Connect with us
Thursday,17-September-2026

سیاست

سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس کا کوئی کچھ بگاڑ نہیں سکتا ہے

Published

on

قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ میں خاتون مظاہرین کے حق مظاہرہ کا دفاع کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سادھنا رام چندر نے کہاکہ ہندوستان میں جب تک حق بولنے والی شاہین باغ جیسی بیٹیاں ہیں اس وقت تک ہندوستان کو کوئی خطرہ لاحق (جمہوریت اور آزادی کو) نہیں ہوسکتا۔
سپریم کورٹ کے مقرر کردہ مذاکرات کار سپریم کورٹ کے ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے اور سادھنا رام چندر نے شاہین باغ کی دادیوں اور یہاں کی بیٹیوں سے متاثر ہونے اور دعا لینے کی بات کرتے ہوئے کہاکہ تحریک چلانے کا حق آپ کو حاصل ہے اور اس لئے آپ کا شکر گزار ہیں کہ آپ نے سپریم کورٹ میں اور ہندوستان کی آئین میں اعتماد کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ بہت سوچھ سمجھ کر اور غور و خوض کے ساتھ اس مسئلہ کو حل کرنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ کل آپ نے ہمارے سامنے جن مسائل کو اٹھایا ہے وہ ہمارے سامنے ہے اور اس کو اچھی طرح سمجھا ہے، آپ کا سوال سپریم کورٹ کے سامنے ہے اور سی اے اے اور این آر سی کے معاملہ سپریم کورٹ کے زیر سماعت ہے۔ اس پر کیا فیصلہ آسکتا ہے نہ ہم کچھ کہہ سکتے ہیں اورنہ آپ۔ اس لئے اس معاملے پر ہم بات چیت نہیں کرسکتے۔
انہوں نے کہاکہ فی الحال معاملہ آپ کے احتجاج کے حق کا ہے اور دوسرے لوگوں کے حق کا بھی ہے۔ اس پر آپ کو ہم کو مل کر حل نکالنا ہے۔ انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کی طرف ہاتھ بڑھایا ہے۔ ہمیں سننا چاہئے۔ آپ کا شاہین باغ (احتجاج) برقرار رہے گا۔ کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ آپ کا احتجاج بھی جاری رہے گااور راستہ بھی کھل جائے۔ اس پر مظاہرین نے یک زبان میں کہا کہ نہیں ہم یہاں سے بغیر قانون واپس لئے بغیر نہیں ہٹیں گے۔ اس پر ایڈووکیٹ سادھنا رام چندرن نے کہاکہ ہمارا ایمان ہے کہ کوشش کرنی چاہئے اور پوری کوشش سے بھی بات نہیں بنی تو حکومت کو جو کرنا ہوگا وہ کرے گی۔
ایک بار پھر شاہین باغ احتجاج کے برقرار رہنے کا اعادہ کرتے ہوئے مذکرات کار نے کہاکہ سپریم کورٹ نے آپ کے حق مظاہرہ کو تسلیم کرتے ہوئے بڑی جیت دی ہے۔سپریم کورٹ نے آپ کی پریشانیوں اور تکلیف کو سمجھا ہے اور یہ آپ مت سوچئے کہ آپ کی بات کوئی سننے والا نہیں ہے۔ اس کے علاوہ مظاہرین میں متعدد خواتین نے اس سیاہ قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنے موقف کو سپریم کورٹ کے مذاکرات کار کے سامنے رکھے اور کہا کہ ہمیں راستے کھولنے میں کوئی پریشانی نہیں ہے حکومت یہ قانون واپس لے لے ہم خود بخود اٹھ جائیں گی۔اس کے بعد مذاکرات اور مظاہرین کے درمیان بات چیت کا دور چلا۔ جس میں مظاہرین نے اپنے موقف کو مضبوطی کے ساتھ رکھا۔
مظاہرین میں شامل خواتین میں سے سماجی کارکن محترمہ ملکہ، محترمہ ثمینہ، محترمہ اپاسنا، محترمہ نصرت آراء نے اور محترمہ سائشتہ ناز نے یو این آئی سے بات چیت میں کہا کہ اسی صورت میں ہم لوگ یہاں سے اٹھ سکتی ہیں یا تو حکومت یا تو اس قانون کو واپس لے یا تو پھر پارلیمنٹ ہاؤس اور امت شاہ کے گھر میں دھرنا دینے کی اجازت دے۔ انہو ں نے کہاکہ پارلیمنٹ دارالعوام ہے یعنی عوام کا گھر ہے اس سے بہتر جگہ اور کون سی ہوسکتی ہے یہاں ہم خواتین آرام سے دھرنا مظاہرہ کرسکتی ہیں سیکیورٹی کا بھی مسئلہ نہیں ہوگا اور حکومت کو ہمارے کھانے پینے کا انتظام بھی کرنا ہوگا کیوں کہ ہم لوگ ٹیکس دہندگان ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہم پورے ملک کے شاہین باغ والوں کو اس دھرنا میں شامل ہونے کی دعوت دیں گی۔
محترمہ اپاسنا نے وزیر اعظم کے شاہین نہ آنے اور لٹی چوکھا کھانے کے لئے جانے پر طنز کرتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم کو ہنر ہاٹ میں جاکر لٹی چوکھا کھانے کا وقت ہے لیکن شاہین باغ آنے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم خواتین زائد دو ماہ سے شاہین باغ میں ان کا انتظار کر رہی ہیں وہ یہاں آئیں اور ہماری تکلیفوں کو سنیں۔ اس کے علاوہ مذاکرات کار کے تیسرے رکن وجاہت حبیب اللہ دونوں مذاکرات کار کے ساتھ نہیں تھے۔
اس کے علاوہ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں قومی شہریت (ترمیمی)قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف طلبہ اور عام شہری احتجاج کررہے ہیں اور 24گھنٹے کا مظاہرہ جاری ہے جس میں اظہار یکجہتی کیلئے اہم لوگ آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ دقومی شہریت (ترمیمی) قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف دہلی میں ہی درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ نظام الدین میں شیو مندر کے پاس خواتین کامظاہرہ جوش و خروش کے ساتھ جاری ہے۔تغلق آباد میں خاتون نے مظاہرہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن پولیس نے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ان لوگوں کو وہاں سے بھگادیا۔
خوریجی خاتون مظاہرین کا انتظام دیکھنے والی سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ اور سابق کونسلر عشرت جہاں نے بتایا کہ مظاہرین یہاں پرامن طریقے سے خواتین کا احتجاج جاری ہے مظاہرہ میں تنوع اور حکومت کی توجہ مبذول کرنے کیلئے کچھ نہ کچھ نیا کر رہے ہیں اور پچاس سے زائد میٹرسیاہ کپڑا پر نو سی اے اے، نو این آر سی، نو این پی آر لکھ کر احتجاج کیا اور اسی کے ساتھ 11میٹر سیاہ کپڑے کا آنچل بناکربھی احتجاج کیا۔ اسی کے ساتھ اس وقت دہلی میں حوض رانی، گاندھی پارک مالویہ نگر‘ سیلم پور جعفرآباد، ترکمان گیٹ، بلی ماران، کھجوری، اندر لوک، شاہی عیدگاہ قریش نگر، مصطفی آباد، کردم پوری، نور الہی کالونی، شاشتری پارک، بیری والا باغ، نظام الدین، جامع مسجد سمیت دیگر جگہ پر مظاہرے ہورہے ہیں۔اس کے علاوہ چننئی میں سی اے اے کے خلاف مظاہر ہ جاری ہے۔
اس کے علاوہ راجستھان کے بھیلواڑہ کے گلن گری، کوٹہ، رام نواس باغ جے پور، جودھ پور’اودن پور اور دیگر مقامات پر، اسی طرح مدھیہ پردیش کے اندورمیں کئی جگہ مظاہرے ہور ہے ہیں۔ اندور میں کنور منڈلی میں خواتین کا زبردست مظاہرہ ہورہا ہے۔ اندور کے علاوہ مدھیہ پردیش کے بھوپال، اجین، دیواس، مندسور، کھنڈوا، جبل پور اور دیگر مقامات پر بھی خواتین کے مظاہرے ہورہے ہیں۔
اترپردیش قومی شہریت(ترمیمی) قانون، این آر سی، این پی آر کے خلاف مظاہرہ کرنے والوں کے لئے سب سے مخدوش جگہ بن کر ابھری ہے جہاں بھی خواتین مظاہرہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں وہاں پولیس طاقت کا استعمال کرتے ہوئے انہیں ہٹادیا جاتا ہے۔ وہاں 19دسمبر کے مظاہرہ کے دوران 22لوگوں کی ہلاکت ہوچکی ہے۔ خواتین گھنٹہ گھر میں مظاہرہ کر رہی ہیں ور ہزاروں کی تعداد میں خواتین نے اپنی موجودگی درج کروارہی ہیں۔ اترپردیش میں سب سے پہلے الہ آباد میں چند خواتین نے احتجاج شروع کیا تھااب ہزاروں میں ہیں۔ خواتین نے روشن باغ کے منصور علی پارک میں مورچہ سنبھالا۔ اس کے بعد کانپور کے چمن گنج میں محمد علی پارک میں خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔ اترپردیش کے ہی سنبھل میں پکا باغ، دیوبند عیدگاہ، سہارنپور، مبارک پور اعظم گڑھ،اسلامیہ انٹر کالج بریلی، شاہ جمال علی گڑھ، اور اترپردیش کے دیگر مقامات پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔
شاہین باغ دہلی کے بعد سب سے زیادہ مظاہرے بہار میں ہورہے ہیں اور وہاں دلت، قبائلی سمیت ہندوؤں کی بڑی تعداد مظاہرے اور احتجاج میں شامل ہورہی ہے۔ ارریہ فاربس گنج کے دربھنگیہ ٹولہ عالم ٹولہ، جوگبنی میں خواتین مسلسل دھرنا دے رہی ہیں ایک دن کے لئے جگہ جگہ خواتین جمع ہوکر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ اسی کے ساتھ مردوں کا مظاہرہ بھی مسلسل ہورہا ہے۔ کبیر پور بھاگلپور۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اس طرح یہ ملک کا تیسرا شاہین باغ ہے، دوسرا شاہین باغ خوریجی ہے۔ سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے نرکٹیا گنج، مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی میں ململ اور دیگر جگہ، ارریہ کے مولوی ٹولہ، سیوان، چھپرہ، کھگڑیا میں مشکی پور، بہار شریف، جہاں آباد، گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، مغربی چمپارن، بیتیا، سمستی پور، تاج پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرے ہو ہے ہیں۔ بہار کے ہی ضلع سہرسہ کے سمری بختیارپورسب ڈویزن کے رانی باغ میں خواتین کا بڑا مظاہرہ ہورہا ہے۔
شاہین باغ، دہلی، جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی، آرام پارک خوریجی، حضرت نظام الدین، قریش نگر عیدگاہ، اندر لوک، نورالہی دہلی ’۔سیلم پور فروٹ مارکیٹ،دہلی،۔جامع مسجد، دہلی، ترکمان گیٹ، دہلی، ترکمان گیٹ دہلی، بلی ماران دہلی، شاشتری پارک دہلی، کردم پوری دہلی، مصطفی آباد دہلی، کھجوری، بیری والا باغ، شارانی باغ سمری بختیارپورضلع سہرسہ بہار، سبزی باغ پٹنہ، ہارون نگر، پٹنہ’شانتی باغ گیا بہار، مظفرپور، ارریہ سیمانچل بہار، بیگوسرائے بہار، پکڑی برواں نوادہ بہار، مزار چوک، چوڑی پٹی کشن گنج‘ بہار، مگلا کھار‘ انصارنگر نوادہ بہار، مغربی چمپارن، مشرقی چمپارن، دربھنگہ میں تین جگہ، مدھوبنی، سیتامڑھی، سمستی پور‘ تاج پور، سیوان، گوپال گنج، کلکٹریٹ بتیا‘ہردیا چوک دیوراج، نرکٹیاگنج، رکسول، کبیر نگر بھاگلپور، رفیع گنج، مہارشٹر میں دھولیہ، ناندیڑ، ہنگولی، پرمانی، آکولہ، سلوڑ، پوسد، کونڈوا، پونہ، ستیہ نند ہاسپٹل، مالیگاؤں‘ جلگاؤں، نانڈیڑ، پونے، شولاپور، اور ممبئی میں مختلف مقامات، مغربی بنگال میں پارک سرکس کلکتہ‘ مٹیا برج، فیل خانہ، قاضی نذرل باغ، اسلام پور، مرشدآباد، مالدہ، شمالی دیناجپور، بیربھوم، داراجلنگ، پرولیا۔ علی پور دوار،اسلامیہ میدان الہ آبادیوپی، روشن باغ منصور علی پارک الہ آباد یوپی۔محمد علی پارک چمن گنج کانپوریوپی، گھنٹہ گھر لکھنو یوپی، البرٹ ہال رام نیواس باغ جئے پور راجستھان، کوٹہ، اودے پور، جودھپور، راجستھان،اقبال میدان بھوپال مدھیہ پردیش، جامع مسجد گراونڈ اندور، مانک باغ اندور، اجین، دیواس، کھنڈوہ، مندسور، گجرات کے بڑودہ، احمد آباد، جوہاپورہ، بنگلورمیں بلال باغ، منگلور، شاہ گارڈن، میسور، پیربنگالی گرؤنڈ، یادگیر کرناٹک، آسام کے گوہاٹی، تین سکھیا۔ ڈبرو گڑھ، آمن گاؤں کامروپ۔ کریم گنج، تلنگانہ میں حیدرآباد، نظام آباد‘ عادل آباد۔ آصف آباد، شمس آباد، وقارآباد، محبوب آباد، محبوب نگر، کریم نگر، آندھرا پردیش میں وشاکھا پٹنم‘ اننت پور،سریکاکولم‘ کیرالہ میں کالی کٹ، ایرناکولم، اویڈوکی، ہریانہ کے میوات اور یمنانگرفتح آباد، فریدآباد، جارکھنڈ کے رانچی، کڈرو،لوہر دگا، بوکارو اسٹیل سٹی، دھنباد کے واسع پور، جمشید پور وغیرہ میں بھی خواتین مظاہرہ کررہی ہیں۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : موبائل سم کارڈ اور مختلف بینک اکاؤنٹس کا استعمال کر کے آن لائن سائبر دھوکہ دہی کرنے والے گوا سے گرفتار، ممبئی کرائم برانچ کی بڑی کارروائی

Published

on

chori

ممبئی : ممبئی سائبر دھوکہ بازوں کے خلاف اپنے کریک ڈاؤن کے بعد اب مزید ۷ سائبر دھوکہ بازوں کو گوا سے گرفتار کرنے کا دعویٰ ممبئی کرائم برانچ نے کیا ہے۔ اس سے قبل تین ملزمین کو اسی معاملہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔ تفتیش میں پیش رفت پر یہ کارروائی انجام دی گئی۔ ۱۱ ستمبر کو ممبئی کرائم برانچ کی یونٹ 5 کو موصول ہونے والی خفیہ معلومات سے سائبر دھوکہ دہی کرنے والے 03 افراد کے خلاف کارررائی کرتے ہوئے دفعہ 318(4), 61, 45, 3(5) بی این ایس انفارمیشن ٹیکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعہ 66(ڈ) کے تحت مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی, اس میں پیش رفت کے بعد یونٹ پانچ نے مزید کارروائی کی۔ مذکورہ ملزمین خود نیز اپنے دیگر ساتھیوں سمیت خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف بینکوں میں بینک اکاؤنٹ کھول کر مذکورہ بینک اکاؤنٹس سے لنک کرنے کے لیے خود کے اور دوسروں کے نام پر مختلف سم کارڈ خریدی کرتے تھے۔ مذکورہ بینک اکاؤنٹ کھولنے کے بعد ان کی پاس بک، اے ٹی ایم کارڈ، چیک بک، سم کارڈ نیز متعلقہ بینک اکاؤنٹس سے منسلک دیگر ذرائع کا براہ راست قبضہ اور کنٹرول خود کے پاس رکھ کر مذکورہ اکاؤنٹس کا استعمال سائبر دھوکہ دہی کے لیے کرتے تھے۔ ان کے پاس سے مختلف بینکوں کی 88 پاس بک، 143 چیک بک، 100 اے ٹی ایم کارڈ، 24 موبائل، 167 سم کارڈ، 2 لیپ ٹاپ ضبط کیے گئے تھے۔ اس کے بعد مقدمے کی مزید تفتیش میں تکنیکی تجزیہ اور اے آئی کی بنیاد پرریاست گوا سے ۱۳ ستمبر کو ریزورٹ میں ایک ویلا سے سائبر دھوکہ دہی آپریٹ کرنے والے 07 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کے پاس سے 1) مختلف کمپنیوں کے 59 موبائل فون، 2) مختلف کمپنیوں کے کل 19 سم کارڈ، 3) 09 لیپ ٹاپ، 4) 51 اے ٹی ایم، 5) 12 پاس بک اور دیگر سامان برآمد کیا گیا ہے۔ ملزمان نے مالی دھوکہ دہی کی رقم منتقل کرنے کے لیے خود کی ایپلی کیشن بنا کر اس کا استعمال کیا ہے اس کا انکشاف ہوا ہے۔

مذکورہ ملزمان کی عدالت نے ۲۴ ستمبر تک پولیس کسٹڈی ریمانڈ منظور کی ہے۔ مذکورہ کامیاب کارروائی ممبئی پولیس کمشنر دیوین بھارتی، جوائنٹ پولس کمشنر (جرائم) انیل کنبھارے، جناب ایڈیشنل کمشنر (جرائم) کرشن کانت اپادھیائے، ڈی سی پی، راج تلک روشن نے انجام دی ہے۔

Continue Reading

جرم

ایم پی کے جبل پور کالج ہاسٹل میں انجینئرنگ کے طالب علم کی خودکشی، تحقیقات جاری

Published

on

Death

جبل پور، 16 ستمبر، جبل پور انجینئرنگ کالج (جے ای سی) کے مکینیکل انجینئرنگ کے چوتھے سال کے طالب علم نے مبینہ طور پر مدھیہ پردیش کے جبل پور کے ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں خودکشی کر لی۔ یہ واقعہ مدھیہ پردیش بھر میں خاص طور پر انجینئرنگ کالجوں اور اداروں میں انجینئرز ڈے منائے جانے کے ایک دن بعد بدھ کو سامنے آیا۔ متوفی کی شناخت ساتویں جماعت کے طالب علم کے طور پر ہوئی ہے۔ رانجھی تھانہ علاقے میں گاندھی ویام شالا کے قریب ایک پرائیویٹ ہاسٹل میں اس کا کمرہ۔ پولیس کے مطابق پانڈے کمرے میں اکیلا تھا جب یہ واقعہ پیش آیا کیونکہ اس کے دو روم میٹ باہر گئے ہوئے تھے۔

واپس آنے پر انہوں نے کمرہ بند پایا اور اسے کھولنے کے بعد پانڈے کو چھت سے لٹکا ہوا پایا۔ بعد ازاں انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔ رانجھی پولس اسٹیشن کے انچارج امیش گولہانی نے بتایا کہ طالب علم نے مبینہ طور پر اپنی قمیض کو پھندا لگانے کے لیے استعمال کیا تھا۔” اوم کمرے میں اکیلا تھا جب اس کے روم میٹ باہر گئے تھے۔ جب وہ کمرے میں واپس آئے تو انہیں خودکشی کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ گولہانی نے مزید کہا۔پولیس نے کہا کہ ابتدائی تفتیش اور خاندان کی معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ پانڈے ایک ہونہار طالب علم تھا۔ تاہم، کچھ عرصہ قبل بیمار ہونے کے بعد اس نے کچھ مضامین میں بیک لاگ تیار کیا تھا۔

مبینہ طور پر زیر التوا مضامین نے اسے ذہنی تناؤ کا سبب بنایا تھا۔ پولیس اس بات کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا اس واقعے میں تعلیمی دباؤ کا سبب تھا، لیکن موت کی اصل وجہ کا تعین نہیں کیا گیا ہے۔” ہم اس کے دوستوں، کنبہ کے افراد اور رشتہ داروں کے بیانات قلمبند کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ یہ واقعہ کن حالات کی وجہ سے ہوا۔ صحیح وجہ کا ابھی پتہ نہیں چل سکا ہے۔” جبل پور سٹیشن ہاؤس آفیسر نے بتایا کہ لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دیا گیا ہے اور مزید تفتیش جاری ہے۔ تحقیقات کے حصے کے طور پر اس کے حالیہ تعلیمی اور ذاتی حالات کا بھی جائزہ لے رہے تھے۔

Continue Reading

سیاست

کٹکا کانگریس کے سربراہ ہری پرساد کے خلاف ‘عمر خالد ایک قوم پرست’ تبصرہ پر شکایت درج

Published

on

بنگلورو، 16 ستمبر ہندو کارکن تیجس گوڑا نے بدھ کو کرناٹک پردیش کانگریس کمیٹی (کے پی سی سی) کے صدر بی کے کے خلاف بنگلورو کے ودھانا سودھا پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کروائی۔ ہری پرساد نے عمر خالد کو “قوم پرست” قرار دینے اور اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) کے ان پر تبصرہ کرنے کے اختیار پر سوال اٹھانے پر اپنے ریمارکس پر۔ انہوں نے پولیس پر زور دیا کہ وہ کانگریس لیڈر کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کرے۔میڈیا سے بات کرتے ہوئے گوڑا نے کہا کہ ہری پرساد نے عمر خالد کو ودھانا سودھا کے احاطے میں ایک “قوم پرست” کہا تھا، جس کا ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ہندوستانی شہریوں کی توہین تھی۔ سبھی،” ہندو کارکن نے الزام لگایا۔

گوڈا نے 2020 کے دہلی فسادات کیس کے سلسلے میں غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت خالد کی گرفتاری کا بھی حوالہ دیا اور دعویٰ کیا کہ عدالتوں نے ان کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دینا قانونی طور پر قابل اعتراض ہے اور اس معاملے پر کانگریس کے ملزم خالدوٹیل کے موقف پر سوال اٹھایا۔ یو اے پی اے کے تحت، ہری پرساد کے لیے ایک قوم پرست ہے، اس سے کرناٹک کانگریس کے صدر اور پارٹی کی پالیسی پر سوال اٹھتے ہیں۔” گوڑا نے کہا کہ پولیس حکام نے انہیں مطلع کیا ہے کہ شکایت درج کی جائے گی۔ مہاتما گاندھی کی تنظیم کی نظریاتی مخالفت کا حوالہ دیتے ہوئے، اے بی وی پی کو ان کے بارے میں بات کرنے کا اختیار۔

بی کے ہری پرساد نے منگل کے روز جیل میں بند کارکن عمر خالد کو ‘قوم پرست’ قرار دیا اور اس کے ناقدین کو اخلاقیات اور اخلاقیات سے عاری قرار دیا۔”عمر خالد ایک قوم پرست ہیں، اور اے بی وی پی (اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد) کو عمر خالد پر بولنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ اے بی وی پی ناتھورام کو پوجتی ہے اور وہ پہلے ملک دشمن دہشت گرد تھے۔ ہری پرساد نے بنگلورو میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ عمر خالد پر بات کرنے کا کوئی اخلاقی حق یا اخلاقیات نہیں ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان