Connect with us
Sunday,21-June-2026

(جنرل (عام

1998میں 44 گھنٹے تک وزیراعلی رہنے کا ریکارڈ، آج بھی جگد مبکاپال کے نام

Published

on

اسمبلی الیکشن کے نتائج کے بعد سے مہاراشٹر میں چل رہے سیاسی ہائی وولٹیج ڈرامے کے بعد بی جے پی کے دیویندر فڈنویس کو بھلے ہی 3 دن میں استعفی دینا پڑا ہو، لیکن سب سے کم وقت تک وزیراعلی رہنے کا ریکارڈ ابھی بھی اترپردیش کے جگدمبکا پال کے نام ہے جواس وقت بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ ڈیموکریٹکس پارٹی کے جگدمبکا پال کے پاس 1998 میں اب سے کم وقت یعنی 44 گھنٹے کا ہے۔ واضح رہے کہ اترپردیش کے اس وقت کے گورنر رومیش بھنڈاری نے کلیان سنگھ سرکار کو برخواست کردیا تھا، اور ڈیموکریٹکس پارٹی کے جگدمبکا پال کو 21 فروری 1998 میں حلف دلا دیا تھا، لیکن وہ صرف 44 گھنٹے ہی وزیراعلی رہ سکے تھے۔ الہ آباد ہائی کورٹ نے جگدمبکا پال کے وزیراعلی کے طور پر حلف لینے کے پورے عمل کو ہی خارج کردیا تھا۔اس وقت یو پی اسمبلی تشدد کا بھی نشانہ بنی تھی، جب اراکین اسمبلی نے ایک دوسرے پر ایوان میں ہی بنچ پر لگے مائیک کواکھاڑ کر حملہ کردیا تھا۔اس میں کئی اراکین اسمبلی کو چوٹیں بھی آئی تھیں اور کچھ صحافی بھی زخمی ہوئے تھے۔ اس کے بعد اسمبلی میں 24 فروری کو فلور ٹیسٹ ہوا جس میں اسمبلی اسپیکر کیشری ناتھ ترپاٹھی نے اپنی ایک جانب جگدمبکا پال کواور دوسری جانب کلیان سنگھ کو بٹھایا تھا۔ اراکین اسمبلی کی حمایت کلیان سنگھ کو حاصل تھی، اس لئے انہوں نے اسمبلی میں اپنی اکثریت ثابت کردی۔ جگدمبکا پال کوہٹانے کے ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد ہائی وولٹیج ڈرامہ ہوا۔ جگدمبکا پال نے لکھنؤ کے پانچویں منزل پر وزیراعلی کی کرسی سے اترنے سے انکار کردیا تو پولس کو کاروائی کرنی پڑی۔ پانچویں منزل کی بجلی کاٹی گئی اندھیرا ہوجانے کے بعد ہی جگدمبکا پال کرسی سے اترے۔ دلچسپ ہے کہ جگدمبکا پال اب ڈومریا گنج پارلیمانی حلقے سے بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ ہیں۔ کرناٹک کے بی ایس یدی رپا نے سال 2018 میں ہوئے اسمبلی انتخاب کے بعد وزیراعلیٰ کی کرسی سنبھالی، گورنر نے انہیں سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر کے طور پر وزیراعلیٰ کا حلف دلایا، لیکن انہوں نے اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے سے پہلے ہی استعفی دے دیا تھا۔ کیونکہ ان کے پاس اراکین کی مطلوبہ تعداد نہیں تھی۔ اس وقت یدی رپا کا وزیراعلیٰ کی حیثیت سے میعاد کار 17 سے 19 مئی 2018 تک محض 55 کھنٹوں کا رہا تھا۔ اسی طرح سے بہار کے موجودہ وزیراعلی نتیش کمار سال 2000 میں تین دن کے لئے وزیراعلی بنے، اور اکثریت نہ ثابت کر پانے کی وجہ سے ان کی کرسی چلی گئی۔ انڈین نیشنل لوک دل کے اوم پرکاش چوٹالہ 1990 میں 5 دنوں اور 1991 میں چار دنوں کے لئے وزیراعلی بنے تھے۔ ادھر مہاراشٹر میں بی جے پی کے دیویندر فڈنویس نے 23 نومبر کی صبح مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ کی حیثیت سے حلف لیا، اور 26 نومبر کو وزیراعلی کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ رات کے اندھیرے میں بننے والی فڈنویس کو شیوشینا، این سی پی اور کانگریس نے سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔ دھوکے سے این سی پی کے 56 اراکین اسمبلی کے دستخط کی بنیاد پر محض 11 گھنٹے میں صدر راج منسوخ کرکے بنائی گئی تھی۔ صبح کی اولین ساعتوں میں جب لوگ پوری طرح بیدار بھی نہیں ہوئے تھے، کہ دیویندر فڈنویس نے مہاراشٹر کے وزیراعلیٰ اور اجیت پوار نائب وزیراعلیٰ کا حلف لے چکے تھے۔ دیویندر فڈنویس نے این سی پی کے اجیت پوار کی حمایت پر وزیراعلیٰ کا حلف لیا تھا، لیکن تین دنوں میں ہی اجیت پوار نے حمایت سے انکار کردیا۔ کیونکہ اجیت پوار نے اپنے چچا راشٹروادی سپریمو شردپوار سے بغاوت کرکے بی جے پی کی حمایت کی تھی۔ مگر دیویندر فڈنویس بے وقت کی نزاکت کو پھانپتے ہوئے اسمبلی میں فلور ٹیسٹ سے قبل ہی اپنااستعفی دے دیا۔

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی بیسٹ ہڑتال جاری… نیٹ امتحانی مراکز کے لیے اضافی بسیں فراہمی کی ہدایت، بسوں کے ہڑتال سے مسافر بے حال

Published

on

ممبئی میں بیسٹ بسوں کی ہڑتال کے سبب دوسرے روز بھی مسافر بے حال تھے عوامی ذرائع نقل و حمل کی ہڑتال کے سبب پرائیوٹ گاڑیوں اور آٹورکشہ اور ٹیکسی کی چاندی ہو گئی مسافروں سے دوگنا کرایہ وصول کرنے کی شکایت بھی موصول ہوئی ہے وہیں بیسٹ انتظامیہ نے پریس اعلامیہ میں دعویٰ کیا ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے مسافروں کی خدمات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ہڑتال کے درمیان بیسٹ کامگار کروتی سمیتی کی طرف سے بلائی گئی ہڑتال پر انتظامیہ کی نظرہے اور تمام ضروری اقدامات اٹھائے ہیں اس بات کو یقینی بنائیں کہ مسافروں کو کسی قسم کی تکلیف نہ ہو۔

۲۰ جون کو، میسما (مہاراشٹرا ضروری خدمات) کے تحت نوٹس۔ مینٹیننس ایکٹ) ہڑتال میں حصہ لینے والے ملازمین کو پیش کیا گیا، اور اس کے تحت نوٹسز۔ میسما بھی ارسال کیے گئےہیں اس کے ساتھ ہی تھیلی داروں سے بھی رابطہ کیا گیا ہے ۔ جو صورتحال پیدا ہوئی ہے اس پر غور کرتے ہوئے مہاراشٹر اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ۔ 100 بسوں کا انتظام کرنے اضافی بس فراہمی کی ہدایت دی گئی ہے تاکہ مسافروں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اضافی طور پر

نیٹ امتحان کے 63 امتحانی مراکز میں طلباء کو تکلیف نہ ہو اس لئے بیسٹ فراہمی کوُیقینی بنایا جائے گا ممبئی میں صبح 9:00 بجے سے دوپہر 1:00 بجے تک 60 اضافی بسوں کا انتظام کیا گیا ہے اور شام 5:00 بجے سے شام 7:00 بجے تک اور اس سلسلے میں ڈپو منیجرز کو احکامات دیے گئے ہیں۔ ہڑتال کا بجلی کی فراہمی کے محکمے متاثر نہیں ہے ۔ انڈرٹیکنگ، اور اس کی ضروری پاور سروسز آسانی سے کام کر رہی ہیں۔مسافروں کو بلا تعطل، محفوظ اور قابل اعتماد سروس فراہم کرنا انتظامیہ کا کام ہے۔اولین ترجیح،اسی مناسبت سے تمام ممکنہ اقدامات پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے ۔ ہڑتال کے سبب ممبئی بے حال ہےسڑکوں پربسیں ندارد ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

پربھنی : مہاراشٹر اے ٹی ایس کا یوتھ اسلامک فیڈریشن، پاپولرفرنٹ آف انڈیا پر کریک ڈاؤن ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی

Published

on

ممبئی ؛ مہاراشٹر انسداد دہشت گردی دستہ اے ٹی ایس نےپربھنی میں کل ۱۵ مقامات پر چھاپہ مار کارروائی کی ہے اور اسلامک یوتھ فیڈریشن ، پاپولرفرنٹ آف انڈیا ، داعش کے مشتبہ اراکین سے تفتیش بھی شروع کردی ہے اے ٹی ایس نے یہ کارروائی آن لائن شدت پسندی کے کیس میں کی ہے پربھنی میں چھاپہ مار کارروائی کے بعد یہاں سنسنی اور کشیدگی پھیل گئی ہے اے ٹی ایس نے علی الصبح ہی اس آپریشن کو انجام دیا جس میں ان مشتبہ افراد کے قبضے سے الیکٹرانک گزٹ اور دیگر دستاویزات بھی برآمد کیے گئے ہیں جنہں اے ٹی ایس نے ضبط کئے ہیں اس کے ساتھ ہی اے ٹی ایس ۲۰۱۶ داعش کے الزام میں باعزت بری رئیس الدین کے گھر پر بھی چھاپہ مار کارروائی کی ہے تقریبا ۱۴ نوجوانوں کو زیر حراست بھی لیا ہے ان سے باز پرس بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے بتایا کہ یہ نوجوان آن لائن شدت پسندی کا شکار تھے ایسے میں آن لائن طریقے سے یہ نوجوان کن سائٹس پر شدت پسندی کا پروپیگنڈہ انجام دیا کرتے تھے اس کی بھی تفتیش جاری ہے۔ ناندیڑ اور چھترپتی سمجھانی نگر میں بھی آپریشن کو انجام دیا گیا ۔ پربھنی شہر کے 15 مختلف مقامات پر تلاشی کی کارروائیاں بھی کیں جن میں ممتاز کالونی، ماسٹر کیفے، افتخار کالونی، سینٹ کالونی، مصطفی بازار، عظمت خان روڈ سے سینٹ کالونی روڈ ، راجکوٹ سویٹ، نوبل ہینڈلوم اور ہوزری شاپ وغیرہ شامل ہے اس میں کل ۱۴ افراد سے باز پر بھی جاری ہے اے ٹی ایس نے اب تک انہیں گرفتار نہیں کیا ہے ۔اس چھاپہ مار کارروائی سے پربھنی ، ناندیڑ سمیت دیگر مقامات پر مسلم اکثریتی علاقوں میں خوف و ہراس پایا جارہا ہے اس معاملہ میں اے ٹی ایس ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ کسی بھی بے قصور کو ہراساں نہیں کیا جائے گا اس ضمن میں اے ٹی ایس تفتیش کر رہی ہے باضابطہ طور پر کسی کو بھی گرفتار نہیں کیا گیا ہے ۔

Continue Reading

ممبئی پریس خصوصی خبر

ممبئی پریس کی رپورٹ کے بعد سُرتال ڈانس بار پر کرائم برانچ کا چھاپہ؛ آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا گیا

Published

on

ممبئی : ممبئی پولیس کی کرائم برانچ نے مبینہ طور پر سانتا کروز ایسٹ اور وکولا پولیس اسٹیشن کے دائرۂ اختیار میں واقع متنازع سُرتال ڈانس بار پر چھاپہ مارا اور وہاں مبینہ طور پر رقص کی سرگرمیوں میں ملوث پائی جانے والی آٹھ خواتین کو حراست میں لے لیا۔ مقامی رہائشیوں کے مطابق، اس بار میں مبینہ غیر قانونی سرگرمیوں کے حوالے سے متعدد بار شکایات درج کرائی گئی تھیں۔ ان کا دعویٰ تھا کہ یہ ادارہ مقررہ اوقات سے آگے بڑھ کر رات گئے اور علی الصبح تک کھلا رہتا تھا۔ مزید یہ بھی الزام لگایا گیا کہ یہاں فحش نوعیت کے رقص پیش کیے جاتے تھے اور ماضی میں گاہکوں کے درمیان جھگڑوں اور مارپیٹ کے کئی واقعات بھی پیش آ چکے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق، مقامی رہائشیوں نے بار کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات ممبئی پریس کو فراہم کیں، جس کے بعد یہ معاملہ ممبئی پولیس کرائم برانچ کے اعلیٰ حکام کے علم میں لایا گیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ معمول کے کاروباری اوقات ختم ہونے کے بعد گاہکوں کو عقبی دروازے سے اندر آنے کی اجازت دی جاتی تھی اور عمارت کی بالائی منزلوں پر صبح تک محفلیں جاری رہتی تھیں۔ کچھ رہائشیوں نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ بار بار شکایات کے باوجود اس ادارے کے خلاف پہلے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی گئی۔ تاہم، کرائم برانچ کی حالیہ کارروائی کے بعد مقامی افراد نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پولیس کی اس کارروائی کا خیرمقدم کیا۔

رہائشیوں نے اس معاملے کو اجاگر کرنے پر ممبئی پریس کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ اس چھاپے نے علاقے کے ایک دیرینہ مسئلے پر توجہ دلانے اور اس کے خلاف کارروائی کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس حکام کی جانب سے معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی جانچا جا رہا ہے کہ آیا مذکورہ ادارے نے کسی قانون یا لائسنس کی شرائط کی خلاف ورزی کی ہے یا نہیں۔

Continue Reading
Advertisement

رجحان