں ڈرائیو)، شہر کے معروف سوشل اکٹوِسٹ نکھل پوار (آمہی مالیگاؤنکر ودھایک سنگھرش سمیتی) اور آصف یوسف عبداللہ (فاؤنڈر، گرین مالیگاؤں ڈرائیو) پٹیشنر ہیں۔
درج بالا تمام معاملات میں خاطی پائے جانے والے افسران اور سیاستدانوں پر سخت کارروائی کے مطالبات ٹریبیونل سے کیے گئے ہیں۔

(جنرل (عام

ہسپتالوں کے معمول کے دورے کے بعد درجنوں پاکستانی بچے ایچ آئی وی کا شکار : رپورٹ

Published

on

Childs

نئی دہلی : پاکستان میں صحت کا ایک بڑھتا ہوا بحران ابھرا ہے، جہاں درجنوں والدین کا دعویٰ ہے کہ ان کے بچوں کو ہسپتالوں میں معمول کے مطابق علاج کروانے کے بعد ایچ آئی وی کا مرض لاحق ہوا، ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ متاثرہ خاندانوں کا الزام ہے کہ غیر محفوظ طبی طریقوں، بشمول انجیکشن اور انٹراوینس (چہارم) ڈرپس کے لیے سرنجوں اور سوئیوں کا بار بار استعمال، والدین کے مطابق این پی آر کی رپورٹ کے ذریعے ان کے بچوں کو وائرس سے متاثر کیا۔ ویب سائٹ کے مطابق، ان کے بچوں کو عام بیماریوں اور معمول کے طریقہ کار کے لیے صحت کی سہولیات میں لے جایا گیا تھا، صرف بعد میں ایچ آئی وی کے لیے مثبت ٹیسٹ کرنے کے لیے۔ چونکا دینے والی تشخیص نے خاندانوں کو تباہ کر دیا ہے، بہت سے لوگوں کو یہ سمجھنے کے لیے جدوجہد کرنا پڑ رہی ہے کہ خطرے کے کوئی عوامل نہ ہونے کے باوجود ان کے بچے کیسے متاثر ہوئے۔ اس وباء کے المناک نتائج برآمد ہوئے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مبینہ طور پر کم از کم چھ بچے ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ بہت سے دوسرے اب زندگی بھر کی حالت کے ساتھ جی رہے ہیں جس کے لیے مسلسل طبی علاج اور نگرانی کی ضرورت ہے۔

ایچ آئی وی جسم کے مدافعتی نظام پر حملہ کرتا ہے اور، اگرچہ جدید ادویات کے ذریعے قابو کیا جا سکتا ہے، لیکن یہ ایک دائمی بیماری ہے جو صحت، مالی اور سماجی بوجھ کو لے سکتی ہے۔ متاثرہ بچوں کے اہل خانہ جوابدہی اور سرکاری طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں جسے وہ روکے جانے والے سانحے کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ بہت سے والدین نے ہسپتال کے عملے پر لاپرواہی کا الزام لگایا ہے، اور الزام لگایا ہے کہ انفیکشن پر قابو پانے کے بنیادی طریقہ کار کو نظر انداز کیا گیا، جس کے نتیجے میں نوجوان مریضوں میں وائرس پھیل گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ علاج کی لاگت، باقاعدگی سے میڈیکل چیک اپ اور بدنامی کے خدشات نے ان کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ والدین نے کہا کہ وہ اپنے بچوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں کیونکہ وہ ایسی تشخیص کے ساتھ آتے ہیں جس سے بچا جا سکتا تھا۔ اس واقعے نے پاکستان کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کے کچھ حصوں میں مریضوں کی حفاظت اور انفیکشن پر قابو پانے کے معیارات کے بارے میں نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ حقوق کے علمبردار اور متاثرہ خاندان مکمل تحقیقات، طبی سہولیات کی مضبوط نگرانی اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس طرح کی وبا دوبارہ نہ ہو۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : گنیش وسرجن پر خصوصی نگرانی کیلئے اے آئی کا استعمال, بھیڑ بھاڑ اور افراتفری سے نمٹنے کیلئے پولیس کو مستعد رہنے کی ہدایت : جوائنٹ پولیس کمشنر

Published

on

Ganesh-Viserjan

ممبئی گنیش وسرجن اننت چتردسی کو لے کر ممبئی شہر میں الرٹ جاری ہے اور پولیس نے چاق و چوبند بندوبست و انتظامات کا دعوی کیا ہے ممبئی پولیس جوائنٹ پولیس کمشنر نظم ونسق منوج کمار شرما نے بتایا ہے کہ پولیس نے اننت چتردسی کے لئے ضروری حفاظتی انتظامات کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اس بندوبست پر 6جوائنٹ پولیس کمشنر, 9 ایڈیشنل کمشنر 38 ڈی سی پی, 66 اے سی پی اور 3 ہزار 13 سو افسران 18ہزار سے زائد اہلکاروں سمیت کیو آر ٹی, فساد مخالف دستہ, ڈیلٹا کمپیٹ سمیت دیگر کمپنیوں جس میں ہوم گارڈ کو بھی شامل کیا گیا ہے بھیڑ بھاڑ والے مقامات پر پولیس نے نگرانی کو بہتر بنانے کیلئے اے آئی کا استعمال شروع کیا ہے گزشتہ سال کے مقابلے اس سال اے آئی سے بھیڑ بھاڑ کو کنٹرول کر نے کے ساتھ گنپتی منڈلوں اور گنیش وسرجن جلوس پر پوری نگرانی رکھی جائے گی اس کے ساتھ ہی وقت مقررہ پر ہی منڈلوں کو وسرجن کرنا لازمی ہوگا۔صوتی آلودگی اور دیگر اصولوں و رہنمایانہ اصولوں کی پاسداری ہر ایک پر لازم ہے اگرکوئی بھی منڈل اس کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کے خلاف پولیس کارروائی کر تی ہے۔ منوج کمار شرما نے کہا ہے کہ ممبئی شہر ہمیشہ سے ہی دہشت گردوں کے نشانے پر ہے اس لئے تمام مقامات پر سیکورٹی کے پختہ انتظامات کئے گئے ہیں وسرجن کے ٹھکانوں پر بھی واچ ٹاور تیار کئے گئے ہیں اس کے ساتھ ہی بڑے وسرجن مقامات پر لال باغ کے جلوس پر بھی خصوصی نگرانی ہوگی۔

منوج کمار شرما نے مزید بتایا کہ گنپتی وسرجن کے موقع پر بھیڑ بھاڑ کے دوران افرا تفری اور بھگڈر جیسے حالات پیدا نہ ہو اس لئے پولیس کو ضروری ہدایت جاری کی گئی ہے اس کے ساتھ ہی 24گھنٹے ریلوے سروس بحال رکھنے کی بھی درخواست وزرات ریلوے کو پولیس نے کی ہے۔ممبئی میں گنپتی وسرجن کے دوران ٹریفک پولیس بھی پوری طرح سے مستعد ہے۔ ممبئی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جوائنٹ پولیس کمشنر ٹریفک ستیہ نارائن چودھری نے کہا کہ ٹریفک پولیس کے 3 ہزار سے زائدا فسران و اہلکار سڑکوں پر رہیں گے اور بھیڑ بھاڑ والے علاقوں میں ان اہلکاروں کو الرٹ رہنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں ٹریفک جام نہ ہو اس لئے کرین کا استعمال بھی کیا جائے گا ممبئی شہر میں وسرجن کے دوران 84 سڑکوں کو بندکر دیا گیا ہے اور 20سڑکوں کو ون وے یعنی یکطرفہ سڑک کیا گیا ہے تاکہ بھکتوں کو کسی بھی قسم کی کوئی تکلیف نہ ہو اس کے علاوہ متعدد مقامات پر نوپارکنگ زون کی بھی نشاندہی کی گئی ہے اتنا ہی نہیں پارکنگ کا بھی انتظام کیا گیا ہے جوہو چوپاٹی, گرگاؤں چوپاٹی, گیٹ وے آف انڈیا, سمیت دیگر مقامات پر خاص انتظامات کئے گئے ہیں پانچ عارضی کنٹرول روم بھی تیار کئے گئے ہیں جس سے نگرانی کی جائے گی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ایم پی : بھوپال میں وکلاء کے احتجاج کے بعد تین پولیس اہلکار معطل

Published

on

بھوپال : جہانگیر آباد تھانے کے ایس ایچ او سمیت تین پولیس اہلکاروں کو بدھ کے روز پولیس اسٹیشن میں ایک وکیل کے ساتھ مبینہ مارپیٹ کے خلاف وکلاء کے رات بھر کے احتجاج کے بعد معطل کر دیا گیا۔ یہ کارروائی منگل کی رات 50 کے قریب وکلاء کے جہانگیر آباد تھانے میں جمع ہونے کے بعد ہوئی اور صبح تقریباً 3 بجے تک اپنا احتجاج جاری رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے راوال کے ایس ایچ او کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ ان کی شناخت ایس ایچ او راجن سنگھ اہیروار اور کانسٹیبل یش لکیرا اور رام سوروپ کے طور پر ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ انہیں معطلی کی مدت کے لیے ریزرو سینٹر سے منسلک کر دیا گیا ہے۔ ڈی سی پی (زون-1) نے بھی واقعے کی ابتدائی تحقیقات کا حکم دیا اور ہدایت کی کہ اس کی رپورٹ سات دنوں کے اندر پیش کی جائے۔ بدھ کو یہ معاملہ اس وقت مزید بڑھ گیا، جب وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے بھوپال ڈسٹرکٹ کورٹ میں احتجاج کیا۔ وکلا نے واقعے میں مبینہ طور پر ملوث پولیس افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا اور راول سے اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے بھی لگائے اور منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

راول (45) کے مطابق، منگل کی رات اسے پولیس اہلکاروں نے کنٹرول روم چوراہے کے قریب بیرا گڑھ کے لیے متبادل راستہ تلاش کرتے ہوئے روکا، اس نے الزام لگایا کہ پولیس والوں نے اسے اپنے ساتھ تھانے جانے کو کہا۔ راول نے کہا کہ اس نے انہیں بتایا کہ ان کی گاڑی کا ایندھن ختم ہو گیا ہے، جس کے بعد پولیس اہلکاروں نے مبینہ طور پر اس کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب اس نے اعتراض کیا تو انہوں نے مبینہ طور پر اسے کیچڑ میں پھینک دیا اور لاٹھیوں سے اس پر حملہ کیا۔ بعد میں وکلاء نے ایک ویڈیو گردش کی جس میں مبینہ طور پر راول کی ٹانگوں پر چوٹ کے نشانات اور ان کے کپڑوں پر کیچڑ کے نشانات دکھائے گئے تھے۔ ایڈیشنل کمشنر آف پولیس شیلیندر سنگھ چوہان نے کہا کہ پولیس تمام واقعات کی ترتیب سے جانچ کر رہی ہے اور تمام معلومات اکٹھی کر رہی ہے۔ اس معاملے سے متعلق معلومات جمع کی جا رہی ہیں، اور حقائق کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔” چوہان نے کہا۔ اپنی معطلی سے پہلے ایس ایچ او اہیروار نے الزام لگایا کہ راول نے تنازعہ کے دوران ٹریفک اے سی پی اجے باجپائی کے ساتھ بدتمیزی کی اور رکنے کا مشورہ دینے کے باوجود عوامی طور پر افسر کے ساتھ بدسلوکی کی۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پولیس کے پاس واقعے کی ویڈیو فوٹیج موجود ہے۔ ابتدائی انکوائری میں راول کو کن حالات میں روکا گیا، پولیس اہلکاروں کے ساتھ ان کی بات چیت اور پولیس اسٹیشن میں ہونے والے واقعات کا جائزہ لیا جائے گا۔ چوہان نے کہا کہ انکوائری رپورٹ آنے کے بعد مزید کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان