قومی خبریں
ملک میں قانون نام کی کوئی چیز اور نہ ہی اس کا کوئی خوف ہے : شاہین باغ خاتون مظاہرین
قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین نے کچھ غیر سماجی طبقوں کے ذریعہ ویڈیو وائرل کر کے شاہین خاتون مظاہرین کو نشانہ بنانے کی دھمکی پر سخت افسوس اور غصے کا اظہار کرتے ہوئے الزام لگایا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں قانون نام کی کوئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی اس کا کوئی خوف ہے۔
خاتون مظاہرین میں سرگرم رول ادا کرنے والی خواتین میں سماجی کارکن ملکہ خاں، نصرت آراء، سماجی کارکن شیزہ، محترمہ ثمینہ نے انتظامیہ پر لاپروائی برتنے کا الزام لگاتے ہوئے کہاکہ اگر اس طرح کی دھمکی کوئی مسلمان دے رہا ہوتا تو درجنوں دفعات کے تحت پولیس اب تک گرفتار کر کے جیل بھیج چکی ہوتی، لیکن ایسا لگتا ہے کہ پولیس ایسے لوگوں کے خلاف اب تک کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ اس لئے متعدد ویڈیو اور آڈیو وائرل ہو رہے ہیں، جس میں شاہین باغ خاتون کو تباہ کرنے اور حملہ کرنے کی بات کہی جارہی ہے۔ انہوں نے حکومت اور پولیس سے مطالبہ کیا کہ ایسے لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ یہاں کے امن وامان کو برقرار رکھا جاسکے۔
انہوں نے کہاکہ شاہین باغ میں خواتین کا مظاہرہ مکمل طور پر پرامن اور قومی یکجہتی کا مظہر ہے۔ ہم لوگ دستور کے تحفظ کے لئے یہاں بیٹھی ہیں اور شاہین باغ نے ملک میں احتجاج کرنے کانظریہ بدل دیا ہے اور یہی وجہ سے پورے ملک سے ہی نہیں دنیا سے لوگ شاہین باغ خواتین مظاہرہ کو دیکھنے، سمجھنے اور حوصلہ بڑھانے کیلئے آرہے ہیں، اور ایک طرح یہ مظاہرہ ہندوستانیت کو پیش کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے میں اس مظاہرہ کے بارے میں غلط باتیں کہنا اور اس پر حملہ کرنے کی بات کرنا ملک کو بدنام کرنے جیسا مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ہم پر ابتک متعدد حملے ہوچکے ہیں، لیکن ہم نے حملہ آوروں کو بغیر کوئی نقصان پہنچائے پولیس کے حوالے کر دیا۔
ان خواتین دہلی فسادات میں مارے گئے لوگوں کے تئیں اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہاکہ ہندو مسلمان نہیں بلکہ انسان مرا ہے۔ اگر یہ بات سمجھ لے کہ دنگا اور فسادات سے صرف انسانوں کا نقصان ہوتا ہے، ملک کا نقصان ہوتا ہے، ملک کا مالی خسارہ ہوتا ہے تو کوئی بھی محب وطن ایسی حرکت کرنے کے بارے میں نہیں سوچے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس فساد نے دونوں طبقوں (ہندو مسلمان) کو غمزدہ کر دیا ہے۔ اس لئے ایسے لوگوں سے ہوشیار رہنا چاہئے جو ایک دوسرے سے لڑواتے ہیں۔
سماجی کارکن اور کانگریس کے لیڈر انتخاب عالم نے بھی فسادات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ احتجاج کرنا جمہوری حق ہے اس کی اجازت آئین نے دیا ہے۔ انہوں نے کانگریس کی لیڈر اور سابق کونسلر عشرت جہاں کو گرفتار کئے جانے اور ان پر دفعہ 307 لگانے کی مذمت کرتے ہوئے الزام لگایا کہ دہلی پولیس اپنا پروفیشنل کردار بھول گئی ہے، اور اپنے آقا کے اشارے پر معصوم لوگوں کو گرفتار کرکے اترپردیش پولیس کی راہ پر چل رہی ہے۔ انہوں نے کہاکہ ایڈووکیٹ عشرت جہاں خوریجی میں پر امن مظاہرہ کر رہی تھیں، وہاں کسی کو کوئی تکلیف نہیں تھی اور مظاہرہ بھی پرائیویٹ لینڈ پر ہورہا تھا اس کے باوجود مرد پولیس نے ان کے ساتھ دھمکا مکی کرتے ہوئے گاڑی میں دھکیل دیا۔
انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی صورت حال دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہاں امن وامان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے، نہ قانون کا احترام کیا جاتا ہے، نہ انسانی حقوق کا، بلکہ ایسا لگتا ہے کہ یہاں جنگل راج ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھائے، لوگوں میں قانون کے تئیں اعتماد قائم کرنے کیلئے سخت قدم اٹھائے۔ انہوں نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ووٹ کی سیاست چھوڑ کر ملک کے وقار کے تئیں سوچے۔
واضح رہے کہ گزشتہ دنوں خوریجی میں پولیس نے مبینہ طور پر طاقت کا استعمال کر کے مظاہرین کو ہٹا دیا تھا اور مظاہرین کا انتظام وانصرام سنبھالنے والی سابق کونسلر ایڈووکیٹ عشرت سمیت پانچ لوگوں کو جہاں پولیس نے پہلے حراست میں لیا اور پھر 14 دنوں کی عدالتی حراست میں بھیج دیا ہے۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق محترمہ عشرت پر دنگا بھڑکانے کا الزام لگایا گیا ہے اور ان پر دفعہ 307 لگائی گئی ہے۔ ویڈیو فوٹیج میں مبینہ طور پر پولیس کو وہاں بنائے گئے انڈیا گیٹ کو توڑتے اور ٹینٹ کو پھاڑتے اور اکھاڑتے دیکھا جاسکتا ہے۔ ان کی رہائی کے لئے متعدد سماجی کارکنوں نے اپیل کی ہے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کر رہے ہیں اور 24 گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے۔ دہلی میں تشدد کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں مظاہرین نے سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کے رویے کی مذمت کی ہے۔ اس کے علاوہ قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی متعدد جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا تھا۔
اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر، ترکمان گیٹ، بلی ماران، لال کنواں، اندر لوک، شاہی عید گاہ قریش نگر، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ حالانکہ حوض رانی میں بھی پولیس کی زیادتی کی خبر سامنے آئی ہے اس کے باوجود میں وہاں خواتین ڈتی ہوئی ہیں۔مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، کھجوری، جعفرآباد، سلیم پور، موج پور، نو رالہی کالونی، چاند باغ، مصطفی آباد اور جمنار پار کے دیگر علاقوں میں تازہ فساد کی وجہ سے مظاہرہ بند ہے۔ جب کہ سیلم پور میں خواتین نے دوبارہ مظاہرہ شروع کر دیا ہے۔
راجستھان کے امروکا باغ میں قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف مظاہرہ جاری ہے۔ اس قانون کے تئیں لوگوں میں بیداری پیدا ہو رہی ہے۔ اسی کے ساتھ دوسری ریاستوں سے سماجی کارکنان اظہار یکجہتی کے لئے پہنچ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور، اودن پور اور دیگر مقامات پر اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندور میں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور یہاں خواتین بہت ہی عزم کے ساتھ مظاہرہ کر رہی ہیں۔ وہاں خواتین نے عزم کے ساتھ کہاکہ ہم اس وقت تک بیٹھیں گے جب تک حکومت اس سیاہ قانون کو واپس نہیں لیتی۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹا دیا جاتا ہے۔ وہاں 19 دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22 لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروا رہی ہیں۔ سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھا اب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا اور اپنی آواز بلند کر رہی ہیں۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ، اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہو رہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29 دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کھکڑیا کے مشکی پور میں، نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی اور متعدد جگہ، بیگو سرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو رہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیار پور سب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
دہلی میں شاہین باغ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، جامع مسجد،، ترکمان گیٹ، ترکمان گیٹ، بلی ماران، بیری والا باغ، وغیرہ، رانی باغ سمری بختیار پور ضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ،، ہارون نگر، پٹنہ، شانتی باغ گیا بہار، مظفر پور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگو سرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج، بہار، مگلا کھار، انصار نگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتا مڑھی، سمستی پور، تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا، ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیا گنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں، جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ، مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار، اسلامیہ میدان الہ آباد یوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔ محمد علی پارک چمن گنج کانپور یوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان، اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ، امروکا، پراکی، اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلور میں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد، عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقار آباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم، اننت پور، سریکا کولم، کیرالہ میں کالی کٹ، ایرنا کولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنا نگر فتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو، لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی مظاہرہ کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔
جرم
حیدرآباد میں 10 روپے بدلنے پر آٹو رکشہ ڈرائیور کو پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا گیا۔

حیدرآباد، ایک آٹو رکشہ ڈرائیور کو مبینہ طور پر لوگوں کے ایک گروپ نے روپئے کو لے کر جھگڑے کے بعد موت کے گھاٹ اتار دیا۔ پولیس نے بتایا کہ حیدرآباد کے پرانے شہر میں 10 تبدیلی۔ یہ واقعہ اتوار کی شام فلک نما پولیس اسٹیشن کی حدود میں وٹے پلی میں پیش آیا۔ مقتول کی شناخت محمد مکرم (42) کے طور پر کی گئی ہے۔ اس کے بھائی محمد افروز نے بتایا کہ اس کے خاندان کے افراد کے سامنے اس پر وحشیانہ حملہ کیا گیا اور اسے قتل کر دیا گیا۔ افروز کے مطابق، جب ایک مسافر جس نے مکرم کو 10 روپے کے آٹو کرایہ میں 200 روپے کا نوٹ دیا، مکرم نے اس سے تبدیلی کی رقم ادا کرنے کو کہا۔ اس سے جھگڑا ہوا اور مسافر نے کچھ اور لوگوں کو بلایا جنہوں نے مکرم کو پیٹا جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہو گئے۔ اس نے ہسپتال منتقل کرنے سے پہلے ہی دم توڑ دیا۔ افروز نے الزام لگایا کہ ایک مقامی نیوز چینل کے رپورٹر عظیم، شعیب اور دیگر 6-8 افراد اس قتل میں ملوث تھے۔
افروز نے میڈیا کے سامنے واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا، “میرا بھائی مرگی اور کمزور دل تھا۔ میری اسے بچانے کی درخواست کے باوجود وہ اس پر گولیوں کی بارش کرتے رہے اور وہ گر گیا۔” مکرم کے پسماندگان میں بیوی اور چار بچے ہیں۔ افروز نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قاتلوں کو سخت سے سخت سزا دیکر خاندان کے ساتھ انصاف کیا جائے۔پولیس نے کہا کہ انہوں نے مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے ایم ایل اے محمد مبین نے علاقے کا دورہ کیا اور متاثرہ خاندان کو تسلی دی۔ ایم ایل اے نے ملزمان کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے وٹے پلی علاقے میں جرائم کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا اور پولیس سے گشت کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا۔ حیدرآباد میں قتل کی وارداتوں کے درمیان یہ واقعہ پیش آیا۔ شہر میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران قتل کی آٹھ وارداتیں ہوئیں۔ پرہجوم جگہوں پر قتل کو نشانہ بنانے کے لیے چاقو، درانتی اور دیگر تیز دھار ہتھیاروں کے استعمال سے عوام میں بڑی تشویش پائی جاتی ہے۔ گزشتہ ہفتے بندلا گوڈا علاقے میں شراب کی دکان کے پرمٹ روم کے اندر ایک بدمعاش کو قتل کر دیا گیا۔ بچپن کے دوست کے ساتھ پچھلی دشمنی کو قتل کے پیچھے محرک بتایا گیا تھا۔ قتل کے سلسلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حال ہی میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ پولیس کے انسداد قتل اسکواڈس قائم کیے جائیں تاکہ ایک سال کے اندر تیز تحقیقات اور سزاؤں کو یقینی بنایا جاسکے۔
سیاست
سامنا نے خشک سالی کے جائزہ اجلاس میں ‘ڈرائی فروٹ فیسٹ’ پر مہا یوتی حکومت کی تنقید کی

ممبئی، شیوسینا (یو بی ٹی) نے مہا یوتی حکومت پر ایک ایسے وقت میں بے حسی اور اسراف کا الزام عائد کرتے ہوئے شدید حملہ کیا ہے جب مہاراشٹر کے بڑے حصے کم بارشوں کی وجہ سے خشک سالی جیسے حالات سے دوچار ہیں۔ مانسون پیچھے ہٹ رہا ہے، شدید خشک سالی کے بھیانک سائے کو پیچھے چھوڑ رہا ہے۔” مراٹھواڑہ، شمالی مہاراشٹرا اور ودربھ کے کسان بالکل بے بس ہیں کیونکہ کھڑی فصلیں — بشمول سویا بین، کپاس، باجرہ، مکئی، تور، مونگ اور اُڑد — مکمل طور پر سوکھ کر برباد ہو گئی ہیں۔ حکومت کی بڑی سیاسی ناکامی کے باوجود عوام کی فصلوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریلیف پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے خود کی خدمت کرنے والی دشمنی،” اس نے تبصرہ کیا۔ اداریہ میں ناندیڑ کے ایک حالیہ واقعہ پر روشنی ڈالی گئی ہے، جہاں ریاستی وزیر زراعت دتاترے بھرنے نے خشک سالی کی صورتحال پر ایک انتظامی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ تصویریں منظر عام پر آئی ہیں جن میں وزراء، ایم ایل اے اور ایم پیز کو میٹنگ کے دوران کاجو، بادام اور پریمیم ڈرائی فروٹس کی پلیٹوں پر کھانا کھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ سامنا کے اداریے نے اس تماشے کو “کسانوں کے کھلے زخموں پر نمک چھڑکنے” کے طور پر لیبل کیا، سوکھے کھیتوں میں روتے ہوئے کسانوں کو ائیرکنڈیشنڈ ریسٹ ہاؤس میں سیاست دانوں سے متصادم قرار دیا۔ غم و غصے میں ایندھن ڈالتے ہوئے، شندے دھڑے کے رکن پارلیمان بندو جادھو نے ڈھٹائی سے دفاع کیا، “اس طرح کی دعوتوں، سٹوڈنٹس، سٹاف، سٹاف، پارٹیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ بھائی میں بھوکا تھا تو میں نے 500-1000 روپے کا ڈرائی فروٹ کیوں کھایا؟
اداریہ نے اس ریمارک کو غیر انسانی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہزاروں کروڑ ہڑپ کرنے والے اب بھی مطمئن نہیں ہیں۔ چیف منسٹر دیویندر فڈنویس نے انتظامیہ پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی دعوت نامناسب ہے اور عہدیداروں کو حساس رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ تاہم، ٹھاکرے کیمپ نے جوابی فائرنگ کی، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ چیف منسٹر انتظامیہ کے سربراہ ہیں اور سیاست دانوں کو ان کے سامنے پیش کیے گئے پھیلاؤ کو مسترد کرنے میں کافی شرم محسوس کرنی چاہئے تھی۔ اداریے میں حکومت کی جانب سے فصلوں کے سرکاری تخمینے (پنچناموں) اور مالی امداد کی یقین دہانیوں کے بارے میں گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا ہے۔ اداریہ میں ریاست کی جانب سے پہلے اعلان کردہ کسانوں کے قرضوں کی معافی کا مذاق اڑایا گیا، یہ نوٹ کیا گیا کہ جب کہ مبینہ طور پر تین فہرستیں شائع کی گئی تھیں، لیکن زمینی حقیقت اتنی سخت ہے کہ کوئی بھی “5,000 روپے” کی پیشکش کر سکتا ہے جو کسی کو بھی قرض حاصل کر سکتا ہے۔
اداریے میں الزام لگایا گیا کہ ترقیاتی فنڈز کی طرح خشک سالی سے متعلق امدادی رقوم بھی خالصتاً متعصبانہ خطوط پر تقسیم کی جائیں گی – اپوزیشن علاقوں کے ساتھ امتیازی سلوک کرتے ہوئے حکمراں پارٹی کے ایم ایل اے کے حلقوں کی حمایت کرتے ہوئے، اداریہ میں الزام لگایا گیا ہے کہ اگر وزیر اعظم کے یوم پیدائش کے موقع پر ہزاروں چراغ جلانے کے لیے تیل جلانے کی کوشش کی جائے گی۔ ریاست سے خشک سالی کے سائے کو ہٹا دیں۔ کسانوں کی حالت زار کو فوری طور پر دور کرنے کے لیے ادھو ٹھاکرے کی قیادت والی شیو سینا نے کئی تجاویز پیش کیں۔ اس نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باضابطہ طریقہ کار میں تاخیر کا انتظار کیے بغیر ریاست بھر میں خشک سالی کا اعلان کرے، تجربہ کار لیڈر شرد پوار کی سفارش پر عمل کرے، متاثرہ کسانوں کو فوری طور پر 50,000 روپے فی ہیکٹر کی براہ راست امداد فراہم کرے، تمام زرعی قرضوں کی مکمل اور مکمل معافی پر عمل درآمد کرے اور بغیر کسی شرط کے بچوں کے قرضے معاف کرے۔ خشک سالی سے متاثرہ کسان مزید، ٹھاکرے کیمپ نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ چارے کے کیمپ (چرا چھوانی) قائم کرے اور متاثرہ علاقوں میں پینے کے پانی کی دستیابی کو یقینی بنائے، مہاراشٹر قانون ساز اسمبلی کا خصوصی اجلاس بلائے، اور خشک سالی سے نمٹنے کے لیے سیاست کو ایک طرف رکھتے ہوئے ایک آل پارٹی ٹاسک فورس بنائے۔ زرعی بدحالی کے درمیان حکمران سیاستدانوں کا “خشک میوہ جات کی کثرت” واقعی شرمناک ہے۔
سیاست
‘ہم 2 اکتوبر تک اپنے اتحاد کا اعلان کریں گے’: اویسی نے یوپی میں مخالف اتحاد کو آگے بڑھایا

نئی دہلی، اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسدالدین اویسی نے پیر کو کہا کہ ان کی پارٹی آئندہ 2 اکتوبر تک اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لیے اپنے اتحاد کے فیصلے کا اعلان کرے گی، جبکہ یہ زور دے کر کہا کہ پارٹی انتخابات لڑنے کے لیے پوری طرح تیار ہے اور ریاست میں مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کو مضبوط کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی مشورہ دیا کہ اپوزیشن جماعتوں کو مل کر کام کرنے پر غور کرنا چاہیے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ اے آئی ایم آئی ایم انتخابات کی تیاری کر رہی ہے اور اس اعتماد کا اظہار کیا کہ پارٹی کے امیدوار اتر پردیش قانون ساز اسمبلی میں داخل ہوں گے۔”ہم 2 اکتوبر تک اعلان کریں گے کہ ہم کس کے ساتھ اتحاد کریں گے،” اویسی نے کہا۔ کہ مسلم کمیونٹی کے پاس زیادہ سے زیادہ سیاسی ایجنسی اور قیادت کمیونٹی کے اندر سے ابھرنے والی ہونی چاہیے۔
“ہم پوری طرح سے تیار ہیں اور تیاری کر رہے ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ اس بار انشاء اللہ ہمارے امیدوار جیت کر اتر پردیش کی قانون ساز اسمبلی میں داخل ہوں گے۔ ہماری کوشش ہے کہ یہاں رہنے والے مسلمانوں کی بڑی تعداد کو سیاسی ایجنسی حاصل ہو اور وہ قیادت کمیونٹی کے اندر سے سامنے آئے۔ یہاں ہر کمیونٹی کی اپنی سیاسی قیادت ہے، لیکن اتنی بڑی کمیونٹی کو سیاسی طور پر مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا ہے۔” پردیش اسمبلی انتخابات، جس کے لیے اے آئی ایم آئی ایم نے اپنی تنظیمی اور عوامی رسائی کی سرگرمیوں کو تیز کرنا شروع کر دیا ہے۔ پارٹی نے اشارہ دیا ہے کہ وہ “ہم خیال” سیاسی گروپوں کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے، اویسی نے کہا کہ کوئی بھی سیاسی ادارہ اکیلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو نہیں روک سکتا اور تجویز دی کہ اپوزیشن جماعتوں کو مل کر کام کرنے پر غور کرنا چاہیے۔
اس سے قبل کانپور ریلی سے خطاب کرتے ہوئے، اویسی نے آئندہ انتخابات کے لیے اے آئی ایم آئی ایم کی تیاریوں پر روشنی ڈالی اور کہا کہ پارٹی ریاست میں مضبوط سیاسی موجودگی قائم کرنے کے لیے کام جاری رکھے گی۔ اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ کی 2 اکتوبر کی ڈیڈ لائن ممکنہ انتخابی شراکت داری کے بارے میں پارٹی کے اگلے اعلان کے لیے ایک مخصوص ٹائم لائن فراہم کرتی ہے۔ انھوں نے پہلے اشارہ کیا تھا کہ پارٹی اس طرح کے تمام انتظامات بشمول پردیش کے تمام انتظامات کی تلاش میں ہے۔ اس میں شامل جماعتوں اور سیٹوں کی تقسیم کا اعلان ہونا ابھی باقی ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم پورے اتر پردیش میں اپنی مہم کی سرگرمیوں کو تیز کر رہی ہے، پارٹی عوامی رسائی اور سیاسی نمائندگی پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ اویسی نے بارہا اس مسئلے کو اٹھایا ہے جسے وہ مسلمانوں کے سیاسی پسماندگی کے طور پر بیان کرتے ہیں اور انتخابی سیاست میں کمیونٹی کی زیادہ سے زیادہ شرکت پر زور دیا ہے۔ اویسی کے تازہ ترین ریمارکس سے پتہ چلتا ہے کہ اے آئی ایم آئی ایم کی انتخابی حکمت عملی بشمول یہ کہ آیا اور کس کے ساتھ اتحاد کرے گا، 2 اکتوبر تک واضح ہونے کی امید ہے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
