Connect with us
Sunday,02-August-2026

سیاست

سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ہے

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے حق مظاہرہ کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک حق بولنے والی شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس وقت تک ہندوستان کو کوئی خطرہ لاحق (جمہوریت اور آزادی کو) نہیں ہوسکتا۔
سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر نے شاہین باغ کی دادیوں اور یہاں کی بیٹیوں سے متاثر ہونے اور دعا لینے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ تحریک چلانے کا حق آپ کو حاصل ہے اور اس لئے آپ کا شکر گزار ہیں کہ آپ نے سپریم کورٹ میں اور ہندوستان کی آئین میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سوچھ سمجھ کر اور غور و خوض کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کل آپ نے ہمارے سامنے جن مسائل کو اٹھایا ہے وہ ہمارے سامنے ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھا ہے، آپ کا سوال سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور سی اے اے اور این آر سی کے معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے۔ اس پر کیا فیصلہ آسکتا ہے نہ ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اورنہ آپ۔ اس لئے اس معاملے پر ہم بات چیت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال معاملہ آپ کے احتجاج کے حق کا ہے اور دوسرے لوگوں کے حق کا بھی ہے۔ اس پر آپ کو ہم کو مل کر حل نکالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہمیں سننا چاہئے۔ آپ کا شاہین باغ (احتجاج) برقرار رہے گا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے گااور راستہ بھی کھل جائے۔ اس پر مظاہرین نے یک زبان میں کہا کہ نہیں ہم یہاں سے بغیر قانون واپس لئے بغیر نہیں ہٹیں گے۔ اس پر ایڈووکیٹ سادھنا رام چندرن نے کہاکہ ہمارا ایمان ہے کہ کوشش کرنی چاہئے اور پوری کوشش سے بھی بات نہیں بنی تو حکومت کو جو کرنا ہوگا وہ کرے گی۔
ایک بار پھر شاہین باغ احتجاج کے برقرار رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے مذکرات کار نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے حق مظاہرہ کو تسلیم کرتے ہوئے بڑی جیت دی ہے۔سپریم کورٹ نے آپ کی پریشانیوں اور تکلیف کو سمجھا ہے اور یہ آپ مت سوچئے کہ آپ کی بات کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین میں متعدد خواتین نے اس سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے موقف کو سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کے سامنے رکھے اور کہا کہ ہمیں راستے کھولنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے حکومت یہ قانون واپس لے لے ہم خود بخود اٹھ جائیں گی۔اس کے بعد مذاکرات اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کا دور چلا۔ جس میں مظاہرین نے اپنے موقف کو مضبوطی کے ساتھ رکھا۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے اور محترمہ سائشتہ ناز نے یو این آئی سے بات چیت میں کہا کہ اسی صورت میں ہم لوگ یہاں سے اٹھ سکتی ہیں یا تو حکومت یا تو اس قانون کو واپس لے یا تو پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور امت شاہ کے گھر میں دھرنا دینے کی اجازت دے۔ انہو ں نے کہاکہ پارلیمنٹ دارالعوام ہے یعنی عوام کا گھر ہے اس سے بہتر جگہ اور کون سی ہوسکتی ہے یہاں ہم خواتین آرام سے دھرنا مظاہرہ کرسکتی ہیں سیکیورٹی کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور حکومت کو ہمارے کھانے پینے کا انتظام بھی کرنا ہوگا کیوں کہ ہم لوگ ٹیکس دہندگان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے ملک کے شاہین باغ والوں کو اس دھرنا میں شامل ہونے کی دعوت دیں گی۔
محترمہ اپاسنا نے وزیر اعظم کے شاہین نہ آنے اور لٹی چوکھا کھانے کے لئے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم کو ہنر ہاٹ میں جاکر لٹی چوکھا کھانے کا وقت ہے لیکن شاہین باغ آنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خواتین زائد دو ماہ سے شاہین باغ میں ان کا انتظار کر رہی ہیں وہ یہاں آئیں اور ہماری تکلیفوں کو سنیں۔ اس کے علاوہ مذاکرات کار کے تیسرے رکن وجاہت حبیب اللہ دونوں مذاکرات کار کے ساتھ نہیں تھے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹرسیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکربھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شارانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب یوپی کا بدمعاش ممبئی سے گرفتار، پولس کی بڑی کارروائی یوپی پولس ملزم کو لے کر یوپی روانہ

Published

on

ممبئی : ممبئی پولس نے اترپردیش سیتا پور کے گینگسٹر اور گینگ لیڈر کو گرفتار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے یہ یہاں اپنی شناخت چھپا کر مقیم تھا۔ ممبئی پولس کو اطلاع ملی کہ وہ بے یو ہوٹل میں روپوش ہے۔ جس کے بعد یلو گیٹ پولس نے سیتا پور میں تین مقدمات میں مطلوب گینگسٹر اور گینگ لیڈر نشانت راجیش سنگھ ۲۳ سالہ کو گرفتار کیا ابتدائی تفتیش میں اس نے پولس کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن بعد میں اس نے بتایا کہ وہ یوپی سے تعلق رکھتا ہے اور بعد ازاں ممبئی پولیس نے اترپردیش پولس سے رابطہ کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سیتا پور میں تین مقدمات جس میں چوری، غیر قانونی ہتھیار، گینگسٹر ایکٹ میں مطلوب ہے جس کے بعد یو پی پولیس نے آج ممبئی میں آکر ملزم کا تابع لیا اور اسے اترپردیش لے کر روانہ ہو گئی۔ یہ کارروائی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی کی ایما پر ڈی سی پی وجے کانت ساگر نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ایک انتہائی نایاب سرجری : راجہ واڑی اسپتال ٹیم نے 46 سالہ خاتون کے رحم سے 5.5 کلوگرام، 30 سینٹی میٹر کا ٹیومر کامیابی کے ساتھ نکال لیا

Published

on

30-cm-tumor

ممبئی مانخورد سے تعلق رکھنے والی ایک 46 سالہ خاتون پچھلے دو سالوں سے صحت کے مسائل جیسے کہ پیٹ میں مسلسل سوجن، پیٹ میں درد اور سانس لینے میں دشواری کا شکار تھی۔ ان علامات کی روشنی میں، اس نے بی ایم سی کے زیر انتظام سیٹھ وڈیلال چھتربھوج گاندھی اور گھاٹکوپر میں مونجی امیڈاس وورا میونسپل جنرل ہسپتال (راجہ واڑی ہسپتال) میں گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کے آؤٹ پیشنٹ ڈیپارٹمنٹ (او پی ڈی) میں علاج شروع کیا۔ ہسپتال کی ٹیم نے مریض کے رحم سے تقریباً 5.5 کلوگرام وزنی اور 30 ​​سینٹی میٹر کے ٹیومر کو کامیابی کے ساتھ نکال دیا۔

چونکہ اس کی علامات نمایاں طور پر بگڑ گئیں، اس کی طبی تاریخ کا ایک جامع جائزہ، جسمانی معائنہ اور ضروری تشخیصی ٹیسٹ کیے گئے۔ ان ٹیسٹوں سے تقریباً 30 سینٹی میٹر کی پیمائش کے یوٹرن ٹیومر کا انکشاف ہوا۔ ابتدائی تشخیص نے تجویز کیا کہ ماس ایک ‘جاینٹ لیوومیوما’ (فبروڈ) تھا۔ سرجری کے دوران اور بعد میں ممکنہ پیچیدگیوں سے نمٹنے کے لیے تمام ضروری احتیاطی تدابیر اور منصوبہ بندی کی گئی تھی، اور طریقہ کار بعد میں انجام دیا گیا تھا۔ڈاکٹر سوادینا بی موہنتی، ڈاکٹر شالینی باگڑیا، ڈاکٹر اروا کامبلے، اور ڈاکٹر کاجل سالوی نے گائنیالوجی ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے کی گئی سرجری میں اہم کردار ادا کیا۔ اینستھیزیا کے ماہر ڈاکٹر چھاوی کی رہنمائی میں ڈاکٹر شریاش اور ڈاکٹر نیترا نے اینستھیزیا ٹیم کا انتظام کیا۔ مزید برآں، سرجیکل اسٹاف نرس نیلاکشی گورو اور ان کی ٹیم نے سرجری کے دوران اہم مدد فراہم کی۔ ٹیومر کے بڑے سائز اور خون کی نالیوں کے وسیع نیٹ ورک کی وجہ سے، سرجری انتہائی احتیاط کے ساتھ کی گئی۔ طریقہ کار کے دوران ہٹائے گئے 5.5 کلوگرام ٹیومر کو ہسٹوپیتھولوجیکل امتحان کے لیے بھیج دیا گیا ہے، اور حتمی رپورٹ کا انتظار ہے۔ سرجری کے بعد، مریض کو خصوصی نگہداشت ملی اور پانچویں دن اسے بہترین صحت کے ساتھ ہسپتال سے فارغ کر دیا گیا۔ اس طرح کے بڑے یوٹیرن ٹیومر کے کیسز انتہائی نایاب ہیں۔

Continue Reading

بین الاقوامی خبریں

ایرانی وزیر خارجہ نے برطانیہ کو خبردار کیا : ‘امریکہ کو فوجی امداد فراہم نہ کریں’

Published

on

Iranian-Foreign-Minister

تہران : ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے برطانیہ کو خبردار کیا ہے کہ وہ ایران پر حملے میں امریکہ کے ساتھ کسی بھی فوجی تعاون کے خلاف ہے۔ ہفتہ کو ایرانی وزارت خارجہ کے ایک بیان کے مطابق، عراقچی نے یہ بات برطانوی سیکرٹری خارجہ ایڈ ملی بینڈ کے ساتھ فون پر بات چیت کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دفاعی معاہدوں کے تحت تعاون سمیت “جارح ممالک” کے ساتھ کوئی بھی تعاون “ناقابل قبول” ہوگا۔

عراقچی نے برطانوی حکومت کی ایران کے بارے میں “غیر منصفانہ اور غلط” پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے لندن کی جانب سے ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) پر لیبل لگانے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا اور حالیہ مہینوں میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف پیدا ہونے والے دو تنازعات میں اس کی “ملوثیت” کا حوالہ دیا۔ انہوں نے برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ تہران کے بارے میں اپنے موقف پر نظر ثانی کرے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی قانون اور جارحیت کی تعریف کے کنونشن کے تحت، کسی ملک کی سرزمین اور سہولیات کو دوسرے ملک کے خلاف غیر قانونی حملوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دینا جارحیت ہے اور حملہ آور ملک کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے۔ ارغچی نے کہا کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی کے ساتھ سفارتی عمل شروع کیا اور جون میں واشنگٹن کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے جس کا مقصد تنازع کو ختم کرنا تھا، لیکن واشنگٹن اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہا، سنہوا نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا۔

انہوں نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی نقل و حرکت کو منظم کرنے کے لیے عمان کے ساتھ ایک آپریشنل میکانزم قائم کرنے کے لیے ایران کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالی اور خبردار کیا کہ تیسرے فریق کی مداخلت سے معاملات مزید پیچیدہ ہوں گے۔ دریں اثنا، ملی بینڈ نے کہا کہ ان کا ملک ایران کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں ہے اور اس بات پر زور دیا کہ تنازعات کو حل کرنے کا واحد راستہ سفارت کاری ہے۔

گزشتہ ماہ برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے اپنے پیشرو کی جانب سے قائم کردہ پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے ایران سے متعلق کارروائیوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کے استعمال کو جاری رکھنے کی منظوری دی۔ 28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران اور دیگر ایرانی شہروں پر مشترکہ حملے کیے، جس میں ایران کے اس وقت کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای، اعلیٰ فوجی کمانڈرز اور عام شہری مارے گئے۔ ایران نے خطے میں امریکی اور اسرائیلی اڈوں اور اثاثوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول سخت کرنے کے ساتھ جواب دیا۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان