Connect with us
Sunday,20-September-2026

قومی خبریں

شاہین باغ خاتون مظاہرہ میں ہندوستان ہی نہیں دنیا بھر کے سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ :سکھ لیڈران

Published

on

قومی شہریت ترمیمی قانون، این آر سی اور این پی آر کے خلاف شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت کرتے ہوئے سکھ لیڈروں نے کہا کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں اور حکومت کے سماج کو باٹنے کے منصوبے کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔
پنجاب سے سکھ لیڈروں کا ایک جتھہ آج شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت میں آیا اور انہوں نے ان مظاہرین کے ساتھ اظہار یکجتی کرتے ہوئے کہاکہ شاہین باغ نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ وقت آگیاہے کہ تمام طبقے مل کر فسطائی طاقتوں کے منصوبے کو ناکام کریں، انہوں نے کہاکہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ہے بلکہ تمام اقلیتوں سمیت کمزور طبقوں کا ہے۔ انہوں نے یہاں لنگرکا بھی اہتما م کیا ہے۔
سردار سیوا سنگھ سابق وزیر تعلیم حکومت پنجاب نے یو این آئی ارو سروس سے خصوصی بات چیت میں کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہاکہ حکومت نے جو نیا قانون لیکر آئی ہے اس کی ملک میں ضرورت نہیں ہے اور یہ ملک کو تقسیم کرنے والی ہے۔اس قانون میں کتنے بھی التزامات ہیں وہ ہندوستا ن کو متحد رکھنے کے لئے نہیں ہیں۔ قومی یکجہتی کو بہت بڑا دھکا دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں خاص طور پر یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اس قانون میں مسلمانوں کے ساتھ بہت بڑی انصافی ہوئی ہے۔ ہم پنجاب سے ایک وفد کے کی شکل میں شرومنی اکالی دل ٹکسالی کی طرف سے آئے ہیں اور اپنے مسلمان بھائیوں کو یہ بتانے آئے ہیں کہ ہندوستان ہی نہیں دنیا کی بھر سکھ برادری مسلمانوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے اس قانون اقلیت کے خلاف قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ اقلیت کے خلاف ہے اور ہم بھی ایک اقلیت ہیں۔ اس لئے یہاں شاہین باغ میں اس کی مخالفت کرنے آئے ہیں۔
ایک دیگر سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت نے اس بل میں سکھ اقلیت کو باہر رکھا ہے تو سکھوں کو کیا پریشانی ہے،کے جواب میں مسٹر سیواسنگھ نے کہاکہ حکومت نے اس کے ذریعہ اقلیتوں میں تفرقہ ڈالنے کا کام کیا ہے، کسی کو لے رہے ہے کسی کو چھوڑ رہے ہیں تو میں اس حکومت یہ کہنا چاہتا ہوں کہ یہ ایسی سازش نہ کریں ہم اس سے الگ نہیں ہوں گے، ہم اس ملک کے باشندہ ہیں۔ اس قانون کے ذریعہ ملک کو تقٖسیم کرنے کی کوشش ہورہی ہے ہم کسی بھی قیمت پر اس حکومت کو اس ملک کو بانٹنے نہیں دیں گے۔
سردار کرنیل سنگھ پیر محمد جنرل سکریٹری شرومنی اکالی دل پنجاب نے شاہین باغ خاتون مظاہرین کی حمایت اور حکومت کے اس اقدام کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کا یہ قدم غنڈہ گردی والا قدم ہے۔ یہ غندہ گردی کرکے ووٹ بٹورنا چاہتے ہیں اور ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑانا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ قانون حکومت کی گندی سوچ کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہم لوگ امت شاہ اور مودی کو کہنا چاہتے ہیں کہ اس طرح کے قانون سے باز آجائیں اور یہاں انسانیت کی بات کریں۔ یہ ملک ہم سب کا ہے۔ نہ کہ سکھ کی، نہ مسلمان کی، نہ ہندوؤں اور نہ عیسائی کی بلکہ سب کی ہے۔ ہم پہلے انسان ہیں بعد میں ہمارا مذہب ہے۔
انہوں نے کہاکہ جب مل کا بٹوارہ ہوا تھا تو دس لاکھ لوگ مارے گئے تھے، انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ وہ سول وار چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس قانون کو سول وار (خانہ جنگی) کی سازش قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ سازش رچی جارہی ہے اس سے اسے باز آنا چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ اس طرح کے ارادے کو چھوڑ دیں جو ہٹلر کرتا تھا۔
مسٹر وفد میں شامل نریش گپتا نے اس سوال کہ 1947میں جو بٹوارہ ادھورا رہ گیا تھا اسی بٹوارہ کو پورا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، کے جواب میں کہاکہ یہ بات نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ آزدی کے بعد ہندوستان میں عوام کے جو مسائل ہیں وہ حل نہیں کر پائے ہیں۔، روزگار، بہتر زندگی کے مسائل ہیں۔ یہ حکومت ایسے مسائل پیدا کر رہی ہے جس سے لوگ آپس میں لڑیں۔ انہوں نے کہاکہ قومی شہریت ترمیمی قانون، این سی آر اور این پی آر اسی سلسلے کی کڑی ہے اور ان کی منشا ہے کہ لوگ آپ میں اس میں لڑیں اور الجھ کر رہ جائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہاں مزدوروں کی حالت دگرگوں ہے اس سے توجہ ہٹانے کے لئے حؑکومت یہ سب کر رہی ہے۔
سردار سچت پریم سنگھ سابق ایم پی نے سماج کو تقسیم کرنے والے سوال کے جواب میں کہاکہ میں یہ مانتا ہوں کہ جو لوگ اس وقت حکومت میں بیٹھے ہیں وہ حکومت میں آنے کے لائق ہی نہیں ہیں۔ انہوں نے اس حکومت کی تقسیم کرنے والی پالیسی اور لوگوں کو گمراہ کرنے والی پالیسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ جب یہ حکومت آئی ہے آج اس نے تعلیم کے نام پر کچھ نہیں کیا ہے، جی ڈی پی، روزگار پر بات کبھی نہیں کی اور یہ جب سے آئے ہیں تو کبھی ہندو، کبھی مسلم،کسی مسجد تو کبھی مندر کا مسئلہ کھڑا کرکے لوگوں کو الجھائے رکھا۔ اس کے پاس ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے کچھ نہیں ہے۔
انہوں نے کہاکہ سماج کو تقسیم کرنے کے بعد اس کی منشا حق رائے کو چھیننے کا ہے۔ ایک بار ووٹنگ کا حق چھن گیا تو یہ لوگ غلام بنانا چاہتے ہیں جیسا کہ آج صدیوں پہلے اپنے مذہب میں چاروں زمروں میں تقسیم کردیا تھا اور شودروں سے تمام حقوق چھین لئے گئے تھے۔انہوں نے کہاکہ اسی طرح یہ لوگ حکومت کرنا چاہتے ہیں اور لوگوں کو غلام بناکر رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے ہم این آر سی، این پی آر اور اس طرح کے تمام قانون کو ریجیکٹ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس وفد میں سردار جگروپ سنگھ ایڈووکیٹ پنجاب ہریانہ ہائی کورٹ، سردار دیوندر سنگھ سابق ڈپٹی اسپیکر پنجاب،وغیر شامل تھے۔
دہلی کے بعد سب سے زیادہ قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف بہار سے آواز اٹھ رہی ہے اور بہار درجنوں جگہ پر خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں۔ گیا کے شانتی باغ میں گزشتہ 29دسمبر سے خواتین مظاہرہ کر رہی ہیں اور یہاں خواتین کی بڑی تعداد ہے۔ اس کے بعد سبزی باغ پٹنہ میں خواتین مسلسل مظاہرہ کر رہی ہیں۔ پٹنہ میں ہی ہارون نگر میں خواتین کا مظاہرہ جاری ہے۔ اس کے علاوہ بہار کے مونگیر، مظفرپور، دربھنگہ، مدھوبنی، ارریہ’سیوان،گوپال گنج، بھینساسر نالندہ، موگلاھار نوادہ، سمستی پور، کشن گنج کے چوڑی پٹی علاقے میں، بیگوسرائے کے لکھمنیا علاقے میں زبردست مظاہرہ ہورہا ہے اور بہت سے ہندو نوجوان مسلمانوں کی حفاظت کرتے نظر آئے۔ سبزی باغ میں خواتین دھرنا آج ساتویں دن بھی جاری رہا اور کئی اہم شخصیات اس میں شرکت کی اور اس قانون کے خلاف اپنی آواز بلند کی۔مقررین نے کہا کہ سی اے اے کے ذریعہ اس حکومت نے ملک کے باشندوں کے درمیان تفریق اور نفرت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کو ہم کبھی معاف نہیں کر سکتے اور ہم اس فرقہ وارانہ نظریے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔
مشہور سماجی کارکن اور ایڈووکیٹ عشرت جہاں نے بتایا کہ دہلی کے خوریجی میں قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف خواتین ثابت قدم سے بیٹھی ہیں اور مرد حضرات رات میں موم بتی جلائے رات بھر کھڑے رہتے ہیں۔ یہی نظارہ جعفرآباد میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ روڈ کے کنارے سخت اذیت میں خواتین احتجاج کررہی ہیں۔ ان خواتین کا کہنا ہے کہ جب حکومت یہ قانون واپس نہیں لیتی اس وقت تک ہم لوگ نہیں ہٹیں گی۔ جعفرآباد کے آگے مصفطی آباد میں بھی خواتین نے مظاہرہ شروع کردیا ہے اور کثیر تعداد میں خواتین اور لوگ وہاں آرہے ہیں۔
کولکاتہ کے پارک سرکس میں خواتین سخت پریشانیوں کے باوجود اپنا مظاہرہ جاری رکھا۔ انتظامیہ سہولت کی لائن کاٹ کر دھرنا کو ختم کرنے کی کوشش کی تھی لیکن خواتین کے عزم و حوصلہ کے سامنے وہ ٹک نہیں سکی۔
لکھنو میں خواتین نے قومی شہریت قانون، قومی شہری رجسٹر اور قومی آبادی رجسٹر کے خلاف مظاہرہ شروع کردیا ہے۔ 19دسمبر کو احتجاج کے بعد تشدد کی وجہ سے اترپردیش میں احتجاج پوری طرح بند تھا اور رات میں بھی پولیس خواتین کو بھگانے کی کوشش کی لیکن خواتین ڈٹی رہیں۔آج ہزاروں کی تعداد میں خواتین مطاہرہ کر رہی ہیں-

سیاست

سی پی آئی ایم کے پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ، ترنمول کے سابق ایم ایل اے کے اہل خانہ پر کلکتہ کے جاداو پور میں حملہ

Published

on

کولکتہ، موٹر سائیکلوں پر سوار نامعلوم بدمعاشوں کے ایک گروپ نے جنوبی کولکتہ کے جاداو پور علاقے میں سی پی آئی-ایم کے کئی پارٹی دفاتر اور ترنمول کانگریس کے سابق ایم ایل اے ڈیبرابرتا مجمدار کے گھر اور پارٹی دفتر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی، پولیس نے اتوار کو بتایا کہ کولکتہ میونسپل کارپوریشن (کے ایم سی) کے چھ وارڈوں میں سی پی آئی-ایم کے دفاتر کو نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر یہ حملہ پارٹی کے جھنڈے کو گرانے کے لیے کیا گیا تھا۔ وارڈ نمبر 96 کے کے ایم سی کے دیرینہ کونسلر اور سابق ایم ایل اے مجمدار کے گھر اور دفتر پر بھی مبینہ طور پر حملہ کیا گیا اور خاندان کے کچھ افراد پر حملہ کیا گیا۔ تاحال یہ واضح نہیں ہے کہ اس واقعہ میں کون ملوث تھا۔

سی پی آئی ایم کے ایک لیڈر کے مطابق وارڈ نمبر 96، 99، 101، 102، 105 اور 106 میں پارٹی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ معلوم ہوا ہے کہ ان میں سب سے زیادہ کشیدگی وارڈ نمبر 96 میں تھی، یعنی سابق ترنمول ایم ایل اے کے گھر اور پارٹی دفتر کے سامنے۔ وارڈ میں سی پی آئی ایم کے شہیدوں کی قربان گاہ پر بھی حملہ کیا گیا۔ شرپسندوں نے ترنمول کے سابق ایم ایل اے کے بڑے بھائی کو بھی مبینہ طور پر دھمکی دی اور انہیں فرش پر دھکیل دیا۔ اس حملے کے بعد مجمدار کے اہل خانہ نے کہا: “ہم نے بار بار پولیس کو فون کیا اور انہیں واقعہ کے بارے میں مطلع کیا۔ ایک گھنٹے کے بعد پولس آئی۔” اس کے علاوہ وارڈ نمبر 101 اور وارڈ نمبر 105 میں بدامنی پھیل گئی۔ الزام ہے کہ وہاں بھی لڑائی ہوئی تھی۔

ترنمول کے سابق کونسلر ترون منڈل کے دفتر میں بھی ہنگامہ کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ تاہم مقامی ذرائع نے دعویٰ کیا کہ پولیس لاٹھیوں کے ساتھ اندر داخل ہوئی۔ نتیجتاً افراتفری نہیں پھیلی۔ مبینہ طور پر بائک گینگ نہ صرف جادھو پور علاقے میں بلکہ جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے نریندر پور میں بھی افراتفری پھیلا رہا ہے۔اس واقعہ کے بعد سی پی آئی ایم اور ترنمول دونوں نے اس پورے واقعہ میں پولیس کے رول پر سوال اٹھائے ہیں۔ بی جے پی پر الزامات لگائے گئے ہیں۔ تاہم، پارٹی نے ابھی تک اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ مجمدار نے کہا: “کم از کم 100 لوگ آئے اور گھر میں توڑ پھوڑ کی۔ انہوں نے میرے بڑے بھائی کو گالی دی، انہوں نے دھکا دیا، انہوں نے مجھے گالی دی، میں نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، یہ سب بی جے پی کے حامی ہیں۔” سی پی آئی-ایم کے ایک کارکن نے کہا: “انہوں نے پارٹی کے جھنڈے پھاڑ دیے ہیں، وہ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ہم سب کو یہاں نہیں آنے دینا۔ بی جے پی وہ ترنمول کے ساتھ تھے۔

15 ستمبر کو شرپسندوں نے ہاوڑہ ضلع کے بالی علاقے میں سی پی آئی ایم پارٹی کے کئی دفاتر میں توڑ پھوڑ کی۔ بائیں بازو نے بی جے پی پر الزام لگایا تھا۔ تاہم بی جے پی نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ پنچننتلا روڈ پر دیوان گازی زونل پارٹی دفتر اور بیلور اسٹیشن روڈ پر پارٹی دفتر میں توڑ پھوڑ کی گئی۔ گزشتہ جمعہ کو جنوبی 24 پرگنہ ضلع کے راج پور-سونار پور میونسپلٹی کے وارڈ نمبر 20 کوڈالیہ میں سی پی آئی-ایم کے پارٹی دفتر پر حملہ کرنے کا الزام ہے۔ سی پی آئی ایم نے الزام لگایا کہ بی جے پی نے ان کے دفتر میں توڑ پھوڑ کی ہے۔

Continue Reading

سیاست

آدتیہ ٹھاکرے نے دیشا سالیان کیس (ایل ڈی) میں ماتوشری کے باہر 500 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس دیا

Published

on

ممبئی، شیوسینا-یو بی ٹی کے سربراہ ادھو ٹھاکرے کی باندرہ رہائش گاہ ‘ماتوشری’ کے باہر ہفتہ کو ہائی وولٹیج ڈرامہ سامنے آیا جب آنجہانی مشہور شخصیت مینیجر دیشا سالیان کے والد ستیش سالیان ذاتی طور پر ایم ایل اے آدتیہ ٹھاکرے کو 500 کروڑ روپے کا ہتک عزت کا نوٹس بھیجنے پہنچے۔ سالیان نے دیشا سالیان کی موت سے متعلق آدتیہ ٹھاکرے اور مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انیل دیشمکھ کے سوشل میڈیا کے حالیہ بیانات کے حوالے سے قانونی نوٹس دینے کی کوشش کی۔ شیو سینا-یو بی ٹی کے سینکڑوں کارکنان گیٹ کے باہر جمع ہوئے، احتجاج کرتے ہوئے ستیش سالیان اور ان کی ٹیم کو جائیداد کے قریب جانے سے روکنے کی کوشش کی۔

ممبئی پولیس نے فوری طور پر بھاری حفاظتی دستے تعینات کیے اور امن و امان کو بڑھنے سے روکنے کے لیے مرکزی داخلی دروازے بند کر دیے۔ اس واقعے کے دوران شیو سینا-یو بی ٹی کے سینئر رہنما اور ایم پی انیل دیسائی بھی ماتوشری پہنچے۔ مہاراشٹر کے سابق وزیر انیل پراب نے ایک قانونی ٹیم کا اہتمام کیا- جس میں ایڈوکیٹ راہول دیوتے اور انہو گیٹ کو نوٹس لینے کے لیے ایڈووکیٹ پر مشتمل تھا۔ آدتیہ ٹھاکرے کی جانب سے۔ ایک مختصر تعطل کے بعد، آدتیہ ٹھاکرے کے قانونی نمائندے نے گیٹ پر رسید کی رسید پر دستخط کر دیے۔ موقع پر موجود میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے آدتیہ ٹھاکرے کے وکیل نے واضح کیا کہ انہوں نے نوٹس کو معیاری پروٹوکول کے طور پر قبول کیا ہے، حالانکہ انہوں نے ابھی تک اس کا مواد نہیں پڑھا۔ قانونی نوٹس میں مبینہ طور پر آدتیہ ٹھاکرے سے سوشل میڈیا پر ان کے حالیہ ریمارکس کے بارے میں سات دنوں کے اندر غیر مشروط معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اگر وہ معافی مانگنے میں ناکام رہتے ہیں تو، نوٹس میں ہتک عزت کے لیے 500 کروڑ روپے کا معاوضہ لازمی ہے۔ 500 کروڑ روپے کے معاوضے کے مقدمے کی پیروی کی جائے گی، آئین کے تحت سب برابر ہیں، اور ہم یہ ظاہر کرنے کے لیے اپنے آئینی حقوق کا مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایک عام شہری کسی سے کم نہیں ہے۔” جب صحافیوں سے سوال کیا گیا کہ یہ نوٹس میل کے ذریعے بھیجنے کے بجائے ذاتی طور پر کیوں پہنچایا گیا، ستیش سالیان نے شیو سینا سے منسلک نمائندوں کی طرف سے دھمکی دی۔

انہوں نے کہا، “میں انہیں دکھانا چاہتا تھا کہ وہ (شیو سینا-یو بی ٹی) ہمیں ڈرا نہیں سکتے۔ آدتیہ ٹھاکرے کے ساتھیوں نے میرے وکلاء کو دھمکی دی کہ وہ کمرہ عدالت میں داخل نہیں ہو پائیں گے۔” انہوں نے کہا۔ ماتوشری پہنچنے سے قبل پریس سے بات کرتے ہوئے، ایک جارح ستیش سالیان نے مزید کہا، “مجھے چھ سال لگ گئے، لیکن خدا کے سوا مجھے چھ سال لگ گئے، وکیلوں نے مجھے کنٹرول کیا۔ میں مطمئن ہوں کہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔” یہ پیشرفت آدتیہ ٹھاکرے اور ادھو ٹھاکرے کے حالیہ عوامی بیانات کے بعد ہوئی ہے جس میں آدتیہ ٹھاکرے کو دیشا سالیان کی موت سے جوڑنے والے تمام الزامات کی تردید کی گئی ہے، جو 2020 میں اداکار سوشانت سنگھ راجپوت کے انتقال سے کچھ دیر پہلے پیش آئے تھے۔ مسلسل الزامات – جو پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رہنماؤں بشمول نتیش رانے نے لگائے تھے – کردار کے قتل کی سیاسی طور پر حوصلہ افزائی کی کوششوں کے طور پر۔

Continue Reading

سیاست

راہول گاندھی کے اندور پہنچنے پر سی ایم یادو نے تعلیمی ریکارڈ پر کانگریس کو نشانہ بنایا

Published

on

اندور، مدھیہ پردیش کے وزیر اعلیٰ موہن یادو نے ہفتہ کے روز کانگریس پر تعلیم اور ترقی کے ریکارڈ کو لے کر نشانہ لگایا، جس کے فوراً بعد لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی پارٹی کے ‘چھتروں کی گنج’ پروگرام میں شرکت کے لیے اندور پہنچے۔ یادو نے کہا کہ کانگریس نے مدھیہ پردیش پر طویل عرصے تک حکومت کی، لیکن اس کا تعلیمی اور ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کے دوران اس کا ریکارڈ دس سال تک ریکارڈ کیا جا سکتا ہے۔ “آج راہل گاندھی ہمارے تعلیمی نظام اور طلباء کے مستقبل پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ہماری حکومت نے تعلیم کو ترجیح دی ہے اور 4.38 لاکھ کروڑ روپے کا بجٹ پیش کیا ہے،” یادو نے کہا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاست کے بجٹ میں سالوں کے دوران نمایاں طور پر توسیع ہوئی ہے، موجودہ بجٹ کے مقابلے میں جو انہوں نے کانگریس کے 55 برسوں کے اقتدار کے دوران تقریباً 22,000 کروڑ روپے کے کل بجٹ کے طور پر بیان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان ان مسائل پر سوالات اٹھا رہے ہیں اور کانگریس سے اپنی پوزیشن کی وضاحت کرنے کو کہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں کانگریس اقتدار میں ہے لیکن ریاستی کابینہ میں ایک بھی خاتون وزیر نہیں ہے۔ عوام سب کچھ دیکھ رہے ہیں اور جب وقت آئے گا تو وہ جواب بھی مانگیں گے۔

وزیر اعلیٰ کا یہ تبصرہ راہول گاندھی کے اندور پہنچنے کے فوراً بعد آیا جب وہ طلبہ کے ساتھ طے شدہ بات چیت کے لیے پہنچے۔ کانگریس لیڈر ‘چھتروں کی گنج’ پروگرام کے تحت طلباء سے خطاب کرنے والے ہیں۔ کانگریس کی طرف سے یہ پروگرام طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ بات چیت کے طور پر منعقد کیا جا رہا ہے، جس میں تعلیم، بھرتی اور روزگار کے اہم مسائل پر بات چیت کی توقع ہے۔ گاندھی کے دورے کے ساتھ پروگرام کو نشانہ بنانے والے پوسٹروں پر سیاسی تنازعہ اور پولیس کی طرف سے جاری کردہ سیکورٹی حالات سے متعلق تنازعہ بھی شامل ہے۔ اس پیش رفت نے ریاست میں کانگریس لیڈر کے طلبہ تک رسائی میں ایک سیاسی جہت کا اضافہ کیا ہے۔ مدھیہ پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ڈگ وجئے سنگھ نے اندور پہنچنے کے بعد راہول گاندھی کا ہوائی اڈے پر استقبال کیا۔ کانگریس نے ‘چھتروں کی گونج’ پروگرام کو طلباء اور نوجوانوں کے ساتھ براہ راست بات چیت کے پلیٹ فارم کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی ہے، جب کہ بی جے پی کی زیرقیادت ریاستی حکومت نے مدھیہ پردیش میں اپنے سابقہ ​​دور حکومت کے دوران بجٹ مختص کرنے اور کانگریس کے ریکارڈ پر سوال اٹھاتے ہوئے جواب دیا ہے۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان