Connect with us
Sunday,20-September-2026

قومی خبریں

شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ :سکھ لیڈران

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سکھ لیڈروں نے کہا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور حکومت کے سماج کو باٹنے کے منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
پنجاب سے سکھ لیڈروں کا ایک جتھہ آج شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں آیا اور انہوں نے ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے کہاکہ شاہین باغ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ تمام طبقے مل کر فسطائی طاقتوں کے منصوبے کو ناکام کریں، انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتوں سمیت کمزور طبقوں کا ہے۔ انہوں نے یہاں لنگرکا بھی اہتما م کیا ہے۔
سردار سیوا سنگھ سابق وزیر تعلیم حکومت پنجاب نے یو این آئی ارو سروس سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے جو نیا قانون لیکر آئی ہے اس کی ملک میں ضرورت نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے والی ہے۔اس قانون میں کتنے بھی التزامات ہیں وہ ہندوستا ن کو متحد رکھنے کے لئے نہیں ہیں۔ قومی یکجہتی کو بہت بڑا دھکا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قانون میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی انصافی ہوئی ہے۔ ہم پنجاب سے ایک وفد کے کی شکل میں شرومنی اکالی دل ٹکسالی کی طرف سے آئے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس قانون اقلیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اقلیت کے خلاف ہے اور ہم بھی ایک اقلیت ہیں۔ اس لئے یہاں شاہین باغ میں اس کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے اس بل میں سکھ اقلیت کو باہر رکھا ہے تو سکھوں کو کیا پریشانی ہے،کے جواب میں مسٹر سیواسنگھ نے کہاکہ حکومت نے اس کے ذریعہ اقلیتوں میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیا ہے، کسی کو لے رہے ہے کسی کو چھوڑ رہے ہیں تو میں اس حکومت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی سازش نہ کریں ہم اس سے الگ نہیں ہوں گے، ہم اس ملک کے باشندہ ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ ملک کو تقٖسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے ہم کسی بھی قیمت پر اس حکومت کو اس ملک کو بانٹنے نہیں دیں گے۔
سردار کرنیل سنگھ پیر محمد جنرل سکریٹری شرومنی اکالی دل پنجاب نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت اور حکومت کے اس اقدام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کا یہ قدم غنڈہ گردی والا قدم ہے۔ یہ غندہ گردی کرکے ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں اور ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون حکومت کی گندی سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ اور مودی کو کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے قانون سے باز آجائیں اور یہاں انسانیت کی بات کریں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ نہ کہ سکھ کی، نہ مسلمان کی، نہ ہندوؤں اور نہ عیسائی کی بلکہ سب کی ہے۔ ہم پہلے انسان ہیں بعد میں ہمارا مذہب ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب مل کا بٹوارہ ہوا تھا تو دس لاکھ لوگ مارے گئے تھے، انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ سول وار چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس قانون کو سول وار (خانہ جنگی) کی سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سازش رچی جارہی ہے اس سے اسے باز آنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے ارادے کو چھوڑ دیں جو ہٹلر کرتا تھا۔
مسٹر وفد میں شامل نریش گپتا نے اس سوال کہ 1947میں جو بٹوارہ ادھورا رہ گیا تھا اسی بٹوارہ کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے جواب میں کہاکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آزدی کے بعد ہندوستان میں عوام کے جو مسائل ہیں وہ حل نہیں کر پائے ہیں۔، روزگار، بہتر زندگی کے مسائل ہیں۔ یہ حکومت ایسے مسائل پیدا کر رہی ہے جس سے لوگ آپس میں لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ان کی منشا ہے کہ لوگ آپ میں اس میں لڑیں اور الجھ کر رہ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں مزدوروں کی حالت دگرگوں ہے اس سے توجہ ہٹانے کے لئے حؑکومت یہ سب کر رہی ہے۔
سردار سچت پریم سنگھ سابق ایم پی نے سماج کو تقسیم کرنے والے سوال کے جواب میں کہاکہ میں یہ مانتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہیں وہ حکومت میں آنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اس حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسی اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب یہ حکومت آئی ہے آج اس نے تعلیم کے نام پر کچھ نہیں کیا ہے، جی ڈی پی، روزگار پر بات کبھی نہیں کی اور یہ جب سے آئے ہیں تو کبھی ہندو، کبھی مسلم،کسی مسجد تو کبھی مندر کا مسئلہ کھڑا کرکے لوگوں کو الجھائے رکھا۔ اس کے پاس ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ سماج کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی منشا حق رائے کو چھیننے کا ہے۔ ایک بار ووٹنگ کا حق چھن گیا تو یہ لوگ غلام بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ آج صدیوں پہلے اپنے مذہب میں چاروں زمروں میں تقسیم کردیا تھا اور شودروں سے تمام حقوق چھین لئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح یہ لوگ حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم این آر سی، این پی آر اور اس طرح کے تمام قانون کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وفد میں سردار جگروپ سنگھ ایڈووکیٹ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ، سردار دیوندر سنگھ سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب،وغیر شامل تھے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔ سبزی باغ میں خواتین دھرنا آج ساتویں دن بھی جاری رہا اور کئی اہم شخصیات اس میں شرکت کی اور اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔مقررین نے کہا کہ سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ وارانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مشہور سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ عشرت جہاں نے بتایا کہ دہلی کے خوریجی میں قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین ثابت قدم سے بیٹھی ہیں اور مرد حضرات رات میں موم بتی جلائے رات بھر کھڑے رہتے ہیں۔ یہی نظارہ جعفرآباد میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روڈ کے کنارے سخت اذیت میں خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جب حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہم لوگ نہیں ہٹیں گی۔ جعفرآباد کے آگے مصفطی آباد میں بھی خواتین نے مظاہرہ شروع کردیا ہے اور کثیر تعداد میں خواتین اور لوگ وہاں آرہے ہیں۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں-

قومی خبریں

ممبئی ہائی اینڈ کار حادثے میں 17 سالہ نوجوان سمیت تین ہلاک

Published

on

ممبئی، اتوار کو علی الصبح ممبئی کوسٹل روڈ پر ایک ہائی اینڈ کار سے ہونے والے ایک سنگین حادثے میں ہلاک ہونے والے تین افراد میں ایک 17 سالہ نوجوان بھی شامل تھا، حکام نے بتایا کہ ایک اور شخص شدید زخمی ہے اور اس وقت اس کا علاج جاری ہے۔ کوسٹل روڈ کنٹرول روم سے موصولہ اطلاع کے مطابق، یہ حادثہ صبح 5.20 بجے کے قریب پیش آیا، کار جیٹی کالج کے قریب لاؤٹس کے قریب جا رہی تھی۔ حاجی علی کی طرف بڑھیں جب ڈرائیور مبینہ طور پر تیز رفتاری کی وجہ سے گاڑی پر قابو کھو بیٹھا۔ یہ پل سے ایک ایسے علاقے میں گرا جہاں تعمیراتی کام جاری تھا۔

حادثے کی شدت کا اندازہ گاڑی کو پہنچنے والے نقصان سے لگایا جا سکتا ہے۔ گاڑی پل سے لٹکتے سائن بورڈ سے پھٹ گئی۔ کار کی چھت اندر کی طرف دھکیل گئی، ونڈ شیلڈ بکھر گئی، اور بونٹ مکمل طور پر تباہ ہو گیا۔ حادثے کے بعد، کار میں سوار چاروں افراد کو نیر ہسپتال لے جایا گیا، جہاں ہنگامی طبی ٹیموں نے ان کی حالت کا جائزہ لیا۔ نیر ہسپتال کے چیف میڈیکل آفیسر (سی ایم او) کی طرف سے جاری کردہ اپ ڈیٹ کے مطابق، 8 بجے کے قریب 4 سی سی کی طرف سے تین افراد کو مردہ قرار دیا گیا۔ مرنے والوں میں سے دو کی شناخت 21 سالہ شانے گجال اور 17 سالہ دھیریا سیٹھ کے طور پر ہوئی ہے۔ تیسرے مرنے والے کی شناخت کا ابھی تک پتہ نہیں چل سکا ہے۔ زخمی کی شناخت 23 سالہ آدتیہ اوسوال کے طور پر کی گئی ہے۔

آئی اے این ایس سے اس واقعہ کے بارے میں بات کرتے ہوئے، سینئر پولیس انسپکٹر مینا جگتاپ نے کہا: “صبح تقریباً 5:20 بجے، ایک سیاہ رنگ کی BMW میرین ڈرائیو سے حاجی علی کی طرف شمال کی سمت جا رہی تھی کہ کوسٹل روڈ سے گر گئی۔ کار میں چار لوگ سوار تھے۔ تین افراد کی موت ہو گئی، جب کہ آدتیہ فی الحال نیر ہسپتال میں ہے، ابھی تک کہا جا سکتا ہے کہ یہ کار کے بارے میں بتائی گئی ہے یا نہیں۔” نشے کی حالت میں جب حادثہ پیش آیا۔ پولیس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔

مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔

3 ستمبر کو، ممبئی پولیس نے ایک وائرل ویڈیو کا نوٹس لینے کے بعد کئی لوگوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا جب کہ لگژری اور ہائی پرفارمنس کاروں کو میرین ڈرائیو-ساؤتھ باؤنڈ کوسٹل روڈ سرنگ کے اندر تیز رفتاری اور ریسنگ کرتے ہوئے دکھایا گیا تھا۔ دریں اثنا، اس ہفتے کے شروع میں، تین لوگ شدید زخمی ہو گئے تھے، ایک تیز رفتاری سے آف روڈ ایس یو وی (سپورٹ فیک اتوی) ہسپتال کے قریب۔ ممبئی۔حادثے کے بعد ڈرائیور زخمیوں کی مدد کرنے کے بجائے موقع سے فرار ہو گیا۔

Continue Reading

سیاست

‘کانگریس مزاح نگاروں اور جوکروں کی پارٹی بن گئی ہے’: کرن رجیجو چھتروں کی گونج کی نقل کرنے والے تنازع پر

Published

on

نئی دہلی، مرکزی پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اتوار کو کانگریس پر اس وقت تنقید کی جب ایک شخص نے اندور میں لوک سبھا لیڈر راہول گاندھی کے ‘چھترون کی گونج’ پروگرام کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی کی نقالی کی، اور رائے بریلی کے رکن اسمبلی کو کارکردگی کے دوران ہنستے ہوئے دیکھا گیا۔ رجیجو نے کانگریس کی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، “مئی سی سی پارٹی کی ایک تصویر بن گئی ہے”۔ کامیڈین اور جوکرز وہ ہمیشہ کے لیے باہر ہو گئے ہیں۔

اس پرفارمنس میں وزیر اعظم مودی کے طرز عمل اور عوامی نمائش کی نقالی کی گئی تھی۔ اداکار نے پی ایم مودی کی خصوصی ہنسی، ہاتھ کے اشاروں اور لوگوں کو سلام کرنے اور گلے لگانے کے انداز کی نقل کی۔ یہ عمل طالب علم پر مبنی پروگرام کے دوران ہوا جس سے راہول گاندھی نے خطاب کیا تھا۔ نقالی آرٹسٹ پلکت مانی تھے، جو ایک ہندوستانی اسٹینڈ اپ کامیڈین اور سوشل میڈیا مواد کے تخلیق کار تھے۔ یہ کارکردگی تیزی سے سیاسی تبصرہ کا موضوع بن گئی، بی جے پی نے اسٹیج ایکٹ اور اس پر گاندھی کے ردعمل پر کانگریس کو نشانہ بنایا۔ رجیجو کی پوسٹ ’چھتروں کی گونج‘ پروگرام پر وسیع تر سیاسی تبادلے کے درمیان آئی، جہاں راہول گاندھی نے طلباء سے متعلق “مسائل” کے بارے میں بات کی، بشمول بے روزگاری اور امتحان میں بے قاعدگی۔ آئی اے این ایس سے بات کرتے ہوئے کدم نے کہا، “راہل گاندھی خود اس حقیقت پر کب غور کریں گے کہ نقالی تفریح ​​فراہم کر سکتی ہے؟ لیکن اگر ملک کو آگے بڑھنا ہے اور ہمیں طلباء کی ترقی کی بات کرنی ہے تو پالیسی، محنت اور مواقع پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔” “جس طرح وہ وہاں اپنے دلائل پیش کر رہے تھے، پورے ملک میں سفر کر رہے تھے اور طلباء اور نوجوانوں کو گمراہ کر رہے تھے، “انہوں نے لوک سبھا انتخابات کے دوران ملک بھر میں کنفیوژن پیدا کر دی۔ انہوں نے مزید کہا.

اس سے قبل بہار کے وزیر رام کرپال یادو نے بھی گاندھی کے ‘چھتروں کی گونج’ پروگرام پر تنقید کی تھی اور طلبہ کے مسائل سے نمٹنے پر کانگریس کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ دہائیوں سے پارٹی کے اقتدار میں رہنے کے باوجود نوجوانوں کو اپنی آواز سنانے کے لیے جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے۔ ‘چھتروں کی گونج’ پروگرام اور طلبہ کی طرف سے اٹھائے گئے خدشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے، یادو نے ایک این ایس آئی اے کو بتایا، “کوئی ملک نہیں سنتا۔ ‘چھتروں کی گنج’ جب انہیں موقع ملا تو انہوں نے طلباء کے خدشات پر کان نہیں دھرے، اگر طلباء چاہتے ہیں کہ ان کی آواز سنی جائے تو انہیں جگہ جگہ بھٹکنا پڑتا ہے۔

Continue Reading

سیاست

سی پی آئی ایم کے پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ، ترنمول کے سابق ایم ایل اے کے اہل خانہ پر کلکتہ کے جاداو پور میں حملہ

Published

on

کولکتہ، موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم بدمعاشوں کے ایک گروپ نے جنوبی کولکتہ کے جاداو پور علاقے میں سی پی آئی-ایم کے کئی پارٹی دفاتر اور ترنمول کانگریس کے سابق ایم ایل اے ڈیبرابرتا مجمدار کے گھر اور پارٹی دفتر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی، پولیس نے اتوار کو بتایا کہ کولکتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے چھ وارڈوں میں سی پی آئی-ایم کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر یہ حملہ پارٹی کے جھنڈے کو گرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ وارڈ نمبر 96 کے کے ایم سی کے دیرینہ کونسلر اور سابق ایم ایل اے مجمدار کے گھر اور دفتر پر بھی مبینہ طور پر حملہ کیا گیا اور خاندان کے کچھ افراد پر حملہ کیا گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعہ میں کون ملوث تھا۔

سی پی آئی ایم کے ایک لیڈر کے مطابق وارڈ نمبر 96، 99، 101، 102، 105 اور 106 میں پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ کشیدگی وارڈ نمبر 96 میں تھی، یعنی سابق ترنمول ایم ایل اے کے گھر اور پارٹی دفتر کے سامنے۔ وارڈ میں سی پی آئی ایم کے شہیدوں کی قربان گاہ پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے ترنمول کے سابق ایم ایل اے کے بڑے بھائی کو بھی مبینہ طور پر دھمکی دی اور انہیں فرش پر دھکیل دیا۔ اس حملے کے بعد مجمدار کے اہل خانہ نے کہا: “ہم نے بار بار پولیس کو فون کیا اور انہیں واقعہ کے بارے میں مطلع کیا۔ ایک گھنٹے کے بعد پولس آئی۔” اس کے علاوہ وارڈ نمبر 101 اور وارڈ نمبر 105 میں بدامنی پھیل گئی۔ الزام ہے کہ وہاں بھی لڑائی ہوئی تھی۔

ترنمول کے سابق کونسلر ترون منڈل کے دفتر میں بھی ہنگامہ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ تاہم مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پولیس لاٹھیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ نتیجتاً افراتفری نہیں پھیلی۔ مبینہ طور پر بائک گینگ نہ صرف جادھو پور علاقے میں بلکہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے نریندر پور میں بھی افراتفری پھیلا رہا ہے۔اس واقعہ کے بعد سی پی آئی ایم اور ترنمول دونوں نے اس پورے واقعہ میں پولیس کے رول پر سوال اٹھائے ہیں۔ بی جے پی پر الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، پارٹی نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مجمدار نے کہا: “کم از کم 100 لوگ آئے اور گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے میرے بڑے بھائی کو گالی دی، انہوں نے دھکا دیا، انہوں نے مجھے گالی دی، میں نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، یہ سب بی جے پی کے حامی ہیں۔” سی پی آئی-ایم کے ایک کارکن نے کہا: “انہوں نے پارٹی کے جھنڈے پھاڑ دیے ہیں، وہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم سب کو یہاں نہیں آنے دینا۔ بی جے پی وہ ترنمول کے ساتھ تھے۔

15 ستمبر کو شرپسندوں نے ہاوڑہ ضلع کے بالی علاقے میں سی پی آئی ایم پارٹی کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔ بائیں بازو نے بی جے پی پر الزام لگایا تھا۔ تاہم بی جے پی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ پنچننتلا روڈ پر دیوان گازی زونل پارٹی دفتر اور بیلور اسٹیشن روڈ پر پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ گزشتہ جمعہ کو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے راج پور-سونار پور میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 20 کوڈالیہ میں سی پی آئی-ایم کے پارٹی دفتر پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ سی پی آئی ایم نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان