Connect with us
Wednesday,30-September-2026
تازہ خبریں

(جنرل (عام

نگر پریشد اسکول کے قریب کی جگہ شہر کے غریب عوام کے گھروں کے لئے محفوظ

Published

on

(نامہ نگار)
ان دنوں کھام گاؤں شہر کے مسلم آبادی والے علاقے میں نگر پریشد اردو اسکول نمبر 2 کے قریب کی 9 ایکر خالی زمیں بحث کا موضوع بنی ہوئی ہے۔
معلوم ہو کہ کھام گاؤں شہر میں مسلم علاقے شوکت کالونی، اور جونا فیل کے درمیان جیسوال خاندان کی تقریبا ساڑے نو ایکر زمین موجود تھی جس میں 1988 تک زراعت ہوتی تھی۔ اس وقت کھام گاؤں نگر پریشد میں ہمارے بزرگ الحاج ضیاء الحق خان نے اپنے ساتھی اراکین بلدیہ کے تعاون سے اس کھیتی کو شہر کے غریب عوام کو گھر بناکر دینے کے لئے محفوظ (ریزرو) کرنے کی کاروائی شروع کی تھی جیسے حکومت مہاراشٹر نے 1992 میں منظورات دیکر کھام گاؤں نگر پریشد نے شہر کے غریب عوام کے گھر باندھ کر دینے کی قرراردات کو دیکھتے ہوئے اس کھیت کو محفوظ کردیا تھا۔ ۔
اس جگہ پر ریزرویشن ہونے کی وجہ سے عرصہ دراز سے خالی پڑی ہوئی تھی۔ نگر پریشد نے بھی اس کے بعد شہر کے غریبوں کو بسانے کی کوئی کاروائی نہیں کی ۔
شہر کی آبادی میں تیزی سے ہوتے ہوئے اضافے کی وجہ سے رہایش کے لئے جگہ کی کمی محسوس ہونے لگی۔ ایسے میں لینڈ مافیا کی نظر آبادی کے درمیان اس خالی جگہ پر گئی اور انہوں نے جگہ کے پرانے مالکان جیسوال برادران سے ملکر اس جگہ کو ٹکڑے ٹکڑے(گھونٹے واری) کرکے سادے بانڈ پر نوٹری کرکے بیچنے کی اسکیم بنائی۔ اطراف کے غریب ۔ کم تعلیم یافتہ عوام کو گمراہ کرکے پلاٹ دینے کی تیاری شروع کردی تھی۔ جگہ کی صاف صفائی کی گئی، چاروں طرف تاروں کی دیواریں کھڑی کردی گئی۔
لینڈ مافیا کی اس غیر قانونی سرگرمی کو دیکھتے ہوئے نگر پریشد کے سابق رکن بلدیہ پرویز پٹھان نے چیف آفسر کو اسکی تحریری شکایت کردی کہ شہر کے کچھ لوگ نگر پریشد کی رزور جگہ کو بیچنے کی کوشیش کررہے ہیں۔
اس کی اظلاع ملتے ہی نگر پریشد کے چیف آفسر نے مقامی مراٹھی شامنامے میں اشتہار دیکر وضاحت کردی کہ یہ جگہ شہر کے غریب لوگوں کو گھر باندھ کر دینے کے لئے نگر پریشد نے محفوظ رکھی ہے۔ جو کوئی بھی اس زمین کو بیچنے کی کوشیش کرےگا۔خریدنے اور بیچنے والے دونوں کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔ ۔ اس زمین کا اب اس کے مالکان سے کوئی تعلق نہیں رہا۔ اس لئے اسکے مالکانہ حق حاصل کرنے کے لئے کی گئی نوٹری، رجسٹر،خریدی، وقف نامہ، بخشش پتر، سب کے سب غیر قانونی ہوگے۔ اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسکے خلاف شہری ترقیاتی قانون 1966 کی دفعہ 52 سے 56 کے تحت فوجداری کاروائی کی جائے گی۔
نگر پریشد کی جانب سے وضاحت کے بعد آج مقامی شام ناموں میں زمین کے بنیادی مالکان کی جانب سے ایڈوکیٹ ایس ایس بڑگجر کا وضاحت بیان شائع ہوا ۔ جس میں انہوں نے کہا کہ میرے موکل پروین سورج لال جیسوال اور رتیش کمار جیسوال کہ کہنے کہ مطابق کھام گاؤں نگر پریشد حد میں واقع سروے نمبر25/1 کی زمین پر نگر پریشد نے ارکشن نمبر 37 کے تحت شہر کے غریب عوام کے گھر باندھ کر دینے کے لئے محفوظ کرلی تھی۔ لیکن آج 23 سال کا عرصہ گزر جانے بعد بھی نگر پریشد نے اس زمین پر کوئی استعمال نہیں کیا۔ ا اس تعلق سے کوئی کاروائی کی۔اور نہ ہی اس کا مبادلہ ابھی تک ادا کیا۔ بار بار اس تعلق سے خط و کتابت کرنے کے بعد ابھی تک کوئی جواب بھی نہیں دیا۔ بلکہ ایم ار پی ٹی کی دفعہ 127 کے تحت دی گئی مدت میں کوئی بھی کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے خود بخود یہ ارکشن و تابع ختم ہوجاتا ہے۔ نگر پریشد کو اب شہری ترقیاتی قانون 1966 کی دفعہ 52 سے 56 کے تحت کاروائی کرنے کا کوئی حق حاصل ہوتا ہے۔ اس ضمن میں نگر پریشد نے کیسی بھی قسم کی کاروائی کرنے کی کوشش کی تو چیف آفسر کے خلاف قانونی کاروائی کی جائے گی۔
دونوں دعویداروں کے اس اخباری بیان بازی سے خریدار پریشان دیکھائی دے رہے ہیں ۔
لیکن اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ اس میں نقصان مسلمانوں کا ہی ہوگا۔دانشوروں کا کہنا ہے کہ جب تک مالکان اور نگر پریشد کا کوئی قانونی حل نہیں نکل جاتا خریداروں کو انتظار کرنا چاہئے۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

سماج وادی پارٹی کا ایس آئی آر ‘ (ووٹر لسٹ) گھوٹالے میں ملوث گیانیش کمار کے خلاف پر زور احتجاج

Published

on

ممبئی : آج ممبئی میں سماج وادی پارٹی کے مرکزی دفتر پر ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس کی قیادت پارٹی کے ممبئی/مہاراشٹر ریاستی صدر اور رکن اسمبلی (ایم ایل اے) ابو عاصم اعظمی نے کی۔ اس مظاہرے میں گیانیش کمار کے لیے سخت ترین سزا کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں ‘ایس آئی آر ‘ گھوٹالے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اس گھوٹالے کے نتیجے میں انتخابی فہرستوں سے لاکھوں نام خارج کر دیے گئے تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ابو عاصم اعظمی نے مطالبہ کیا کہ سپریم کورٹ کمار کو سخت ترین سزا دے اور اس بات پر زور دیا کہ انتخابات عدالتی نگرانی میں منصفانہ طور پر منعقد کیے جائیں۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سماج وادی پارٹی ملک بھر میں اس معاملے کی شدید مخالفت کرتی ہے اور احتجاج جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ احتجاج میں ریاستی ورکنگ صدر یوسف ابراہانی، چیف جنرل سیکریٹری معراج صدیقی، ریاستی جنرل سیکریٹری فرحان اعظمی، ویمنز ونگ کی صدر رخسانہ صدیقی اور یوتھ ونگ کے صدر ریاض خان سمیت پارٹی کے ہزاروں کارکنان نے شرکت کی۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

65 سالہ ضعیف شخص کی رہائی کی راہ ہموار، بامبے ہائی کورٹ سے بڑی راحت

Published

on

mumbai-high-court

ممبئی : دہشت گردی کے الزامات کے تحت گذشتہ پندرہ سالوں سے جیل میں مقید ایک 65 سالہ ضعیف شخص کی جیل سے رہائی کی راہ آج بامبے ہائی کورٹ نے ہموار کردی ہے۔ ہائی کورٹ کی دو رکنی بینچ کے جسٹس سارنگ وجئے کمار کوتوال اور جسٹس رنجیت سنہا راجا بھوسلے نے ملزم کفیل احمد کو بیرون مہاراشٹر کے ضامندار کو عدالت میں پیش کرنے کی اجازت دے دی ہے، اس سے قبل بامبے ہائی کورٹ نے اسے بطور ضامن کسی مقامی شخص کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔ جمعیۃ علماء مہاراشٹر (ارشدمدنی) قانونی امداد کمیٹی کے توسط سے ملزم کفیل احمد نے بامبے ہائی کورٹ میں عرضداشت داخل کی تھی جس پر آج سماعت کے دوران ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو بتایا کہ تقریباً ایک سال قبل ضمانت منظور کیئے جانے کے باوجود ملزم ابتک جیل کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہے کیونکہ ملزم کا تعلق صوبہ بہار سے ہے اور مہاراشٹر میں اس کا کوئی نہیں ہے جو اس کی ضمانت لے سکے۔ ایڈوکیٹ متین شیخ نے عدالت کو مزید بتایا کہ ملزم کی عمر 65/ سال ہوچکی ہے، ملزم پہلے ہی کئی طرح کی بیماریوں سے جیل میں پریشان ہے لہذا ملزم کی ضمانت کی شرط میں تبدیلی کی جائے۔ عدالت نے پہلے تو جھجک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملزم سنگین الزامات کا سامنا کررہا ہے لہذا اس کی ضمانت کی شرائط میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی لیکن پھر بعد میں ایڈوکیٹ متین شیخ کے دلائل کی سماعت کے بعد عدالت نے ملزم کو راحت دے دی۔ حالانکہ سرکاری وکیل نے ضمانت کی شرائط میں تبدیلی کیئے جانے کی سخت لفظوں میں مخالفت کی تھی۔ خیال رہے کہ دو ہفتہ قبل ملزم کفیل احمد کے لڑکے نے صدر جمعیۃ علماء مہاراشٹر مولانا حلیم اللہ قاسمی سے ملاقات کرکے اس کے ضعیف والد کی جیل سے رہائی کی درخواست کی تھی جس کے بعد بامبے ہائی کورٹ میں پٹیشن داخل کی گئی جس پر آج سماعت عمل میں آئی۔ واضح رہے کہ ملزم کفیل احمد پر عروس البلاد ممبئی کے تین مختلف مقامات پر ہوئے بم دھماکہ معاملہ بنام 13/7 ممبئی سلسلہ وار بم دھماکہ میں دیگر ملزمین کے ساتھ ملوث ہونے کا الزام ہے۔ ملزم کفیل احمد سمیت دیگر تمام گیارہ ملزمین کے خلاف تعزیرات ہند کی دفعات 302,307,326,325,324,379,109,120-B ,اورغیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون، دھماکہ خیز مادہ کے قانون اور مکوکا قانون کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ چارج فریم کیا تھا۔ اس معاملے کا سامنا کررہے ملزمین نقی احمد وصی احمد، ندیم اختر اشفاق شیخ، ہارون عبدالرشید نائیک، کفیل احمد محمد ایوب انصاری، اسعد اللہ اختر جاوید اختر عرف ہڈی، سید اسماعیل آفاق علیم لنکا، صدام حسین فیروز خان، زین العابدین عبدالرزاق کو جمعیۃ علماء مہاراشٹر قانونی امداد کمیٹی قانونی امداد فراہم کررہی ہے۔ سیشن عدالت میں ملزمین کے دفاع میں ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ، ایڈوکیٹ حسنین قاضی و دیگر پیش ہورہے ہیں۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ملکیت کا تنازع : وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگا دیا

Published

on

Waris-Pathan

ممبئی خلافت ہاؤس پر ایم آئی ایم کے قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا بھارت ماتا کی جئے کے نعرہ کے ساتھ ایم آئی ایم کے قفل کو توڑ کر طالبات اور راشٹریہ مسلم منچ کے کارکنان نے داخلہ لیا اس سے قبل سابق رکن اسمبلی وارث پٹھان نے خلافت ہاؤس پر تالا لگایا تھا اور اس دوران خلافت ہاؤس کے ٹرسٹی اور کارگزار صدر سرفراز آرزو اور وارث پٹھان کے مابین لفظی جھڑپ بھی ہوئی تھی آج راشٹریہ مسلم منچ نے قفل توڑ کر وارث پٹھان کے اس عمل کو غیر قانون قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ وارث پٹھان کون ہوتا ہے, یہاں تالا لگانے والا۔ وارث پٹھان نے بتایا کہ چونکہ خلافت ہاؤس وقف بورڈ میں رجسٹرڈ ہے اور یہ وقف کی ملکیت ہے اس لئے یہاں تعمیراتی کام پر روک لگانے کیلئے انہوں نے بطور احتجاج یہ قفل لگایا ہے جبکہ سر فراز آزرو نے اسی دوران کہا تھا کہ یہ وقف کی جگہ یا ملکیت ہے تو وقف ڈیڈ بتائی جائے وقف کی نوٹس کے بعد وارث پٹھان نے بائیکلہ خلافت ہاؤس کو تالا لگایا تھا لیکن آج اس قفل کو راشٹریہ مسلم منچ نے توڑ دیا اور خلافت ہاؤس میں داخلہ لیا۔ سر فراز آرزو نے بتایا کہ خلافت ہاؤس میں فلک شگاف عمارت کی تعمیر ہوگی اور یہاں اسپتال اور کالج کا قیام عمل میں لایا جائے گا جبکہ وقف کی ملکیت سے متعلق خلافت ہاؤس تنازع کا شکار ہے لیکن خلافت ہاؤس نے اس ملکیت کو وقف کی ملکیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے, جبکہ وقف بورڈ نے نوٹس جاری کیا ہے اور خلافت ہاؤس سے گوشوارہ طلب کیا ہے۔ خلافت ہاؤس کے تعمیراتی کاموں پر روک لگانے کیلئے وارث پٹھان نے اسے مقفل کیا تھا جو آج کھول دیا گیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان