(جنرل (عام
آگرہ روڈ فلائ اوور برِج، گھرکُل یوجنا و دیگر معاملات پر این جی ٹی میں پیٹیشن داخل۔ چند سیاستدانوں کا ہوگا پردہ فاش، جانںٔے کیا ہیں نںٔے معاملات؟؟
(خیال اثر)
ہمارا مالیگاؤں شہر دہائیوں سے سیاسی پسماندگی کا شکار رہا ہے، یہاں کے بیشتر سیاستدانوں نے اپنی لفاظی اور جھوٹے وعدوں سے عوام کو ہمیشہ بیوقوف بنایا اور بیت المال آپس میں مل جُل کر لوٹتے رہے۔ عوامی خزانوں کو لُوٹ لُوٹ کر یہ لوگ کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئے، لیکن لاکھوں شہریان کو تمام تر بنیادی سہولیات سے ہمیشہ محروم رکھا اور شہر کا برا حال کر اسے ایک کھنڈر میں تبدیل کر دیا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والی نسلیں بھی محرومی کا شکار رہیںنگی۔ مالیگاؤں شہر میں نہ اچھی کوالٹی کے سڑکیں ہیں، نہ معیاری ڈرینیج سیسٹم، نہ گارڈنز ہیں نہ ہمارے بچوں کو کھیلنے کودنے کیلۓ پلے گراؤنڈز اور نہ ہی عوامی تفریح گاہیں۔ سیاسی لُٹیروں نے دہائیوں سے سرکاری دواخانوں، اسکولوں اور شہر کا کیا حال کر رکھا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ ان تمام سنگین اور سلگتے مسائل کو قانونی طور سے حل کرنے کے لئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس میں درج ذیلمعاملا کو اجاگر کیا گیا ہے اور ٹریبونل سے ان معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
1۔ گیارہ ہزار کالونی پروجیکٹ (IHSDP) میں کمزور اور غیر معیاری تعمیرات اور سیکڑوں کروڑ کی بدعنوانی کی قانونی جانچ کا مطالبہ، اور ہزاروں غریب خاندانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف کاروائی اور غریب خاندانوں کو کمپینزیشن دینے کا مطالبہ۔ ٹھیکیدار پاندھے کنسٹرکشنس اور پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ رتیش کانکریا کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ۔
2۔ آگرہ روڈ فلائ اوور برِج کے اِسٹرکچر و کوالٹی کی مکمل جانچ، اور برِج کی تعمیر کیلئے طے شدہ میعاد سے ذیادہ وقت لگنے کی وجہ اور کنسٹرکشن میں تاخیر کے خلاف کانٹریکٹر کمپنی پر کاروائی کا مطالبہ، لاکھوں عوام کو ہونے والی پریشانیوں اور صحت کے نقصانات کی بھرپائ (کمپینزیشن) کا مطالبہ۔
3۔ واٹر فلٹریشن پلانٹ کی جگہ پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ سِٹی کامپلیکس کنسٹرکشن معاملہ، نمیرہ ہائٹس کنسٹرکشن معاملہ، نعمانی پُل کی کمزور و غیر معیاری تعمیر، ہیریٹیج سائٹ احاطہ میں کارپوریشن بلڈنگ (مولانا آزاد بھون) کی تعمیر اور عوامی خزانے کی لوٹ مار کی جانچ، بنکر بازار پروجیکٹ کی خستہ حالی اور دیگر کئ غیر مکمل شدہ و غیر معیاری و غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جانچ اور قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
4- مالیگاؤں شہری حدود میں سیاستدانوں کے ذریعے درجنوں اوپن اِسپیس کی بندربانٹ اور ان پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
5- مالیگاؤں شہر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ فوریسٹ کی زمینوں پر کئ کسانوں اور زمین مافیاؤں کا قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تحقیقات و قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
6۔ اولڈ آگرہ روڈ اور مالیگاؤں شہر کی تمام اہم شاہراہوں کی جلد از جلد کوالٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق پختہ تعمیرات کا مطالبہ۔
7۔ شہر بھر میں راستوں پر سے اتی کرمن ہٹانے اور بجلی کے کھمبے وغیرہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بنے غیر قانونی بریکرز کو ختم کرنے کا مطالبہ۔
8۔ مالیگاؤں شہر میں امرُت یوجنا کے تحت کۓ گۓ ناقص کاموں اور کروڑوں روپیوں کی بدعنوانیوں کی جانچ، اس پروجیکٹ میں پانی کی پائپ لائن، گارڈنز، اور ڈرینیج سِسٹم وغیرہ کے نام پر عوامی حق کے کروڑوں روپے ہڑپ لئے گۓ، جسکے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
9۔ مالیگاؤں شہر میں 5 لاکھ درختوں کی شجرکاری، گارڈنز اور پارک ڈیولپمنٹ، اسی کے ساتھ شہر و اطراف میں ہرے بھرے درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
10۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر سے بڑی گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ، ٹرافک اور دُھول کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ۔
11۔ مالیگاؤں شہری حدود اور اسکے آس پاس غیر قانونی طریقے سے کرشر مشینوں کے ذریعے پتھریلی زمینوں کی کھدائی اور ریت اور موروم کی چوری کی جانچ کرتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ۔
12۔ مالیگاؤں شہر اور آس پاس کی زمینوں پر بغیر اوپن اسپیس اور امینٹی پلاٹس، اور 15-20 فیٹ باریک گلیوں والے غیر قانونی لے آؤٹ بیچ کر زمین مافیا کی غریبوں کے ساتھ دھوکہ دہی۔ (بارہ پچیس کے پلاٹ)، اسی کے ساتھ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران کی سانٹھ گانٹھ سے ریزرو (Reserve) زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کو لیکر عہدیداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
13۔ آواڑی نالے کی صفائی اور نالے کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ڈیمانڈ۔ اوپن گٹر اور نالوں کے ذریعے بہہ کر ندی اور ڈیم میں شامل ہونے والے گندے پانی جیسے مسائل کے حل کیلئے مطالبہ اور مالدہ کچرا ڈپو کی منتقلی کیلئے اقدامات۔
14۔ گنجان آبادی والے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی موبائل ٹاورز کی موجودگی اور انکے ریڈئیشن سے عوام (بالخصوص بچے اور حاملہ خواتین) کو ہونے والے بھیانک نقصانات کے مد نظر ان کی منتقلی کا مطالبہ۔
15۔ ٹرک ٹرمنس اور ہیوی کمرشیل وہیکلس کیلئے شہر کے بیرونی علاقوں میں مختلف مقامات پر پارکنگ زون کا انتظام کرنے کا مطالبہ۔
16۔ سڑکوں پر ٹھیلہ گاڑیوں پر چھوٹا موٹا دھندہ اور پھیری کرنے والے ہزاروں غریب افراد کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر ہاکرس زون کے نظم کا مطالبہ۔
17۔ مالیگاؤں شہر کارپوریشن حدود میں جو زمینیں جن جن مقاصد کیلئے ریزرو کی گئی تھیں ان تمام زمینوں کو فوراً مفاد عامہ میں اپنے اصل مقاصد کے تحت استعمال کیا جائے اور اگر غیر قانونی قبضہ ہو تو اسے ہٹایا جائے۔
18۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر اور اطراف میں آف اسٹریٹ اور آن اسٹریٹ پارکنگ فیسیلیٹی اور وہیکلس پارکنگ فیسیلیٹی کا نظم کیا جائے۔
19۔ مالیگاؤں شہر سے متصل نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر باقائدگی سے سروس روڈ کی تعمیر کی جائے، مالیگاؤں شہر کو نیشنل ہائی وے سے جوڑنے والے داخلی اور خارجی راستوں کو صحیح اور ٹیکنیکل طور سے تعمیر کیا جائے، ساتھ ہی نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر ناسک سے لیکر مالیگاؤں اور مالیگاؤں سے دھولیہ تک دونوں سمت میں لاکھوں درختوں سے بھرپور شجرکاری کی جاۓ۔
20۔ مالیگاؤں شہر میونسپل کارپوریشن حدود میں کچرا اٹھانے کیلئے مختص ٹھیکیدار کمپنی “واٹر گریس” اور کارپوریشن کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کاروائی اور جانچ کا مطالبہ، اور دیگر کئ سنگین مسائل کے حل کیلئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن داخل کی گئی ہے، جس میں فہیم یوسف عبداللہ (گرین مالیگاؤں ڈرائیو)، شہر کے معروف سوشل اکٹوِسٹ نکھل پوار (آمہی مالیگاؤنکر ودھایک سنگھرش سمیتی) اور آصف یوسف عبداللہ (فاؤنڈر، گرین مالیگاؤں ڈرائیو) پٹیشنر ہیں۔
درج بالا تمام معاملات میں خاطی پائے جانے والے افسران اور سیاستدانوں پر سخت کارروائی کے مطالبات ٹریبیونل سے کیے گئے ہیں۔
(جنرل (عام
جے پی ایس سی – جے ایس ایس سی کے طلباء اور حکومت کے درمیان آج بات چیت کا دوسرا دور

رانچی : جے پی ایس سی-جے ایس ایس سی خواہش مند نیا منچ کے طلباء اور حکومت کے درمیان بات چیت کا دوسرا دور ہفتہ کو صبح 10:30 بجے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس، رانچی میں طے ہے۔ فورم کا آٹھ رکنی طلبہ وفد حکومت کے مقرر کردہ وفد سے روبرو مذاکرات کرے گا۔ جے پی ایس سی کی جانب سے 2 جولائی کو 14ویں سول سروسز کے ابتدائی امتحان میں بے قاعدگیوں کا پردہ فاش کرنے کے بعد فورم کے طلباء 5 جولائی سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں۔ ان کا غیر معینہ احتجاج آج 15ویں روز میں داخل ہو گیا۔ طلبہ لیڈر دیویندر ناتھ مہتو طلبہ کی حمایت میں گزشتہ چھ دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔
فورم نے حکومت کو جمع کرائے گئے میمورنڈم کے لیے طلبہ کے ایک آٹھ رکنی وفد کو نامزد کیا ہے۔ ان میں چندن کمار، دین بندھو منڈل، روی شنکر، پریم کمار، پوجا کماری، راماوتار مہتو، بمل کمار، اور امیت کمار شرما شامل ہیں۔ اس سے قبل حکومت اور طلبہ کے درمیان پہلی باضابطہ بات چیت جمعہ کی شام کو مورابادی کے اسٹیٹ گیسٹ ہاؤس میں ہوئی۔ یہ ملاقات تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی اور رات 9:25 پر ختم ہوئی۔ طلباء کے نمائندوں نے مذاکرات کو مثبت قرار دیا، لیکن وہ کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہے۔ طلباء نے واضح کیا کہ جب تک کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو جاتا اور ان کے مطالبات پورے نہیں ہو جاتے ستیہ گرہ جاری رہے گا۔
مذاکرات میں پانچ رکنی حکومتی ٹیم اور 10 رکنی طلبہ کے وفد نے شرکت کی۔ طلباء نے اپنے مطالبات کا ایک ایک نکتہ حکومت کو پیش کیا۔ انہوں نے بھرتی کے امتحانات میں شفافیت، بے ضابطگیوں کی غیر جانبدارانہ تحقیقات اور امتحانی نظام میں بہتری کے اپنے مطالبات کا اعادہ کیا۔ طلباء نے کہا کہ انہیں ٹھوس کارروائی کی توقع ہے۔ حکومت کے چار وزراء نے بات چیت میں حصہ لیا: چمارا لنڈا، سدیبیا کمار سونو، دیپیکا پانڈے سنگھ، اور سنجے پرساد یادو۔ ترقیاتی کمشنر اجے کمار سنگھ بھی موجود تھے۔
(جنرل (عام
جموں و کشمیر کے انٹیلی جنس ونگ نے دہشت گردی کو بڑھاوا دینے کے الزام میں وادی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔

سری نگر : جموں و کشمیر پولیس کی کاؤنٹر انٹیلی جنس کشمیر (سی آئی کے) برانچ نے ہفتہ کو دہشت گردی کی آن لائن تسبیح کے سلسلے میں پہلے درج کی گئی ایف آئی آر کے سلسلے میں وادی میں کئی مقامات پر چھاپے مارے۔ حکام نے کہا، “یہ مقدمہ دہشت گردی کی تعریف کرنے اور افراد کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہونے کے لیے متاثر کرنے کے لیے آن لائن پلیٹ فارم کے غلط استعمال سے متعلق ہے۔” بارہمولہ، شوپیاں، اننت ناگ، کپواڑہ، بانڈی پورہ اور دیگر اضلاع میں تلاشی لی جارہی ہے۔
سی آئی کے جموں و کشمیر پولیس کے کرمنل انوسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی ایک خصوصی شاخ ہے جو وادی کشمیر کے اندر دہشت گرد نیٹ ورکس، دہشت گردوں کی مالی معاونت اور ملک دشمن سرگرمیوں کا پتہ لگانے، تفتیش کرنے اور انہیں ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ سی آئی کے کے بنیادی کاموں میں خفیہ بھرتی کے ماڈیولز کا پتہ لگانا، وائٹ کالر دہشت گرد سرگرمیاں، اور سرحد پار ہینڈلر نیٹ ورک شامل ہیں۔ سی آئی کے کے فرائض میں تکنیکی دستخطوں کو روکنا، انکرپٹڈ میسجنگ ایپس کے غلط استعمال کو روکنا، اور دہشت گردوں کی مالی معاونت سے منسلک سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سی آئی کے کے چھاپوں کو عدالتی وارنٹ کی حمایت حاصل ہے جو مجرمانہ ڈیجیٹل ثبوت اور کمیونیکیشن ہارڈویئر کو ضبط کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
سی آئی کے جموں اور کشمیر پولیس کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کی ایک خصوصی شاخ ہے، جو وادی کشمیر میں دہشت گردی کے نیٹ ورکس، دہشت گردی کی مالی معاونت اور ملک مخالف سرگرمیوں کی نگرانی، تفتیش اور انہیں ختم کرنے پر مرکوز ہے۔ سی آئی کے کا بنیادی کام خفیہ بھرتی کے ماڈیولز، وائٹ کالر دہشت گرد نیٹ ورکس، اور سرحد پار سے کام کرنے والے دہشت گرد ہینڈلرز کے نیٹ ورک کو بے نقاب کرنا ہے۔ سی آئی کے کی ذمہ داریوں میں تکنیکی سگنلز کی نگرانی، خفیہ کردہ میسجنگ ایپس کے غلط استعمال کا مقابلہ کرنا، اور دہشت گردی کی مالی معاونت کرنے والے سائبر فراڈ نیٹ ورکس کو نشانہ بنانا بھی شامل ہے۔ سی آئی کے کے چھاپے مجرمانہ ڈیجیٹل ثبوت اور مواصلاتی آلات کو ضبط کرنے کے لیے عدالتی وارنٹ کی بنیاد پر مارے جاتے ہیں۔
فوجداری تحقیقات کے محکمے کے ایک حصے کے طور پر، جموں اور کشمیر پولیس کے اہم انٹیلی جنس ونگ، سی آئی کے مرکزی زیر انتظام علاقے کی حفاظت کو یقینی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ سی آئی ڈی پالیسی فیصلوں کی حمایت کرنے، امن و امان کو مضبوط بنانے، اور موثر انتظامیہ کو یقینی بنانے کے لیے انٹیلی جنس جمع کرنے، تجزیہ کرنے اور شیئر کرنے کی ذمہ دار ہے۔ ایک ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس رینک کے افسر کی سربراہی میں، سی آئی ڈی جموں و کشمیر میں اپنی اسپیشل برانچ اور کاؤنٹر انٹیلی جنس یونٹوں کے ذریعے کام کرتی ہے۔
اسپیشل برانچ سیاسی اور دیگر حساس معاملات سے متعلق انٹیلی جنس کو اکٹھا کرتی ہے اور اس کا جائزہ لیتی ہے۔ کاؤنٹر انٹیلی جنس ونگ انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں، انسداد جاسوسی کی سرگرمیوں، جاسوسی، اسمگلنگ، اور سرحد پار سرگرمیوں کی نگرانی پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ یونٹس مل کر امن عامہ کو برقرار رکھنے اور قومی سلامتی کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انٹیلی جنس سرگرمیوں کے علاوہ، سی آئی ڈی مختلف قانونی اور انتظامی تصدیقی کام بھی انجام دیتی ہے، بشمول سرکاری خدمات کے معاملات، پاسپورٹ، ویزا، این آر آئیز، ہجرت، اور سیکورٹی کے خطرے کی تشخیص سے متعلق تحقیقات۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
