قومی خبریں
شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ :سکھ لیڈران
قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سکھ لیڈروں نے کہا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور حکومت کے سماج کو باٹنے کے منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
پنجاب سے سکھ لیڈروں کا ایک جتھہ آج شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں آیا اور انہوں نے ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے کہاکہ شاہین باغ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ تمام طبقے مل کر فسطائی طاقتوں کے منصوبے کو ناکام کریں، انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتوں سمیت کمزور طبقوں کا ہے۔ انہوں نے یہاں لنگرکا بھی اہتما م کیا ہے۔
سردار سیوا سنگھ سابق وزیر تعلیم حکومت پنجاب نے یو این آئی ارو سروس سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے جو نیا قانون لیکر آئی ہے اس کی ملک میں ضرورت نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے والی ہے۔اس قانون میں کتنے بھی التزامات ہیں وہ ہندوستا ن کو متحد رکھنے کے لئے نہیں ہیں۔ قومی یکجہتی کو بہت بڑا دھکا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قانون میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی انصافی ہوئی ہے۔ ہم پنجاب سے ایک وفد کے کی شکل میں شرومنی اکالی دل ٹکسالی کی طرف سے آئے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس قانون اقلیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اقلیت کے خلاف ہے اور ہم بھی ایک اقلیت ہیں۔ اس لئے یہاں شاہین باغ میں اس کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے اس بل میں سکھ اقلیت کو باہر رکھا ہے تو سکھوں کو کیا پریشانی ہے،کے جواب میں مسٹر سیواسنگھ نے کہاکہ حکومت نے اس کے ذریعہ اقلیتوں میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیا ہے، کسی کو لے رہے ہے کسی کو چھوڑ رہے ہیں تو میں اس حکومت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی سازش نہ کریں ہم اس سے الگ نہیں ہوں گے، ہم اس ملک کے باشندہ ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ ملک کو تقٖسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے ہم کسی بھی قیمت پر اس حکومت کو اس ملک کو بانٹنے نہیں دیں گے۔
سردار کرنیل سنگھ پیر محمد جنرل سکریٹری شرومنی اکالی دل پنجاب نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت اور حکومت کے اس اقدام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کا یہ قدم غنڈہ گردی والا قدم ہے۔ یہ غندہ گردی کرکے ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں اور ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون حکومت کی گندی سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ اور مودی کو کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے قانون سے باز آجائیں اور یہاں انسانیت کی بات کریں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ نہ کہ سکھ کی، نہ مسلمان کی، نہ ہندوؤں اور نہ عیسائی کی بلکہ سب کی ہے۔ ہم پہلے انسان ہیں بعد میں ہمارا مذہب ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب مل کا بٹوارہ ہوا تھا تو دس لاکھ لوگ مارے گئے تھے، انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ سول وار چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس قانون کو سول وار (خانہ جنگی) کی سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سازش رچی جارہی ہے اس سے اسے باز آنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے ارادے کو چھوڑ دیں جو ہٹلر کرتا تھا۔
مسٹر وفد میں شامل نریش گپتا نے اس سوال کہ 1947میں جو بٹوارہ ادھورا رہ گیا تھا اسی بٹوارہ کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے جواب میں کہاکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آزدی کے بعد ہندوستان میں عوام کے جو مسائل ہیں وہ حل نہیں کر پائے ہیں۔، روزگار، بہتر زندگی کے مسائل ہیں۔ یہ حکومت ایسے مسائل پیدا کر رہی ہے جس سے لوگ آپس میں لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ان کی منشا ہے کہ لوگ آپ میں اس میں لڑیں اور الجھ کر رہ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں مزدوروں کی حالت دگرگوں ہے اس سے توجہ ہٹانے کے لئے حؑکومت یہ سب کر رہی ہے۔
سردار سچت پریم سنگھ سابق ایم پی نے سماج کو تقسیم کرنے والے سوال کے جواب میں کہاکہ میں یہ مانتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہیں وہ حکومت میں آنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اس حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسی اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب یہ حکومت آئی ہے آج اس نے تعلیم کے نام پر کچھ نہیں کیا ہے، جی ڈی پی، روزگار پر بات کبھی نہیں کی اور یہ جب سے آئے ہیں تو کبھی ہندو، کبھی مسلم،کسی مسجد تو کبھی مندر کا مسئلہ کھڑا کرکے لوگوں کو الجھائے رکھا۔ اس کے پاس ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ سماج کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی منشا حق رائے کو چھیننے کا ہے۔ ایک بار ووٹنگ کا حق چھن گیا تو یہ لوگ غلام بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ آج صدیوں پہلے اپنے مذہب میں چاروں زمروں میں تقسیم کردیا تھا اور شودروں سے تمام حقوق چھین لئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح یہ لوگ حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم این آر سی، این پی آر اور اس طرح کے تمام قانون کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وفد میں سردار جگروپ سنگھ ایڈووکیٹ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ، سردار دیوندر سنگھ سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب،وغیر شامل تھے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔ سبزی باغ میں خواتین دھرنا آج ساتویں دن بھی جاری رہا اور کئی اہم شخصیات اس میں شرکت کی اور اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔مقررین نے کہا کہ سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ وارانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مشہور سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ عشرت جہاں نے بتایا کہ دہلی کے خوریجی میں قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین ثابت قدم سے بیٹھی ہیں اور مرد حضرات رات میں موم بتی جلائے رات بھر کھڑے رہتے ہیں۔ یہی نظارہ جعفرآباد میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روڈ کے کنارے سخت اذیت میں خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جب حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہم لوگ نہیں ہٹیں گی۔ جعفرآباد کے آگے مصفطی آباد میں بھی خواتین نے مظاہرہ شروع کردیا ہے اور کثیر تعداد میں خواتین اور لوگ وہاں آرہے ہیں۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں-
سیاست
جموں و کشمیر : سیکورٹی فورسز نے مشتبہ دہشت گردانہ سرگرمی کے بعد پونچھ میں تلاشی آپریشن شروع کیا۔

جموں : جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں سیکورٹی فورسز نے دو الگ الگ گروپوں کی مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد منگل کو ایک بڑا تلاشی آپریشن شروع کیا۔ حکام نے بتایا کہ مشترکہ فورسز نے ضلع کے دور افتادہ علاقے سورنکوٹ میں دو مقامات پر مشتبہ دہشت گردانہ نقل و حرکت کی اطلاع ملنے کے بعد آپریشن شروع کیا۔ اطلاع پر کارروائی کرتے ہوئے، جموں و کشمیر پولیس کے اسپیشل آپریشن گروپ کے دستوں نے، راشٹریہ رائفلز کے دستوں کی مدد سے، دھارا سانگلہ، گجر نار، اور کھیرووالی ڈھوک علاقوں کے ساتھ ساتھ قریبی جنگلاتی دیہاتوں میں محاصرے اور تلاشی کی کارروائی شروع کی۔
حکام نے بتایا کہ گھنے جنگلاتی علاقے میں آپریشن جاری ہے۔ تاہم ابھی تک مشتبہ دہشت گردوں کے ساتھ کوئی رابطہ یا فائرنگ کا تبادلہ نہیں ہوا ہے۔ حکام نے کہا کہ “دہشت گردوں کا سراغ لگانے کے لیے ایک منظم آپریشن جاری ہے۔” دریں اثنا، ایک اور واقعہ میں، منگل کی صبح کٹھوعہ ضلع کے ہیرا نگر سیکٹر میں بین الاقوامی سرحد کے قریب ایک مکان کے صحن سے ایک زنگ آلود پرانا مارٹر گولہ برآمد ہوا۔
عہدیداروں نے بتایا کہ نہ پھٹنے والا خول اس وقت ملا جب کٹل برہمن گاؤں میں سبھاش چندر کے گھر کی کھدائی کرنے والے کارکنوں نے مشتبہ چیز کو دیکھا اور فوری طور پر حکام کو مطلع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی ایک ٹیم بم ڈسپوزل اسکواڈ کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچی اور علاقے کو محفوظ کرلیا۔
نہ پھٹنے والے مارٹر گولے، جنہیں اکثر “غیر پھٹنے والا آرڈیننس” کہا جاتا ہے، مرکزی علاقے کے سرحدی علاقوں میں مختلف تاریخی اور تزویراتی وجوہات کی بناء پر کثرت سے پائے جاتے ہیں۔ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحد کے قریب واقع سرحدی دیہات کئی دہائیوں سے فوجی تنازعات اور جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے گواہ ہیں۔ بھاری توپ خانے کی فائرنگ کے دوران ہزاروں مارٹر گولے داغے جاتے ہیں۔ ان گولوں کی ایک بڑی تعداد مکینیکل ناکامی، نرم زمین، یا فیوز کی خرابی کی وجہ سے اثر پر پھٹنے میں ناکام رہتی ہے۔
پونچھ، کپواڑہ اور راجوری جیسے علاقوں کا سرحدی علاقہ بہت پہاڑی، جنگلاتی اور دلدلی ہے۔ جب مارٹر گولہ کیچڑ، گھنے پودوں یا نرم قابل کاشت مٹی میں گرتا ہے تو اس کا اثر کم ہو جاتا ہے۔ یہ اکثر فیوز کو چالو کرنے میں ناکام رہتا ہے اور دھماکے کا سبب بنتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ، یہ متحرک خول گاد یا انڈر برش کے نیچے دب جاتے ہیں۔ مارٹر گولے جو مہینوں یا دہائیوں تک زیر زمین دفن رہتے ہیں وہ اکثر ماحولیاتی تبدیلیوں یا انسانی سرگرمیوں کی وجہ سے بے نقاب ہوتے ہیں۔
سیاست
اروند کیجریوال ای-20 پیٹرول کے خلاف 4 اگست کو پی ایم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے اعلان کیا ہے کہ وہ ای-20 پیٹرول پالیسی کے خلاف احتجاج کے لیے پارٹی کے 100 کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ منگل کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک مارچ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس مارچ کے دوران وہ وزیراعظم کو عوام کی طرف سے آن لائن پٹیشن اور خطوط پیش کرنے کی کوشش کریں گے۔ کیجریوال نے امید ظاہر کی کہ وزیر اعظم ان سے ملاقات کریں گے اور اس مسئلہ پر لوگوں کے خدشات کو سنیں گے۔
اروند کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ ای-20 پیٹرول کے خلاف شروع کی گئی آن لائن مہم کو صرف چند دنوں میں 233,238 لوگوں کی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کو پٹیشن پر دستخط کرنے والے لوگوں کی تعداد اس پالیسی کے بارے میں عوام کی تشویش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ منگل کو دوپہر 12 بجے عام آدمی پارٹی ہیڈکوارٹر سے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے لئے روانہ ہوں گے۔ کیجریوال نے الزام لگایا کہ انھوں نے تقریباً ایک ماہ قبل وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے ملاقات کی درخواست کی تھی، لیکن انھیں کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ ذاتی طور پر وزیراعظم کی رہائش گاہ جا کر عوام کی طرف سے تیار کردہ پٹیشن اور خطوط پیش کریں گے اور اس مسئلے پر بات کریں گے۔ کیجریوال نے مرکزی حکومت کی ای-20 پالیسی پر کئی سوال اٹھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت مناسب سائنسی اور تکنیکی مدد فراہم کیے بغیر پورے ملک میں ای-20 پیٹرول کے نفاذ کے ساتھ آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس ایندھن کے استعمال سے لوگوں کی گاڑیوں کا مائلیج متاثر ہو رہا ہے اور کئی گاڑیوں کے مالکان کو تکنیکی مسائل کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس پالیسی کے حق میں ٹھوس دلائل ہیں تو وہ انہیں عوامی سطح پر پیش کریں۔ کیجریوال نے یہ بھی الزام لگایا کہ ای-20 کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو ڈرانے اور دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر اثر انداز ہونے والے، مواد تخلیق کرنے والوں اور اس معاملے پر سوالات اٹھانے والے عام شہریوں کو ٹرول کیا گیا، اور کچھ معاملات میں ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی۔ ان کے مطابق اس سے لوگوں میں خوف کا ماحول پیدا ہو رہا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حالیہ اینٹی ای-20 ٹاؤن ہال ایونٹ کو بڑی تعداد میں حمایت ملی۔ کیجریوال کے مطابق اس تقریب میں لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی، جب کہ لاکھوں افراد نے اسے آن لائن بھی دیکھا۔ انہوں نے اسے ای-20 کے خلاف بڑھتی ہوئی عوامی حمایت کی علامت قرار دیا۔ اروند کیجریوال نے مرکزی حکومت پر ای-20 پالیسی کے پیچھے “چھپا ہوا ایجنڈا” ہونے کا الزام بھی لگایا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا بیرونی دباؤ کے تحت ہندوستان پر ایتھنول پالیسی مسلط کی جارہی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگلے چند سالوں میں بڑے پیمانے پر ایتھنول کی درآمد کا امکان ہے اور مرکزی حکومت کو ملک کے سامنے صورتحال واضح کرنی چاہیے۔ عام آدمی پارٹی نے کہا ہے کہ منگل کا مارچ مکمل طور پر پرامن ہوگا اور اس کا واحد مقصد عوام کے تحفظات اور مطالبات کو وزیر اعظم تک پہنچانا ہے۔
سیاست
وزیر اعظم مودی یکم اگست کو آندھرا پردیش اور کرناٹک کا دورہ کریں گے، کئی پروجیکٹوں کا افتتاح کریں گے۔

source: ians
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی 1 اگست کو آندھرا پردیش اور کرناٹک کا دورہ کریں گے۔ تقریباً 11 بجے، وزیر اعظم آندھرا پردیش کے وجیا نگرم ضلع کے بھوگاپورم میں الوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کی مسافر ٹرمینل عمارت کا دورہ کریں گے۔ وہ صبح تقریباً 11:30 بجے ہوائی اڈے کا افتتاح کریں گے اور بھوگا پورم میں 17,900 کروڑ (تقریباً 17.9 بلین ڈالر) کے کئی ترقیاتی پروجیکٹوں کا سنگ بنیاد رکھیں گے اور انہیں قوم کے نام وقف کریں گے۔ اس موقع پر وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔ اس کے بعد، تقریباً 3:30 بجے، وزیر اعظم میسور کے سری رام کرشنا آشرم میں سوامی وویکانند کلچرل یوتھ سنٹر ‘وویک اسمارک’ کا افتتاح کریں گے۔ اس موقع پر وہ عوام سے خطاب بھی کریں گے۔
وزیر اعظم نریندر مودی آندھرا پردیش کے بھوگا پورم میں الوری سیتارام راجو بین الاقوامی ہوائی اڈے کا افتتاح کریں گے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ (پیپلز پارٹی) ماڈل کے تحت 5,640 کروڑ (تقریباً 56.4 بلین ڈالر) کی لاگت سے بنایا گیا، یہ گرین فیلڈ ہوائی اڈہ سالانہ 60 لاکھ مسافروں کو ہینڈل کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ مسافر ٹرمینل کی عمارت کو مسافروں کو جدید، آسان اور بہتر سفری تجربہ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔ ہوائی اڈے آپریشنل کارکردگی کو بڑھانے اور مستقبل کی ہوابازی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے جدید انفراسٹرکچر، نئی ٹیکنالوجیز اور پائیدار خصوصیات کو شامل کرتا ہے۔
ہوائی اڈے نے جدید ٹیکنالوجیز جیسے مصنوعی ذہانت (اے آئی)، بلڈنگ انفارمیشن ماڈلنگ (بی آئی ایم)، ایئر سائیڈ 4.0 ٹیکنالوجی، ہوائی اڈے پیشن گوئی آپریشن سینٹر (اے پی او سی)، بائیو میٹرک مسافر پروسیسنگ، ایک خودکار سامان ہینڈلنگ سسٹم، اور ذہین آپریشنل نگرانی کے حل شامل کیے ہیں۔ ان نظاموں سے آپریشنل کارکردگی میں اضافہ، مسافروں کے آرام اور حفاظت میں اضافہ اور وسائل کے استعمال کو بہتر بنانے کی توقع ہے۔
پراجیکٹ میں پائیداری کی کئی خصوصیات شامل ہیں، جیسے کہ توانائی کے قابل حرارتی نظام، وینٹیلیشن، اور ایئر کنڈیشنگ (ایچ وی اے سی) سسٹم؛ توانائی کی بچت والی روشنی؛ ایک 5 میگاواٹ سولر پاور پلانٹ؛ بارش کے پانی کی ذخیرہ اندوزی؛ ایک سمارٹ بلڈنگ مینجمنٹ سسٹم؛ فضلہ کے انتظام کے اقدامات؛ الیکٹرک گاڑی چارجنگ انفراسٹرکچر؛ اور ماحولیاتی نگرانی کے اقدامات۔ ٹرمینل کو گرین بلڈنگ کے معیارات کے مطابق ڈیزائن کیا گیا ہے اور یہ یو ایس گرین بلڈنگ کونسل (یو ایس جی بی سی) کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔
ہوائی اڈے کا آرکیٹیکچرل ڈیزائن آندھرا پردیش کے ثقافتی ورثے سے متاثر ہے۔ ٹرمینل کی چھت روایتی ‘چٹینو’ کاٹیجز اور وادی اراکو کو ابھارتی ہے، جبکہ اس کی بہتی ہوئی شکل اڑتی ہوئی مچھلی کی خوبصورت حرکت کی عکاسی کرتی ہے، جو علاقائی تعمیراتی عناصر کو جدید ہوائی اڈے کے ڈیزائن کے ساتھ ملاتی ہے۔ توقع ہے کہ اس ہوائی اڈے سے آندھرا پردیش میں سیاحت، تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کو نمایاں طور پر فروغ ملے گا، جبکہ خطے میں ہوائی رابطہ مضبوط ہوگا۔
وزیر اعظم وشاکھاپٹنم میں اے ایس آئی پی سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ کا سنگ بنیاد بھی رکھیں گے، جسے 460 کروڑ روپے سے زیادہ کی سرمایہ کاری سے تیار کیا جا رہا ہے۔ یہ سہولت اے ایس آئی پی ٹیکنالوجیز پرائیویٹ لمیٹڈ نے جمہوریہ کوریا کے اے پی اے سی ٹی کے اشتراک سے تیار کی ہے۔ یہ آندھرا پردیش میں پہلی سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ سہولت ہے جسے ‘انڈیا سیمی کنڈکٹر مشن’ کے تحت منظور کیا گیا ہے۔ یہ سہولت سالانہ تقریباً 96 ملین سیمی کنڈکٹر چپس تیار کرے گی اور اعلیٰ ہنر مند روزگار کے مواقع پیدا کرے گی، جبکہ سیمی کنڈکٹر مینوفیکچرنگ کو سپورٹ کرنے کے لیے ایک مضبوط معاون ماحولیاتی نظام کو بھی فروغ دے گی۔
وزیر اعظم کرنول-4 قابل تجدید توانائی زون (آر ای زیڈ) – فیز-1 (4.5 جی ڈبلیو) کے انضمام کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم کا سنگ بنیاد رکھیں گے، جو تقریباً 5,550 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کے ساتھ اسپیشل پرپز وہیکل (ایس پی وی) کے ذریعے پاور گرڈ کے ذریعے لاگو کیا جا رہا ہے۔ وزیر اعظم کرنول ونڈ انرجی زون اور سولر انرجی زون (آندھرا پردیش) – پارٹ اے اور پارٹ بی کے لیے ٹرانسمیشن سسٹم کا بھی افتتاح کریں گے، جو تقریباً 3,550 کروڑ روپے کی لاگت سے نافذ کیا گیا ہے۔ پی ایم مودی اننت پور (2,500 میگاواٹ) اور کرنول (1,000 میگاواٹ) میں سولر انرجی زونز کے لیے ٹرانسمیشن اسکیم کا بھی افتتاح کریں گے، جسے پاور گرڈ نے 820 کروڑ روپے سے زیادہ کی لاگت سے نافذ کیا ہے۔
یہ ٹرانسمیشن پروجیکٹ کرنول اور اننت پور میں قابل تجدید توانائی کے علاقوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی ترسیل میں مدد کریں گے اور اسے قومی گرڈ کے ذریعے ملک بھر کے مستحقین تک پہنچانے میں مدد کریں گے۔ وہ قابل تجدید توانائی کی بڑی مقدار کو گرڈ میں شامل کرنے میں سہولت فراہم کریں گے، طلب مراکز کے لیے صاف توانائی کی دستیابی کو بہتر بنائیں گے، اور فوسل فیول پر مبنی بجلی کی پیداوار پر انحصار کم کرکے ہندوستان کی توانائی کی منتقلی اور ڈیکاربونائزیشن کی کوششوں میں تعاون کریں گے۔
وزیر اعظم 1,880 کروڑ روپے سے زیادہ کے قومی شاہراہ کے پروجیکٹوں کو بھی قوم کے نام وقف کریں گے۔ جن پروجیکٹوں کو وقف کیا جائے گا ان میں ریچرلا سے این ایچ-365بی جی کے گرووے گوڈیم سیکشن تک چار لین تک رسائی پر قابو پانے والی گرین فیلڈ ہائی وے، گرووے گوڈیم سے این ایچ-365بی جی کے دیوراپلے سیکشن تک چار لین تک رسائی کنٹرول والی گرین فیلڈ ہائی وے اور این ایچ-67 پر چار لین تادی پتری بائی پاس شامل ہیں۔ وزیر اعظم این ایچ 565 کے پینچلاکونا-یرپیڈو سیکشن پر لنگاسامدرم میں ایک اعلیٰ سطحی پل کا بھی سنگ بنیاد رکھیں گے۔ یہ پروجیکٹ ٹریفک کی بھیڑ کو کم کریں گے اور وجئے واڑہ اور کئی دوسرے شہروں میں سڑک کی حفاظت کو بہتر بنائیں گے۔
-
سیاست2 years agoاجیت پوار کو بڑا جھٹکا دے سکتے ہیں شرد پوار، انتخابی نشان گھڑی کے استعمال پر پابندی کا مطالبہ، سپریم کورٹ میں 24 اکتوبر کو سماعت
-
ممبئی پریس خصوصی خبر7 years agoمحمدیہ ینگ بوائزہائی اسکول وجونیئرکالج آف سائنس دھولیہ کے پرنسپل پر5000 روپئے کا جرمانہ عائد
-
جرم7 years agoشرجیل امام کی حمایت میں نعرے بازی، اُروشی چوڑاوالا پر بغاوت کا مقدمہ درج
-
سیاست12 months agoمہاراشٹر سماجوادی پارٹی میں رئیــس شیخ کا پتا کٹا، یوسف ابراہنی نے لی جگہ
-
جرم6 years agoمالیگاؤں میں زہریلے سدرشن نیوز چینل کے خلاف ایف آئی آر درج
-
(جنرل (عام1 year agoمالیگاؤں دھماکہ کیس میں سادھوی پرگیہ ٹھاکر اور کرنل پروہت سمیت تمام 7 ملزمین بری، فیصلے کے بعد بی جے پی نے کانگریس کے خلاف کھول دیا محاذ
-
بین الاقوامی خبریں12 months agoچینی وزیر خارجہ وانگ یی 18-19 اگست 2025 کو آ رہے ہندوستان، ایس جے شنکر اور اجیت ڈوبھال سے ان مسائل پر ہوگی بات چیت
-
خصوصی6 years agoریاست میں اسکولیں دیوالی کے بعد شروع ہوں گے:وزیر تعلیم ورشا گائیکواڑ
