Connect with us
Sunday,06-September-2026

ممبئی پریس خصوصی خبر

مالیگاؤں سمیت ریاست بھر میں آج اسمبلی انتخاب کے نتائج کا اعلان

Published

on

مالیگاؤں (وفا ناہید) 21 اکتوبر کو مالیگاؤں میں اسمبلی الیکشن کا مرحلہ پرامن طریقے سے مکمل ہوا تھا، کل (آج) جمعرات اکتوبر کی صبح ساڑھے 8 بجے ووٹوں کی گنتی چھترپتی شیواجی مہاراج جمخانہ میں شروع ہوگی. آوٹر حلقہ اسمبلی 115 کا اسٹرانگ کیمپ روٹری اسپتال کے پاس واقع سرکاری گودام ہے، 1.24 سب سے پہلے پوسٹل ووٹوں کی گنتی کی جائے گی، ایک اندازے کے مطابق ساڑھے 8 سو کے قریب پوسٹل ووٹ ہے، پوسٹل ووٹوں کی گنتی کے بعد ووٹنگ مشینوں کو متعلقہ ٹیبل تک پہنچایا جائے گا. نمائندے کو اس ضمن میں ملی تفصیلات کے مطابق الیکشن محکمہ نے ووٹوں کی گنتی کے لئے 14 ٹیبل کا انتظام کیا ہے، ایک ٹیبل پر 4 ملازمین کو تعینات کیا جائے گا،اس طرح 150 ملازمین ووٹوں کی گنتی کریں گے،ووٹوں کی گنتی کے لئے ایک امیدوار کو 16 کاؤنٹنگ ایجنٹ نامزد کئے جانے کی اجازت دی گئی ہے،امیدواروں کے ذریعے نامزد کئے جانے والے کاؤ نٹنگ ایجنٹ کا فوٹو اور نمونہ فارم کی خانہ پری کئے جانے کا کام آج دوپہر مکمل کر لیا گیا ہے، تمام مشینیں اسٹرانگ روم میں رکھ کر پورے روم کو سیل کردیا گیا ہے اور ساتھ ہی 24 گھنٹے کے لئے نیم فوجی دستوں کی تعیناتی کردی گئی ہے، جو 8 گھنٹے کے حساب 3 شفٹ میں اپنی ڈیوٹی کی انجام دہی کررہے ہیں، اسٹرانگ روم کے باہر سی سی ٹی وی کیمرہ کی تنصیب کردی گئی ہے، ساتھ ہی غیر ضروری افراد کا داخلہ اسٹرانگ روم کے قریب ممنوع ہے، کاؤنٹنگ والے روز عوام کو اسٹرانگ روم سے 500 میٹر ہی روک دیا جائے گا، صرف کاؤنٹنگ ایجنٹ اور اخباری نمائندوں کو الگ الگ دروازوں سے اندر داخل ہونے کی اجازت ہے، مشرقی دروازے سے کسی شخص کے داخلے کی اجازت نہیں ہے شیواجی جمخانہ کے شمالی اور جنوبی دروازے سے داخلے کی اجازت ہے، 24 اکتوبر کو ٹھیک ساڑھے 8 بجے ووٹوں کی گنتی شروع ہوجائے گی 14 ٹیبل پر ووٹوں کی گنتی ہوگی اور ہر راؤنڈ کے مکمل ہونے کے بعد کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے ہیں اس کا اعلان کیا جائے گا. قیاس لگایا جارہا ہے کہ 20 راؤنڈ میں گنتی کا مرحلہ مکمل ہوجائے گا اور حتمی نتائج کا اعلان کردیا جائے گا، واضح رہے کہ اسمبلی الیکشن کے لئے ووٹرس کی تعداد 2 لاکھ 96 ہزار 667 تھی، اس طرح 21 اکتوبر کو ہونے والے اسمبلی الیکشن میں 1, لاکھ 99 ہزار 812 ووٹرس پولنگ میں حصہ لیا. دیکھا جائے تو 96 ہزار 855 ووٹرس نے ووٹنگ نہیں کی اور الیکشن سے غیر جانبدار رہے. اس اسمبلی الیکشن میں این آر سی کا خوف عوام پر شدت سے نظر آیا. اسی طرح دوسری ریاستوں اور بیرون شہر تلاش معاش کے حصول میں سرگرداں حضرات نے بھی این آر سی کے ڈر کی وجہ سے اپنے کام سے چھٹی لے کر پولنگ کے دن شہر پہنچ گئے اور ووٹنگ میں حصہ لیا. تاکہ ان کے جمہوری حق کا ریکارڈ حکومت کے پاس محفوظ رہے. ذرائع سے ملی مزید معلومات کے مطابق جن 96 ہزار 855 ووٹرس نے ووٹنگ نہیں کی ان کے بارے میں جب معلومات لی گئی تو جو وجوہات سامنے آئیں اس کے مطابق جن ووٹروں کا نام الیکشن یادی میں موجود نہیں تھا. جن کے ناموں میں غلطی کی نشاندہی ہوئی تھی، اور جن ووٹروں کے نام دوسرے پولنگ بوتھ پر ٹرانسفر کر دیئے گئے تھے. علاوہ ازیں جو ووٹرس بیمار بیمار تھے. تو کچھ ووٹروں کو وقت پر ووٹر سلپ نہیں مل سکی تھی. ایسے تمام ووٹرس اپنے حق رائے دہی کے استعمال سے محروم رہ گئے. چونکہ اسمبلی انتخاب دو رخی تھا اور شروع سے ہی کانگریس اور مجلس اتحاد المسلمین کے کارکنان کے درمیان گروہی تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا. لہذا نتائج کے اعلان کے بعد کسی طرح کے تصادم سے بچنے کی غرض سے دونوں پارٹیوں کے حامیوں کے لئے الگ الگ مقام پر نتائج کا انتظام کیا جائے گا. ریٹرنگ آفیسر وجیہ آنند شرما کے مطابق قرعہ اندازی کے ذریعے 5 پولنگ بوتھ WPAT مشینوں کی پرچیاں گنی جائے گی. تاکہ کس امیدوار کو کتنے ووٹ ملے ہے اس کا اندراج برابر ہے یا نہیں اس کی جانچ کی جائے گی. اس طرح آوٹر حلقہ اسمبلی میں پولنگ بوتھوں کی تعداد 300 سے زائد ہے. لہذا آوٹر حلقہ اسمبلی کی گنتی کے لئے 22 راؤنڈ لگ سکتے ہیں.

(جنرل (عام

تحفظ ختمِ نبوت کے موضوع پر آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء و رضا اکیڈمی کی اہم نشست

Published

on

ممبئی، 5 ستمبر 2026: عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ، اس کی اہمیت و افادیت کو اجاگر کرنے اور نسلِ نو کو بنیادی اسلامی عقائد سے روشناس کرانے کے مقصد سے آل انڈیا سنی جمعیۃ العلماء اور رضا اکیڈمی کے زیرِ اہتمام چشتی ہندوستانی مسجد، بھائیکلہ، ممبئی میں ایک اہم علمی و دینی نشست کا انعقاد عمل میں آیا، جس میں شہر کے متعدد علمائے کرام، ائمۂ مساجد، دانشوران اور عاشقانِ رسول نے شرکت کی۔نشست کی صدارت حضرت علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری، خطیب و امام چشتی ہندوستانی مسجد نے فرمائی۔ پروگرام کا آغاز مقررہ وقت سہ پہر 3 بجے ہوا۔ نشست میں عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، اس کے تحفظ کی دینی ذمہ داری اور موجودہ دور میں درپیش فکری و اعتقادی چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس کے علاوہ 7 ستمبر 2026 کو کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں بعد نمازِ عشاء منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے بھی حکمتِ عملی پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔اس موقع پر اسیرِ مفتیِ اعظم، بانی و سربراہ رضا اکیڈمی، الحاج محمد سعید نوری نے تحفظِ ختمِ نبوت کے موضوع پر فکر انگیز خطاب کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی شرعی و اسلامی حیثیت واضح کی۔ انہوں نے قرآن و سنت کی روشنی میں اس عقیدۂ قطعیہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ حضرت محمد مصطفیٰ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی اور رسول ہیں اور آپ کے بعد کسی بھی شخص کا دعوائے نبوت اسلامی عقائد کے سراسر منافی ہے۔

الحاج محمد سعید نوری نے کہا کہ عقیدۂ ختمِ نبوتامتِ مسلمہ کے بنیادی اور قطعی عقائد میں شامل ہے، جس کی حفاظت ہر مسلمان کی دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے موجودہ دور کے تقاضوں کے پیش نظر بالخصوص نئی نسل کو عقیدۂ ختمِ نبوت سے مضبوطی کے ساتھ وابستہ رکھنے پر زور دیا اور کہا کہ فتنۂ قادیانیت کے مقابلے میں علمی، فکری اور پُرامن انداز میں بیداری پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے علمائے کرام اور اہلِ علم سے اپیل کی کہ وہ عقیدۂ ختمِ نبوت کا پیغام نسلِ نو تک مؤثر انداز میں پہنچائیں، تاکہ نوجوان نسل اپنے بنیادی اسلامی عقائد سے مکمل طور پر واقف اور وابستہ رہے۔صدارتی خطاب میں علامہ مولانا عبدالجبار ماہر القادری نے عقیدۂ ختمِ نبوت کی عظمت و اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحفظِ ختمِ نبوت محض ایک موضوع نہیں بلکہ ایمان کی بنیادوں سے وابستہ ایک اہم دینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے علمائے کرام اور ائمۂ مساجد پر زور دیا کہ وہ اپنے خطابات، تحریروں اور دینی مجالس کے ذریعے عوام تک عقیدۂ ختمِ نبوت کی صحیح تعلیم پہنچاتے رہیں۔ علامہ عبدالجبار ماہر القادری نے علمائے کرام، ائمۂ مساجد اور عاشقانِ رسول سے اپیل کی کہ 7 ستمبر 2026 بروز پیر بعد نمازِ عشاء کربلا مسجد، سنگم نگر، انٹاپ ہل، وڈالا، ممبئی میں منعقد ہونے والی تحفظِ ختمِ نبوت کانفرنس میں بھرپور شرکت کریں اور اس اہم دینی و اعتقادی اجتماع کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کریں۔

اس موقع پر مولانا عرفان علیمی نے بھی اظہارِ خیال کرتے ہوئے عقیدۂ ختمِ نبوت کی اہمیت، فتنۂ قادیانیت کی حقیقت اور امتِ مسلمہ کی ذمہ داریوں پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور میں نئی نسل کو اسلامی عقائد سے روشناس کرانا اور فکری و اعتقادی گمراہیوں سے محفوظ رکھنا اہلِ علم کی اہم ذمہ داری ہے۔نشست میں شریک علمائے کرام اور دانشوران نے اس امر پر اتفاق کیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ کے لیے علمی، فکری اور دعوتی سطح پر مسلسل جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ عقیدۂ ختمِ نبوت کی پاسبانی، اشاعت اور نسلِ نو کے ایمان و عقیدے کی حفاظت کے لیے علمی و اصلاحی نشستوں اور اجتماعات کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔نشست میں علمائے کرام، دانشوران اور مختلف شعبۂ ہائے زندگی سے وابستہ افراد نے شرکت کی۔ آخر میں ملک و ملت، امتِ مسلمہ اور خصوصاً عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و استحکام کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

Continue Reading

(جنرل (عام

ممبئی ماہم میں دہی ہانڈی پر ہندو مسلم ایکتا کی مثال

Published

on

ممبئی میں ہندو مسلم ایکتا کی مثال پیش کرتے ہوئے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ کے داخلی دروازے پر گووندہ پاٹھکوں نے پہلی سلامی پیش کی ہے ۔ درگاہ کے ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی نےبتایا کہ یہی ہندوستان کا خاصہ ہے کہ یہاں ہر کوئی ایک دوسرے کے مذہب کا احترام کرتا ہے اور ماہم درگاہ ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا گہوارہ ہے یہاں بلا تفریق و مذہب و ملت ہر کوئی حاضری دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ روایتی انداز میں گووندہ پاٹھک یہاں ہر سال سلامی دیتے ہیں یہ روایت صدیوں سے قائم ہے کیونکہ ہندوستان صوفی سنتوں کا ملک ہے ۔ ممبئی تھانہ میں گوکل اشٹمی دہی ہانڈی کے پس منظر میں پولس نے الرٹ جاری کیا ہے گووندہ پاٹھکوں پر پولس نے نگرانی کے لئے ڈرون کا استعمال کیا دہی ہانڈی کی اونچائی بھی طے کی گئی اس کے علاوہ اونچی دہی ہانڈی میں بچوں کی شمولیت پر پابندی عائد تھی ۔ ممبئی شہر و مضافات میں جوش و خروش کے ساتھ دہی ہانڈی کا تہوار منایا گیا ٹریفک پولس نے بھی اس کے پیش نظر شاہراہوں پر ناکہ بندی کی تھی تاکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی جاسکے اس کے تحت ٹریفک پولس نے بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر کارروائی کی ہے ۔

ممبئی شہر میں دہی ہانڈی پر سخت حفاظتی انتظامات کا دعوی ممبئی پولس کمشنر دیوین بھارتی نے کیا تھا اس مطابق ڈی سی پی راج تلک روشن نے کہا کہ دہی ہانڈی پر پولس پوری طرح سے مستعد ہےاور حالات پر بھی نظر رکھی جارہی ہے اس کے علاوہ ڈرون سے بھی نگرانی جاری ہے ڈی سی پی راج تلک روشن نے دہی ہانڈی پر قانون کی پاسداری کی بھی اپیل کی ہے ۔ مختلف سرکاری اور بی ایم سی ہسپتالوں سے زخمی گووندوں کے بارے میں دوپہر تک موصول ہونے والی اطلاع کے مطابق ۲۵ سے زائد گووندہ پاٹھک زخمی ہوئے ہیں جبکہ دہی ہانڈی کا تہوار اب بھی جاری ہے ایسی صورتحال میں مسلسل بی ایم سی کے اسپتال الرٹ موڈ پر ہے اس کے ساتھ ہی پولس بھی الرٹ ہے ممبئی میں دہی ہانڈی کے دوران کسی بھی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا البتہ گووندہ پاٹھکوں کے زخمی ہونے کے واقعات رونما ہوئے ہیں کئی کو علاج کے بعد رخصتی دیدی گئی ہے ۔ گووندہ پاٹھکوں نے یہاں ممبئی کے ماہم حضرت مخدوم فقیہ علی مہائمی کے آستانہ سے پہلی سلامی دی اور ہندو مسلم اتحاد و ایکتا کا ثبوت پیش کیا یہ گووندہ منڈل ہر سال اسی طرز پر آستانہ مخدوم پر سلامی دے کر بابا مخدوم اور ماں صاحب کی جئے کا نعرہ بلند کرتا ہے یہ نفرت پرستوں کے منہ پر زناٹے دار طمانچہ ہےاس سے یکجہتی اور اتحاد کو فروغ ملتا ہے ۔ پولس نے دہی ہانڈ ی پر سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے جس کے سبب ممبئی میں کسی بھی قسم کا کوئی ناموافق واقعہ پیش نہیں آیا ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی : ٹیکسی اور رکشہ کے میٹر میں چھیڑ چھاڑ کر کے عام مسافروں سے دھوکہ دہی کرنے اور میٹر میں تکنیکی ڈیوائس لگانے والے 5 گرفتار

Published

on

ممبئی : 2 ستمبر کو صبح تقریباً 8 بجے پولیس سپاہی نلیش سالونکے کو اپنے مخبر کے ذریعے اطلاع ملی کہ دہیسر علاقے میں متعدد رکشہ اور ٹیکسی ڈرائیور اپنے کرایہ میٹر میں ایک مخصوص آلے کا استعمال کر کے مصنوعی طور پر کرایہ بڑھا رہے ہیں اور مسافروں سے مالی دھوکہ دہی کر رہے ہیں۔ مذکورہ اطلاع سینئر افسران کو دی گئی، جس کے بعد انہوں نے اطلاع کی تصدیق کر کے مزید کارروائی کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اطلاع کی تصدیق کے لیے یکم ستمبر کو شام کے وقت ایک فرضی مسافر کو ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷ میں سفر کے لیے بھیجا گیا۔ متعلقہ ٹیکسی ڈرائیور نے اپنے کرایہ میٹر کو ڈھانپ رکھا تھا۔ اس کی مشکوک حرکات کے باعث ٹیکسی ڈرائیور کو ٹیکسی سمیت حراست میں لے لیا گیا۔

بعد ازاں علاقائی ٹرانسپورٹ محکمہ، بوریولی-کانڈیولی، دہیسر ایسٹ، ممبئی سے خط و کتابت کر کے مذکورہ ٹیکسی کی جانچ کروائی گئی۔ جانچ کے دوران ٹیکسی کے کرایہ میٹر میں الیکٹرانک رننگ سرکٹ ڈیوائس کو غیر قانونی طور پر تار کے ذریعے جوڑ کر چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس ڈیوائس کے ذریعے کرایہ مصنوعی طور پر بڑھایا جاتا تھا، جس کے ذریعے عام مسافروں کو دھوکہ دیا جا رہا تھا۔ مزید تفتیش میں معلوم ہوا کہ ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷ میں یہ ڈیوائس امین رمضان پٹھان، عمر 31 سال، پیشہ رکشہ ڈرائیور/الیکٹریشن، عرف اسلام نے نصب کی تھی۔ اس سے پوچھ گچھ کے بعد مزید چار ٹیکسیوں اور رکشوں کے کرایہ میٹر میں بھی الیکٹرانک رننگ سرکٹ ڈیوائس کو غیر قانونی طور پر تار کے ذریعے جوڑ کر چھیڑ چھاڑ کیے جانے کا انکشاف ہوا۔ اس معاملے میں دہیسر پولیس اسٹیشن میں مقدمہ نمبر ۱۲۹۳/۲۶ درج کیا گیا ہے۔ ملزمان کے خلاف بھارتیہ نیائے سنہتا ۲۰۲۳ کی دفعہ ۳۱۸(۴) اور موٹر وہیکل ایکٹ کی دفعات ۳۳، ۳۵ اور ۱۴۵(اے) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ضبط کی گئی گاڑیاں

گوکل آنند ہوٹل کے قریب، اشوک ون، دہیسر ایسٹ، ممبئی سے کرایہ میٹر میں چھیڑ چھاڑ والی ٹیکسیاں اور رکشے ضبط کیے گئے :

  • ماروتی سوزوکی کمپنی کی کالی پیلی ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۱ سی جے ۶۴۸۷
  • بجاج کمپنی کا کالی پیلی رکشہ نمبر ایم ایچ ۰۲ ڈی یو ۰۷۷۷
  • بجاج کمپنی کا کالی پیلی رکشہ نمبر ایم ایچ ۰۳ بی وائی ۴۲۶۸
  • ماروتی سوزوکی کمپنی کی کالی پیلی ٹیکسی نمبر ایم ایچ ۰۲ بی کیو ۷۳۹۲
  • ماروتی ارتیگا کول کیب نمبر ایم ایچ ۰۱ ای ایم ۶۰۴

ضبط شدہ سامان

کرایہ میٹر میں چھیڑ چھاڑ کے لیے استعمال کیا جانے والا الیکٹرانک رننگ سرکٹ اور اس سے متعلق دیگر سامان بھی ضبط کیا گیا۔

گرفتار ملزمان

  1. ظہیب الطاف دیشمکھ، عمر ۳۲ سال
  2. امین رمضان پٹھان، عمر ۳۱ سال
  3. ریاض عبدالغنی شیخ، عمر ۴۵ سال
  4. نذیر ابراہیم پٹیل، عمر ۵۷ سال
  5. آنند کمار نانک پرساد رائے، عمر ۶۰ سال

.پولیس نے تمام ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش جاری ہے

Continue Reading
Advertisement

رجحان