سیاست
سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ہے
قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے حق مظاہرہ کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک حق بولنے والی شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس وقت تک ہندوستان کو کوئی خطرہ لاحق (جمہوریت اور آزادی کو) نہیں ہوسکتا۔
سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر نے شاہین باغ کی دادیوں اور یہاں کی بیٹیوں سے متاثر ہونے اور دعا لینے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ تحریک چلانے کا حق آپ کو حاصل ہے اور اس لئے آپ کا شکر گزار ہیں کہ آپ نے سپریم کورٹ میں اور ہندوستان کی آئین میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سوچھ سمجھ کر اور غور و خوض کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کل آپ نے ہمارے سامنے جن مسائل کو اٹھایا ہے وہ ہمارے سامنے ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھا ہے، آپ کا سوال سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور سی اے اے اور این آر سی کے معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے۔ اس پر کیا فیصلہ آسکتا ہے نہ ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اورنہ آپ۔ اس لئے اس معاملے پر ہم بات چیت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال معاملہ آپ کے احتجاج کے حق کا ہے اور دوسرے لوگوں کے حق کا بھی ہے۔ اس پر آپ کو ہم کو مل کر حل نکالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہمیں سننا چاہئے۔ آپ کا شاہین باغ (احتجاج) برقرار رہے گا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے گااور راستہ بھی کھل جائے۔ اس پر مظاہرین نے یک زبان میں کہا کہ نہیں ہم یہاں سے بغیر قانون واپس لئے بغیر نہیں ہٹیں گے۔ اس پر ایڈووکیٹ سادھنا رام چندرن نے کہاکہ ہمارا ایمان ہے کہ کوشش کرنی چاہئے اور پوری کوشش سے بھی بات نہیں بنی تو حکومت کو جو کرنا ہوگا وہ کرے گی۔
ایک بار پھر شاہین باغ احتجاج کے برقرار رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے مذکرات کار نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے حق مظاہرہ کو تسلیم کرتے ہوئے بڑی جیت دی ہے۔سپریم کورٹ نے آپ کی پریشانیوں اور تکلیف کو سمجھا ہے اور یہ آپ مت سوچئے کہ آپ کی بات کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین میں متعدد خواتین نے اس سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے موقف کو سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کے سامنے رکھے اور کہا کہ ہمیں راستے کھولنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے حکومت یہ قانون واپس لے لے ہم خود بخود اٹھ جائیں گی۔اس کے بعد مذاکرات اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کا دور چلا۔ جس میں مظاہرین نے اپنے موقف کو مضبوطی کے ساتھ رکھا۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے اور محترمہ سائشتہ ناز نے یو این آئی سے بات چیت میں کہا کہ اسی صورت میں ہم لوگ یہاں سے اٹھ سکتی ہیں یا تو حکومت یا تو اس قانون کو واپس لے یا تو پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور امت شاہ کے گھر میں دھرنا دینے کی اجازت دے۔ انہو ں نے کہاکہ پارلیمنٹ دارالعوام ہے یعنی عوام کا گھر ہے اس سے بہتر جگہ اور کون سی ہوسکتی ہے یہاں ہم خواتین آرام سے دھرنا مظاہرہ کرسکتی ہیں سیکیورٹی کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور حکومت کو ہمارے کھانے پینے کا انتظام بھی کرنا ہوگا کیوں کہ ہم لوگ ٹیکس دہندگان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے ملک کے شاہین باغ والوں کو اس دھرنا میں شامل ہونے کی دعوت دیں گی۔
محترمہ اپاسنا نے وزیر اعظم کے شاہین نہ آنے اور لٹی چوکھا کھانے کے لئے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم کو ہنر ہاٹ میں جاکر لٹی چوکھا کھانے کا وقت ہے لیکن شاہین باغ آنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خواتین زائد دو ماہ سے شاہین باغ میں ان کا انتظار کر رہی ہیں وہ یہاں آئیں اور ہماری تکلیفوں کو سنیں۔ اس کے علاوہ مذاکرات کار کے تیسرے رکن وجاہت حبیب اللہ دونوں مذاکرات کار کے ساتھ نہیں تھے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹرسیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکربھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شارانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔
ممبئی پریس خصوصی خبر
ممبئی : سنجے گاندھی نیشنل پارک میں شیرنی بجلی (ٹی2) کی موت

ممبئی سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے اموت کا اعلان کرتی ہے، جس کی عمر تقریباً 18 سال 4 ماہ تھی اور جو 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے بڑھاپے سے متعلق صحت کے مسائل کی وجہ سے انتقال کر گئی۔ وہ 2016 سے سنجے گاندھی کنبہ کی ایک محبوب رکن رہی ہے۔ ان سالوں میں، اس نے لاکھوں زائرین کے دلوں کو گرویدہ کیا۔پچھلے مہینے سے، اس کی خوراک میں بتدریج کمی دیکھی گئی، جس کے بعد اس کی صحت کی قریب سے نگرانی کی جا رہی تھی۔ مغربی مہاراشٹر کی ٹیکنیکل ویٹرنری ایڈوائزری ٹیم کی رہنمائی اور تکنیکی مشورے کے تحت ویٹرنری آفیسر کے ذریعہ مناسب ویٹرنری اور معاون انتظام فراہم کیا جا رہا تھا۔ ان کی انتھک طبی کوششوں اور مسلسل نگرانی کے باوجود، بجلی نے 16 ستمبر 2026 کو رات 9:45 بجے پرامن طور پر آخری سانس لی۔بجلی کو 11 جولائی 2016 کو پینچ ٹائیگر ریزرو سے سنجے گاندھی نیشنل پارک لایا گیا تھا اور وہ دس سال سے زیادہ عرصے تک ایس جی این پی کی دیکھ بھال اور حفاظت میں رہی۔ سنجے گاندھی نیشنل پارک کے ساتھ اس کا طویل تعلق پارک کے وائلڈ لائف مینجمنٹ، کنزرویشن ایجوکیشن اور قید جانوروں کی دیکھ بھال کی کوششوں کا ایک اہم حصہ تھااگرچہ بجلی (ٹی2) کا انتقال بڑھاپے کی وجہ سے ہوا، موت کی صحیح وجہ معلوم کرنے کے لیے معیاری پوسٹ مارٹم کیا جائے گا۔ ایس جی این پی انتظامیہ تمام وائلڈ لائف سے اور عشاق جانور سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بجلی (ٹی2) کی یادیں اور تصاویر شیئر کریں تاکہ ہم اس کی میراث اور وائلڈ لائف کنزرویشن میں اس کے تعاون کا احترام کر سکیں ایک بار پھر پارک انتظامیہ شیرنی بجلی (ٹی2) کے نقصان پر افسوس کا اظہار کرتی ہے۔ یہاں اطلاع سنجے گاندھی نیشنل پارک انتظامیہ، بوریولی، ممبئی نے دی ہے۔
سیاست
سدرشن پٹنائک نے پی ایم مودی کی سالگرہ پر سینڈ آرٹ بنایا، فنکاروں کے لیے ان کی غیر متزلزل حمایت کی تعریف کی

بھونیشور، 17 ستمبر پدم شری اور ایوارڈ یافتہ ریت آرٹسٹ سدرشن پٹنائک نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کی 76 ویں سالگرہ پر مبارکباد دینے کے لیے اوڈیشہ کے ساحلی ساحلوں پر ہزاروں دیا کے ساتھ ایک دلکش سینڈ آرٹ بنایا ہے۔ سالگرہ کی مبارکباد دیتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں، ہندوستان بنیادی ڈھانچے، ٹیکنالوجی، معیشت اور ثقافت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ عالمی سطح پر ہندوستان کی بدلتی تصویر کے بارے میں بات کرتے ہوئے، پٹنائک نے کہا کہ آج پوری دنیا ملک کو دیکھ رہی ہے۔ عالمی رہنماؤں سے لے کر عام لوگوں تک، ہر کوئی ہندوستان کی طرف دیکھ رہا ہے کیونکہ ملک کی ترقی اور پیشرفت نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘میک ان انڈیا’ جیسے اقدامات اور حکومت کی طرف سے شروع کیے گئے کئی دوسرے پروگراموں نے ملک کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سدرشن پٹنائک نے کہا، “ایک فنکار کے طور پر، میں خاص طور پر یہ کہنا چاہوں گا کہ وزیر اعظم نریندر مودی جس طرح فن اور فنکاروں کو فروغ دے رہے ہیں وہ فن کی دنیا کے لیے ایک بہترین مثال ہے، وزیر اعظم جب بھی کسی دوسرے ملک کا دورہ کرتے ہیں، وہ ہندوستان کی ثقافت اور فن کو دنیا کے سامنے پیش کرتے ہیں، اسی طرح جب غیر ملکی مہمان ہندوستان کا دورہ کرتے ہیں تو انہیں ہمارے بھرپور فن اور ثقافت سے بھی متعارف کرایا جاتا ہے۔ جب سے میں ان کے فنکاروں کے لیے بہت کام کر رہا ہوں اور وہ اس کے لیے بہت کام کر رہے ہیں۔ گجرات کے چیف منسٹر۔” پٹنائک نے کہا کہ جب بھی انہوں نے کوئی ایوارڈ جیتا اور ان کی حوصلہ افزائی کی تو انہیں وزیر اعظم سے ملنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ ایک فنکار کے طور پر جب بھی میں نے کوئی ایوارڈ جیتا، مجھے ان سے ملنے اور ان کی حوصلہ افزائی کا موقع ملا، انہوں نے مجھے کہا کہ ملک کے لیے جیتتے رہو اور ایک نوجوان فنکار کے تئیں ان کی حوصلہ افزائی اور جذبہ میرے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، “جب نوجوان اپنے ملک کے لیے کچھ حاصل کرتے ہیں اور وزیر اعظم خود انہیں مبارکباد دیتے ہیں اور ان کی حمایت کرتے ہیں، تو اس سے ان کی بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ اس سے انہیں آگے بڑھنے اور اور بھی بہتر کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔” پٹنائک نے کہا کہ آرٹ، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں بھی کئی اہم کوششیں کی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا، “میں خود ایک سینڈ آرٹسٹ ہوں اور سینڈ آرٹس کے ذریعے ملک کے مختلف حصوں کا سفر کر رہا ہوں۔ وزیر اعظم کی طرف سے شروع کی گئی ساحلوں کو صاف رکھنے کے مشن اور مہم کا بھی خاصا اثر ہوا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ اس کے نتیجے میں ملک بھر میں ساحلوں کی صفائی کے بارے میں بیداری میں اضافہ ہوا ہے، کئی ساحلوں نے ‘بلیو فلیگ سرٹیفیکیشن’ حاصل کیا ہے۔ “لوگوں کو ساحلوں کو صاف ستھرا رکھنے کی ترغیب دینے کی خاطر خواہ کوششیں کی گئی ہیں۔ اس سے دنیا میں ہندوستان کی ایک الگ تصویر بنانے میں مدد ملی ہے،” انہوں نے کہا۔ ‘پی ایم وشوکرما یوجنا’ کی مثال دیتے ہوئے، پٹنائک نے کہا کہ اس اسکیم نے چھوٹے کاریگروں اور کاریگروں کو اپنے کام کو آگے بڑھانے کے لیے مدد اور مواقع فراہم کیے ہیں۔” مجھے یقین ہے کہ یہ بھی ایک بہت اہم پہل ہے،” پٹنائک نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے اس طرح کے کئی اقدامات شروع کیے ہیں، جن کا اثر چھوٹے گاؤں سے بڑے شہروں تک دیکھا جا سکتا ہے۔ معاشرے کے طبقات اپنے کام کو آگے بڑھانے اور اپنے لیے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے۔
سیاست
سی ایم فڑنویس نے مراٹھواڑہ کو خشک سالی سے پاک کرنے کا عہد کیا، 7 سالوں میں 70 ٹی ایم سی پانی کو دریا سے جوڑنے کے ذریعے موڑ دیا

چھترپتی سمبھاجی نگر (مہاراشٹر)، 17 ستمبر مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس نے جمعرات کو مراٹھواڑہ علاقہ میں خشک سالی کو مستقل طور پر ختم کرنے کے ریاستی حکومت کے عزم کو دہرایا، اور اُلہاس طاس سے 70 ٹی ایم سی پانی کو گوداوری طاس کی طرف موڑنے کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ مراٹھواڑہ خطہ میں کم بارش کے درمیان کسانوں کو۔ یوم مراٹھواڑہ مکتی سنگرام کے موقع پر شہداء کی یادگار پر پرچم کشائی کی تقریب کے بعد ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے، فڑنویس نے کہا، “الہاس طاس سے 70 ٹی ایم سی پانی کو موڑنے کے لیے کام جاری ہے۔ ہم اس پانی کو اگلے سات سالوں میں گوداوری بیسن میں منتقل کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔” وزیر اعلیٰ نے قرض سے نجات، پانی کی فراہمی اور دریا سے جوڑنے کے منصوبوں کے بارے میں حکومت کے اقدامات کا اعادہ کیا۔ “کرشنا طاس سے تقریباً 30 ٹی ایم سی اضافی پانی کو عالمی بنک کی منظوری کے بعد مراٹھواڑہ کی طرف موڑ دیا جا رہا ہے، جس کے فی الحال ٹینڈرز جاری کیے جا رہے ہیں۔ دریا سے جوڑنے والے منصوبوں کے لیے تفصیلی پروجیکٹ رپورٹس (ڈی پی آر) کونکنا کے گودناویری علاقے سے پانی اٹھانے کے آخری مرحلے میں ہیں۔ منفرد انجینئرنگ ڈیزائن،” فڈنویس نے کہا۔ چھترپتی سنبھاجی نگر واٹر سپلائی پروجیکٹ اپنے آخری مراحل میں ہے، جو جلد ہی شہر کے لیے روزانہ پینے کے پانی کو یقینی بنائے گا، انہوں نے مزید کہا کہ چھترپتی سنبھاجی نگر میں بڑی سرمایہ کاری آرہی ہے، جس کی مدد سے انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کیا جا رہا ہے اور جالنا ڈرائی پورٹ پر جاری کام۔” کسانوں کو فائدہ ہو رہا ہے۔ باقی استفادہ کنندگان کی فہرستوں کے ساتھ جلد ہی جاری کیا جائے گا،” فڈنویس نے کہا۔
مراٹھواڑہ میں خشک سالی کی صورتحال سے خطاب کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ نے کسان برادری کو یقین دلایا کہ حکومت راحت فراہم کرے گی اور صورتحال سے نمٹنے کے لیے مناسب اقدامات اٹھائے گی۔”مراٹھواڑہ کو مسلسل جدوجہد کا سامنا ہے، خاص طور پر بار بار آنے والی خشک سالی کے خلاف۔ اس سال پھر خشک سالی کے حالات آئے ہیں۔ اگرچہ فصلوں کے لیے ابتدائی توقعات مثبت تھیں، لیکن ایک طویل وقفہ بارش کے بغیر ہمارے کسانوں کو شدید نقصان نہیں پہنچائے گا۔ آپ کو کسی بھی حالت میں چھوڑ دیں، ہم آپ کے ساتھ مضبوطی سے کھڑے ہیں اور تمام ضروری مدد فراہم کریں گے۔” انہوں نے اعلان کیا کہ 5 اکتوبر کے بعد فصلوں کے نقصانات کا تخمینہ (پنچنامے) شروع ہو جائیں گے، “جبکہ این ڈی آر ایف کی مدد کی جائے گی، ریاستی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ممکنہ پینے کے پانی اور چارے کی قلت سے نمٹنے کے لیے پہلے ہی اس کی امداد کسانوں تک پہنچ جائے۔” وزیر اعلیٰ نے بقایا زرعی بجلی کے بلوں میں 48,000 کروڑ روپے کی منسوخی کا اعلان کیا “ہم نے پہلے کسانوں کو مفت بجلی فراہم کرنے کا فیصلہ کیا تھا، اور اب ریاستی حکومت نے ان کے 48,000 کروڑ روپے کے سابقہ واجبات کو معاف کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ انہیں مزید مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے”۔ فڑنویس نے کہا۔ 13 ماہ بعد 17 ستمبر 1948 کو جب ہندوستانی ترنگا لہرایا گیا تو میں ان تمام آزادی پسندوں کو سلام کرتا ہوں جنہوں نے ستیہ گرہ کے ذریعے ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا۔ ولبھ بھائی پٹیل نے خطہ کو آزاد کرنے کے لیے چاروں اطراف سے دباؤ ڈالتے ہوئے بڑے پیمانے پر کوششیں کیں،‘‘ انہوں نے کہا۔
“آج، ہم وندے ماترم کی 150 ویں سالگرہ منا رہے ہیں۔ تاہم، اس دور میں ‘وندے ماترم’ پر سختی سے پابندی تھی۔ مراٹھی بولنے یا سکھانے پر پابندی تھی، اور مظالم اس حد تک پہنچ گئے جہاں لوگ تہوار نہیں منا سکتے تھے۔ آزادی پسند جنگجوؤں نے مراٹھواڑہ کو ان حالات سے باہر نکالا،” سن کے نائب وزیر اعلیٰ نے سنیل پرے میں ایک تقریب میں کہا۔ پوار نے تحریک کے تاریخی وزن پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا، “مراٹھواڑہ کی آزادی ملک کے باقی حصوں کے لیے دوسری آزادی کی جدوجہد تھی۔ بیڈ ضلع نے اس جدوجہد کے مرکز کے طور پر کام کیا۔ سوامی رامانند تیرتھ نے اس تحریک کی بھرپور قیادت کی۔ میرے لیے یہ تاریخ ذاتی ہے، کیونکہ میرے والد باجی راؤ پاٹل نے آزادی کی جدوجہد میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،” انہوں نے کہا۔ سنیترا پوار نے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کو سالگرہ کی مبارکباد دی۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
سیاست1 year agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں1 year agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
