Connect with us
Sunday,21-June-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی خلافت ہاؤس سے تاریخی جلوس محمدی برآمد… اسلام نے امن کا درس دیا اور پیغمبر اسلام نے خدمت خلق کی اہمیت پر زور دیا : وزیر چھگن بھجبل

Published

on

Khilafat-House

ممبئی : ممبئی کے خلافت ہاؤس سے جشن عید میلاد النبی پر سڑکیں اس وقت نعرۂ تکبیر اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرہ سے گونج اٹھی جب خلافت ہاؤس سے جلوس محمدی صلی اللہ علیہ وسلم شان و شوکت کے ساتھ نکالا گیا قائد جلوس نبیرہ اعلیحضرت توصیف رضا جلوہ افروز تھے ان کے ہمراہ وزیر رسدو خوراک چھگن بھجبل بھی تھے. اس سے قبل خلافت ہاؤس میں جلسہ سیرت پاک عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خطاب فرماتے ہوئے نبیرہ اعلیحضرت نے بھائی چارگی اور ہندو مسلم اتحاد کا درس دیا اور کہا کہ مسلمانوں نے عید میلاد النبی کا جلوس ۵ ستمبر کے بجائے ۸ ستمبر کو منعقد کیا کیونکہ مسلمان اقلیت میں ہے اور وہ چھوٹے بھائی ہیں اس لئے اکثریت کا بھی فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کا خیال رکھیں جب تک ہندو مسلمان متحد نہیں ہوگا یہ ملک ترقی نہیں کرے گا اور یہی اس ملک کی خوبصورتی ہے کہ یہاں گنگا جمنی تہذیب برقرار ہے. حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات بیان کرتے ہوئے مولانا توصیف رضا نے کہا کہ اسلام صرف ساڑھے چار سو سالہ یا ۱۵۰۰ سو سالہ نہیں ہے, بلکہ انتہائی قدیم ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جشن ولادت ۱۵۰۰ سو سالہ نہیں ہے ہاں البتہ یہ ضرورت کہہ سکتے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ وسلیہ وسلم کی ہجرت کو ۱۵۰۰ سو سال ہو گئے ہیں انہوں نے مزید فرمایا کہ اعلیحضرت کا عقیدہ ہے, اسی لئے وہ کہتے ہیں کام وہ لے لیجئے تم کو جو راضی کرے ٹھیک ہو نام رضا تم پر کروڑوں درود ۔۔۔ دنیا کے سمجھدار، دانشور اور سیاسی سمجھ رکھنے والے کہتے ہیں کہ اسلام ۱۴۰۰ سو سال سے ہیں ۱۴۰۰ سوسالہ جشن رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہیں ہو سکتا, یہ ہجرت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہو سکتا امسال ۱۵۰۰ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے. مسلمان ۱۵۰۰ سو سال سے نہیں اس وقت اسلام کی بنیاد پڑی جب اللہ نے اپنے نور سے نور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو پیدا فرمایا, اللہ تعالیٰ نے نور محمدی کو اپنے قرب میں رکھا۔ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میلاد اعلیٰحضرت نے نہیں کیا بلکہ یہ سنت الٰہی ہے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بنیاد کو بریلی شریف سے وابستہ کر دیا جاتا ہے۔ فرقہ باطلہ جب باغیانہ رسول میلاد کو مٹانے کی سازش کر رہے تھے, جب اعلیحضرت نے دلائل پیش کر کے میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم پیش سے متعلق دلائل پیش کی۔ آج خلافت ہاؤس سے ۱۰۷ واں جلوس عید میلاد النبی نکالا گیا ہے. اس ملک میں مسلمان اقلیت میں ہے اور اس لئے اکثریت کو ان کا خیال رکھنے کے ساتھ ان کے ساتھ ہمدردی اور اخلاص و فراخدلی سے پیش آنا چاہئے. مسلمان برادران وطن کے تہواروں میں شریک ہوتے ہیں انہیں بھی مسلمانوں کے تہوار اور ان کے ساتھ بہتر سلوک رواں رکھنا چاہئے تبھی یہ ملک ترقی کرے گا, اسی سے بھائی چارگی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی قائم ہو گی اور محبت پروان چڑھے گی۔

ریاستی وزیر رسد و خوراک چھگن بھجبل نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانیت امن سلامتی اور محبت اتحاد مساوات کا درس دیا ہے. اسلام میں پیغمبر اسلام نے خدمت خلق کو اہمیت دی ہے اور دوسروں کا خیال رکھنے کا بھی درس دیا ہے, یہی وجہ ہے کہ اسلام میں امن پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے۔ اس کے بعد چھگن بھجبل نے مولانا محمد علی اور شوکت علی کی جنگ آزادی اور خلافت تحریک کا تذکرہ کیا اور کہا کہ مولانا علی برادران نے اسی خلافت ہاؤس سے آزادی کا بگل بجایا تھا اور یہاں سے مہاتما گاندھی، جواہر لعل نہرو بھی ان کے ساتھ تھے۔ اس جلسہ سے خلافت کمیٹی کے چیئرمین سرفراز آرزو نے خلافت کمیٹی اور جلوس عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ اس جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیر اور این سی پی لیڈر نواب ملک نے سیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم بیان کرتے ہوئے کہا کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے تفریق اور عدم مساوات کا خاتمہ کیا اور دنیا کو امن و سلامتی کا درس دیا اس لئے اسلام امن کا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے بھی امن پسند ہے۔ اس جلسہ میں سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان، رکن اسمبلی امین پٹیل سمیت سیاسی و سماجی لیڈران اور علما کرام شریک تھے جبکہ نظامت کے فرائض مولانا محمود سر نے انجام دیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان