قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ :سکھ لیڈران
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سکھ لیڈروں نے کہا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور حکومت کے سماج کو باٹنے کے منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
پنجاب سے سکھ لیڈروں کا ایک جتھہ آج شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں آیا اور انہوں نے ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے کہاکہ شاہین باغ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ تمام طبقے مل کر فسطائی طاقتوں کے منصوبے کو ناکام کریں، انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتوں سمیت کمزور طبقوں کا ہے۔ انہوں نے یہاں لنگرکا بھی اہتما م کیا ہے۔
سردار سیوا سنگھ سابق وزیر تعلیم حکومت پنجاب نے یو این آئی ارو سروس سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے جو نیا قانون لیکر آئی ہے اس کی ملک میں ضرورت نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے والی ہے۔اس قانون میں کتنے بھی التزامات ہیں وہ ہندوستا ن کو متحد رکھنے کے لئے نہیں ہیں۔ قومی یکجہتی کو بہت بڑا دھکا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قانون میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی انصافی ہوئی ہے۔ ہم پنجاب سے ایک وفد کے کی شکل میں شرومنی اکالی دل ٹکسالی کی طرف سے آئے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس قانون اقلیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اقلیت کے خلاف ہے اور ہم بھی ایک اقلیت ہیں۔ اس لئے یہاں شاہین باغ میں اس کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے اس بل میں سکھ اقلیت کو باہر رکھا ہے تو سکھوں کو کیا پریشانی ہے،کے جواب میں مسٹر سیواسنگھ نے کہاکہ حکومت نے اس کے ذریعہ اقلیتوں میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیا ہے، کسی کو لے رہے ہے کسی کو چھوڑ رہے ہیں تو میں اس حکومت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی سازش نہ کریں ہم اس سے الگ نہیں ہوں گے، ہم اس ملک کے باشندہ ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ ملک کو تقٖسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے ہم کسی بھی قیمت پر اس حکومت کو اس ملک کو بانٹنے نہیں دیں گے۔
سردار کرنیل سنگھ پیر محمد جنرل سکریٹری شرومنی اکالی دل پنجاب نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت اور حکومت کے اس اقدام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کا یہ قدم غنڈہ گردی والا قدم ہے۔ یہ غندہ گردی کرکے ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں اور ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون حکومت کی گندی سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ اور مودی کو کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے قانون سے باز آجائیں اور یہاں انسانیت کی بات کریں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ نہ کہ سکھ کی، نہ مسلمان کی، نہ ہندوؤں اور نہ عیسائی کی بلکہ سب کی ہے۔ ہم پہلے انسان ہیں بعد میں ہمارا مذہب ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب مل کا بٹوارہ ہوا تھا تو دس لاکھ لوگ مارے گئے تھے، انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ سول وار چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس قانون کو سول وار (خانہ جنگی) کی سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سازش رچی جارہی ہے اس سے اسے باز آنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے ارادے کو چھوڑ دیں جو ہٹلر کرتا تھا۔
مسٹر وفد میں شامل نریش گپتا نے اس سوال کہ 1947میں جو بٹوارہ ادھورا رہ گیا تھا اسی بٹوارہ کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے جواب میں کہاکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آزدی کے بعد ہندوستان میں عوام کے جو مسائل ہیں وہ حل نہیں کر پائے ہیں۔، روزگار، بہتر زندگی کے مسائل ہیں۔ یہ حکومت ایسے مسائل پیدا کر رہی ہے جس سے لوگ آپس میں لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ان کی منشا ہے کہ لوگ آپ میں اس میں لڑیں اور الجھ کر رہ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں مزدوروں کی حالت دگرگوں ہے اس سے توجہ ہٹانے کے لئے حؑکومت یہ سب کر رہی ہے۔
سردار سچت پریم سنگھ سابق ایم پی نے سماج کو تقسیم کرنے والے سوال کے جواب میں کہاکہ میں یہ مانتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہیں وہ حکومت میں آنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اس حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسی اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب یہ حکومت آئی ہے آج اس نے تعلیم کے نام پر کچھ نہیں کیا ہے، جی ڈی پی، روزگار پر بات کبھی نہیں کی اور یہ جب سے آئے ہیں تو کبھی ہندو، کبھی مسلم،کسی مسجد تو کبھی مندر کا مسئلہ کھڑا کرکے لوگوں کو الجھائے رکھا۔ اس کے پاس ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ سماج کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی منشا حق رائے کو چھیننے کا ہے۔ ایک بار ووٹنگ کا حق چھن گیا تو یہ لوگ غلام بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ آج صدیوں پہلے اپنے مذہب میں چاروں زمروں میں تقسیم کردیا تھا اور شودروں سے تمام حقوق چھین لئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح یہ لوگ حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم این آر سی، این پی آر اور اس طرح کے تمام قانون کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وفد میں سردار جگروپ سنگھ ایڈووکیٹ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ، سردار دیوندر سنگھ سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب،وغیر شامل تھے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔ سبزی باغ میں خواتین دھرنا آج ساتویں دن بھی جاری رہا اور کئی اہم شخصیات اس میں شرکت کی اور اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔مقررین نے کہا کہ سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ وارانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مشہور سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ عشرت جہاں نے بتایا کہ دہلی کے خوریجی میں قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین ثابت قدم سے بیٹھی ہیں اور مرد حضرات رات میں موم بتی جلائے رات بھر کھڑے رہتے ہیں۔ یہی نظارہ جعفرآباد میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روڈ کے کنارے سخت اذیت میں خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جب حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہم لوگ نہیں ہٹیں گی۔ جعفرآباد کے آگے مصفطی آباد میں بھی خواتین نے مظاہرہ شروع کردیا ہے اور کثیر تعداد میں خواتین اور لوگ وہاں آرہے ہیں۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں-
بین الاقوامی خبریں
وزیر اعظم مودی نے ایوین میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقات کی جھلک شیئر کی۔

پیرس، ہندوستان کے وزیر اعظم نریندر مودی نے فرانس کے شہر ایوین میں جی 7 سربراہی اجلاس میں شرکت کی اور مہمان رکن کی حیثیت سے اس عالمی پلیٹ فارم پر اپنے خیالات کو پرزور انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے ایوین میں عالمی رہنماؤں کے ساتھ اپنی بات چیت کے اقتباسات بھی شیئر کیے۔
وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے آفیشل انسٹاگرام ہینڈل کے ذریعے اس دورے کی ایک جھلک شیئر کی۔ اس میں فرانسیسی صدر اور میزبان ایمانوئل میکرون، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر، اطالوی وزیر اعظم جارجیو میلونی، یورپین کونسل کے صدر انتونیو کوسٹا، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید النہیان، اور یورپی کمیشن کے صدر ارسولا وان ڈیر لیین سمیت دنیا بھر کے ممتاز پولی حکام نے شرکت کی۔
اہم لمحات کو پوسٹ کرتے ہوئے، وزیر اعظم نے لکھا، “ایوین-لیس-بینس میں منعقدہ جی 7 سربراہی اجلاس کے کامیاب اجلاس سے کچھ جھلکیاں شیئر کرتے ہوئے، جہاں عالمی رہنما اپنے سیارے کو درپیش کلیدی مسائل اور چیلنجوں پر تبادلہ خیال کرنے اور تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھے ہوئے۔”
1 منٹ 52 سیکنڈ کے کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ وزیر اعظم سوئس ہوائی اڈے پر اترتے ہیں، صدر پارملین کی جانب سے ان کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے، اور پھر ایوین میں جی 7 کے مقام پر ہیلی کاپٹر کے ذریعے پہنچتے ہیں۔
پنڈال میں دنیا بھر کے رہنماؤں کے ساتھ ملاقات، اس کے بعد ان کے ساتھ فوٹو سیشن، ٹرمپ کے ساتھ کچھ اہم لمحات اور دو طرفہ بات چیت کے اقتباسات بھی شامل ہیں۔
مہمان رکن کے طور پر مدعو کیے گئے، پی ایم مودی نے اعلیٰ سطحی ورکنگ سیشن میں بھی شرکت کی، جس کا موضوع تھا “نئی شراکت داری اور بین الاقوامی یکجہتی کی تجدید”۔ سیشن میں جی 7 ممالک کے رہنماؤں، شراکت دار ممالک کے رہنماؤں اور عالمی بینک اور افریقی ترقیاتی بینک کے اہم نمائندوں نے شرکت کی۔
اپنے خطاب میں وزیراعظم نے دنیا کے لیے مذاکرات اور امن کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہم مغربی ایشیا میں امن کی جانب پیش رفت کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ اس تنازعے کے نتیجے میں خطے میں ہمارے دوست ممالک میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے۔ آبنائے ہرمز کے راستے سمندری تجارت میں خلل نے عالمی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔”
انہوں نے ہندوستانی ملاحوں کی ہلاکت کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا، “کئی ہندوستانی شہری بھی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ عالمی سمندری تجارت کے ذریعے ممالک کو جوڑنے والے سمندری جہازوں کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔ سمندری راستوں کو محفوظ رکھنا ضروری ہے تاکہ سمندری سفر کرنے والے بلاخوف اپنا کام کر سکیں۔”
سیاست
کرناٹک قانون ساز کونسل کے انتخابات: بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل ایز نے کانگریس کے حق میں ووٹ دینے کی تصدیق کی۔

بنگلورو، کرناٹک قانون ساز کونسل کی سات نشستوں کے لیے جمعرات کو پولنگ کے دوران کراس ووٹنگ کی قیاس آرائیوں کے درمیان، بی جے پی کے ایم ایل اے ایس ٹی۔ سوما شیکھر اور شیورام ہیبر نے کھل کر کانگریس امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی تصدیق کی۔ دونوں لیڈروں نے الزام لگایا کہ بی جے پی قیادت نے ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ان سے باضابطہ رابطہ تک نہیں کیا۔
بنگلورو میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ایس ٹی۔ سوما شیکھر نے کہا کہ انہوں نے اپنے حلقہ کی ترقی کو ذہن میں رکھتے ہوئے کانگریس کے حق میں ووٹ دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے ابتدائی طور پر یہ فیصلہ نہیں کیا تھا کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کریں گے لیکن ان کے مطابق جو بھی پارٹی ان سے رابطہ کرتی ہے وہ سمجھتے ہیں۔
سوما شیکھر نے کہا کہ نہ تو بی جے پی اور نہ ہی جے ڈی (ایس) نے ان کی حمایت مانگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ ڈی کے۔ شیوکمار نے انہیں بلایا، میٹنگ میں مدعو کیا، اور حلقہ کی ترقی کے لیے تعاون کا یقین دلایا۔ اس اعتماد کی بنیاد پر انہوں نے اپنے ضمیر کی پیروی کی اور کانگریس کے حق میں ووٹ دیا۔
انہوں نے کہا کہ بی جے پی ان جیسے لیڈروں کی حمایت سے اقتدار میں آئی ہے اور اب انہیں یقین ہے کہ کانگریس حکومت ان کے حلقہ کی ترقی کے لئے قدم بہ قدم کام کرے گی۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کانگریس کے پانچوں امیدوار جیت جائیں گے۔
دوسری جانب بی جے پی سے نکالے گئے ایم ایل اے شیورام ہیبر نے بھی کہا کہ ان کے لیے سب سے اہم مسئلہ ان کے حلقے کی ترقی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترقیاتی مسائل پر کانگریس قائدین کے ساتھ ان کی مثبت بات چیت ہوئی جس کے بعد انہوں نے کانگریس امیدواروں کی حمایت میں ووٹ دیا۔
ہیبر نے کہا کہ بی جے پی نے انہیں پارٹی سے نکال دیا، لیکن انہیں قانون ساز کونسل کے انتخابات میں حمایت حاصل کرنے کے لیے کم از کم باضابطہ بات چیت کی توقع تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کا بنیادی مقصد جے ڈی (ایس) امیدوار کو شکست دینا ہے، اس لیے پارٹی قیادت نے ان سے رابطہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے موجودہ اور سابق وزرائے اعلیٰ نے ان کی حمایت مانگی تھی، اور انہوں نے مثبت جواب دیا تھا۔
اس دوران وزیر صنعت ایم بی۔ پاٹل نے کانگریس کے اندر کراس ووٹنگ کے خدشات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی مکمل طور پر متحد ہے اور تمام ایم ایل اے متفقہ حکمت عملی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر کراس ووٹنگ کا کوئی امکان ہے تو وہ بی جے پی یا جے ڈی (ایس) کیمپ میں ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے اروند بیلڈ نے یقین ظاہر کیا کہ پارٹی کے سبھی امیدوار جیت جائیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایس ٹی کے ووٹ سوما شیکھر اور شیورام ہیبر کانگریس میں جا سکتے ہیں، لیکن دیگر تمام بی جے پی ایم ایل اے پارٹی امیدواروں کے حق میں ووٹ دیں گے۔ انہوں نے بی جے پی امیدواروں لنگراج پاٹل اور راگھو کوٹیلیہ کی جیت پر بھی اعتماد ظاہر کیا۔
این ڈی اے کے حمایت یافتہ جے ڈی (ایس) امیدوار کے گووند راجو کے امکانات کے بارے میں بیلڈ نے کہا کہ ووٹوں کی کمی ہے، لیکن ان کی جیت کو یقینی بنانے کی ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے۔
کانگریس ایم ایل اے کوناریڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ پارٹی کے پانچوں امیدوار جیت جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہر امیدوار کو تقریباً 28 سے 29 ووٹ الاٹ کئے گئے ہیں اور تمام ایم ایل اے منصوبہ بندی کے مطابق ووٹ دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کو دیگر پارٹیوں سے بھی کچھ امیدواروں کی حمایت ملنے کا امکان ہے۔
بی جے پی ایم ایل اے ایس آر وشواناتھ نے دعویٰ کیا کہ این ڈی اے کے تینوں امیدوار جیت جائیں گے اور بی جے پی کے اندر کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے اندر عدم اطمینان موجود ہے، جہاں کابینہ کی توسیع اور دھڑے بندی کے مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تیسرے این ڈی اے امیدوار کے پاس تین ووٹوں کی کمی ہے، جب کہ کانگریس کو جیتنے کے لیے اپنے پانچویں امیدوار کے لیے پانچ اضافی ووٹوں کی ضرورت ہے۔
کانگریس ایم ایل اے اور کانگریس لیجسلیچر پارٹی سکریٹری علامہ پربھو پاٹل نے کہا کہ تمام ایم ایل اے پارٹی ہائی کمان کی حکمت عملی کے مطابق ووٹ دیں گے۔
سابق وزیر این چیلوواریا سوامی نے ہارس ٹریڈنگ کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس کے پاس تقریباً 140 ووٹ ہیں، جو پانچوں امیدواروں کی جیت کو یقینی بنانے کے لیے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی کے پاس دوسری ترجیح کے ووٹ بھی کافی ہیں اور کانگریس کے اندر کوئی کراس ووٹنگ نہیں ہوگی۔
سیاست
کولکتہ پولیس نے ممتا بنرجی کی سیکورٹی واپس لینے کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو افسران کو تبدیل کیا گیا ہے۔

کولکتہ: سابق وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کی سیکورٹی کے انتظامات کو لے کر مغربی بنگال کی سیاست میں ایک نیا تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ تاہم، کولکتہ پولیس نے واضح طور پر ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے کہ ریاستی حکومت نے جان بوجھ کر اس کی سکیورٹی واپس لی تھی۔
بدھ کی رات، دو ٹی ایم سی راجیہ سبھا ممبران، ڈیرک اوبرائن اور ساگاریکا گھوش، اور لوک سبھا ایم پی مہوا موئترا نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کیا۔ ویڈیو میں جنوبی کولکتہ کے کالی گھاٹ میں ممتا بنرجی کی رہائش گاہ کے سامنے پولیس چوکی کو خالی دکھایا گیا ہے۔ ٹی ایم سی لیڈروں نے الزام لگایا کہ انتظامیہ کی ہدایت پر ان کی سیکورٹی ہٹا دی گئی ہے۔
تاہم ریاستی پولیس ذرائع نے ان دعوؤں کو غلط قرار دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق ممتا بنرجی کی سیکورٹی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔ معمول کے انتظامی عمل کے حصے کے طور پر اس کی سیکیورٹی کے لیے تعینات صرف دو پرسنل سیکیورٹی آفیسرز (PSOs) کو تبدیل کیا گیا۔
پولیس ذرائع نے بتایا کہ ممتا بنرجی چاہتی تھی کہ کولکتہ پولیس کے دو افسران جنہوں نے ان کی سیکورٹی سنبھالی تھی جب وہ چیف منسٹر تھیں انہیں اسی ڈیوٹی پر برقرار رکھا جائے۔ تاہم، سرکاری قوانین کے تحت، کسی افسر کو ذاتی ترجیح کی بنیاد پر تعینات یا تعینات نہیں کیا جا سکتا۔
ایک سینئر پولیس افسر نے کہا، “سیکیورٹی افسران کا تبادلہ ڈیوٹی روسٹر اور قائم کردہ سرکاری پروٹوکول کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔ اس معاملے میں، ایک معمول کی انتظامی ردوبدل کی گئی ہے۔”
ذرائع کے مطابق، بدھ کی رات ان کے کالی گھاٹ کی رہائش گاہ پر بھیجے گئے دو نئے سیکورٹی افسران کو ممتا بنرجی اور ان کے ساتھیوں نے اپنی ذمہ داریاں سنبھالنے کی اجازت نہیں دی۔ بتایا گیا کہ سابق وزیر اعلیٰ ان سے واقف نہیں تھے۔
دریں اثنا، پولیس نے یہ بھی واضح کیا کہ ممتا بنرجی کی رہائش گاہ پر سیکورٹی کو مضبوط کیا گیا ہے، کم نہیں کیا گیا ہے. بدھ سے ہی ان کے گھر کے باہر ہائی سکیورٹی رکاوٹیں بھی لگا دی گئی ہیں۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم6 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
سیاست11 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
(جنرل (عام11 months agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
-
جرم6 years agoبھیونڈی کے مسلم نوجوان کے ناجائز تعلقات کی بھینٹ چڑھنے سے بچ گئی کلمب گاؤں کی بیٹی
