(جنرل (عام
آگرہ روڈ فلائ اوور برِج، گھرکُل یوجنا و دیگر معاملات پر این جی ٹی میں پیٹیشن داخل۔ چند سیاستدانوں کا ہوگا پردہ فاش، جانںٔے کیا ہیں نںٔے معاملات؟؟
(خیال اثر)
ہمارا مالیگاؤں شہر دہائیوں سے سیاسی پسماندگی کا شکار رہا ہے، یہاں کے بیشتر سیاستدانوں نے اپنی لفاظی اور جھوٹے وعدوں سے عوام کو ہمیشہ بیوقوف بنایا اور بیت المال آپس میں مل جُل کر لوٹتے رہے۔ عوامی خزانوں کو لُوٹ لُوٹ کر یہ لوگ کروڑ پتی اور ارب پتی بن گئے، لیکن لاکھوں شہریان کو تمام تر بنیادی سہولیات سے ہمیشہ محروم رکھا اور شہر کا برا حال کر اسے ایک کھنڈر میں تبدیل کر دیا، جس کا خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اور ہماری آنے والی نسلیں بھی محرومی کا شکار رہیںنگی۔ مالیگاؤں شہر میں نہ اچھی کوالٹی کے سڑکیں ہیں، نہ معیاری ڈرینیج سیسٹم، نہ گارڈنز ہیں نہ ہمارے بچوں کو کھیلنے کودنے کیلۓ پلے گراؤنڈز اور نہ ہی عوامی تفریح گاہیں۔ سیاسی لُٹیروں نے دہائیوں سے سرکاری دواخانوں، اسکولوں اور شہر کا کیا حال کر رکھا ہے یہ ہم سب جانتے ہیں۔ ان تمام سنگین اور سلگتے مسائل کو قانونی طور سے حل کرنے کے لئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن دائر کی گئی ہے، جس میں درج ذیلمعاملا کو اجاگر کیا گیا ہے اور ٹریبونل سے ان معاملات کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
1۔ گیارہ ہزار کالونی پروجیکٹ (IHSDP) میں کمزور اور غیر معیاری تعمیرات اور سیکڑوں کروڑ کی بدعنوانی کی قانونی جانچ کا مطالبہ، اور ہزاروں غریب خاندانوں کے ساتھ ہونے والے ظلم و ناانصافی کے خلاف کاروائی اور غریب خاندانوں کو کمپینزیشن دینے کا مطالبہ۔ ٹھیکیدار پاندھے کنسٹرکشنس اور پروجیکٹ مینجمنٹ کنسلٹنٹ رتیش کانکریا کے خلاف تحقیقات اور قانونی کارروائی کا مطالبہ۔
2۔ آگرہ روڈ فلائ اوور برِج کے اِسٹرکچر و کوالٹی کی مکمل جانچ، اور برِج کی تعمیر کیلئے طے شدہ میعاد سے ذیادہ وقت لگنے کی وجہ اور کنسٹرکشن میں تاخیر کے خلاف کانٹریکٹر کمپنی پر کاروائی کا مطالبہ، لاکھوں عوام کو ہونے والی پریشانیوں اور صحت کے نقصانات کی بھرپائ (کمپینزیشن) کا مطالبہ۔
3۔ واٹر فلٹریشن پلانٹ کی جگہ پر غیر قانونی طور پر تعمیر شدہ سِٹی کامپلیکس کنسٹرکشن معاملہ، نمیرہ ہائٹس کنسٹرکشن معاملہ، نعمانی پُل کی کمزور و غیر معیاری تعمیر، ہیریٹیج سائٹ احاطہ میں کارپوریشن بلڈنگ (مولانا آزاد بھون) کی تعمیر اور عوامی خزانے کی لوٹ مار کی جانچ، بنکر بازار پروجیکٹ کی خستہ حالی اور دیگر کئ غیر مکمل شدہ و غیر معیاری و غیر قانونی تعمیرات کے خلاف جانچ اور قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
4- مالیگاؤں شہری حدود میں سیاستدانوں کے ذریعے درجنوں اوپن اِسپیس کی بندربانٹ اور ان پر غیر قانونی تعمیرات اور قبضہ کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
5- مالیگاؤں شہر اور آس پاس کے علاقوں میں سیکڑوں ایکڑ فوریسٹ کی زمینوں پر کئ کسانوں اور زمین مافیاؤں کا قبضہ اور غیر قانونی تعمیرات کے خلاف تحقیقات و قانونی کاروائی کا مطالبہ۔
6۔ اولڈ آگرہ روڈ اور مالیگاؤں شہر کی تمام اہم شاہراہوں کی جلد از جلد کوالٹی اسٹینڈرڈ کے مطابق پختہ تعمیرات کا مطالبہ۔
7۔ شہر بھر میں راستوں پر سے اتی کرمن ہٹانے اور بجلی کے کھمبے وغیرہ ہٹانے کے ساتھ ساتھ سڑکوں پر بنے غیر قانونی بریکرز کو ختم کرنے کا مطالبہ۔
8۔ مالیگاؤں شہر میں امرُت یوجنا کے تحت کۓ گۓ ناقص کاموں اور کروڑوں روپیوں کی بدعنوانیوں کی جانچ، اس پروجیکٹ میں پانی کی پائپ لائن، گارڈنز، اور ڈرینیج سِسٹم وغیرہ کے نام پر عوامی حق کے کروڑوں روپے ہڑپ لئے گۓ، جسکے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
9۔ مالیگاؤں شہر میں 5 لاکھ درختوں کی شجرکاری، گارڈنز اور پارک ڈیولپمنٹ، اسی کے ساتھ شہر و اطراف میں ہرے بھرے درختوں کی غیر قانونی کٹائی کی روک تھام کیلئے اقدامات کا مطالبہ۔
10۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر سے بڑی گاڑیوں کی غیر قانونی پارکنگ، ٹرافک اور دُھول کے خاتمے کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ۔
11۔ مالیگاؤں شہری حدود اور اسکے آس پاس غیر قانونی طریقے سے کرشر مشینوں کے ذریعے پتھریلی زمینوں کی کھدائی اور ریت اور موروم کی چوری کی جانچ کرتے ہوئے کاروائی کا مطالبہ۔
12۔ مالیگاؤں شہر اور آس پاس کی زمینوں پر بغیر اوپن اسپیس اور امینٹی پلاٹس، اور 15-20 فیٹ باریک گلیوں والے غیر قانونی لے آؤٹ بیچ کر زمین مافیا کی غریبوں کے ساتھ دھوکہ دہی۔ (بارہ پچیس کے پلاٹ)، اسی کے ساتھ ٹاؤن پلاننگ ڈیپارٹمنٹ اور دیگر متعلقہ افسران کی سانٹھ گانٹھ سے ریزرو (Reserve) زمینوں کی غیر قانونی خرید و فروخت کو لیکر عہدیداروں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ۔
13۔ آواڑی نالے کی صفائی اور نالے کی زمین پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی ڈیمانڈ۔ اوپن گٹر اور نالوں کے ذریعے بہہ کر ندی اور ڈیم میں شامل ہونے والے گندے پانی جیسے مسائل کے حل کیلئے مطالبہ اور مالدہ کچرا ڈپو کی منتقلی کیلئے اقدامات۔
14۔ گنجان آبادی والے رہائشی علاقوں میں غیر قانونی موبائل ٹاورز کی موجودگی اور انکے ریڈئیشن سے عوام (بالخصوص بچے اور حاملہ خواتین) کو ہونے والے بھیانک نقصانات کے مد نظر ان کی منتقلی کا مطالبہ۔
15۔ ٹرک ٹرمنس اور ہیوی کمرشیل وہیکلس کیلئے شہر کے بیرونی علاقوں میں مختلف مقامات پر پارکنگ زون کا انتظام کرنے کا مطالبہ۔
16۔ سڑکوں پر ٹھیلہ گاڑیوں پر چھوٹا موٹا دھندہ اور پھیری کرنے والے ہزاروں غریب افراد کیلئے شہر کے مختلف مقامات پر ہاکرس زون کے نظم کا مطالبہ۔
17۔ مالیگاؤں شہر کارپوریشن حدود میں جو زمینیں جن جن مقاصد کیلئے ریزرو کی گئی تھیں ان تمام زمینوں کو فوراً مفاد عامہ میں اپنے اصل مقاصد کے تحت استعمال کیا جائے اور اگر غیر قانونی قبضہ ہو تو اسے ہٹایا جائے۔
18۔ مالیگاؤں شہر کی اہم شاہراہوں پر اور اطراف میں آف اسٹریٹ اور آن اسٹریٹ پارکنگ فیسیلیٹی اور وہیکلس پارکنگ فیسیلیٹی کا نظم کیا جائے۔
19۔ مالیگاؤں شہر سے متصل نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر باقائدگی سے سروس روڈ کی تعمیر کی جائے، مالیگاؤں شہر کو نیشنل ہائی وے سے جوڑنے والے داخلی اور خارجی راستوں کو صحیح اور ٹیکنیکل طور سے تعمیر کیا جائے، ساتھ ہی نیشنل ہائی وے نمبر 3 پر ناسک سے لیکر مالیگاؤں اور مالیگاؤں سے دھولیہ تک دونوں سمت میں لاکھوں درختوں سے بھرپور شجرکاری کی جاۓ۔
20۔ مالیگاؤں شہر میونسپل کارپوریشن حدود میں کچرا اٹھانے کیلئے مختص ٹھیکیدار کمپنی “واٹر گریس” اور کارپوریشن کے ذمہ دار عہدیداروں کے خلاف کاروائی اور جانچ کا مطالبہ، اور دیگر کئ سنگین مسائل کے حل کیلئے مفاد عامہ میں نیشنل گرین ٹریبیونل میں پٹیشن داخل کی گئی ہے، جس میں فہیم یوسف عبداللہ (گرین مالیگاؤں ڈرائیو)، شہر کے معروف سوشل اکٹوِسٹ نکھل پوار (آمہی مالیگاؤنکر ودھایک سنگھرش سمیتی) اور آصف یوسف عبداللہ (فاؤنڈر، گرین مالیگاؤں ڈرائیو) پٹیشنر ہیں۔
درج بالا تمام معاملات میں خاطی پائے جانے والے افسران اور سیاستدانوں پر سخت کارروائی کے مطالبات ٹریبیونل سے کیے گئے ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے درج مقدمات کو عدالتیں خارج کریں، شہریوں کو لکچر نہ دیں : سابق ایس سی جج ابھئے اوکا

ممبئی پریس بیورو
ممبئی — آئینی عدالتوں کا یہ بنیادی فرض ہے کہ وہ صرف اختلافِ رائے کو خاموش کرانے یا تنقیدی آوازوں کو دبانے کے مقصد سے درج کیے گئے مجرمانہ مقدمات کو کالعدم (کواش) قرار دیں۔ اس کے ساتھ ہی، عدالتوں کو شہریوں کو یہ نصیحت کرنے سے گریز کرنا چاہیے کہ انہیں کیا کہنا چاہیے اور کیا نہیں۔ یہ بات سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ابھئے ایس اوکا (ریٹائرڈ. جسٹس ابھے ایس۔ اوکے) نے ممبئی میں ایک قانونی پروگرام کے دوران کہی۔ ممبئی کے کے سی کالج آڈیٹوریم میں منعقدہ پہلے “ایڈووکیٹ ہارون سولکر میموریل لیکچر سیریز” سے خطاب کرتے ہوئے، جسٹس اوکا نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم برداشت اور شہری آزادیوں کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ اس لیکچر کا عنوان “آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21: عمل درآمد یا فراموش؟” (آرٹیکل 19(1)(اے) اور آرٹیکل 21 : فولّود ور فورگوتیں?) تھا اور اس میں ریاستی طاقت اور بنیادی شہری حقوق کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ پر روشنی ڈالی گئی۔
“عدالتوں کا کام نصیحت یا سبق سکھانا نہیں”
جسٹس اوکا — جنہوں نے اگست 2021 سے مئی 2025 تک سپریم کورٹ کے جج کے طور پر خدمات انجام دیں — نے کہا کہ جب شہری اپنے بنیادی حقوق پر حملے یا سیاسی طور پر درج کرائے گئے مقدمات کے خلاف عدالتوں کا رخ کرتے ہیں، تو عدلیہ کو ان کے حقوق کی ڈھال بننا چاہیے۔ “عدالت کو درخواست گزار کے کہے گئے الفاظ یا خیالات پسند نہ بھی ہوں، تب بھی اظہارِ رائے کی آزادی کا تحفظ کرنا عدالت کا فرض ہے۔ یہ عدالت کا کام نہیں ہے کہ وہ درخواست گزار کو یہ سبق سکھائے یا نصیحت کرے کہ اسے کیا کہنا چاہیے تھا اور کیا نہیں،” جسٹس اوکا نے واضح کیا۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدالتوں کو صرف یہ دیکھنا چاہیے کہ آیا قانون کے تحت کوئی حقیقی جرم بنتا ہے یا نہیں، نہ کہ بیان کے سیاسی یا سماجی اثرات یا پسندیدگی کا جائزہ لے۔
سر تھامس مور کا حوالہ: “وقت کے حکمرانوں کی پسند کے پابند نہیں”
آئرش مصنف سر تھامس مور کے قول کا حوالہ دیتے ہوئے، جسٹس اوکا نے یاد دلایا کہ ایک متحرک جمہوریت میں شہریوں سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ صرف وہی باتیں کہیں جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں۔
“شہریوں سے صرف وہی باتیں کہنے کی توقع نہیں کی جا سکتی جو وقت کے حکمرانوں کو پسند ہوں،” انہوں نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ غیر مقبول نظریات کو دبانا جمہوریت کے لیے ایک براہ راست خطرہ ہے۔
“اگر جمہوریت کو زندہ رکھنا ہے تو ہمیں آئینِ ہند کے آرٹیکل 19(1) (اے) اور 21 کے تحت حاصل کردہ آزادیوں کا تحفظ کرنا ہوگا — چاہے اس کے لیے ہمیں کتنی ہی بڑی قیمت کیوں نہ چکانی پڑے۔”
پرامن احتجاج اور گفتگو کے “فراموش کردہ اصول”
پرامن احتجاج کو آزادیٔ اظہار کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے سابق جج نے کہا کہ جب عوامی مسائل اور مطالبات پر توجہ نہیں دی جاتی، تو پرامن مظاہرہ ہی شہریوں کا وہ واحد آئینی طریقہ ہوتا ہے جس سے وہ اپنی ناخوشی کا اظہار کر سکتے ہیں۔انہوں نے ریاست کی ذمہ داریوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ حکومت پر ہر مطالبہ ماننا لازم نہیں، لیکن شہریوں سے بات چیت اور مکالمہ کرنا اس کی بنیادی ذمہ داری ہے: “جمہوریت میں ہر شہری کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا حق ہے اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ ان پر غور کرے،” انہوں نے کہا۔ “حکومت مطالبات کو تسلیم کرے یا نہ کرے، لیکن اس پر غور کرنا اور بات چیت کرنا حکومت کا فرض ہے۔ لیکن شاید وقت کے ساتھ، ہم سب ان سنہری اصولوں کو بھول چکے ہیں۔”
ریاست کی ذمہ داریاں اور عدالتی بیداری
آئینی حقوق اور فرائض پر گفتگو کرتے ہوئے جسٹس اوکا نے کہا کہ جہاں شہریوں کو آرٹیکل 51اے کے تحت ان کے بنیادی فرائض یاد دلائے جاتے ہیں، وہیں ریاست کی بھی یہ آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ سیکولرازم، جمہوریت اور ذاتی آزادی جیسے نظریات کا احترام کرے. “موجودہ دور میں، ہم شاید ہی کبھی حکومت کو آئین کے ان اعلیٰ اقدار کا احترام کرتے ہوئے دیکھتے ہیں،” جسٹس اوکا نے تبصرہ کیا۔ انہوں نے آخر میں عدالتوں سے آئین کا چوکس محافظ بننے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: “اگر عدالتیں ہی شہریوں کے بنیادی حقوق کی حفاظت نہیں کریں گی تو پھر کون کرے گا؟ یہ عدالتوں کا اولین فرض ہے کہ آئین اور اس کے اعلیٰ اصولوں کو پامال نہ ہونے دیا جائے۔”
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی شہر میں نقب زنی کرنے والا چور گرفتار ۶ معاملات حل

ممبئی : ممبئی پولس نے ایک ایسے نقب زن چور کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے, جو ایم ایچ بی پولس اسٹیشن کی حدود میں نقب زنی کی چار وارداتیں انجام دے چکا ہے۔ اس کے ساتھ اس پر ممبئی و مضافاتی علاقوں میں نقب زنی اور چوری کے معاملات درج ہیں۔ ملزم کی گرفتاری کے بعد ۶ چوری کے معاملات حل ہوئے ہیں۔ ممبئی پولس کے ڈی سی پی سندیپ گھوگے نے بتایا کہ پولس نے ایم ایچ بی سی کی حدود میں نقب زن سے متعلق سراغ لگایا پولس کو معلوم ہوا کہ یہ نئی ممبئی کوپر کھیرنار میں مقیم ہے جس کے بعد پولیس نے ملزم کمل جیت کلجیت سنگھ ۲۶ سالہ کو گرفتار کر لیا اس کے قبضے سے سونے کے زیورات نقدی سمیت کل ۴۵ لاکھ کا مسروقہ مال ضبط کرنے کا بھی دعویٰ پولس نے کیا ہے۔ ملزم جرائم پیشہ ہے اس کے خلاف دادر، ماہم، کالا چوکی، آر سی ایف، دھاراوی میں بھی چوری اور نقب زنی کے معاملات میں ملوث ہونے کا الزام ہے, اس معاملہ میں پولس نے کارروائی کرتے ہوئے شاطر چور اور نقب زن کو گرفتار کر کے مزید تفتیش شروع کردی ہے۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
اسکول جہاد کی آڑ میں کارروائی بند ہو، ایم ایل اے ابو عاصم کی ایڈیشنل کمشنر دھننجے کلکرنی سے ملاقات میمورنڈم پیش

ممبئی : حکومت نئے اسکول کھولنے میں ناکام ہے، ایسے واقعات سامنے آ رہے ہیں جہاں پرائیویٹ اور ٹرسٹ کے تحت چلنے والے اسکول جو کہ غریب اور اقلیتی علاقوں میں بچوں کو تعلیم فراہم کرتے ہیں کو ‘اسکول جہاد’ جیسے نفرت انگیز پروپیگنڈے کی وجہ سے دباؤ اور ایف آئی آر کا سامنا ہے۔
اس سنگین مسئلہ کے تناظر میں مانخورد شیواجی نگر کے ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی نے آج نو تعینات ایڈیشنل کمشنر آف پولیس (ایڈیشنل سی پی) دھننجے کلکرنی سے اس طرح کی کارروائی کا سامنا کرنے والے اسکولوں کے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کی اور ایک میمورنڈم پیش کیا۔ میمورنڈم میں استدعا کی گئی کہ اگر تفتیش یا تفتیش کے لیے پولیس کا کسی اسکول کا دورہ ضروری ہے تو افسران کو سادہ لباس میں حاضر ہونا چاہیے۔ وفد نے حکام پر زور دیا کہ وہ پولیس وین یا بھاری پولیس فورس کے ساتھ اسکول کے احاطے سے باہر آنے سے گریز کریں تاکہ بچوں، والدین اور اساتذہ میں خوف و ہراس کا ماحول پیدا نہ ہو۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ٹرسٹیز ذاتی طور پر پولیس اسٹیشن کا دورہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاکہ پولیس کو درکار کوئی ضروری دستاویزات یا ریکارڈ فراہم کیا جا سکے۔ ان تعلیمی اداروں کے بارے میں پولیس کا رویہ جو غریب محلوں کے بچوں کے لیے تعلیم کے حق کو برقرار رکھتے ہیں حساس، تعاون پر مبنی اور احترام پر مبنی ہونا چاہیے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے اس بات پر زور دیا کہ تعلیمی ماحول کو ہر حال میں محفوظ، غیر جانبدارانہ اور خوف سے پاک رہنا چاہیے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ پسماندہ علاقوں کے بچوں کا مستقبل کسی نفرت انگیز ایجنڈے یا بے بنیاد تعزیری کارروائیوں کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
